Home / تزکیہ / نکاح، کیا میرا حق نہیں ہے؟

نکاح، کیا میرا حق نہیں ہے؟

ہم مسلم معاشرہ کے نوجوان لڑکے لڑکیاں معاشرہ کے سنجیدہ اور دیندار افراد سے پوچھتے ہیں، نکاح، کیا ہمارا حق نہیں ہے؟
باعزت زندگی گذارنا کیا ہمارا حق نہیں ہے؟
تقویٰ کی زندگی گزارنا کیا ہمارا حق نہیں ہے؟
اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا کیا ہمارا حق نہیں ہے؟
جنت کی راہ پر چلنا کیا ہمارا حق نہیں ہے؟
جبکہ نکاح ایک سنت ہے، ایک عبادت ہے، ایک عزت ہے، ایک رحمت ہے، ایک راحت ہے،ایک محبت ہے، ایک خوشی ہے اور ایک منشا ء الٰہی ہے۔
پھر کیوں ہمارے لیے مشکلات پیدا کردی گئی ہیں؟
کیا یہ معاشرہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے نکاح کو آسان بنانے میں معاون و مدد گار ہوں؟
مستحقین نکاح کی یہ ایک دل سوزآواز ہے، جو کہ توجہ طلب ہے۔
نکاح کی حقیقت کو اگر سامنے رکھا جائے تو وہ آسان ہوجائے گا اور اگر بھلا دیا جائے تو زندگی کا ایک مشکل مسئلہ بن جائے گا، جیسا کہ آج ہے۔
نکاح کو رسومات وفضولیات و اسراف اور فیشن وٹریڈیشن سے اونچا اٹھاکر پھر سے اس کو ’’عبادت اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کی حیثیت دی جائے۔
عبادات کو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان بنادیا ہے۔ نکاح بھی ایک عبادت ہے۔ اس لیے اس کو بھی آسان بنادیاگیا ہے۔ بس گواہوں کے سامنے اعجاب وقبول اور مہر کی ادائیگی اور ولیمہ لڑکے کی حیثیت کے حساب سے رکھا جائے۔ نہ اونچا مہرا ور نہ ہی عظیم الشان ولیمہ اور نہ ہی لڑکی پر نکاح کا کھانا رکھا گیا ہے۔
نکاح چونکہ ایک عبادت ہے، اس لیے عبادت کو عبادت کے طریقہ پر انجام دیا جائے۔ عبادت کو رسومات اور فضولیات سے کوئی تعلق نہیں۔ عبادات میں دکھاوا اور نمود ونمائش نہیں ہوتی۔ اخلاص اور عاجزی و سادگی ہوتی ہے۔ نکاح جیسی عبادت کو بھی سنت ہی کے طریقے پر ادا کیا جانا چاہیے ، جس طرح نماز عبادت ہے اور اس کی ادائیگی سنت ہی کے طریقے پر ہوتی ہے اور نکاح جب سنت ہے تو طریقہ ادائیگی بھی سنت ہی ہو۔
اَلنِّکَاحْ مِنْ سُنَّتِیْ، نکاح میری سنت ہے۔
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ، اور جو میرے طریقہ سے اجتناب کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔
چنانچہ نکاح کا طریقہ پیغمبرانہ ہونے کی وجہ سے مستند اور بہت ہی محترم ہے۔ اس قدر اونچے اور آسان عملِ نکاح کو گھٹیا اور مشکل بنادیا گیا، لڑکی اور لڑکی والوں پر کھانے اور گھوڑے جوڑے کا بوجھ ڈال کر ۔ جبکہ اسلام کمزوراور دوسروں پر منحصر افراد پر مالی بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ اسلام کا اصولِ رحمت و معاشرت ہے۔ لڑکی ماں باپ کے گھر ان کی کفالت میں ہوتی ہے اور شوہر کے گھر آتی ہے تو اس کی کفالت میں آجاتی ہے ۔ اس لیے لڑکی یا لڑکی والوں پر اسلام نے کھانا کھلانے کی ذمہ داری نہیں رکھی۔ جب یہ بات ہے تو لڑکی یا لڑکی کے ماں باپ سے گھوڑے جوڑے کی رقم اور بہت سے مزید تقاضے (Demands)کرنا نکاح کے مشکل ہونے اور اور اس میں تاخیرکا سبب بنتا جارہا ہے۔ ان ٹریڈیشن کو سختی سے رد کیا جانا چاہیے کہ یہ ایک لعنت ہے جس کا شکار ایک کے بعد دیگرے سب ہی خاندان ہوتے جارہے ہیں اپنے اپنے وقت پر۔
دکھاوا، شان وشوکت نام و نمود اور رسومات اور مدعوئین کی کثیر تعداد اور ان کے انتظامات کو خوشی اور شادی سمجھ لیا گیا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بڑی بڑی پارٹیوں کا نام خوشی نہیں ہے، فیشن اور ٹریڈیشن کا نام خوشی نہیں ہے۔ خوشی اس کو نہیں کہتے جو جلد ہی بوجھ بن جائے، فکر ومصیبت بن جائے، جو جلد پریشانیوں میں تبدیل ہوجائے۔ انتظامات کا بوجھ اور قرض کی فکر خوشی کو غارت کردیتی ہے۔ اسراف، وقت کا زیاں، اورریاکاری سے اللہ اور اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم خوش نہیں ہوتے، پھر کس طرح اس خوشی کے موقع پر خوشی ملے گی۔ بہت زیادہ لوگوں کی شرکت سے خوشی میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوتا۔ خوشی میں اضافہ ان لوگوں کی شرکت سے ہوتا ہے جو اگرچہ کہ تھوڑے ہوں لیکن دل کے قریب ہوں، فکر و مزاج کے لحاظ سے قریب ہوں، اور وہ ہوتے ہیں عزیز واقارب اور قریبی دوست احباب اور جو ہم سے قریب نہیں، صرف جان پہچان ہے وہ کسی اور سے قریب ہوتے ہیں اور ان قریب لوگوں کی خوشی میں اضافہ کرنے میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جس عمل سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہیں اس سے مومن کو حقیقی خوشی ملتی ہے۔ چنانچہ اللہ کی منشاء اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق نکاح ہوتا ہے تو دلی خوشی ہوتی ہے۔
نکاح کو آسان اور رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکا لڑکی بھی دینداری اور تقوی اختیار کریں، اس کو اولین اہمیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ دوسری خوبیاں یعنی خوبصورتی ، دولت اور خاندان رشتے کی مضبوطی میں مدد گار ہوسکتے ہیں لیکن وہ خود مضبوط بنیاد نہیں ہیں۔ چنانچہ خطبہ نکاح میں بھی چار مرتبہ تقویٰ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ زوجین اللہ سے ڈر کر اللہ کی ہدایات کے مطابق ایک دوسرے کے حقوق اور اپنی ذمہ داریاں اداکریں۔ جس کے نتیجہ میں دنیا میں محبت، سکون اور عزت کی زندگی گزاریں گے اور آخرت میں فلاح اور اللہ کی رضا سے ہم کنار ہوں گے۔
یہ باتیں جو پیش کی گئی ہیں کچھ اجنبی سی لگتی ہیں اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کچھ اجنبی سی ہوگئی ہیں۔ انسان ان ہی باتوں کو صحیح اور معیاری (Standard)سمجھتا ہے جن سے اس کے دل و دماغ مانوس ہیں اور جن سے وہ نامانوس ہے ان کو غلط اور قدیم (Outdated) سمجھتا ہے۔ اس لیے لوگوں نے موجودہ رسومات، فضولیات، شان وشوکت، اسراف، لین دین، بڑی پارٹیاں اور بڑا مہر باندھنا وغیرہ ہی کو معیار بنالیا ہے اور ان کی دوڑ میں اسلام کی بہترین تعلیمات سے بہت دور ہوگئے ہیں۔
دوسری طرف دعوت ناموں پر فضول خرچ ایک تماشہ اور افسوس ناک بات ہے کہ چند لمحوں کے لیے سینکڑوں روپئے دعوت ناموں پر صرف کیے جائیں۔ ان دنوں Netاور SMSکو استعمال کیا جاسکتا ہے ہر قسم کے Messagesسرکاری اور غیر سرکاری SMSپر آرہے ہیں۔ اس لیے اب نہ کوئی شرم ہے نہ تکلف، بلکہ سادگی اور قربت کا اظہار ہے ۔ پیغام ، تاریخ اور مقام تینوں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اس آسان اور کم خرچ طریقے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر محمد معظم علی، گلبرگہ، 9481635968، [email protected]

About Admin Rafeeq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

علم کی کثرت اور عبادت کی کثرت

فَضْلٌ فِیْ عِلْمٍ خَیْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِیْ عِبَادَۃٍ وَ مِلاَکُ الدِّیْنِ الْوَرَعُ۔ ...