ردی کی ٹوکری سے تعلیم تک

0

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر کیوں پانی پر پل بنانے یا گھر کی چھت بنانے کے لئےمربع کے بجائے مثلث شکل کا استعمال کیا جاتا ہے؟ یہ سوال سنتے ہی یقیناً آپ کا ذہن مختلف حساب لگانے کے لئے گھوڑے دوڑا رہا ہوگا۔ اسی دوران میں،  آپ سے اگر یہ کہوں کہ اس کا جواب ننھا منا پہلی  جماعت کا بچا کوڑا کرکٹ سے بنے ہوئے کھلونے کے ذریعے دے سکتا ہے تو  آپ ضرور  اطمینان کے پل سے چھلانگ لگا کر حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ آئیے ملتے ہیں جناب اروند گپتا صاحب سے. جنہوں نے بچوں کے اندر موجود تخلیقیت کونشو نما دینے اور سائنس  میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے بے شمار کھلونے ایجاد کئے ہیں۔ اروند گپتا سکھاتے ہیں کہ کس طرح چند دیا سلائیوں اور ربڑ کے ایک ٹکڑے سے بنے کھلونے سے، بچے یہ خود بتا دیں گے کہ پل  اور چھت  مثلث کیوں ہوتے ہیں ۔اسی لئے آپ کو کھلونوں کا سائنسدان بھی کہا جاتا ہے۔

ننھا دماغ تجسس کا مرکز ہوتا ہے۔جو نقوش بچپن ہی میں ذہن میں پڑتے ہیں ان کی وہ زندگی کے ہر موڑ پر اتباع کرتا ہے۔ IIT کانپور  سے فارغ  اروند گپتا نے مشاہدہ کیا کہ طلباء سانئسی اصول اور  تصورات کی تعریفیں اور فارمولے حفظ کرتے ہیں اور امتحانات میں بغیر سمجھے چھاپ دیتے ہیں دوسری جانب  لیباریٹری کے سامان مہنگے ہونے کی وجہ سےعملی طور پر بچوں کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ آپ کا ماننا ہے کہ پورے لیباریٹری میں سب سے قیمتی اور مقدس شئے  بچوں کا دماغ ہوتا ہے۔

ہمارے صارفی معاشرہ میں جہاں روزانہ ردی کے پہاڑ نکلتے ہیں جیسے پلاسٹک کی بوتلیں، آئیس کریم کی چھڑیاں، گتے کے ڈبے، تنکے، ٹیٹرا پیکس وغیرہ، اچھی بھلی نوکری چھوڑ  کر اروند صاحب پچھلے ۴۴ سال سے اس مشن پر ہیں کہ اسی ردی سے کھلونے بنائیں اور بچوں میں سائنسی تجسس کو ابھارا جائے۔ یہ سوچ ان میں اس وقت ابھری جب آپ نے کالج کے میس ہال میں کام کرنے والے نوکروں کی حالتِ زار کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو صبح سے رات گئے سخت محنت کے باوجود اپنے بچوں کو  باضابطہ اسکولوں میں داخلہ کی اجازت نہیں پاتے تھے۔ گپتا صاحب کی سوچ  ہے کہ سائنس محض امیروں کا کھیل نہیں بلکہ اسےدیہاتوں  اور پسماندہ افراد تک پہنچنا چاہیے۔  ان کا کہنا ہے کہ بچہ کھلونے کے ساتھ جو سب سے بہترین کام کر سکتا ہے وہ اسے توڑنا ہے۔ کیونکہ اس سے بچے کے تجسس کو تسکین ملتی ہے کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے اوراسی دوران بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔  اسی لئے ردی اور کوڑے سے بنے کھلونے بنانا اور توڑنا آسان بھی ہوتا ہے ممکن بھی۔

آسان، سادہ، سستے، دلچسپ  اور بہترین سائنسی کھلونے بنانے والے، پونا شہر کے  اس  پدم شری ایوارڈ یافتہ سائنسدان کا TED خطاب  تعلیم کے شعبے  کے بہترین TED خطابات میں شمار ہوتا ہے۔ انکی ویب سائٹ  arvindguptatoys.com  اور انکے یوٹیوب چینل  پر کھلونے بنانے کے ۸ ہزار سے زائد  مختصر ویڈیوز، ۲۱ زبانوں موجود ہیں جس سے ہزاروں کھلونے بنائے جا سکتے ہیں اور سائنس کے ہزاروں تصورات سیکھے جا سکتے ہیں ۔انکی ساری ایجادات   مفت اور اوپن سورس (Open Source)ہوتی ہیں جس سے علم و عشق کا کوئی بھی پروانہ  مفت میں استفادہ کرسکتا ہے۔

دیہاتوں، غریبوں اور صلاحیتوں کے ملک ہندوستان میں مہنگے اسکولوں اور کوچنگ سنٹروں  کے جنگل میں اروند گپتا کی طرح کے اور بہت سے جھرنوں کی  ضرورت ہے جو علم کی  پیاس کے ماروں کو امید کا ٹھنڈا میٹھا پانی فراہم کرسکیں۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.