زندگی ایک معرکہ ہے

ایڈمن
جون 2021

معتصم سعد خان سعدیمیں سوچتا ہوںیہ زندگی کے اصول ہیں یاکہ اک معرکہ بپا ہےہزار داغوں کو لے کے چلنارفو ہی کرنا زخم پرانےزخم بھی وہ جن سے ٹیس اٹھےبہت سی الجھن شکایتوں کےگھنیرے جنگل بچھے ہوئے ہیںمگر انھیں میں…


معتصم سعد خان سعدی


میں سوچتا ہوں
یہ زندگی کے اصول ہیں یا
کہ اک معرکہ بپا ہے
ہزار داغوں کو لے کے چلنا
رفو ہی کرنا زخم پرانے
زخم بھی وہ جن سے ٹیس اٹھے
بہت سی الجھن شکایتوں کے
گھنیرے جنگل بچھے ہوئے ہیں
مگر انھیں میں ثمر صبر کے لگے ہوئے ہیں
کئی ہی جنگیں چھڑی ہوئی ہیں
کئی تو خود سے چھڑی ہوئی ہیں
بہت مسائل سلگ اٹھے ہیں
بہت ہے موقع سہولتیں بھی
نفس کو ڈالے لگام رکھ کر
خودی کو کرنا تلاش بھی ہے
بہت ہے سنگ گراں بھی حائل
خارزاریں ڈٹی ہوئی ہیں
گو راستوں کی چبھن بہت ہے
چبھن سے آگے سکوں بہت ہے
طلوع بہت ہے
دلوں کو اپنے جدتوں سے
کتاب زندہ کے رنگ میں رنگنا
سکوں یہی ہے
طلوع یہی ہے
مگر یہ اتنا سہل نہیں ہے
میں سوچتا ہوں
یہ زندگی کے اصول ہیں یا
کہ اک معرکہ بپا ہے

حالیہ شمارے

جدید تہذیب اور اسلامی اخلاق

شمارہ پڑھیں

عام انتخابات کے نتائج 2024 – مستقبل کی راہیں

شمارہ پڑھیں