غزل

ایڈمن
اپریل 2018

حق بات جب سے سب کو سنانے میں لگ گیا سارا جہان مجھ کو مٹانے میں لگ گیا گر میں نہ ڈھونڈ پایا کسی مسئلے کا حل تو بھی تو بس بہانے بنانے میں لگ گیا تقدیر جب سے ہوگئی…

حق بات جب سے سب کو سنانے میں لگ گیا
سارا جہان مجھ کو مٹانے میں لگ گیا

گر میں نہ ڈھونڈ پایا کسی مسئلے کا حل
تو بھی تو بس بہانے بنانے میں لگ گیا

تقدیر جب سے ہوگئی ہے مجھ پہ مہرباں
ہر کوئی مجھ کو اپنا بنانے میں لگ گیا

جھگڑوں سے مسلکوں کے الگ رہ کے دوستو
باطل کے نقش میں بھی مٹانے میں لگ گیا

جانا نہیں ہے چھوڑ کے میدان اس لئے
ساحل پہ کشتیاں میں جلانے میں لگ گیا

چاہا تھا میں نے گھر میں کروں روشنی مگر
طوفان مرا چراغ بجھانے میں لگ گیا

کہتے ہیں جس کو میڈیا، سب کام چھوڑ کر
دہشت پسند ہم کو بتانے میں لگ گیا

اجداد سے الگ ترا کردار ہے بہت
رہبرؔ یہ تجھ کو یاد دلانے میں لگ گیا

توصیف رہبر، تلنگانہ

حالیہ شمارے

جدید تہذیب اور اسلامی اخلاق

شمارہ پڑھیں

عام انتخابات کے نتائج 2024 – مستقبل کی راہیں

شمارہ پڑھیں