بنیادی صفحہ / فکر / جدید ڈیمو کریسی اور اسلام – قسط دوم

جدید ڈیمو کریسی اور اسلام – قسط دوم

سعود فیروز

جدید ڈیموکریسی اور اسلام : ایک مطالعہ – قسط اول

ڈیموکریسی کی بنیادی خصوصیات اور نمایاں اقدار

ایتھنز کے سب سے بڑے مدبّر پیرک لز (Perecles) نے اپنی ایک تقریر میں اس وقت کی جمہوریت کی مکمل تصویر کشی کردی ہے۔ اس میں حقیقی جمہوریت کے بنیادی خد وخال بالکل نمایاں ہیں۔ وہ کہتاہے:

’’ہمارا دستور جمہوری کہلاتا ہے، اس لیے کہ حکومت چند لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ پوری جماعت کے ہاتھ میں ہے۔ ذاتی جھگڑوں میں ہمارا قانون سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے اور انصاف کا دامن کسی حال میں نہیں چھوڑتا ہے اور ہماری رائے عامّہ زندگی کے ہر شعبے میں جہاں کار نمایاں کا موقع ہو، ہنر کی قدر کرتی ہے، کسی فرقے کی رعایت سے نہیں بلکہ کام کی خوبی دیکھ کر۔ ہم سیاسی زندگی میں ہرایک کو اپنا جوہر دکھانے کا موقع دیتے ہیں اور یہی اصول ہم اپنے روز مرّہ کے باہمی تعلقات میں برتتے ہیں۔ ہمارا ہم سایہ اپنے مذاق کے مطابق خوشی منائے تو ہم اسے نہ تیکھی نظروں سے دیکھتے ہیں نہ برا بھلا کہتے ہیں۔ ہم ان چھوٹی چھوٹی بد تمیزی کی حرکتوں سے پرہیز کرتے ہیں جن کی چوٹ چاہے دکھائی نہ دے مگر جن کے دل پر لگتی ہے انھیں دکھ دیتی ہے۔ ملنے ملانے میں ہم بے ریا اور با مروّت ہیں۔ مگر ہم اپنی ریاست کے انتظامی معاملات میں سختی سے قانون کی پیروی کرتے ہیں۔ جو برسرِ اقتدار ہو ہم اس کا احترام کرتے ہیں اور اس کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ قوانین کی اطاعت کرتے ہیں، خصوصاً ان کی جو مظلوموں کی حمایت میں بنے ہوں اور اس اخلاقی معیار کا بہت پاس رکھتے ہیں جس کی خلاف ورزی باعثِ شرم و ندامت ہے۔‘‘

پیرک لیز نے اپنی اس تقریر میں ڈیموکریسی کی جو تفصیل بیان کی ہے اس سے ڈیموکریسی کی درج ذیل خصوصیات سامنے آتی ہیں:

– جماعت کے ہاتھ میں حکومت
– قانون کی بالادستی
– قانون کے سامنے سب کی مساوی حیثیت
– انصاف
– ہنر کی قدر
– یکساں مواقع
– رواداری
– تعلقات کی بنیاد خلوص
– اطاعت و فرمانبرداری
– مظلوم کی حمایت
– اخلااقی معیار کی پاسداری

ڈیموکریسی کی نمایا ں اقدار کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحق انصاری لکھتے ہیں: ’’جمہوریت کچھ قدروں کا نام بھی ہے۔ جیسے فکر و خیال کی آزادی ،ہر عقیدہ و مذہب کی آزادی،بنیادی حقوق کا تحفظ۔ قانون کےسامنے سب کی یکساں حیثیت،ہر ایک کےلئے ترقی کے یکساں مواقع۔ اسی جمہوریت میں عوام اپنے منتخب نمائندوں کا احتساب کرنے ، حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ایک وقت کے بعد ان کو معزول کرنے کا بھی حق حاصل رہتا ہے۔‘‘
(سیکولرزم،جمہوریت اور انتخابات، عبد الحق انصاری،مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، صفحہ 07)

ڈیموکریسی کا اردو ترجمہ

ایک زبان کی اصطلاح کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بڑا نازک اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔ اصطلاحات کا معاملہ عام الفاظ کی طرح نہیں ہوتا۔ کسی عام لفظ کے کئی معنی ضرور ہوسکتے ہیں لیکن وہ متعین اور معلوم ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا ترجمہ کرنے میں بہت زیادہ دقت نظر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصطلاحات کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ دو جمع دو چار کی طرح ان کا معنی نہیں ہوتا۔ اصطلاحات، خواہ ان کا تعلق کسی شعبہ علم سے ہو، اپنے اندر معنی و مفہوم کی ایک وسیع دنیا سمیٹ رکھتی ہیں۔ اصطلاح کا مفہوم محض اس کے لغوی معنی تک محدود نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض اوقات ایک اصطلاح کا اس کے لغوی معنی سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ ایک اصطلاح کے معنی میں وہ تاریخی پس منظر بھی شامل ہوتا ہے جس تناظر میں وہ وضع کی گئی تھی۔

سیاسیات،معاشیات اور سماجیات کی اصطلاحوں کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہوتا ہے۔ ان کے مفہوم میں تاریخی تناظر کے علاوہ سماجی پس منظر کا دخل بھی ہوتا ہے ۔ یعنی یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کس سماج میں وہ اصطلاح معرض وجود میں آئی تھی۔ اس کے وجود پذیر ہونے کے اسباب و علل تلاش کرنےپڑتےہیں۔ ان سب کی رعایت کے بعد ہی اس کا ٹھیک اور صحیح معنی و مفہوم طئے کیا جاتا ہے۔ پھرہر زبان کی اپنی مخصوص روایات بھی ہوتی ہیں جو ہمیشہ اس زبان کے بولنے والوں کے تاریخی احوال اور سماجی کوائف سے ہم آہنگ رہتی ہیں۔ مختصراً آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک اصطلاح اپنے دامن میں ایک پورا نظام معنی(Meaning System) رکھتی ہے۔ جس کا مفہوم اس کے تاریخی و سماجی تناظر کی روشنی میں ہی طئے ہوتا ہے۔ مترجم کی نگاہ اگر کسی اصطلاح کے ظاہری و لغوی معنی تک ہی محدود ہو اور وہ اس کے تاریخی و سماجی تناظر سے صرف نظر کر بیٹھے اور محض ظاہری معنی کا اپنی زبان میں ترجمہ کردے تو یہ ترجمہ نہ صرف یہ کہ درست نہ ہوگا بلکہ اس اصطلاح کے ساتھ زیادتی بھی ہوگی۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک زبان کی اصطلاح کا تعلق اس زبان سے وابستہ مخصوص فکر اور مخصوص فلسفے سے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کا صحیح اور مکمل مفہوم صرف اسی زبان میں ادا ہوسکتا ہے۔ جب آپ اس قسم کی کسی اصطلاح کا ترجمہ کسی ایسی زبان میں کرنا چاہتے ہیں جس زبان کا تعلق اُس مخصوص فکر و فلسفے سے نہیں ہوتا ،تو آپ کو کوئی ایسا لفظ میسر نہیں آتا جس میں اصطلاح کا صحیح اور مکمل مفہوم ادا ہوجائے۔
اس لئےکبھی کبھی مناسب اور احتیاط کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ اہم اصطلاحوں کا ترجمہ کرنے کے بجائے انہیں جوں کا توں ہی منتقل کرلیا جائے۔ اس میں قباحت کا کوئی پہلو نہیں۔ یہ زبان کے فقر کی نہیں بلکہ کشادہ قلبی کی دلیل ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ ایسا کرنے سے ایک پوری آبادی اجتماعی کنفیوژن میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔

ڈیموکریسی اسی قسم کی،جس کی مختصر تفصیل اوپر پیش کی گئی ہے، ایک انگریزی اصطلاح ہے ۔اس اصطلاح کے ساتھ بھی تاریخی و سماجی،فکری و تہذیبی تناظرات اور لسانی روایات وابستہ ہیں۔ اس لئے اس کا کسی زبان میں ایسا ترجمہ کرنا کہ اصل مفہوم کامل صورت میں ادا ہوجائے ،بہت مشکل عمل ہے۔بعض زبانوں کے لئے، ان کے اپنے لسانی اسٹرکچر کی وجہ سے یہ آسان بھی ہوسکتاہے ۔ مثال کے طور پر ہندی زبان میں اس کا ترجمہ ‘لوک تنتر (Lok Tantra) کیا گیا ہے۔ یہ ایک مناسب ترجمہ ہے۔ البتہ عربی ،فارسی،ترکی اور اردو زبانوں کے لئے یہ ترجمہ دشوار رہا ہے۔ عربی میں اسے انگریزی سے براہ راست منتقل کرلیا گیا ہے۔ چنانچہ عربی زبان میں مذہبی و غیر مذہبی دونوں لٹریچر میں ڈیموکریسی کے لئے لفظ ’’د یمقراطیۃ‘‘ ہی مستعمل ہے۔ جو کہ ڈیموکریسی کی تعریب ہے۔ بہتر ہوتا کہ دوسری زبانیں بھی عربی ہی کی تقلید کرتیں۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ترکی اور فارسی میں اس کا ترجمہ ‘جمہوریت کردیا گیا۔ یہیں سے یہ اصطلاح اردو میں بھی در آئی اور رائج ہوگئی۔ اردو میں سب سے پہلے یہ ترجمہ کس نے اور کب اختیار کیا اس سلسلے میں کوئی بات بہت وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی۔ میرے مطالعے کی حد تک علامہ شبلی نعمانیؒ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اول اول اس ترجمہ کو اختیار کیا ہے۔ علامہ شبلی اپنی شہرہ آفاق تصنیف ‘الفاروق میں جمہوری حکومت اور جمہوریت وغیرہ اصطلاحوں کا استعمال کرتے ہیں۔ شبلی کے علاوہ شاعر اسلام علامہ اقبالؒ نے بھی اپنے اشعار میں اور ‘تجدید فکریات اسلام (Reconstruction of Religious Thought in Islam) میں لفظ جمہوریت استعمال کیا ہے۔ ان کے علاوہ بیسویں صدی کے تمام معروف مسلم علماء اور مفکرین نے ڈیموکریسی کے لئےلفظ ‘جمہوریت ‘ ہی استعمال کیا ہے۔ ان میں بر صغیر میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور سید ابوالاعلی مودودیؒ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

بعض اہل دانش ڈیموکریسی کا ترجمہ ‘جمہوریت کر دینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس جانب شاید حسب ضرورت توجہ کم ہی دی گئی ہے۔ اگرچہ کہ لفظ جمہوریت اردو داں حلقے میں قبول عام حاصل کرچکا ہے۔اس کا ایک عرفی معنی بھی طئے ہوچکا ہے تاہم اس ترجمہ کے سلسلے میں عدم اطمینانی کی کیفیت بدستور موجود ہے۔حالیہ دنوں میں جب کہ مسلم حلقوں میں ڈیموکریسی پر گفتگو کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے، اور لوگ ڈیموکریسی اور مغربی ڈیموکریسی کی بحثوں کو خلط ملط کررہے ہیں، لفظ جمہوریت کے تئیں عدم اطمینانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ڈیموکریسی کے تئیں جو سطحی قسم کی غلط فہمیاں اس وقت مسلم اہل علم اور غیر اہل علم طبقے کے ذہنوں میں گھر کر گئی ہیں ان کے اہم اسباب میں سے ایک ڈیموکریسی کا ترجمہ ‘جمہوریت ‘بھی ہے۔ اگر اس ترجمہ پر از سر نو غور کرکے اسے بحث و گفتگو کا موضوع بنایا جائے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں ہے۔

اردو میں لفظ ‘جمہوریت استعمال کرنے سے لوگوں کے ذہن میں یہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ ڈیموکریسی ‘حکومت جمہور کا نام ہے۔ جمہور کے معنی اکثریت (majority)کے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ڈیموکریسی کا معنی جمہور کی حکومت نہیں ہے۔ اس کےمعنی ‘عوام کی حکومت یا ‘لوگوں کے اقتدار کے ہیں ۔ جیسا کہ پچھلے صفحات میں اس کی لغوی تحقیق کرتے ہوئے واضح کیا جا چکا ہے۔ حکومت جمہور اور ‘ حکومت عوام میں فی الواقع بڑا فرق ہے۔کسی ملک میں اگر ملک کے تمام باشندوں کو بلا کسی تفریق ووٹ دینے کا حق حاصل ہو، ووٹ کے ذریعے ہر فرد حکومت سازی کے عمل میں شریک ہوسکتاہو تو اسے عوامی حکومت یا عوام کا اقتدار ہی کہا جائے گا،جمہور کا اقتدار یا اکثریت کی حکومت نہیں۔ اکثریت کی حکومت در اصل ڈیموکریسی کی ایک ناگزیرعملی صورت (Inevitable Pragmatic Form) ہے۔ لیکن یہی اصل ڈیموکریسی نہیں ہے۔ ڈیموکریسی میں اکثریت کی حکومت ایک الگ موضوع گفتگو ہے۔ یہاں اس پر گفتگو کرنے کا موقع نہیں ہے۔ یہ اس ترجمہ کا پہلا نقص ہے۔

دوسرا نقص ڈیموکریسی کا ترجمہ جمہوریت کر دینے کا یہ ہے کہ لفظ ‘جمہوریت ڈیموکریسی کو ایک باقاعدہ نظریہ بنا دیتا ہے۔ حالانکہ کہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ڈیموکریسی معروف معنوں میں کوئی نظریہ نہیں ہے۔

جمہوریت کا اصل مشتق جمہور ہے۔ جب جمہور ‘کو ‘جمہوریت میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو اس میں ایک شدت اور نظریہ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی بناء پر لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ جمہوریت ایک نظریہ ہے، ‘حاکمیت جمہور جس کی اساس ہے۔ یہ حاکمیت، عوام کی مطلق حاکمیت پر دلالت کرتی ہے۔ حالانکہ کہ اصل صورت حال اس سے مختلف ہے۔ جب آپ انگریزی میں ڈیموکریسی کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے کسی نظریہ یعنی کسی ‘اِزم کا مفہوم پیدا نہیں ہوتا۔ پھر ‘حاکمیت کا مفہوم تو اس میں ہے ہی نہیں۔ اس میں صرف حکومت اور آمر یا بادشاہ کے مقابلے میں عوام کی خود مختاری کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ پھر اس میں ‘عوام کی مطلق حاکمیت کا معنی نکال لانا ستم بالائے ستم ہے۔ یہ معنی دراصل ڈیموکریسی کا مطالعہ کرنے والوں کے pre-conceived notions کی اختراع ہے ۔

عوام کی حاکمیت ِ مطلق اصل ڈیموکریسی نہیں ہے بلکہ یہ ڈیموکریسی کا مغربی تصور ہے۔اہل مغرب چونکہ پہلے ہی اپنے اجتماعی معاملات سے خدا اور اس کی خدائی کو بے دخل کرچکے تھے،لہذا ان کے یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوا کہ حکومت میں خدا کا رول کیا اور کتنا ہوگا۔ خدا کے انکار کے بعد عوام ہی کی خدائی ہو سکتی تھی۔ اس لئے وہاں کی جمہوریت میں ‘حاکمیت عوام کا نظریہ رائج ہوگیا۔ اس کی مزید تفصیلات آئندہ آئیں گی۔

‘جمہوریت کی اصطلاح کا تیسرا، اور میری نظر میں سب سے اہم نقص یہ ہے کہ یہ ڈیموکریسی کی جملہ ابعاد کو cover نہیں کرتی۔ جمہوریت کا آپ جو بھی معنی لیں عوام کی حکومت یا عوام کی حاکمیت دونوں کا تعلق بہر حال سماج کے سیاسی امور سے ہے۔ یعنی جمہوریت کا ترجمہ ڈیموکریسی کے صرف اس معنی کی ترسیل کرتا ہے جس کا تعلق انتخابی سیاست (Electoral Politics) سے ہے۔ جبکہ ڈیموکریسی اپنے تاریخی سفر سے گذرنے کے بعد اب محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں رہ گئی ہے۔ ڈیموکریسی اب ایک سماجی قدر اور انسانی رویہ (behaviour) بن چکی ہے۔ آج کے تناظر میں جب ہم ڈیموکریسی لکھتے یا بولتے ہیں تو اس سے محض مسائل حکومت و حاکمیت مراد نہیں ہوتا بلکہ آزادی،کشادہ نظری،پر امن بقائے باہم،اختلاف رائے اور اظہار رائے کا حق،اخوت و مساوات، عدل و انصاف ،اور بھی بہت کچھ معنی اس میں شامل ہوتا ہے۔لیکن ‘جمہوریت ‘ کی اصطلاح کا نقص یہ ہے کہ یہ محض حکومت اور طرز حکومت سے متعلق مسائل ہی کی نمائندگی کرتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈیموکریسی کا ترجمہ جمہوریت کر دینے سے خاص طور پر اسلام پسند حلقوں میں بڑے فکری مخمصے پیدا ہوگئے ہیں۔ اسی اصطلاح کی بنیاد پر لوگوں نے یہ قیاس کرلیا کہ جمہوریت ایک غیر اسلامی نظریہ اور ‘طاغوتی نظام ہے۔ کیوں کہ جمہوریت کا معنی ‘جمہور کی حکومت یعنی حاکمیت جمہور ‘ہوتا ہے۔ اور اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کے لئے خاص ہے۔ اس فکری کنفیوژن کا شکار ہونے سے جلیل القدر اصحاب فکر بھی محفوظ نہیں رہ سکے۔گزشتہ صدی کےایک جید عالم دین کے درج ذیل خیالات اسی کنفیوژن کےغماز ہیں؛

’’تاریکی اور روشنی میں،رات اور دن میں،بدی اور نیکی میں جو فرق ہےوہی جمہوریت اور اسلام میں ہے۔آپ فلسفہ کی رو سے بھی غور کرلیں۔آپ جمہوریت کی تعریف کریں۔عوام کی حکومت،عوام کے لئے،عوام کے ذریعہ سے،عوام کی بہبود کے لئے، یہی تعریف ہے آپ کسی جگہ پڑھ لیجئے۔ اسلام میں اللہ کی حاکمیت،اللہ کی حکومت،اللہ کے قانون کے ذریعہ سے ،اللہ کے ماننے والوں کے لئے،موٹی سی یہ تعریف ہے،کہیں پڑھ لیں۔اب ان دونوں میں ذرا جوڑ ملائیے۔ہے کوئی جوڑ ملتا ہوا،کوئی تک ہے؟‘‘

اس قسم کے بودے خیالات ڈیموکریسی ااور مغربی ڈیموکریسی کے درمیان فرق نہ کرنے کا لازمی نتیجہ ہیں۔ فرق کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں نے ڈیموکریسی کو ‘جمہوریت کہہ کر اس اصطلاح کو ‘عوام کی مطلق حاکمیت کا مترادف بنالیا۔

کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ ڈیموکریسی کا مفہوم کچھ بھی ہو،اور جمہوریت اس کا ناقص ترجمہ ہی صحیح لیکن اب یہ اصطلاح لوگوں کے درمیان ایک مخصوص معنی میں فروغ پاچکی ہے،لہذا اب از سر نو لغوی ادھیڑ بن سے کیا حاصل؟ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ ترجمہ ناقص ہے،اور اس نے لوگوں کو بڑے تاریخی مغالطے میں ڈال رکھا ہے ہو،تو اس پر ازسر نو غور کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اہل علم حلقے میں اس پر کم از کم مباحثہ تو ضرور ہونا چاہئے۔ رہی یہ بات کہ اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوا یا نہیں ؟ تو یہ تو بہرحال ڈسکشن کے بعد ہی معلوم ہوگا۔

ڈیموکریسی اور جدید جمہوریت

عوام کی حکومت،عوام کے ذریعے،عوام کے لئے۔ڈیموکریسی کی تاریخ ابراہم لنکن کی اس تعریف سے شروع نہیں ہوتی۔ یہ جدید ڈیموکریسی کی تعریف ہے۔جس کی تاریخ ،ایسا کہا جاتا ہے، یورپ کے نشاۃ ثانیہ کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔

ڈیموکریسی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسان کے سیاسی افکار و خیالات کی تاریخ۔ قدیم یونانی مفکرین نے ڈیموکریسی کو یونان کی city-states (شہری-ریاستیں) کے تناظر میں ڈیفائن کیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ڈیموکریسی کی تاریخ کم از کم دوہزار سال پرانی ہے۔ یونان کے شہری ریاستوں میں بادشاہت اور امیر طبقے کی حکومت کا نظام رائج تھا۔ قدیم یونان اور مملکت روم کی سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز پانچویں صدی قبل مسیح میں ہوچکا تھا۔یہ افلاطون اورارسطو کا عہد حیات تھا۔ اس زمانے میں عوام بادشاہ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے پابندہوا کرتے تھے۔ سیاسی فکر میں بالیدگی آنے کے بعد رفتہ رفتہ عوام کے ذہن میں طرزحکومت کے نئے تصورات جنم لینے لگے۔ عوامی ذہن ایک ایسے سیاسی نظام تک رسائی حاصل کر نے لگا تھا جہاں عوام کو سیاسی امور میں براہ راست مداخلت کرنے کا حق ہو۔ یونان میں اس وقت city-states کا نظام تھا۔ ایتھینز (Ethens) اس کی نمایاں مثال ہے۔ حکومت میں عوامی شرکت کے نئے سیاسی خیال کے پختہ ہونے کے بعد ان شہری ریاستوں میں چیدہ افراد کوcitizen (شہری ) کا درجہ عطا کیا جانے لگا۔ یہ ‘شہری، ریاست کے سیاسی امور میں عوام کی نمائندگی کرتے تھے۔ اگر ڈیموکریسی کی مختلف اقسام کے حوالے سے دیکھیں تو یہ بلا واسطہ قسم کی ڈیموکریسی (Indirect Democracy) تھی۔ جس میں لوگ براہ راست سیاسی امور میں مداخلت کر سکتے تھے۔کیوں کہ شہری-ریاستوں کا رقبہ انتہائی کم ہوتا تھا۔چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے سبب تمام عوام کو ایک جگہ جمع کرکے ان سے رائے لینا ممکن ہوا کرتا تھا۔

قدیم زمانے میں یونان کے علاوہ روم میں بھی ایک عرصے تک عوامی شمولیت والا طرزحکومت پایا جاتا تھا۔لیکن ڈکٹیٹر جولیَس قیصر(Julius Caesar) کےبرسر اقتدار آنے کے بعد روم میں پھر بادشاہی نظام چل پڑا۔

عہد حاضر کے معروف ماہر سیاسیات رابرٹ اے دائل اس حوالے سے لکھتے ہیں؛
’’پانچویں صدی قبل مسیح کے نصف اول میں اہل یونان اور اہل روم کے سیاسی تصورات اور اداروں میں ایک تغیر رونما ہوا۔جسے پہیے کی ایجاد یا نئی دنیا کی دریافت کے حوالے سے ایک تاریخی اہمیت حاصل تھی۔ اس تبدیلی نے دنیا کی تفہیم نو اور اس میں پوشیدہ امکانات کو ظاہر کیا۔ ہوا یہ تھا کہ مختلف ‘شہری ریاستیں (City-States)، جو عہد نا معلوم سے غیر جمہوری حکمرانوں کے زیر اقتدار تھے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہوگئے تھے جس میں آزاد ،بالغ مردوں کی ایک معتد بہ تعداد کو اس طور پر شہری قرار دیا گیا تھا کہ وہ حکومت میں براہ راست شرکت کر سکیں۔

اس تجربے اور اس سے جڑے خیالات سے ایک نئے ممکنہ نظم سیاسی کا تصور سامنے آیا۔ایک ایسا نظم جس میں نا صرف یہ کہ خود مختار عوام کو حکومت کرنے کا حق بلکہ اس کے لئے تمام ضروری وسائل اور اداروں کو اپنے زیر تصرف رکھنے کا حق بھی حاصل ہو۔‘‘
(Democracy and Its Critics, Robert A. Dahl)
اس نئے تجربے کے ذریعے عوام پر ایک فرد یا ایک خاندان کی حکومت کا جزوی اور وقتی طور پر خاتمہ ہوگیا۔ اسی طرز حکومت کواہل یونان نے ‘ ڈیمو کریشیا (عوام کا اقتدار) کے نام سے موسوم کیا۔ واضح رہے یہ ڈیموکریسی کوئی آئیڈیل طرزحکومت اور نقائص سے مبرا نہیں تھی۔ خود افلاطون اور ارسطو اس کے ناقد تھے۔البتہ ارسطو نے محدود ڈیموکریسی کی وکالت کی تھی۔ افلاطون اور ارسطو نے مختلف طرزہائے حکومت کا تقابلی مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ ڈیموکریسی مناسب ترین طرز حکومت نہیں ہے۔کیوں کہ اس میں گنے چنے افراد ہی کو ‘شہری کا درجہ دیاجاتا تھا۔ یہ درجہ صرف مَردوں کے لئے خاص تھا۔ خواتین ،مہاجرین اور غلاموں کو اس حق سے محروم رکھا جاتا تھا۔یعنی محض10 فیصد افراد ہی شہری کا درجہ رکھتے تھے ۔ یہی عوام پرحکومت کرتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود یہ تسلیم کیاجاتا ہے کہ ڈیموکریسی کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔ اور اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ڈیموکریسی کی تاریخ دوہزار سال سے زیادہ قدیم ہے۔

یہ ڈیموکریسی کی مختصر تاریخ ہے۔ جدیدڈیموکریسی کا تصور سولہویں صدی عیسویں میں سامنے آیا۔یورپ کے نشاۃ ثانیہ اور اصلاح مذہب کی تحریکوں کے نتیجے میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوئیں۔انسانی زندگی کے ہر سوال اور ہر گوشے پر ازسر نو غور کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔روایتی سیاسی، سماجی و معاشی فکر و فلسفے میں اصولی نوعیت کی تبدیلی آگئی ۔نئے فکر و فلسفے کی بنیاد ‘فرد کو بنایا گیا۔ اس کےنتیجے میں نئی اخلاقی اقدار، بنیادی حقوق اور آزادی کے تصورات سامنے آئے۔ 1688 میں انقلاب انگلستان کے موقع پر جان لاک نے اس خیال کا اظہار کیا کہ انسان کے کچھ فطری اور بنیادی حقوق ہوتے ہیں،جنہیں کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ اس میں زندگی،آزادی اور ملکیت کا حق شامل ہے۔ ریاست کی تشکیل در اصل ان ہی حقوق کی حفاظت اور نگرانی کے لئے کی جاتی ہے۔ اٹھارویں صدی میں امریکہ کی آزادی (1776) اور انقلاب فرانس (1789) جدید ڈیموکریسی کے ارتقا کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ انیسویں صدی میں یرمی بنتھم اور جان اسٹیورٹ مل نے نظریہ افادہ پسندی (Utilitarianism)کی بنیاد پر ڈیموکریسی کی وکالت کی۔

جدید ڈیموکریسی کا یہ مختصر پس منظر ہے۔اس کی مزید تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جائے گی۔ یہاں مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ ڈیموکریسی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔اور اس وقت جو جمہوری طرز حکومت دنیا بھر میں رائج ہے وہ جدید ڈیموکریسی ہے۔اس وقت جدید ڈیموکریسی ہی موضوع گفتگو ہے۔

(جاری)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

قرآن اورعروج و زوال کی داستان

ڈاکٹر سلیم خان سورۂ اعراف میں قوموں کے عروج و زوال کی ...