تسبیح

طلحہ فیاض الدین

جیسے ہی ہم لفط تسبیح سنتے ہیں، ہمارے ذہن میں تسبیح سے متعلق کچھ تصاویر آجاتی ہیں۔ ہری چادر کو بچھا کر اُس پر کچھ بیجوں کو بکھرا دیا گیا ہے جس کو لوگ اپنے ہاتھوں سے چن رہے  ہیں اور گنتے جا رہے ہیں۔ یا کچھ گول دانے ہیں جو ایک مضبوط  ڈوری میں پروئے ہوئے ہیں۔   یا انگشت  کو دوسری انگلیوں  کی لکیروں  پر پھرا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ محض آلہ ہیں جن کا استعمال  ذکر و تسبیح  کے لئے کیا جا تاہے۔ ‘تسبیح’ کے اصل معنی  کو سمجھنے کے  لئے ہمیں اپنے تصور کو  چھوٹے گول دانوں  سے آگے، آسمانوں میں اربوں  کی تعداد میں گردش کرنے والے    سیاروں اور ستاروں   پر غورو فکر کرنا ہوگا۔

 مصدر  92 مرتبہ قرآن میں آیا ہے۔  السّبْحُ کے  اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتار سے گزر جانے کے ہیں۔ بطور استعارہ   یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش  اور تیز رفتاری کے لئے استعمال  ہونے لگا ۔  اس کے معنی عبادت  اور خدا کی بندگی میں تیزی  کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ تیرنے  اور  float ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تیرنا دراصل ایک ہم آہنگی اور توازن کی کیفیت  کا اظہار ہے۔ اس ہم آہنگی اور توازن ہی کا نتیجہ ہوتا ہے  کا  وہ سیارے اور ستارے اپنے  اپنے  دائرہ سے تجاوز نہیں کرتے، اور ان کےمتعین کردہ  راستے  پر آگے  بڑھتے جاتے ہیں۔  قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ  آفاقی سیاروں  اور ستاروں کے سلسلہ میں فرماتا ہے: لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (سورۃ یس: 40) ” نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں ۔”  کائنات میں ہم ایک نظام دیکھتے ہیں، ظاہری طور پر کوئی مادّی تعلق نہیں  نظر آتا مگر سارے ستارے و سیّارے ، آسمان میں اڑنے والے پرندے، سمندر اور اس میں تیرنے والی مخلوق،  زمین ،  پہاڑ اور ان پر چلنے والی مخلوق، سب میں ایک ہم آہنگی نظر آتی ہے، جس سے سارا  نظام منظم اور منصوبہ بندانداز میں چلتا ہے۔ اس  کی وجہ’ تسبیح’ ہے۔ کائنات میں  جن و انس کے علاوہ  جتنی بھی مخلوقات ہیں  وہ سب ہمیشہ  اللہ کی تسبیح میں ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:  تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ”۔اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو “۔ )سورۃ الاسراء:44(   ہم ان کی قولی تسبیح  کو نہیں سمجھ سکتے مگر، یہ تو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا  ان حدود میں قائم رہنا اور وہی کام انجام دینا  جو اللہ نے متعین کیا  ہے، ان کی عملی  تسبیح ہے۔در حقیقت یہ ساری کائنات کا وجود ہی اللہ کی تسبیح ہے۔ یہ ساری کائنات اور اس کی تخلیق اس بات پر گواہی دیتی ہے کہ  ان کا بنانے والا اور پرورش کرنے والا صرف اور صرف ایک ہی  رب، اللہ ہے۔

تسبیح – ایک عبادت

 تسبیح کا لفظ قولی، فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت   کا مفہوم رکھتا ہے۔ تسبیح کے سب سے عام اور آسان الفاظ “سبحان اللہ” ہیں۔  سبحان اللہ یا اللہ کی پاکی بیان کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ  ہر عیب ، نقص ، کمزوری ،  خطا اور برائی سے پاک ہے ۔ اس کی ذات پاک ہے ، اس کی صفات پاک ہیں ، اس کے افعال پاک ہیں ، اور اس کے احکام بھی، خواہ وہ تکوینی احکام ہوں یا شرعی، سراسر پاک ہیں ۔ جب کوئی اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے تو  وہ  یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ perfect ہے، اور اس perfection کے اعلان کے ساتھ یہ بھی بات آتی ہے کہ ہم خود imperfect عیب دار اور خطا کار ہیں۔ مگر اللہ ان ساری کمزوریوں سے پاک ہے:

 لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔ “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا”۔ (سورۃ الانبیاء:87)

 اللہ کی تسبیح بیان کرنے کے معنی یہ ہوئے کہ جس نے اللہ پر  ایمان کا اعلان کیا ہے ، اس پر قولی اور عملی طور پر قائم رہنا ہے  اور اس کی خلاف ورزی سے اعراض کرنا ہے۔

تسبیح، حمد، استغفار

  تسبیح ایک ایسی عبادت ہے جس میں فرشتے  انسان کی تخلیق سے پہلے  بھی  مشغول تھے۔  چنانچہ جب اللہ نے انسان  کی تخلیق اور اس کے زمین پر خلیفہ بنائے جانے کا اعلان کیا  تو فرشتوں کو اس پر حیرانی ہوئی:

 وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ،میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ انہوں نے عرض کیا،  کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا ۔آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں۔  فرمایا: میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے”۔ (سورۃ البقرۃ:30)

اگرچہ فرشتے اللہ کی تسبیح اور حمد بیان کر رہے تھے،اللہ نے  ایک ایسی مخلوق  کی تخلیق کی اور اس پر خلیفہ کی ذمہ داری ڈالی اور اس کو مرضی اور اختیار بھی عطا کیا، نیز اس سے تسبیح اور حمد کے الفاظ کے علاوہ استغفار  کے کلمات  سکھائے۔

قرآن مجید میں تسبیح، حمد اور استغفار ایک  مجموعہ اور triad D  کے طور پر پایا جاتا ہے ۔ تسبیح، حمد، اور استغفار، یہ ایک دوسرے کی تکمیل  کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اُس کی حمد کئے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی، اور اللہ جل شانہ کی حمد کا آغاز اُس کی تسبیح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ حمد تسبیح کو مکمل کرتی ہے۔ اللہ کے perfection کو مکمل طور سے بتانے کے لئے ضروری ہے کہ ان چیزوں کی تلاش ہو جس پر  قدر دانی اور تعریف  کیا جائے  اور ان انعامات کا احساس ہو جس پر شکریہ ادا کیا جائے۔  حمد،  تسبیح کی توفیق بھی دیتی ہے اور مستقل طور پر پورے احساس اورعمل کے ذریعہ سے تسبیح  کرنے پر آمادہ  بھی کرتی ہے۔ قرآن میں 15 مقامات پر تسبیح اور حمد کا ذکر ایک ساتھ  آتا ہے۔ جن میں سورۃ النصر: 03،  سورۃ الحجر:98،  سورۃ طہ: 130،  سورۃ سجدہ: 15،  سورۃ الزمر: 75،  سورۃ الغافر:55،  سورۃ الشوری: 5،  سورۃ ق :39،  سورۃ  الطور: 48،  سورۃ الرعد: 13،  سورۃ الاسراء:44،   سورۃ الفرقان: 58،  سورۃ البقرۃ:30، شامل ہیں۔

نیز انسان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے حضور اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کی مغفرت طلب کرے، خود کے ذریعہ اپنے آپ پر کئے گئے ظلم کے احساس کے ساتھ ساتھ اللہ  تعالیٰ کی تسبیح بجا لائے، اپنے گناہوں اور کمزوریوں  پر نادم ہو اور اس بات پر یقین ہو کہ اللہ کی ذات، صفات اور احکام ہر  قسم کی کمزوری سے پاک ہیں۔ چنانچہ قرآن میں یہ دعاء سکھائی گئ: لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۔ “نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا”۔(سورۃ الانبیاء: 87)   قرآن کریم میں یہ triad تین مقامات پر آئے ہیں۔  فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔  تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے(سورۃ النصر: 03)   تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔  قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے(سورۃ الشوری: 05) الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ۔ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: “اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ (سورۃ  غافر: 7)

تسبیح اور علم و تعلیم:

جدید دور کو knowledge explosion کا دور  کہا جاتا ہے۔ سائنس تیزی  سے آگے بڑھ  رہی ہے اور ہر دن نئے انکشافات اور ایجادات ہوتے رہتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ ، جسے علوم و فنون کے احیاء کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت وہ علم کے حقیقی تصور کی موت ثابت ہوا۔ علم کے ارتقاء کا  متوقع نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہو جائے اور وہ زندگی کی حقیقت اور اس کے مقصد کو جان کر اس  راستہ کا انتخاب کر لے۔  لیکن نشاۃ ثانیہ سے علم ، عقل اور سائنس کو دین اور خدا  کا مخالف اور شدید دشمن ٹھیرایا گیا۔ اس معاملہ میں قرآن مجید افراط و تفریط سے پاک ایک اعلی نظریہ پیش کرتا ہے۔ قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ پاک قلب  اور  بے تعصب عقل کے ساتھ غورو فکر کریں۔ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ (سورۃ  آل عمران: 190-191) ہوشمند، اولی الاباب وہ لوگ ہیں جو کسی تعصب کے بغیر، خالصتاً حق کی تلاش میں غورو فکر کرتے رہتے ہیں۔  ایسے لوگوں کے غور و فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی تسبیح بیان کرنے پر آمادہ ہوجاتےہیں کہ اللہ  اس کائنات کو بے مقصد اور عبث بنانے والا نہیں ہے  اور ان کے سامنے  زندگی کی حقیقت اور مقصد آشکار  ہوجاتاہے۔

علم میں ارتقاء اور انکشافات اور ایجادات کے ساتھ جب بندہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے تو  یہ در اصل اس بات کا احساس ہے کہ انسان جتنی بھی علم کی بلندی تک پہنچ جائے، وہ بہرحال اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اپنی حدود  کا احساس اور اللہ کے لا محدود علم کا یقین، تسبیح ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کے اس اعلان کو درج کرتا ہے اور فرماتا ہے:  قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ انہوں نے عرض کیا کہ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں (سورۃ البقرۃ: 32)

تسبیح اور دعوت

اللہ نے فرمایا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اُس کی تسبیح کے ساتھ حمد بیان کرتے ہیں مگر ہم اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ نیز اُن کی تسبیح کے اور پہلو  بھی بتائے گئے ہیں کہ  اگر ان کو وہ باتیں سمجھ میں آجائیں جو انسان اللہ کی ذات میں شرک  کے حوالہ سے کرتا ہے ، تو وہ اس کو برداشت نہیں کر پائیں گے : تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا۔أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدًا ۔  کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائے، اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا(سورۃ مریم: 90-91)۔   غور کیجیئے کہ صرف اپنی جگہ بیٹھ کر سبحان اللہ کہتے تسبیح کے دانے پھیرتے رہنے سے تسبیح  کیسے مکمل ہو سکتی ہے جبکہ دنیا میں شرک عام ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ہم لوگو ں کی بت پرستی سے بے چین ہوجائیں اور لوگوں  کو توحید کی طرف دعوت دینے والے بن جائیں۔ شرک کے مقابلہ میں تسبیح  کرنے کے سلسلہ میں متعدد آیتیں ملتی ہیں۔   سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ  (سورۃ یونس: 18، سورۃ النحل:01) پاک ہے وہ) اللہ(اور بالا تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔  سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ (سورۃ  المومنون: 91، سورۃ الصافات: 159)  پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں”؛  سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (سورۃ الحشر: 23) پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں۔

تسبیح کے کچھ اہم کلمات

سعد بن ابی وقاص ؓسے روایت ہے، ہم رسول اللہ ﷺکے پاس تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم میں سے کوئی عاجز ہے ہزار نیکیاں ہر روز کرنے سے۔” ایک شخص نے آپ ﷺکے پاس بیٹھنے والوں میں سے پوچھا: کیونکر ہم میں سے کوئی ہزار نیکیاں کرے گا؟ آپ ﷺنے فرمایا: “سو بار کہے تو ہزار نیکیاں اس کے لیے لکھی جائیں گی اور ہزار گناہ اس کے مٹائے جائیں گے  (صحیح مسلم، جامع ترمذی) اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی تسبیح بیان کرنا ایک اہم عبادت ہے، نیز اللہ کی پاکی بیان کرنے کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں، بلکہ نامہ اعمال کو  گناہوں  سے پاک  بھی کیا جاتا ہے۔

تسبیح کے جامع ترین کلمات کے سلسلہ میں روایت ملتی ہے  کہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ ؓکے پاس سے جب  رسول اللہ ﷺصبح سویرے نکلے تو  آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی اور  سیدہ جویریہ ؓاپنی نماز کی جگہ ہی تھیں۔ پھر آپ ﷺچاشت کے وقت لوٹے، دیکھا تو وہ وہیں بیٹھی ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:”تم اسی حال میں رہیں جب سے میں نے تم کو چھوڑا؟”  سیدہ جویریہ ؓنے کہا: جی ہاں۔  آپ ﷺنے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا اور وہ کلمات یہ ہیں: “سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ”۔  اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد اور اس کی رضا کے بقدر نیز اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر (رواہ مسلم)

امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ   صحیحین کا آغاز  نیت کو پاک اور خالص  کرنے کی حدیث سے کرتے ہیں اور اختتام اس حدیث سےکرتے ہیں جس میں تسبیح کے جامع کلمات سکھائے گئے۔ اللہ کی وسیع رحمت اور بے حساب جزاء کے ساتھ یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ انسان کے بڑے اور عظیم کارناموں کو نیت کے لحاظ سے پاک رکھنے کے لئے تسبیح نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ حضرت ابوہریر ہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت  محمد ﷺنے فرمایا دو کلمات  ایسے ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بوجھل اور باوزن ہوں گے ۔ وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں: سبحان الله وبحمده ، ‏‏‏‏ سبحان الله العظيم (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

تسبیح تو ہمیشہ کرتے رہنا چاہئے۔ البتہ قرآن مجید میں تسبیح کے سلسلہ میں کچھ اوقات کا ذکر ملتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے: بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ (سورۃ ال عمران:41) (سورۃ غافر:55)، بُكْرَةً وَعَشِيًّا (سورۃ مریم:11) اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ (سورۃ الانبیاء:20)، سورۃ فصلت:38)  حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ (سورۃ الروم: 17) بُكْرَةً وَأَصِيلًا (سورۃ الاحزاب: 42) ، (سورۃ الفتح: 09) صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہنے کے لئے خصوصیت  سے رات اور دن کے الٹ پھیر کے ذکر میں ایک لطیف اشارہ ملتا ہے۔ اس مضمون کے آغاز میں تسبیح کو سمجھنے کے لئے سیاروں اور ستاروں پر غور و فکر کرنے کی اہمیت کے متعلق بات آئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (سورۃ یس: 40) نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔” یہ سورج اور چاند میں جو نظم  و ضبط اور  ہم آہنگی پائی جاتی ہے، نتیجتاً رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے میں بھی نظم اور ہم آہنگی ملتی ہے۔   اس تبدیلی کو انسان روزانہ   دیکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے دل کی آنکھوں سے بھی دیکھے تو اس کو اس نظام کائنات اور حقیقی تسبیح کا تصور  نظر آئے گا۔ چنانچہ صبح و شام کے لئے مختلف الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ان اہم اوقات میں پورے احساس و شعور کے ساتھ  تسبیح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سیاروں اور ستاروں غرض کائنات میں موجود ہر شئے سے لے کر انسان کے جسم کے خورد بین خلیہ سب اللہ کے نظام کی پابندی کرتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ صرف  انسان کا نفس ہے جو بغاوت پر اتر آتا ہے اور نظام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قولی تسبیح قلب میں جاذب ہو جائے اور  عملی تسبیح کے طور پر ظاہر ہو۔ نیز  دعوت کے ذریعہ سے تسبیح کو دوسرے انسانوں کی زندگی کا حصہ بنانے  کا یہ اثر ہوگا کہ ہم اپنی ذات میں بھی اور معاشرہ میں بھی ہم آہنگی  اور اتحاد و اتفاق ، امن و سکون دیکھیں گے۔

تحریر نگار- ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین

اپریل 2023

مزید

حالیہ شمارہ

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں

فلسطینی مزاحمت

شمارہ پڑھیں