بنیادی صفحہ / بزم / جنھیں انصاف ہے جان سے پیارا

جنھیں انصاف ہے جان سے پیارا

مدیحہ امرین،تلنگانہ


امی جان صلاۃ الظہر کے لیے رکعت باندھ رہی تھیں کہ میں پرمسرت لہجے میں ان سے کہنے لگی کہ “امی، سلمان
بھائی کو رہا کر دیا گیا ہے”. بجائے اسکے کہ وہ نماز شروع کرتیں، وہ سیدھے سجدہ ریز ہوئیں اور ربُ الحفیظ کے
سامنے کلماتِ تشکر کہنے لگیں.


سلمان بھائی ایس آئی او مہاراشٹر کے صدر ہیں اور انکو این آر سی اور سی اے اے کے خلاف سختی سے آواز اٹھانے
پر میڈیا نے غلط الزامات لگاتے ہوئے گرفتار کر وایا تھا. جب ہم نے یہ خبر سنی تو تلملا گئے تھے کیونکہ سلمان
بھائی کو جاننے والا ہر شخص اس بات کی شہادت دے سکتا ہے کہ وہ نرم دمِ گفتگو اور گرم دمِ جستجو کے مالک ہیں.
ویسے تو انھیں کچھ دو دن ہی کے لیے گرفتار کیا گیا لیکن دونوں دن کا ہر لمحہ ہمارے لئے بہت بھاری تھا. یہ وہ سعاتیں تھی جو اِس بات کا مستقل احساس دلائے جارہی تھیں کہ انصاف کی لمبی لڑائی میں ہم جھونک دیے گئے ہیں اور اب یہاں سے واپسی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا.
گرفتاری کے وقت بھی جب امی جان سے میں کہنے لگی کہ “امی ایس آئی او کے ایک ممبر کو گرفتار کیا گیا ہے” اور
امی کو وہ تقریر سنانے لگی جس کی وجہ سے ان پر الزامات کھڑے کیے گئے تھے، تو امی جان کا ردعمل بڑا لطیف
تھا. کہنے لگیں، “اچھا یہ لڑکا… میں نے اس کی بہت تقاریر سنیں ہیں. جس جرأت سے وہ اپنی بات رکھتا ہے وہ واقعی
قابلِ تحسین ہے”.
ایک اور موقع وہ تھا جب بہن عائشہ ریننا اور لدیدہ فرزانہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا. یہ وہ بہنیں ہیں جنھیں
ہندستان کا ہر باشعور شہری جانتا ہوگا. دھرنا دینے کے دوران دہلی پولیس کے روپ میں جب چند شرپسند عناصر ان
پر حملہ آور ہوئے تو انھوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور یہ بات باور کرایا کہ ہمیں دبانا، مٹانا یا ڈرانا آسان کام نہیں.
ملاقات کے دوران انھوں نے اپنی آپ بیتی سنائی اور ہمیں اُن مظالم سے واقف کرایا جس سے وقتاً فوقتاً انکا سامنا ہوتا
رہتا ہے. ہمیں سمجھایا کہ ہر انصاف پسند فرد کا آواز اٹھانا کس قدر ضروری ہوگیا ہے اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ
یہ حضرتِ عائشہ و امّ عمارہ رضی اللہ عنہما کی سنت ہے کہ جب ضرورت پیش آئی تو وہ حق کے خاطر سینہ سپر
ہوگئیں.
ایک طرف حکومت بےدردی، ظلم، حق تلفی اور ناانصافی کو فروغ دے رہی ہے، تو دوسری جانب شرجیل امام، کنہیا
کمار، شہیلا راشد، رانا ایوب، آزاد اور کئی ایسے ہی گرم لہو جوان، نوجوان، بوڑھے، بچے اور مائیں اس انصاف
کی لڑائی میں کمر بستہ نظر آتے ہیں. کہیں شاہین اسکول کے اساتذہ کی گرفتاری عمل میں آئی، کہیں آئی پی ایس
سنجیو بھٹ کو کئی ماہ سے زندان میں شب و روز گزارنے پر مجبورکردیا گیا
حق تو یہ ہے کہ اِن سبھی نے سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے گرفتاری کا سامنا کیا. حضرتِ ابراہیم علیہ السلام
نے اپنے باپ، اپنی بستی کے لوگوں اور پھر وقت کے بادشاہ کے روبرو بھی حق گوئی و بے باکی کا مظاہرہ کیا تھا،
اس بات کی پروا کیے بغیر کے دشمن کس قدر خفا ہوں گے. وہ تعمیرِ حق میں ہر وقت مشغول رہتے، ہر آزمائش پر
صبر کرتے اور اُس انقلابی گروہ کو تیار کرنے ہر وقت فکرمند رہتے جو اِس دارِ فانی میں ایک واضح نصب العین کے
ساتھ زندگیاں گزاریں، قیدِ دنیا سے آزاد رہیں، رضائے الہی اور فلاحِ آخرت کے لیے مشکل ترین گھاٹی میں بھی کود
پڑیں اور جنت کے عوض اپنی جان و مال کا خدا سے سودا کرلیں. اور آج دنیا ایسے ہی ایک انقلابی گروہ کی راہ
تکرہی ہے.
انقلابی گروہ کی خصوصیات یہی ہوتی ہیں کہ وہ کامل اخلاص، خدا پرستی، تواضح و اانکساری، دنیا سے بےرغبتی،
جہاد فی سبیل اللہ، صبر و استقامت، زمانہ شناسی، اعتدال پسندی اور باہمی اخوت و ایثار کا اعلیٰ نمونہ ہوتے ہیں. یہ وہ
گروہ ہوتا ہے کہ جس کے بارے میں خداوند عالم خود کہتا ہے:

ولمّا رایالمؤمنین الاحزاب قالؤا ھذا ماوعدنا اللہُ ورسولہ و صدق اللہ و رسولہ وما زادھم الّا ایماناً و تسلیما (سورۃ الاحزاب:
22)
“اور جب اہلِ ایمان نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول نے
ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اسکے رسول کی بات بالکل سچی تھی، اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی کو
اور زیادہ بڑھایا”.
یہ بھی سچ ہے کہ صحابہ اکرام بھی اس انقلابی گروہ کی اولین صف کا حصہ تھے. حضرت علی ابن ابی طالب رضی
اللہ عنہ صحابہ کرام کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احباب کو دیکھا ہے، مگر مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملی، جس سے
انھیں تشبیہ دی جائے، یہ لوگ دن کو پراگندہ حال و پراگندہ بال اور گرد آلود ہوتے، لیکن رات ہوتے ہی خدا کی بارگاہ
میں سربسجود ہوجاتے، کتاب اللہ کی تلاوت میں مصروف ہوجاتے، کبھی حالتِ قیام میں تو کبھی حالتِ سجدہ میں ہوتے،
اور صبح ہوتی تو ذکر کرتے اور اس کے آگے اس طرح جھک جاتے جیسے آندھی والے دن میں درخت جھک جاتے
ہیں، پھر انکی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں یہاں تک کہ آنسوؤں سے انکے کپڑے تر ہوجاتے”.
حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ، فتح مکہ کی صبح اپنے شوہر کے پاس آئی اور بولی میں محمد صل اللہ
علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتی ہوں، ابو سفیان نے کہا: میں سمجھتا ہوں تو بےدین ہورہی ہے، اس پر ہند نے
جواب دیا: نہیں، خدا کی قسم! آج کی رات سے پہلے، اس مسجد میں کبھی اللہ تعالیٰ کی سچی عبادت نہیں کی گئی. بخدا
میں نے دیکھا کہ یہ لوگ پوری رات نماز پڑھتے اور قیام و رکوع اور سجدہ کرتے رہے”
لیکن آج ہماری حالت کچھ اس بات کی متماثل ہے کہ:

گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

اخلاقیات کا سبق بھی جو انھوں نے اپنی زندگیوں سے دیا تھا اسکی عظیم الشان مثالیں ہماری تاریخ میں درج ہیں.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدائن کے گورنر تھے، ایک بار وہ شہر کے کسی ایسے امیر آدمی کے پاس سے
گزرے جس نے کوئی چیز خرید رکھی تھی، اس نے حضرتِ سلمان کو قلی، مزدور سمجھا، بولا: آؤ، میرا یہ سامان لے
چلو. حضرت سلمان نے اسکا سامان سر پر لاد لیا، راستے میں جب لوگ ملے تو کہنے لگے: اللہ ہمارے گورنر کا بھلا
کرے، یہ سامان ہم اٹھالیتے ہیں. مگر آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا. اس امیر آدمی نے
معذرت کرنے لگا کہ اللہ آپکا بھلا کرے، میں نے آپکو نہیں پہچانا. آپ نے جواب دیا: چلتے رہو اور اسکا سامان اسکے
گھر تک پہنچایا.

تجھ سے ہوا آشکار بندہء مومن کا راز
اس کے دنوں کی تپش، اس کے شبوں کی گداز
اس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم
اس کا سرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا ناز

علامہ اقبال رحہ کے بقول بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا. یعنی کہ معاشرے سے ایسے لوگ کم ہی
ابھرتے ہیں جو انقلاب کی سچی لگن رکھتے ہیں، لیکن حالات کا تقاضا ہے کہ امتِ مسلمہ کا ہر فرد اس انقلابی گروہ کا
حصہ بننے کی جستجو اور تڑپ رکھے کیونکہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص
کرتا نہیں جو صحبتِ ساحل سے کنارا

دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلمان کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
تقدیرِ امم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا

اِن کشیدہ حالات میں، ملک کے یہ ابھرتے ہوئے قائدین باقی عوام کو اپنے فرضِ منصبی کی طرف للکار رہے ہیں.
جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ جاتے ہو،
کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگانی پر راضی و مطمئن ہوگئے ہو؟ تو آخرت کے بالمقابل دنیوی زندگی کا
سامان نہایت تھوڑا ہے، اگر تم نہ نکلوگے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لاءے گا اور تم
اسکا کچھ نہ بگاڑ سکوگے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے” (سورۃ التوبہ: 38-39)
ہمیں کمربستہ ہوجانے کی ضرورت ہے کہ اُفقِ خاور پر ظلمت پیدا ہوئی ہے. اپنا لہو گرمانے، اپنے تن من دھن کو راہِ
حق میں لگادینے اور اس عزم کے ساتھ لگادینے کی ضرورت ہے کہ اس دورِ ظلمت کو ہم مٹاکر ہی دم لیں گے. تبھی
اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوگا کہ

وَاِنْ تصبرؤا وتتّقؤا لایضرکم کیدھم شیئا (سورہ آلعمران: 120)

“اور اگر تم صبر اور تقویٰ کی روش اختیار کروگے تو ان کی چال تمھارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گی”.
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ

عزائم کو سینوں میں بیدار کردے
نگاہِ مسلمان کو تلوار کردے (آمین)

تعارف: مدیحہ امرین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

اسلام کا تصور آزادی

ساجدہ صمد             آزادی،جس کو انسانی سماج کی بنیادی اور اہم ترین ...