یا خاموش تماشائی بنی رہی ہے یا پھر آئ ہی نہیں

ایڈمن

“اگر پولس والے آگے بڑھ بڑھ کر دنگائیوں کے لئے راستہ نہ بنا رہے ہوتے تو شاید وہ اتنی لوٹ مار نہیں کر پاتے وہ تو پولس کا ساتھ لیکر ہم نہتوں پر ٹوٹ پڑے تھے.”ہم جب کچی کھجوری پہنچے…

“اگر پولس والے آگے بڑھ بڑھ کر دنگائیوں کے لئے راستہ نہ بنا رہے ہوتے تو شاید وہ اتنی لوٹ مار نہیں کر پاتے وہ تو پولس کا ساتھ لیکر ہم نہتوں پر ٹوٹ پڑے تھے.”

ہم جب کچی کھجوری پہنچے تو وہاں ہماری جان پہچان کا کوئی نہیں تھا ہم کسی شخص کی تلاش میں تھے جو ہمیں بتائے کہ فسادات کے دوران یہاں رہنے والوں پر کیا گزری اور وہ کس طرح ان حالات سے گزرے ہماری نظر ایک چاۓ والے پر پڑی اور ہم اس سے چاۓ کے بہانے بات چیت کرنے لگے اتنے میں ایک کانسٹبل وہاں راونڈنگ پر آیا اور اپنا حصہ (رشوت) اشارہ دے مانگنے لگا اس کے جانے کے بعد دکان والے نے ہمیں بتایا کہ “24 تاریخ کو فساد شروع ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے تک یہ کانسٹبل اپنے سپاہیوں کے ساتھ اسی کی دکان پر بیٹھا ہوا تھا اچانک اس کے پاس کوئی فون آیا اور وہ وہاں سے آٹھ کر چلا گیا اور ہنگامہ کے دوران لوگ اسے فون کرتے رہے بلاتے رہے لیکن وہ نہ آیا اور آج 7 مارچ کو وہ دوبارہ اس علاقے میں دکھائی دیا ہے.”


  علاقے کے لوگوں کا کہنا ہیکہ اس پورے فساد کے دوران پولس یا تو اپدر مچانے والوں کی مدد کرتی رہی ہے یا خاموش تماشائی بنی رہی ہے یا پھر آئ ہی نہیں ہے.

علاقے کے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن پہلے سے ہی یعنی 23 فروری سے ہی گنڈے اس علاقے میں جمع ہونے لگے تھے اور راستہ چلتے مسلمانوں کو تنگ کر رہے تھے گالیاں بکتے بیہودہ اشارے کرتے یا پھر ڈراتے دھمکاتے لیکن پولس نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی لوگ جب 24 تاریخ کو کساد پورہ اجتماعی دعا سے واپس گھر لوٹ رہے تھے تو ان کو راستے میں ہی روک لیا گیا اور مارنا پیٹنا شروع کردیا اسی دوران انہوں نے شری رام کالونی کے رہنے والے ببو کی مار مار کر جان لے لی.  اس کے باوجود پولس ان کی مدد کے لئے نہیں آئی بلکہ لوگوں کا کہنا ہیکہ گنڈے پولس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر ہمارے اوپر دھاوا بول رہے تھے اور پولس کے آنسو گیس کے گولے بجاۓ ان پر داغے جانے کے مسلمانوں کی بستیوں کی طرف داغے جا رہے تھے خود اس چاۓ والے کی دکان پر دو آنسو گیس کے گولے پڑے ہوۓ تھے.


شیووہار والوں کی طرح گڑھی مینڈو والوں کا کہنا ہیکہ پہلے پولس والے علاقہ خالی کراتے تھے اور پھر اپدروی لوٹ پاٹ مچاتے اور آتش زنی کرتے تھے لیکن یہ کچی کھجوری والوں کی ہمت ہیکہ وہ ان فسادیوں کو نہ صرف یہ کہ اندر گاؤں میں گھسنے سے روکے رہے بلکہ گڑھی مینڈو کے مسلمانوں کو جو وہاں بہت کمزور ہیں ان کو بھی اپنے یہاں پناہ دی وہاں جن 20-25 لوگوں کے گھر جلا دئے گئے وہ آج بھی کچی کھجوری کے سموداے بھون میں پناہ لئے ہوئے ہیں.


انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج بھی جبکہ فسادات ہوۓ دس دن سے زیادہ گزر گئے ہیں لوگ رات میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں رات رات بھر باری بنا بنا کر پہرا دینا پڑتا ہے کیونکہ پاس کے علاقے کے گجر رات میں کھلے عام کٹے بندوقیں اٹھاۓ ہوائ فائرنگ کرتے ہوے مین روڈ پر ٹہلتے ہیں اور چیخ چیخ کر مسلمانوں کو گالیاں بکتے پھرتے ہیں.


وہاں کے مقامی لوگ اپنا نام تک سامنے لانے سے ڈرتے ہیں میری بہت کوشش کے باوجود نہ تو ان میں سے کوئی کیمرہ کے سامنے بات کرنے پر تیار ہوا اور نہ اس بات پر راضی ہوا کہ رپورٹ میں اس کا نام لکھا جائے یا کسی بھی طرح سے اس کی علامت ظاہر کی جاے پولس اور پرشاسن پر سے ان کا یقین سرے سے اٹھ گیا ہے اب وہ پولس کی موجودگی میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں.

فواز جاوید,  معاذ
ٹیم SIO DELHI

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں