Click Here to Read More

تعارف اس شخصیت کا جو تعارف کی محتاج نہیں
مولانا عامرعثمانیؒ
یہ قدم قدم بلائیں، یہ سوائے کود جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
مولانا عامر عثمانی مرحوم ایک بلند پرواز ،قادر الکلام ،اور خوش فکر شاعر و عالم تھے۔ حق گوئی وبیباکی اور بلند حوصلوں کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا آپ کی شناخت تھی۔ مولانا موصوف دیوبندشہر کے مایہ ناز فرزند اور شیخ الاسلام علامہ شبیر عثمانی مرحوم کے برادر زادے تھے۔ اترپردیش کے ضلع ہردوئی میں ۱۹۲۰ء میں ایک علمی وفکری گھرانے میں آپ نے آنکھیں کھولیں۔ ۱۸؍سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے۔ ۱۹۴۸ء تک مختلف ادبی وعلمی جرائد میں لکھتے رہے، اور اپنی خوش قلمی کا ثبوت دیا۔ موصوف جس موضوع پر قلم اٹھاتے اس کا حتی الامکان حق ادا کردیتے ؂
یہ عبادتیں مرصع، یہ سجود مجرمانہ
مجھے ڈر ہے بن نہ جائیں مرے کفر کا بہانہ
نومبر ۱۹۴۹ء میں دیوبند سے ’’تجلی ‘‘کا آغاز کیا، یہ تحریک اقامت دین کا ایک اہم ترجمان ثابت ہوا۔ آپ انجمن خیر الاسلام ممبئی کے عظیم الشان مشاعرے میں مدعو کیے گئے۔ دل وطبیعت جانے پر آمادہ تو نہیں تھے ،لیکن ادھر سے بے انتہا اصرار کے بعد انکار نہ کرسکے۔ ممبئی کے مشاعرے میں شریک ہونے کے بعد ٹھیک اگلے دن پونہ میں مشاعرہ تھا۔ اسی غرض سے پونہ تشریف لے گئے اورمشاعرے میں اپنی ایک طویل نظم سنا کر اسی پروگرام کے بعد یعنی 12؍اپریل 1975ء کی رات اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے،اِنّاللہ واناّ الیہ راجعون۔
موصوف علمی وفکری لحاظ سے ہندوپاک کے جانے مانے شاعر وعالم کی حیثیت سے مشہور تھے۔ آپ کا شعری مجموعہ کلام ’’یہ قدم قدم بلائیں‘‘آپ کے بلند شعری ذوق کی دلیل ہے۔۔۔
عمر گزری ہے اسی فکرمیں اے شاہِ اُمم
ایک ہی شعر تری شان کے قابل ہوجائے
(سفیان قادری)

دائمی اور ابدی زندگی کا مقام

قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ دائمی اور ابدی زندگی کا مقام آخرت ہے اور دنیا کے اس عارضی قیام میں ہم صرف اس امتحان کے لیے بھیجے گئے ہیں کہ خدا کے دیئے ہوئے تھوڑے سے سروسامان، تھوڑے سے اختیارات اور گنے چنے اوقات ومواقع میں کام کرکے ہم میں سے کون اپنے آپ کو خدا کی جنت کا مستقل آبادکار بننے کے لیے موزوں ثابت کرتا ہے۔
یہاں جس چیز کا امتحان ہم سے لیا جارہا ہے وہ یہ نہیں کہ ہم صنعتیں اور تجارتیں اور کھیتیاں اور سلطنتیں چلانے میں کیا کمالات دکھاتے ہیں۔ اور عمارتیں اور سڑکیں کیسی اچھی بناتے ہیں۔ اور ایک شاندار تمدن پیدا کرنے میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں، بلکہ سارا امتحان صرف اس امر کا ہے کہ ہم خدا کی دی ہوئی امانتوں میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرنے کی کتنی قابلیت رکھتے ہیں۔ باغی اور خودمختار بن کر رہتے ہیں یا مطیع وفرمانبردار بن کر؟
(سید ابوالاعلی مودودیؒ )

اصلی دہشت گرد کون ہے؟
ایک جرمن مسلم اسکالر ابوحمزہ (Vogel Pierre)سے لائیو شو میں پوچھا گیا کہ اصلی دہشت گرد تو مسلمان ہوتے ہیں؟ جرمن مسلم اسکالر نے جواب دیا:’’پہلی عالمی جنگ کس نے شروع کی؟کیا وہ مسلمان تھے؟دوسری عالمی جنگ کس نے شروع کی ؟کیا وہ مسلمان تھے؟آسٹریلیا میں رہنے والی قدیم قوم aboriginesکے ۲۰؍ملین باشندوں کوکس نے مارا؟کیا وہ مسلمان تھے؟ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کس نے گرایا؟کیا وہ مسلمان تھے؟شمالی امریکہ میں سوملین سے زائد ریڈ انڈینس کو کس نے مارا؟کیا وہ مسلمان تھے؟ جنوبی امریکہ میں 50ملین سے زائد ریڈ انڈینس کو کس نے مارا؟کیا وہ مسلمان تھے؟کس نے 180؍ملین سے زائد افریقی باشندوں کو غلام بنایا جن میں سے88فیصد کو ہلاک کرنے کے بعد بحر اوقیانوس میں پھینک دیا گیا؟کیا وہ مسلمان تھے؟ نہیں وہ مسلمان نہیں تھے۔ سب سے پہلے آپ کو لفظ دہشت گردی کی مناسب طریقے سے وضاحت کرنی پڑے گی۔ اگر ایک غیر مسلم کچھ براکرے تو آپ کے نزدیک یہ جرم ہے، اور اگر ایک مسلمان اسی جرم کا ارتکاب کرے تو اسے دہشت گرد کہتے ہیں۔ پہلے اس دوہرے معیار کو ختم کریں اور پھر مجھ سے سوال کریں کہ اصلی دہشت گرد کون ہے؟(بذریعہ واٹس ایپ)
مرسلہ: عاطف غلام

Click Here to Read More

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

اقتباس انسان کی دوکمزوریاں انسان دو چیزوں کی وجہ سے کمزور ہوتا ...