بنیادی صفحہ / سخن / نگر ڈھنڈھورا

نگر ڈھنڈھورا

وندنا جوشی

وندنا جوشی کا تعلق نوئیڈا، اتر پردیش سے ہے۔معروف افسانہ نویس ہیں۔ہنس،سندیش اور کتھا دیش جیسے ہندی کے موقر ادبی پرچوں میں ان کی متعدد تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔


بارہ بجنے میں صرف آٹھ منٹ باقی تھے۔ زیادہ تر گھروں کے برقی قمقمے بند تھے۔ کچھ والدین تھے جو اب بھی اپنے بچوں کو موبائل ضبط کرنے کی دھمکی دے کر سلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا سو جانے کا بہانہ بناکر اپنے اپنے موبائل اور لیپ ٹاپ کی چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں سے تاک جھانک کرنے میں مشغول ہوتی ہے۔ برقی آلوں کی روشنی نے سورج کو اس کی حیثیت کا احساس دلا دیا ہے۔ اب اندھیرا تبھی چھاتا ہے جب موبائل بیٹری کے ختم ہونے کا اعلان کرنے لگے اور چارجر کی غیر موجودگی میں آپ کو چاہے نہ چاہے سونا ہی پڑے۔ ہاں،تو بارہ بجنے میں صرف چھے منٹ باقی تھے۔ ایک دومنٹ تو آپ کو خیر خبر دینے میں لگ گیا نا!


دیر رات بھی منوج سرگرم نظر رہا تھا۔ معاملے کی سنجیدگی آوازمیں جھلک رہی تھی۔’’انیتا کیک نکالو جلدی اور چاقو بھی رکھ دو، میں پاپا کو اٹھاتا ہوں‘‘۔ انیتا نے منوج کو اوپر سے نیچے تک اسکین کیا اور جھلا اٹھی، ’’پہلے تم ٹی شرٹ بدلو، پچھلی اپلوڈ میں بھی تم نے یہی پہنی تھی اور پاپا کابھی کُرتا بدلوا دو‘‘۔ ’’لیکن پاپا نے تو نیا کُرتا پہناہے ،رہنے دو‘‘ ۔منوج نے جواب دیا۔’’ ارے نہیں جناب!‘‘ انیتا بولی ’’یہ بڑے بھیّا نے دیا تھا، یاد نہیں رہتا تمہیں! اُنہیں کچھ ایسا پہناؤ جو ہم نے دیا ہو، ورنہ تصویریں اپلوڈ ہوتے ہی بھابھی کمینٹ کر دیں گی کہ پاپا جی کا کُرتا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ تم کچھ سمجھتے تو ہو نہیں‘‘۔


اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی منوج سہم گیا، یہ کیا کرنے جا رہا تھا وہ، بھیّا کے کُرتے میں پاپا کا برتھ ڈے؟
پاپا جی یعنی آلوک جی اپنی زندگی کے 84 ویں سال میں داخل ہونے جا رہے تھے۔ بیوی کا انتقال ہوئے پانچ سال بیت چکے تھے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی کی دنیا تھی۔بے حد پر سکون اور پر خلوص الوک جی زندگی کو ہر طرح سے قبول کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ ازدواجی زندگی کے اتار چڑھاؤ میں بیوی کا ہاتھ تھامے رہے ،یا یوں کہیے کہ بیوی اُن کاہاتھ تھامے رہی۔ جب سے بیوی چھوڑ کر گئی ،سمندر میں لہروں کے ساتھ اٹھ گر رہے ہیں۔ تینوں بچے اپنی اپنی زِندگی میں مگن تھے۔ الوک جی سب کی سہولت دیکھتے ہوئے باری باری سے اُن کے یہاں کچھ عرصہ گزار لیتے۔


کمرے کی لائٹ آن کرتے ہوئے منوج بولا، ’’پاپا اٹھیے، آپ کو کیک کاٹنا ہے‘‘ 80 کے بعد جسم سونے اور جاگنے کے عام جدول سے پرے ہوجاتا ہے۔ انسان صبح 10بجے بھی اخبار پڑھتے پڑھتے لار ٹپکاتا نیندکے مزے لے سکتا ہے، اور کئی بار رات بھر نیند کا انتظار کرتے ہوئے اندھیرے میں ٹُکر ٹُکر جاگتا رہتا ہے۔ اسی لیے 80 کے بعد جب جاگیں تب سویرا اور سو جائیں تبھی رات۔ بمشکل نیند کی آغوش میں سمائے الوک جی کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ ایک دم بڑبڑاتے ہوئے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔نیم بیداری کی حالت میں بڑی بڑی آنکھیں کھول کر،’’کیا کیا؟ نہیں نہیں نہیں!‘‘ کہتے ہوئے اپنے ہی دل عزیز بیٹے کو پہچان نہ پائے اور پیچھے دھکیلنے لگے۔ منوج کو آخر کار اپنی آواز میں سختی لانی ہی پڑی کیوں کہ بارہ بجنے والے تھے اور دو نوں کو کپڑے بھی بدلنے تھے، ’’حد ہے پاپا! آپ کو بولا تھا نہ آج دیر سے سونا، اور دن تو اٹھے رہتے ہو آپ، ابھی کیک نہیں کاٹا تو کیا میسیج جائے گا ،کہ ہم آپ کا خیال نہیں رکھتے؟ چلیے فٹا فٹ اٹھیے اور یہ کرتاپہن لیجیے‘‘۔ منوج اپنا لایا ہوا بھڑکیلا چمکتا کرتا آگے کرتے ہوئے بولا ۔یہ کرتا اُس نے اپنے سالے کی شادی میں پاپا کے لئے بنوایا تھا۔ منوج کی بے تکی تنک مزاجی سے سبھی واقف تھے۔ چنانچہ الوک جی لال لال آنکھوں میں ندامت لیے منوج کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کُرتا بدلنے میں لگ گئے۔
ڈرائنگ روم کی چھوٹی سی ٹیبل پر بڑا سا کیک تھا جس پر’’ ہیپی برتھ ڈے ڈِیَر پاپا‘‘ لکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا گفٹ بھی تیار کیا جا چکا تھا جسے دیتے ہوئے انیتا کوتصویر لینی تھی۔ انیتا کمرے کی لائٹ چیک کر رہی تھی اور منوج اپنے ہائی ٹیک کیمرے کو تیار کر رہا تھا۔ ماحول میں خاصہ ٹینشن تھا۔ جیسے کسی پروگرام کی سالانہ رپورٹ بن رہی ہو۔ جس میں ذرا بھی چوک ہوئی تو کنٹریکٹ ہاتھ سے گیا !کون کون سی تصویر کس کس زاویہ سے لی جائے گی یہ بھی تقریبا طے ہو چکا تھا۔ کیک کو اس طرح کاٹا جائے کہ اس کی خوبصورتی بھی برقرار رہے ۔

بیٹے کی پاپا کو کیک کھلاتے ہوئے ایک تصویر، بہو کی پاپا کو گفٹ دیتے ہوئے، پاپا کی بہو کو کیک کھلاتے ہوئے اورانیتا کی ایک پلے فلی(play fully) تصویر پاپا کی ناک پہ کیک لگاتے ہوئے تاکہ دونوں کے رشتے کو مضبوط اور پیار سے لبالب دکھایا جا سکے۔ انیتا نے ایک تصویر ایسی لینے کے لیے کہا ہے جس میں اس دنیا سے کوچ کرچکیں ماں کا بھی فوٹو آ جائے، اور نیچے کیپشن ڈالا جائے ’’ وہاٹ آ کو انسی ڈینس! ممی جوائنس دی سیلیبریشن ! لویو ممّا!‘‘۔لیکن یہ تصویر بالکل کینڈِڈ لگنی چاہیے ورنہ امپیکٹ نہیں پڑے گا۔


چمچماتے بھڑکیلے کُرتے میں الوک جی کیک کے سامنے آراستہ کرسی پر بیٹھ گئے اور چاقو ہاتھ میں لے کر کبھی بہو،توکبھی بیٹے کی طرف دیکھنے لگے۔ منوج کیمرے کے سارے لینس گھما گھماکر ایک بلاک بسٹر ڈاکیومنٹری بنانے کے لیے بالکل تیار تھا۔ بہو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ذمہ داری پوری لگن سے ادا کر رہی تھی۔


’’کاٹو۔۔۔؟‘‘ اچانک الوک جی کے منہ سے یہ لفظ نہ جانے کیسے پھسل گیا، بہو بیٹے دونوں نے ایک ساتھ اوپر دیکھا۔ ویسے ’کاٹوں‘ کا آخری حرف بھی نہیں نکلا تھا کہ اس سے پہلے ہی الوک جی کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ۔اب عتاب توجھیلنا ہی پڑے گا۔ ’’پاپا آپ دیکھ رہے ہو نا کچھ کام ہو رہا ہے، کیوں اوٹ پٹانگ سوال پوچھتے ہو۔ جب کاٹنا ہوگا تو میں بولوں گا نا‘‘ ۔الوک جی کو منوج کی ناراضگی بالکل صحیح لگی۔وہ سوچنے لگے کہ بڑھاپے میں عقل توازن کھو دیتی ہے،یہ سناتو تھا، آج دیکھ بھی رہا ہوں اپنے ساتھ۔ سٹپُٹاکر کیک کاٹنے کی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔


’’چلو انیتا، پوزیشن لے لو‘‘ منوج تیار تھا۔ انیتا پاپا کی بغل میں آکر منوج اور کیمرے کی طرف دیکھ کرایک دم سے خوش نظر آنے لگی۔ منوج بولا، ’’پاپا کاٹو‘‘ اشارہ پاتے ہی پا پا کیک کی طرف جھکے اور چاکو چلانے ہی والے تھے کہ دونوں بہو بیٹے ایک ساتھ چیخ اٹھے جیسے چاکو کیک پر نہیں کسی جاندار پر پڑنے والا تھا۔ ’’پاپا کیا کر رہے ہو یار! بیچو بیچ کاٹ رہے ہو۔۔۔ سارا ڈیکوریشن خراب ہو جائے گا۔کونے سے کاٹو تھوڑا سا، انیتا تم بتا نہیں سکتی تھیں کیا؟ ‘‘انیتا بھی اپنا بچاؤ کرتی ہوئی بولی، ’’ارے مجھے کیا پتا تھا وہ بیچ سے کاٹ دیں گے!‘‘ الوک جی کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ اب تک انہیں جتنا یاد ہے اُن کے لئے کیک ہمیشہ راؤنڈ یعنی گول شکل کا ہی آیا تھا۔ جس میں کونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ آج اچانک چار کونے والے ویلویٹ کیک نے انہیں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ چوکور کیک کو کاٹنے کی تہذیب کا انہیں قطعی علم نہیں تھا، اس لئے وہ یہ نازک غلطی کر بیٹھے۔ بھلا ہو نئی نسل کا ،جن کا علمی چشمہ انٹرنیٹ کے تمام شعبوں میں برابر نظر رکھتا ہے تاکہ کوئی بھی لیٹسٹ ٹرینڈ یا اپڈیٹ چھوٹ نہ جائے۔


اس سال موم بتی پر پھونک مارنے سے بھی منع کر دیا گیاتھا۔ کیوں کہ گزشتہ سال الوک جی نے موم بتی پرپھونکتے وقت کیک پر غلطی سے تھوک دیا تھا،اب آگے کا منظر آپ نا ہی پوچھیں تو بہتر ہے۔ بہرحال کیک کونے سے تھوڑا سا کاٹا گیا۔ کیک کاٹنے کی پِک کیسی آئی ہے یہ دیکھنے کے لیے دونوں بہو بیٹا کیمرے پر جھک گئے۔ انیتا کی مسکراتے ہوئے تالی والی حالت، جھکے ہوئے پاپا اور کیک کی خوبصورتی کے ساتھ۔ دونوں رزلٹ سے مطمئن نظر آئے۔ چلو یہ تو ہو گیا! انیتا نے جھٹ پٹ کیک کٹورے میں ڈالا اورکیمرا سنبھالنے کے لیے بڑھی ۔اب باری منوج کے ساتھ فلمائے جانے والے سین کی تھی۔ چمچ میں کیک لے کر منوج پاپا کی طرف بڑھا۔پر ابھی انیتا تیار نہیں تھی، پاپا جی نے گردن بڑھا کرفوراً چمچ سے کیک صاف کر دیا۔’’ یہ لو ہو گیا ہیپی برتھ ڈے‘‘۔ لگ رہا تھا اگر پاپا کا لحاظ نہ ہوتا تو منوج دو چار چپیٹ لگا دیتا۔ ’’کیا کررہے ہو رک جاؤ۔ انیتا ریڈی بولے گی‘‘ الوک جی اپنے بڑھاپے کو کوس رہے تھے۔۔۔اور منوج بھی۔ ایک بار اور کیک بھرا چمچہ الوک جی کے آگے بڑھایا گیا۔ پر اس بار وہ ہوشیار تھے صرف منہ کھولا۔ کھانے کی جلدی نہ دکھائی۔ منوج نے انیتا طرف دیکھا۔انیتا بولی’’تھوڑا لیفٹ منوج‘‘ تھوڑا لیفٹ سرکنے کے بعد فوٹو کھینچی گئی۔ جب رزلٹ سامنے آیا تو دیکھا پاپا تو مسکرا ہی نہیں رہے ہیں۔ دوبارہ سے لیا جائے گا۔ذیابیطس کے مریض الوک جی کو میٹھا کھانامنع تھا۔سب جانتے تھے۔ لیکن یہ بات اس وقت کہی جانی چاہیے یا نہیں اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی۔


اتنا مشکل اتنا کٹھن کام چل رہا ہے، اور وہ ذرا سی قربانی نہیں دے سکتے؟ وہ چپ رہے، غلطی بھی وہی کر رہے تھے، ورنہ ایک بار میں ہی پورا کام ہو جاتا اور زیادہ کیک بھی کھانا نہ پڑتا۔ کچھ اور تصویریں لینے کے بعد منوج نے پاپا کا میک اپ کر دیا۔ وہ اور انیتا تو ابھی ایڈیٹنگ اور پوسٹنگ میں رات کالی کریں گے۔سوشل میڈیا پر سیکڑوں لائکس اور درجنوں تعریفی کمنٹس حاصل کرنابچوں کا کام نہیں۔ کل کا دن تو ویسے بھی بزی جائے گا۔ پاپا کی طرف سے مبارک بادیوں کا جواب بھی تودینا ہے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ بچوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔۔۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

قلم اور تلوار

ابوقتادہ بلال اس چلتے ہوئے مین روڈ میں اس کی دکان کسی ...