علامہ قرضاوی: عالم اسلام کا روشن ستارہ

0

جون، 1992م کی بات ہے جب روزگار کے سلسلے میں  میرا  قطر  آنا ہوا، وزارت اوقاف و اسلامی امور کے تحت جس علاقہ میں امامت کے لئے  مجھے مسجد ملی وہ مسجدِفروض تھی۔  اس کے لگ بھگ 200 میٹر کے فاصلے پر لب شاہراہ ( جسے اب  Doha Express way   کہتے ہیں) جامع عمر بن خطاب واقع ہے، جمعہ کے لئے مجھے یہیں آنا تھا۔

آج میرا  یہاں پہلا جمعہ تھا،  مسجد خطبہ سے پہلے ہی بھری بھری نظر آرہی تھی۔ حاضرین میں کچھ نماز تو کچھ تلاوت میں مشغول نظر آئے، حیرت ہوئی کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی صفوں میں برابر کے بیٹھے دکھائی دئے،  بچوں کا شور بالکل بھی نہ تھا۔  ہال کے بالکل درمیان میں اور دونوں کناروں  پر  بڑے بڑے کیمرے ا سٹانڈ  پر نصب تھے اور ان کے آپریٹر وہیں بیٹھے تلاوت میں مشغول نظر آئے ۔

اتنے میں محراب کے اندر لگا جنوب کی جانب سے دروازہ کھلا ، جہاں سے  ایک طویل قامت، لحیم شحیم، شخص  داخل ہوا۔ یہ شیخ (یوسف عبد اللہ ) قرضاوی صاحب تھے میں نے یہ بات معلوم کرلی تھی کہ  شیخ ہی یہاں کے مستقل خطیب ہیں۔ آپ سے استفادہ  کی خاطر میں بصد شوق یہاں آیا تھا، چونکہ غائبانہ  شیخ کی  کافی تعریف سن رکھی تھی،  شیخ نے تحية المسجد کا دوگانہ ادا کیا  اور خطبہ کے لئے ممبر پر چڑھ گئے۔  ایک قطری نو جوان نے نہایت دلنشیں انداز میں اذان دی،  پتہ چلا کہ یہ صاحب ہر جمعہ کی اذان ثانی اپنے  شوق سے دیتے ہیں۔ خطبہ لگ بھگ 45 منٹ پر مشتمل  تھا، خطبۂ  اولی ٰمیں وعظ  و نصیحت تھی۔ آیت، “اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔۔۔۔” اور حدیث ، ” یسروا ولا تعسروا ، بشروا ولا تنفروا۔۔۔”  بنیادی نصوص رہے ، جبکہ خطبۂ  ثانیہ میں حالات حاضرہ  اور  مسجد اقصی  پرگفتگو رہی۔ آیت، ”  واعدوا لھم ما استطعتم من قوہ۔۔ ۔۔” ،    شیخ کی گرجدار آواز، جوشیلا  لہجہ، خطاب میں روانی، آیات و احادیث  کا استحضار،  مسجع جملے اور انداز بیان نے سامعین  کو خطبہ سے مکمل باندھے رکھا تھا۔ میں نے سمجھا  شیخ خطبہ دے کر  تھک کر ہٹ جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا، آپ نے  نماز بھی پڑھائی، اور سنت نبوی کو اپناتے ہوے نماز میں سورہ الاعلی ٰاور سورہ الغاشیہ تلاوت کی ان دنوں آپ 66 برس  کے تھے ۔

 اس کے بعد کئی جمعے الحمد للہ آپ سے استفادہ کا موقعہ ملا۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مناسبتوں سے آپ کے دولت کدہ پر اور مختلف پروگراموں میں  تبرکاً  ملاقاتیں او دعائیں حاصل رہیں، شیخ جب بھی گھر سے باہر تشریف لاتے، خالص ازہری روایتی  لباس میں ہوتے، سوائے جمعہ اور تراویح کے، اس وقت  آپ عربی ثوب اور غطرہ زیب تن  کرتے۔

شیخ کی ولادت 9 ستمبر 1926 ء کو افریقی ملک مصر  کے”صفط تراب” نامی قریے میں  ہوئی ( بقول شیخ کے یہ وہ قریہ جہاں آخری صحابی عبد اللہ بن حارث  زبیدی مدفون  ہیں)،  اور وفات  26ستمبر 2022م کو ایشیا کے ملک قطر کے دوحہ شہر میں ہوئی۔ یوں  ہجری کیلنڈر کے مطابق آپ نے مکمل 100 سال کی عمر پائی ، 2 سال کی عمر تھی جب آپ اپنے والد سے یتیم ہوگئے، چچا نے پرورش کی۔  یتیم  عموماً  معاشرہ میں کسمپرسی  اور غفلت کا شکار رہتا ہے،  مگر قدرت کو آپ سے بہت بڑا کام لینا تھا۔  چنانچہ  بہ توفیق الہیٰ آپ تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔    دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا، ابتدائی تعلیم جامعہ الازھر سے الحاق شدہ اسکولوں میں حاصل کی اور اعلی ٰتعلیم کے لیے جامعہ الازھر کے کلیہ اصول الدین میں داخلہ لے لیا اور ماسٹرس کیا اور پھر وہیں سے 1973  میں فقہ الزکاۃپر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

 آ پ بلاکے ذہین تھے ، یہ مشہور ہے کہ  تعلیمی دور میں آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان   ہمیشہ آگے رہے۔ یہاں تک کہ جب آپ نے پی ایچ ڈی پر مقالہ لکھا تو اس   پر  اس دور کے  بڑے بڑے  اہل قلم نے بڑی تعریف کی۔  شیخ نے اپنی سوانح  حیات (ابن القریہ والكتاب ، سیرة ومسیرة ) میں لکھتے ہیں،  ” 1970 دسمبر ہے اور مجھے خبر ملی کہ میری کتاب ‘ فقہ الزکاة ‘ چھپ چکی ہے، میری خوشی کی انتہا نہ رہی،  جیسے میرے گھر میں پہلا  بچہ جنم لے رہا ہو۔   میں نے دنیا کی بڑی بڑی شخصیات کے نام   تبصرے کے لئے اس کتاب کے نسخے بھیجے، جواب میں میرے نام پے  در پے توصیفی خطوط آنے شروع ہوگئے۔ جس میں قابل ذکر خطوط شیخ عبد العزیز بن باز، شیخ عبد اللہ المحمود، شیخ علی طنطاوی ، شیخ ابو الاعلی مودودی، شیخ ابو الحسن ندوی اور شیخ محمد غزالی (رحمہم اللہ ) کے تھے،  ( بلکہ شیخ مودودی نے کہا تھا کہ یہ کتاب فقہ اسلامی کے باب میں  14ویں صدی کی  منفرد کتاب ہے، یہ بات مجھے خلیل احمد حامدی نے بتلائی)”۔

 شیخ ابتدائی اسکول کی  چوتھی کلاس میں تھے  ان دنوں آپ کے علاقے میں حسن البنا ، سیرت کے پروگرام میں  خطاب کے  لئے آئے تھے۔ یہ پہلا موقعہ تھا جہاں شیخ نے انہیں دیکھا او ر سنا، جس میں آپ نے ہجرت پر گفتگو کی  تھی۔یہیں سے آپ    اخوان المسلمون سے متاثر ہوئے  اور بچوں کے  شعبہ سے منسلک ہوگئے۔ شعر گوئی کا آپ کے اندر ملکہ تھا ،  یہیں سے آپ کو دینی اور رجزیہ شعر لکھنے اور سنانے کا موقعہ ملا۔   ہائی اسکول پہنچتے  پہنچتے آپ انگریزوں کے خلاف احتجاجی جلسوں کے اندر صف اول میں نظر آنے لگے، ان  دنوں حکمرانوں کا اسلام پسندوں پر ظلم اپنے شباب پر تھا 12 ویں کلاس  میں تھے جب آپ پہلی مرتبہ جیل گئے۔  کچھ عرصے بعد دوسری مرتبہ جب  جیل  جارہے تھے  تو وہیں اخوان کی معروف شخصیات  حسن الھضیبی، شیخ الغزالی، سید سابق، اور مھدی عاکف وغیرہ سے ملاقات ہوئی اور یہیں   آپ کو ہمہ جہتی  تربیت ملی۔

ہجرت، ایک  روشن مستقبل:

سال 1961ء کا تھا جب ازہر نے علماء کی  ایک ٹیم کو  خلیج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ شیخ نے  خلیج کی ریاست قطر جانا پسند کیا ، یہاں آپ کو  ایک دینی ادارے کے پرنسپل کی حیثیت سے کام سونپا گیا۔آپ کے اخلاص اور جہد کو دیکھ کر قطر نے آپ کو 1967  میں شہریت عطاکی۔ 1973ء میں  آپ کو قطر یونیورسٹی سے منسلک ہونے کا موقعہ ملا ، یہاں آپ کی کوششوں سے 1977ء  میں  ‘فیکلٹی آف شریعہ و علوم اسلامیہ ‘ قائم ہوا جس کے  آپ  پہلے ڈین رہے ۔  1990 میں آپ ایک سال کے لیے عارضی طور پرالجزائر بھیجے گئے جہاں آپ سائنٹیفک کاونسل آف اسلامک یونیورسٹی اینڈ ہائیر ایجوکیشن میں بطور چیرمین  رہے اور 1991ء میں قطر یونیورسٹی کے سنت و سیرت ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے دوبارہ قطر لوٹ آئے۔

ترقی کی اوج  ثریا:

فن خطابت میں مہارت اور علمی پختگی  کی وجہ سے اس سرزمین نے اول دن سے  ہی  آپ کو منبر و محراب تھما دیا تھا۔ اب  دوحہ کی  بڑی مساجد میں آپ  جمعہ کے خطبے دیتے، مختلف مناسبات میں آپ کے علمی، فکری اور تربیتی لکچر س ہوتے، علمی پختگی کے ساتھ ساتھ آپ میں چونکہ اجتہادی عنصر غالب تھا اس بنا  شعبۂ  فتویٰ میں بھی آپ کو بھر پور جگہ ملی، ریڈیو اور ٹی وی پربرسہا برس تک  ہفتہ واری پروگرام چلتے رہے۔ پھر جب الجزیرہ ٹی وی کا قیام عمل میں آیا تو ” الشریعہ والحیاہ ”  پروگرام میں کئی سال تک  شیخ مستقل آتے رہے، یہی وہ ایام ہیں جب آپ کی شناخت  حدود قطرسے باہر پورے عرب وعجم میں پھیل گئی  اور آپ مقبول خاص و عام ہونے لگے۔ ایک طرف دروس و خطبات کے ذریعے خدمات جاری تھیں تو دوسری جانب تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری تھا آپ نے 100 سے زائد  کتابیں تصنیف کیں جن میں سے اب  اکثر کتابوں کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے  2004 میں اپنی (سوانح)  آپ  بیتی بھی لکھی۔

شیخ ایک دلیر انسان تھے :

امت اسلامیہ کے عالمی مسائل میں آپ کا موقف دو ٹوک اور واضح رہتا تھا، فلسطینیوں کے حقوق  کے لئے اور صہیونیت کے خلاف آواز اٹھانے  والوں میں شیخ سر فہرست تھے۔ شاید ہی آپ کا کوئی خطبہء جمعہ ایسا  گزرا ہو  جس میں آپ نے فلسطین کا تذکرہ نہ کیا ہو۔ آپ اس سلسلہ میں کبھی کسی سے نہیں ڈرے۔ مشہور ہے کہ 1996 میں جب اسرائیلی وزیر  کا قطر آنا ہوا تو آپ نے خطبہء جمعہ میں بے باک انداز میں کہا تھا کہ جس نے بھی اس وزیر سے مصافحہ کیا ہے اسے 7 مرتبہ ہاتھ دھونا چاہئے جس میں ایک بار مٹی بھی  استعمال ہو(یہ ایک خطرناک اشارہ تھا)۔ مگر حکمران وقت بھی دلیر اور حکیم تھا کچھ عرصے بعد عید کی مناسبت  آئی اس موقعہ پر  امیر قطر نے شیخ سے ہاتھ ملاتے ہوئے مسکرا کر کہا کہ مصافحہ کرلیجئے یہ ہاتھ سات مرتبہ دھلا ہوا ہے۔

علماء عصر میں آپ کی انفرادیت:

آپ کے چاہنے والے ، جدت پسندی اور روشن خیالی آپ کا خاص وصف شمار کرتے ہیں۔شیخ کے بعض فتاویٰ  جمہور علمائے اسلام کی رائے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے (جس کی تفصیل کا یہاں موقعہ نہیں)۔  جس کی وجہ سے بسا اوقات آپ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔  نائن الیون کے بعد جس طرح دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کا مشاہدہ کیا گیا اسی کا اثر تھا کہ شیخ قرضاوی جیسی معتدل سمجھی جانے والی شخصیت کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ۔چنانچہ بعض عرب ریاستوں نے دہشت گرد عناصر کی ایک فہرست تیار کی جس میں آپ کو بھی شامل کردیا گیا ۔

عرب بہاریہ میں  آپ  عالم اسلام کے ان علماء میں سے  تھے جن  کی رائے  مثبت تھی اس لئے مطعون ٹہرائے گئے ، بعد ازاں  مصر کے منتخب صدر کے خلاف فوجی انقلاب کے حرام ہونے کا  بھی آپ نے فتوی دے کر  منتخب صدر کی دوبارہ قانونی طور پر بحالی کی بات کی تھی۔ جب کہ علماء کا ایک طبقہ من جملہ جامعہ ازہر کے اس انقلاب کو جائز سمجھتا تھا، چنانچہ اس فتوی کے پس منظر میں علامہ یوسف قرضاوی نے جامعہ ازہر کی رکنیت سے احتجاجا ً استعفی دے دیا ۔

وقت کا مجدد:

پوری مسلم دنیا میں آپ کو علم و فکر اور دعوت و جہاد کا سرخیل سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی علمی خدمات تمام دینی زاویوں پر  محیط ہیں۔ جہاں قرآن و حدیث کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر اسلام کی درست ترجمانی کی کوشش رہی، وہیں  اجتہاد کی راہ اپناتے ہوئے عصری تقاضوں کا بھی بھر پور خیال رکھا گیا۔

اسی طرح آپ کی تصنیفات تعصب ،جمود اور اندھی  تقلید سے  پاک ہیں، افراط و تفریط سے گریز اں  اعتدال پسندی و فکر تازہ کی مظہر ہیں۔ تحقیق اور تجدید آپ کی کتابوں کی اہم خصوصیت ہے۔ اسلوب نگارش ایسا سہل ممتنع کہ قاری اس میں کھو جائے۔ آپ کی تحریروں میں بلا مبالغہ  ایک فقیہ کی دقت نظر،مجدد کی جھلک، صاحب طرز ادیب  کا بانکپن اور داعی کی تڑپ نمایاں  نظر آتی ہے۔

  اللہ نے آپ  کو  جہاں وہبی  صلاحیتوں سے نوازا تھا وہیں  پر  سیاسی  تائید اور سارے جدید وسائل مہیا  بھی کردئے تھے ۔شیخ نے اس کا بھر پور استعمال کیا، اسی لئے ہم دیکھتے ہیں  شیخ کی فکر وطن سے نکل کر بر اعظموں تک چھا گئی اور  کسی جماعت اور تحریک میں سکڑ کر رہنے کے بجائے ساری امت میں گھر کر گئی۔ اسی پس منظر میں آپ نے   علماء اسلام کو متحد کرنے کے لئے سن 2004ء میں انٹرنیشنل فورم بنایا اور دنیا بھر کے علماء کوان کی فکر سے صرف نظر  کرتے ہوے مناسب نمائندگی دی، اور دنیا نے اس کے وزن کو محسوس کیا۔

انسان مخلص :

آخر میں آپ کی سوانح ( جو سن 2002 اور 2004 میں لکھی گئی تھی ، اس کے دوسرے حصے کے مقدمے ) سے کچھ  ایسے جملے  ” مسک ختام ” کے طور پر آپ  کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، جوبڑے سبق آموز ہیں    خصوصاً ان کے لئے جو اللہ کی راہ میں مصروف کار ہیں۔ ان جملوں میں مرحوم شیخ کا  امت اسلامیہ کے تئیں خلوص  اور فکرمندی کے ساتھ آپ کی سادگی  اور بے نیازی بھی ہمارے سامنے  کھل کر آجاتی ہے ، رقم طراز ہیں کہ :

“آپ دیکھیں گے کہ ہماری  زندگی میں کس طرح  پہلے کانٹے آئے ، پھر پھول بھی آئے،   تلخ ایام بھی آئے پھر خوشحالی بھی آئی ۔   ہم نے اللہ کی نعمتوں پر خوش ہو کر اس کی حمد و ثنا کی اور تکالیف پر  بھر پور صبر کیا اور ہم نے تکالیف  کو خدا کی طرف سے سمجھا ۔ ( اور یہی وطیرہ ہر مومن کا ہونا چاہئے) بہت سے لوگ آزمائش کی حلاوت کو نہیں جانتے مگر جن کے اندر خالص ایمان ہوتا ہے انہیں اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کو وہ محسوس کرلیتے ہیں۔ہم نے فوجی جیل کی بھٹی میں جو دکھ سہے ہیں اسے ہم ہی جانتے ہیں، حصول رزق حلال کی راہ  میں ہم پر زندگی کو تنگ کرنے کی جو کوشش کی گئی اس کو ہم نے برداشت کیا ہے لیکن ہم خدا کے فضل سے کبھی مایوس نہیں ہوئے۔

آگے لکھتے ہیں:  “جو کچھ میں نے لکھا بلا تکلف لکھا اس میں جو بھی خیر اور فضل ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔اور اگر کوئی تقصیر یا خلاف حق بات آگئی ہو تو وہ شیطان کی جانب سے ہے اور میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔میں نے اپنی تحریر میں کسی کو ناراض کرنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ اپنے دشمنوں کے لئے بھی میں نے اچھے الفاظ استعمال کئے، اور ان کے حق میں دعا کی ہے، اس لئے کہ تمام  انسان آپس میں بھائی ہیں، یا تو دین کی نسبت سے  یا وطن اور عام انسانیت کی نسبت سے۔ میں کسی کو اپنی طرف سے دشمنی   پر بھڑکانا نہیں چاہتا، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے لیے دعا کریں  اور اگر میں کوئی غلطی یا کوتاہی کروں تو مجھے معاف کر دیں۔ مجھے استغفار اور استغفار کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب  کہ میں 77 سال کا ہوں [ یہ سن 2004 کی بات تھی] ۔

تحریر نگار: عامر عثمانی عمری

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Verified by MonsterInsights