بنیادی صفحہ / فکر / جدید ڈیموکریسی اور موڈریٹ اسلام

جدید ڈیموکریسی اور موڈریٹ اسلام

ڈاکٹر سلیم خان

رفیق منزل کے گزشتہ شماروں (دسمبر ۲۰۱۷ء اور فروری ۲۰۱۸ء) میں ’’جدید ڈیموکریسی اور اسلام‘‘ کے عنوان سےقسط وار شائع شدہ مضامین کے تناظر میں یہ ایک جوابی تحریر ہے۔

جدید ڈیموکریسی اور اسلام : ایک مطالعہ – قسط اول

جدید ڈیمو کریسی اور اسلام – قسط دوم

میں نے سوچا اگر ڈیموکریسی کے ساتھ جدید کا اضافہ کردیا گیا ہے تو بیچارے اسلام کو کیوں تنہا چھوڑا جائے۔ یہ چونکہ ڈیموکریسی کے بنیادی تقاضے انصاف کے خلاف ہےاس لیے موڈریٹ کی اضافت تو لگادی لیکن ترجمہ کرنے کی جرأت نہیں کر سکا ، کہیں مولانا امین اصلاحی صاحب کی طرح مجھے بھی بودہ نہ گھوشت کردیا جائے۔ نہ جانے کیوں جو بات گھوشنا میں ہے وہ اعلان میں نہیں۔ جیسے دفع ہوجاو میں جو قوت ہے و ہ نکل جاو میں نہیں۔ دلیل اگر مضبوط ہوتو نام لینے سے گریز کیا معنی؟ چلیے مان لیا جمہوریت کی اصطلاح کےتوسط سے ڈیموکریسی کا مطلب سمجھنے کی کوشش میں مولانا دھوکہ کھا گئے مگر ابراہم لنکن کا کیاکیا جائے کہ اس نے جمہوریت کی تعریف میں آزادی، انصاف، قانون اور رواداری وغیرہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے لفظ ’’پیوپل‘‘ کی تین بارگردان کی اور اس کے علاوہ فور، آف اور بائی جیسے حروف جار پر اکتفاء کیا۔ اب آپ پیوپل کو عوام کہیں یا جمہور کوئی خاص فرق نہیں پڑتا؟ اس طرح جمہوریت کی بابت غلط فہمی پھیلانے کا اولین فریضہ کسی اردو مترجم نے نہیں بلکہ خود ابراہیم لنکن نے ادا کردیا۔

ایتھنز کے مدبر پیرک لیز کی تقریر کے اقتباس کی بنیاد پر جمہوریت کو خوشنما بنا کر پیش کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ برطانوی پروفیسر مائیکل مین کی کتاب ’’دا ڈارک سائیڈ آف ڈیموکریسی‘‘ پر بھی نظر ڈالیں تاکہ فریب کا پردہ اٹھے۔ وہ لکھتے ہیں ’’جمہوریت جہاں جاتی ہے خون، آگ، دہشت، تشدد، غنڈہ گردی کا ماحول پیدا کر دیتی ہے‘‘۔ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں برپا فساد اور ان کے ذریعہ دیگر ممالک میں کی جانے والی قتل و خونریزی مائیکل مین کے دعویٰ کی تائید کرتی ہے۔ ایسے بھولے بھالے لوگ بھی ہیں جو افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری خونریزی کے لیے جمہوریت کے فقدان کو ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں لیکن ان کے پس پشت کارفرما جمہوری یوروپ اور امریکہ کی ریشہ دوانیوں سے آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ویسے بھی مشرق وسطیٰ کی عظیم جمہوریت اسرائیل کے کارنامے کون نہیں جانتا؟ اب تو یوروپ کے لیے بھی وہ ناقابلِ برداشت ہوگیا ہے۔ لیکن دنیا کی عظیم ترین جمہوریت امریکہ اسرائیل کے ہر ظلم و جبر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ چو رچور موسیرے بھائی کے مصداق عظیم ترین اور مقدس ترین جمہوریت آپس میں بغلگیر ہیں۔

یہ تو اہل علم کا ظرف ہے کہ انہوں نے ڈیموکریسی کا لفظی ترجمہ جمہوریت کردیا اگر وہ اس کا معنوی مطلب تلاش کرتے تو ان کو اصطلاحی ترجمہ منافقت کرنا پڑتا۔ ویسے ڈیموکریسی اور ہائپوکریسی ہم قافیہ بھی ہیں۔ الفاظ کے اس کھیل کی ضرورت یوں پیش آئی کہ جمہوریت سے متعلق سارے فتنے فساد کا ٹھیکرا غلط ترجمے پر پھوڑا گیا۔ اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ جمہوریت سے اختلاف رکھنے والے سارےاردوداں انگریزی زبان سے نابلد تھے یا لفظِ جمہوریت کااستعمال ان کے اظہاررائے میں بیڑی بن گیا۔ اس مفروضہ میں لپیٹ کراگر سارے علماء کو کوڑے دان میں ڈال بھی دیا جائے تب بھی علامہ اقبال کا کیا کریں گے؟ انہوں نے جمہوریت کو اردو میں نہیں بلکہ انگریزی اور جرمنی زبان میں پڑھا۔ مخالفین سے نہیں بلکہ علمبردار وں سے فیضیاب ہوے۔ ہندوستان میں بیٹھ کر کتابوں پر انحصار کرنے کے بجائے یوروپ میں جاکر باقائدہ زانوئے ادب طے کیا اور اس فتنہ کی گل افشانیوں کا بہ نفسِ نفیس مشاہدہ بھی کیا۔ اقبال نے جمہوریت پر تنقید کے لیے صرف اردو یا فارسی میں شاعری ہی نہیں کی بلکہ انگریزی میں خطبات بھی دیئے۔ اس لیےکم ازکم جمہوریت پرعلامہ اقبال کی دو ٹوک نقاب کشائی پر یہ الزام نہیں صادق آتا۔

جمہوریت سے متعلق ساری گمراہی کا واحد سبب اگر اردو زبان میں ڈیموکریسی کاترجمہ جمہوریت مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخوان کے لٹریچر میں جمہوریت کی وہی تشریح کیوں نہیں ہے جو فاضل مضمون نگار نے پیش کی ہے اس لیے کہ عربوں نے دیمقراطیۃ ترجمہ کرکے اپنے آپ کو اس مصیبت سے محفوظ کرلیا جس میں ایرانیوں، ترکوں اور اردو دانوں نے گرفتار کیا۔ اخوانی لٹریچر تو ہندوپاک کی تحریک اسلامی سے زیادہ سخت موقف رکھتاہے۔ سید قطب شہید سے بہتر جمہوریت کو کس نے سمجھا، دیکھا اور پرکھا ہے، نیز ان سے بڑی قربانی کس نے دی؟ اگر معالم فی الطریق میں وہی سب لکھا ہوتا جو اس مضمون میں پیش کیا گیا ہے تو وہ شہادت کے رتبۂ بلند فائز نہ ہوتے۔ سچ تو یہ ہے کہ جمہوریت کے تئیں اخوانیوں کی بیزاری، ایرانیوں اور ترکیوں سے کہیں زیادہ ہے جبکہ اس مضمون کے مطابق اردو والوں نے یہ اصطلاح فارسی و ترکی زبان سے مستعار لی ہے۔

اس تشریح سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ مبادہ لفظ جمہور فارسی یا ترکی زبان سے آیاہے جبکہ جمہورکا مصدر عربی ہے۔ اردو انسائیکلو پیڈیا کے مطابق جَمْہُور (جَم + ہُور) اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اور اردو میں اصلی حالت اور معنی میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اس کے معانی ہیں عوام، پبلک، سب لوگ، تمام لوگ اور سب سے آخر میں اکثریت۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے۱۹۱۳ء میں اس کا استعمال اکثریت کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’بات کچھ ہوتی ہے مگر اپنی بات کی پچ میں جمہور (پبلک) کو کچھ اورجتاتے ہیں‘‘۔ اردو انسائیکلوپیڈیا میں اس کے مترادفات کے اندر اکثریت کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ (مترادفات : پَبْلِک، لوگ، عَوام، جَماعَت، جَنْتا)۔ ان شواہد کی موجودگی میں یہ خیال کہ اردو والوں نے ڈیموکریسی کا ترجمہ کرنے کے لیے جمہور کو بنیاد بناکر غلطی کی جس کے معنیٰ اکثریت کے ہیں مضحکہ خیزبات ہے۔

بنی اسرائیل کےایک خاص رویہ کا ذکر قرآن حکیم اس طرح فرماتا ہے ’’ اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ‘‘میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی،‘‘ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا مگر ’’ اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی‘‘ یعنی انکار کیا، عہد کی پاسداری کے منکر ہوے تو ’’ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ’’ اُس نے سوا ء السبیل گم کر دی‘‘۔ گم گشتہ راہ ہوجانے کے نتائج کا بیان اس طرح ہوا ہے کہ ’’پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیئے‘‘۔

اس کے بعد کی صورتحال نہایت دلچسپ ہے فرمایا ’’ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں،‘‘۔ یعنی کلمات کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں۔ ڈیموکریسی،دیمقراطیہ اور جمہوریت کے درمیان لفظی بحث اس کھیل کی بہترین مثال ہے۔ سورہ مائدہ کی آیت ۱۴ میں جہاں یہود سے خطاب کیا گیا تو آیت ۴۱ میں منافقین کے رویہ کے لیے بھی من و عن وہی الفاظ(يُحَرِّفُوْنَ الَْلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِٖ)استعمال کیے گئے ہیں اس لیے مسلمان اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ سورہ مائدہ کی ۴۱ویں آیت ایسے دعویدارانِ اسلام کو یہود کا ہم مجلس یا جاسوس قرار دیتی ہے۔ بنی اسرائیل کے اس رویہ کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ’’ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں‘‘۔ اس آیت کے حوالے سے الزام تراشی مقصود نہیں ہے ، مرعوبیت کے سبب یہ ہوسکتا ہے۔

عصرحاضر کے روشن خیال مسلمانوں نے تحریف کلمات کے تحت موڈریٹ اسلام ایجاد کیا تاکہ باغباں کے ساتھ صیاد کو بھی خوش رکھاجاسکے۔ پرویز مشرف اور عبدالفتاح السیسی جیسے نام نہاد مجددین نے اسلام کو مغربی الحاد کے قالب میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ غلام عوام بہلتے رہیں اور مغربی آقا کی خوشنودی بھی حاصل رہے مگر نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ ویسے مغربی آقا راضی ہوتے بھی کیسے فرمان خداوندی جو ہے ’’ تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، اور اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا‘‘۔ اس آیت میں اہل ایمان کے لیے تازیانۂ عبرت ہے۔

باطل کو موڈریٹ بناکر مسلمانوں کے گلے سے نیچے اتارنے کی سعی اسلام کوموڈریٹ بناکرمغرب کے لیے قابلِ قبول بنا نے سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ کوشش متضاد باتیں کہلواتی ہے ۔ مثلاً’ جمہور کے معنیٰ اکثریت کے نہیں ہیں‘ لیکن یہ ’اس کی ناگزیر عملی صورت ہے‘۔ اس کے باوجود وہ ’ اکثریت کی حکومت نہیں ہے‘۔ انسان بھول جاتا ہے کہ ڈیموکریسی کی اولین خصوصیت یہ بیان کرچکا ہے کہ ’’ جماعت کے ہاتھ میں حکومت ہے‘‘ جماعت بہر حال جملہ عوا م نہیں بلکہ اس کا ایک مخصوص گروہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی جماعت ہے جس کے ہاتھوں میں زمامِ کار ہوتی ہےتو اس کا جواب ہے اکثریتی جماعت یعنی اگر اس کو اقلیت کی حمایت حاصل ہوتب بھی یہ دوسروں کے مقابلے یہ اکثریت میں ہوتے ہیں۔

عوام کی حاکمیت کو ڈیموکریسی کا اصل نہیں بلکہ جعلی مغربی تصور کہنا کچھ عجیب سا لگتا ہےکیونکہ جمہوریت ایک مغربی تصور حیات ہے اور اس کےمعنیٰ و مفہوم بیان کرنے کا حق اس کے موجدین کو ہے۔ کسی غیرکا اس میں اپنے من پسند معنیٰ گھسیڑ نا اور بزعم خود اصلی اور جعلی کا فیصلہ کرنے لگ جانا سراسر زیادتی ہے۔ مغرب کے مستشر قین دین اسلام کے ساتھ تو یہ کھلواڑ کرتے رہتے ہیں لیکن اسلامی اخلاقیات اس کی اجازت نہیں دیتی۔ نیا فلسفہ ایجاد کرنے کی آزادی سبھی کو ہے لیکن کسی موجود نظریہ سے خلط مبحث کرکے کنفیوژن کھڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے توحید کا اسلامی تصور مشرق وسطیٰ کانہیں ہے بلکہ وہ مجبوراً کسی سبب سے اختیار کرلیا گیا۔ اصل توحید تو وحدت الوجود ہے یا نبوت وہ نہیں ہے جو مشرق وسطیٰ کے لوگ پیش کرتے اور دنیا بھرکے مسلمان قبول کرتے ہیں بلکہ رسالت کا حقیقی تصورتو ہندوستان میں رائج اوتارواد ہے۔

جمہوریت محض ایک انتخابی طریقۂ کار یا سیاسی نظام نہیں بلکہ مغرب کے ملحدانہ نظام حیات کا ایک اہم ترین رکن ہے۔ مثلاً اسلام میں ہم شہادت دیتے ہیں کہ کوئی الہ نہیں یعنی (سارے معبودانِ باطل بشمول نفس اور جمہور کا انکار) مگر اللہ ۔ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ یعنی اللہ وہ معبود حقیقی اور حاکم اعلیٰ ہے جس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔یہ کام کتاب اللہ کی روشنی میں نبی ؐ کی اتباع سے ہی ممکن ہے۔مغرب کا الحادی سب سے پہلے لادینیت کی بنیاد پر سارے ادیان کو اجتماعی زندگی سے نکال باہر کرتا ہے۔ اس کے بعد نفس کو معبود حقیقی قرار دیتا ہے اور ایک خودساختہ مشکل میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس لیے جب یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات کیسے طے ہوں تو اس کے لیے جمہوریت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ الہامی ہدایت سے انکار کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑتاہے کہ عوام کی مرضی سے حق و باطل اور حرام و حلال کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ سواء السبیل کو گنوانے کا فطری تقاضہ ہے۔ جس طرح رسالت دین اسلام کا جزو لاینفک ہے اسی طرح جمہوریت بھی مغرب کے ملحدانہ نظام حیات کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس کو زبردستی اسلام سے نتھی کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے دونوں متحارب نظامہائے حیات کے چہرے مسخ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ڈیموکریسی کو کسی طور مغرب سے الگ کرکے مسلمان بنانے کی ضرورت کیوں لاحق ہوگئی؟

دراصل عصر حاضر میں یہ غلط فہمی پھیلا دی گئی ہے کہ عوام کی رائے لینے کے لیے ڈیمو کریسی کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے حالانکہ اسلام کی شورائیت میں اس کی بھرپور گنجائش بلکہ یہ پسندیدہ ہے۔ اسلامی حکومت اگر ہر چار یا پانچ سال میں ایک بار عوام سے یہ پوچھے کہ زمامِ کار کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور ان کے نمائندے کون ہوں گے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ جمہوریت نواز بھی یہی کرتے ہیں کہ چار یا پانچ سال میں ایک بار پوچھ لینے کے بعد درمیان میں عوام سے شاذو نادر ہی کوئی مشورہ کرتے ہیں نیز مشاورتی کاونسل میں بھی کئی ایسے لوگوں کو شامل کرلیا جاتا ہے جن کو عوام مسترد کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے بہت سارے لوگ جو عوام کے احساسات و جذبات کے ترجمان ہوتے محض اس لیے نظر انداز کردیئے جاتے ہیں کہ وہ صدر یا وزیراعظم کے لیے خطرہ یا اسے ناپسند ہوتے ہیں۔ معیارِ حق کی عدم موجودگی میں حکمرانوں پر لگام لگانے کی کوششیں عام طور پر بے سود ہوجاتی ہیں، مگر اسلام کا شورائی نظام ان عیوب سے پاک ہے اور اس لیے کسی آمیزش کا محتاج نہیں ہے۔

جمہوریت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کوئی نزع پیدا ہوجائے مثلاً ہم جنسی قانوناً جائز ہو یا نہ ہو ؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے حال میں آسٹریلیا کے اندر استصواب کیا گیا اور اسے حلال کرلیا گیا کیونکہ عوام کی حکومت، جو عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے چلائی جارہی ہو اس کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی۔ امریکہ کی حالت اور بھی دلچسپ ہے ۔ وہاں کے لوگ بے شمار ناجائز تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ جمہوری نظام اس کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اسے فروغ دیتا ہے اس لیے کہ یہ پیرک لیز کی بیان کردہ روحِ جمہوریت’آزادی ‘ کا تقاضہ ہے نیز سب کو عیاشی کے ’یکساں مواقع‘ فراہم کرنے کا ضامن بھی ہے۔ وہاں پر لوگ اپنی ہی جنس کے لوگوں سے شادی بھی کرسکتے ہیں اس لیے کہ ’ قانون کے سامنے سب کی مساوی حیثیت‘ ہے (جیسے مرد ویسی عورت) لیکن تعدد ازدواج کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اہل مغرب کے خیال میں ایسا کرنا خواتین کے حقوق کی پامالی ہے یعنی ایک سے زائد جتنی عورتوں سے چاہو ناجائز تعلق رکھو لیکن چار کی تحدید کےساتھ بھی ایک سے زائد کو اپنے نکاح میں نہ لو۔

جمہوری نظام میں اس کو بے راہ روی کوروکنے کی واحد سبیل عوام کی تائید یعنی استصواب۔ کیا یہ عوام کی حاکمیت نہیں ہے؟ اور تو اور بار بار ہونے والی گولی باری کے باوجود گن لابی کے دباو میں، اس پر پابندی کے لیے استصواب تک نہیں کرایا جاتا اور بے قصور لوگوں کو مرنے دیا جاتا ہے۔ امریکہ سے فرانس آئیں جس کا شمار یوروپ کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں ہوتا ہے۔یہاں بے لباسی تک کی اجازت ہے مگر حجاب ممنوع ہے ۔ حجاب تو ایک انفرادی عمل ہے لیکن جب کوئی خاتون ’اخلاق کی پاسداری‘ کرتے ہوئے اس پر عمل کرتی ہے تو جمہوری قبا میں پائے کوب دیو استبداد رونما ہوکرساری ’رواداری‘ کو نگل جاتا ہے۔ اس ’مظلوم کی حمایت ‘ میں کوئی آگے نہیں آتا۔ ’قانون کی بالادستی ‘ اس سے جرمانہ وصول کرتی ہے۔ جمہوری نظام حکومت خود اپنے گربھ گرہ میں ایتھنز کے سب سے بڑے مدبر پیرک لیز کی بیان کردہ ایک ایک قدر کو پامال کرتا ہے۔

امت کا اس امر میں اتفاق ہے کہ ملت اسلامیہ کا فرض منصبی کتاب وسنت کے مطابق انبیائی مشن کی تکمیل میں سرگرمِ عمل رہنا ہے۔ اس عظیم مقصد کا حصول من مانے طریقہ پر ممکن نہیں ہے۔ کتاب الٰہی کی روشنی میں اس فرض کی ادائیگی لازم ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے ’’ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میںسے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے‘‘۔ اللہ کی یہ کتاب نبی کریمؐ کے توسط سے مومنین کے پاس امانت ہے۔ اس کا یہ حق بتایا گیا ہے کہ ’’ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو‘‘۔ یہ آیت اہل ایمان کو یاد دلاتی ہے کہ اپنے معاملات کا غیروں سے فیصلہ کرانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ ان کا مقام و منصب تو یہ ہے نہ صرف اپنے مسائل و قضیات وہ کتاب الٰہی کی روشنی میں چکائیں بلکہ دوسرے بھی اپنے معاملات کو لے کر ان سے رجوع کریں۔ ملک و سماج میں اپنی اس حیثیت کو منوانا امت کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ یہ مقامِ سعادت داخلی و خارجی خطرات سے گھرا ہوا ہے اس لیے پہلے ہی مرحلے میں تنبیہ کردی گئی کہ اس پر فائز ہونے کے بعدہدایت الٰہی سے منہ موڑ کر غیروں کی خواہشات کی پیروی نہ کرنے لگنا۔

کائنات ہستی میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق دین و نظریہ اختیار کرسکتا ہے اور ان تمام مذاہب و نظریات کے ماننے والوں کی شریعت اور راہ عمل ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اس حقیقت کا اظہار آیت کے اگلے حصے میں یوں کیا گیا کہ ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا‘‘۔ خالق کائنات کی عطا کردہ آزادی آزمائش کے پیش نظر فرمایا ’’ لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے‘‘۔ چھوٹ تو اس لیے دی گئی کہ جبر کےساتھ آزمائش ممکن نہیں لیکن مسابقت کے لیے راہِ فلاح کی بھی نشاندہی کردی گئی فرمایا ’’لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو‘‘۔ ایسے میں اگر کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ میں برائی کے بجائے بھلائی کا راستہ کیوں اختیار کروں ؟اور اس سے کیا فرق پڑے گا ؟ تو ان لوگوں کو خبردارکیا گیا کہ دیکھو ’’آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ‘‘۔اس آیت سے واضح ہے کہ مختلف ادیان و نظریات کے ماننے والوں کی راہیں جدا جدا ہیں۔ اپنی انتہائی منزل یعنی بارگاہِ خداوندی میں حاضر ی کے بعد سب کا انجام یکساں نہیں ہوگا۔

سورہ مائدہ کی مندرجہ بالاآیت کے فوراً بعد دوبارہ اسی بات کا اعادہ کہ ’’اور ہم نے تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ اللہ نے تم پر نازل کیا ہے اس کے مطابق ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو‘‘ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ خطرات اندر اور باہر دونوں جگہ ہوتے ہیں۔ طاغوتی عناصر اہل ایمان کو اپنی خواہشات کا غلام بنانا چاہتے ہیں اسی لیےخبردار کرتے ہوے فرمایا گیا ’’نیز ان کی طرف سے ہوشیار ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کے کسی حکم سے تمہیں ڈگمگا دیں ‘‘۔ عہدِ جدید کے طاغوت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ اہل ایمان کو بزور قوت اپنے دین سے برگشتہ کرنا مشکل ہے اس لیے عصر حاضر میں باطل کے علمبردار اپنے ادیان و نظریات کو نہایت خوشنما بناکر پیش کررہے ہیں۔ ایسے میں اچھے خاصے مسلمان اس کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ ہم سب کو اس فتنے سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

فریب خوردہ لوگوں کا عبرتناک انجام آگے اس طرح پیش کیا گیا کہ ’’پھر اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو جان لو اللہ کو یہی منظور ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان پر مصیبت پڑے اور حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں سے بہت سے لوگ نافرمان ہیں‘‘۔ موجودہ حالات میں ایسا لگتا ہے کہ یہ آیت ابھی ابھی نازل ہورہی ہے۔ کس بے خوفی کے ساتھ امت اپنے گناہوں کی پاداش میں اللہ کی جانب سے آنے والی مصیبتوں کو دعوت دے رہی ہے اور اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ اس سلسلے کی تیسری اور آخری آیت کے اندر انذار کا سمندر ہے۔ اللہ کے قانون سے منہ موڑنے والوں سے کتاب الٰہی ایک رونگٹے کھڑا کرنے والا سوال کرتی ہے ’’تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟‘‘۔ اس سوال سے دل کانپ اٹھتا ہے ۔ کون ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ ہاں میں جاہلیت کو اسلام پر ترجیح دیتا ہوں لیکن جمہوریت یا ڈیموکریسی بھی جاہلیت ہی کی ایک شکل ہے ۔ اہل ایمان کی قلبی کیفیت پر آیت اختتام پذیرہوتی ہے’’اور یقین رکھنے والی قوم کے لئے حکم (دینے) میں اللہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے ‘‘۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

قرآن اورعروج و زوال کی داستان

ڈاکٹر سلیم خان سورۂ اعراف میں قوموں کے عروج و زوال کی ...