معاشرتی تبدیلی اور سماجی تحریکات

0

سید احمد مذکر

ہر معاشرے میں کچھ رائج نظریات اور اقدار ہوتے ہیں جو اس معاشرےکے انفرادی اور اجتمائی فکر، مزاج، رویوں اور نفسیات کی توجیہ کرتے ہیں۔ جس سے اس معاشرےکے تمام معاملات ایک مخصوص ڈگر پر چلتے ہیں۔ جب ان بنیادی نظریات اور اقدار میں تغیر واقع ہوتا ہے تو اس معاشرے کے فکر اور مزاج میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اس تغیرکو سماجی تبدیلی کہتے ہیں۔
مذکورہ بالا کی کئی مثالیں ہیں : جب سرمایہ داری پھیلنے لگی تو ابتدا میں معاشرتی قدروں اور رویوں میں تبدیلی لائی گئی، جو سرمایہ داری کے عروج کو ممکن بنا سکی ۔ قدروں میں تبدیلی یوں آئی کہ کامیابی اور ناکامی کا معیار مادی علامات اور عناصر پر محمول کیا گیا۔ جس سے مادہ پرستانہ ذہنیت پروان چڑھنے لگی۔ رویوں میں تبدیلی یوں آئی کہ مادہ پرستی لوگوں کو صارفیت کی طرف مائل کرنے گی ۔ اسی طرح تاریخ میں ہر تبدیلی کا سرا معاشرتی تبدیلی میں ڈھونڈ نکالا جا سکتا ہے۔
ہر چیز کا اپنا عمل(process) ہوتا ہے اور سماجی تبدیلی کا بھی اپنا ایک مخصوص عمل ہے۔ اس عمل کے ذریعہ سے کسی بھی معاشرےکے فکر، مزاج اور نفسیات میں تبدیلی برپا کی جاسکتی ہے۔ دراصل سماجی تحریکات،معاشرےمیں اسی نوعیت کی بنیادی تبدیلیاں برپا کرنے کی اجتماعی کوششیں کررہی ہوتی ہیں۔
سماجی تبدیلی کی اپنی حرکیات(dynamics) ہوتی ہیں۔ اور وہ ایک مخصوص نہج پر کام کرتی ہیں۔ اس عمل کے ہر ایک حصہ کا دوسرے سے باہم دگر گہرا ربط ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے مخصوص ترتیب پر کام کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں بے ترتیبی نتائج کو متاثر کرتی ہے۔ چنانچہ ان حرکیات کا ادراک کسی بھی سماجی تحریک کے لیے ازحد ضروری ہے۔ اور ان سے بےپرواہی کسی بھی سماجی تحریک کی کامیابی کے امکان کو متاثر کرتی ہے۔
معاشرتی تبدیلی کے برپا ہونے میں بہت سارے عوامل کار فرما ہوتے ہیں لیکن پانچ بنیادی عوامل ہیں جو کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اول، معاشرتی تبدیلی برپا کرنے اور اس کی رہنمائی کرنے کے لئے قیادت درکار ہے ۔ اور بغیر قیادت مہیا کیے معاشرتی تبدیلی ممکن نہیں ۔ اور یہ قیادت عموماً سماجی تحریکات فراہم کرتی ہیں۔ کسی بھی سماجی تحریک کے تین اجزا ہوتے ہیں۔ ایک بیانیہ(narrative)، دوسرا تنظیمی ڈھانچہ (organizational structure ) اور تیسرا لائحہ عمل ( strategy )۔ بیانیہ فکر کی ترجمانی کرتا ہے، لائحہ عمل اس کو مطلوبہ تبدیلی کا جامہ پہناتا ہے اور تنظیمی ڈھانچہ اس عمل کی تنفیذ کرتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ تینوں حد درجہ باہم مربوط اور موافق ہوں ۔
دوم، بیانیہ اس فکر کا مخصوص اور ظروفی معنویت (contextual relevance) رکھنے والا عام فہم خلاصہ ہوتا ہےجس کی بنیاد پر کوئی سماجی تبدیلی تصور کی جاتی ہے ۔ عوام کی ذہن سازی اور ان کو مطلوبہ سماجی تبدیلی کے لیے قائل کرنے کا عمل دراصل بیانیہ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی بیانیہ کومعاشرے کے لیے بھر پور معنویت ( relevance ) کا حامل ہونا چاہیے اور ساتھ ہی مستمر ( enduring ) بھی، ورنہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی معنویت ماند پڑ جائے گی۔
سوم، جب کوئی تحریک اپنے پیغام کے فروغ ، اس کی قبولیت اور معاشرے میں اساسی تبدیلی ( paradigm change ) برپا کرنے کے لیے اٹھے تو اس کے لیے سماجی ارتباط (Social Engagement) شرطِ لازم ہے۔
چہارم، معاشرےمیں ذہن سازی کا کام کرنےاورمختلف میدانوں، محاذوں یا اداروں کی قیادت کے لیے افراد کی تیاری کے لیےصلاحیت سازی (Capabilities generation ) ضروری ہے۔
پنجم، عوام کو اپنے مقصد کے لیے جمع اور منظم( mobilize ) کرنے کی غرض سےمعاشرے کے اندر استعدادسازی (Capacity building) لازم ہے۔ صلاحیتوں کی نشونما یا عوام کی ذہن سازی کے لیے جس پیمانے پرسماجی ارتباط، نیز مختلف میدانوں اور محاذوں میں عوام کی قیادت ااور رہنمائی کےلیے جو ادارے اور ذرائع درکار ہوں گے ، اس کے لیے استعداد سازی نا گزیر ہے۔ اس ضمن میں ادارہ جاتی استعداد سازی (institutional capacity building )اور سماجی استعداد سازی(social capacity building) ،دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
تحریکات کے ذریعہ سے سماجی تبدیلی کا عمل اس طرح بروئےکار لایا جاتا ہے کہ سماجی تحریک استعداد سازی کاکام کرتے ہوئے معاشرے میں اداروں کا جال پھیلاتی ہے جس سے تحریک کے اپنے فکر اور بیانیہ کے مطابق افرادِمعاشرہ کی ذہن سازی اورصلاحیت سازی کا کام ہوتا ہے،معاشرے سے تحریک کا ربط و ارتباط بنتا ہے اور تحریک سماج کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں آتی ہے۔
ان مباحث کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی سماجی تحریک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ سماجی تبدیلی کے عمل اور اس کی حرکیات سے بے نیازی برتے ۔ تحریک اسلامی کے لیے بھی اپنے پیغام کی سچائی اور نصب العین کے تعین کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلی کے عمل کا شعور بھی یکساں طور پہ ضروری ہے۔
تحریک اسلامی کے لیے ناگزیر ہے کہ سماجی علوم، خصوصا سماجی تبدیلی کے عمل اور اس کی حرکیات کا شعور پیدا کریں اور اپنے بیانیہ ، لائحہ عمل ، تنظیمی ڈھانچے اورمنصوبہ بندی کی تشکیل میں ان عوامل کو ملحوظ رکھیں۔ اس ضمن میں وابستگانِ تحریک میں ان علوم سےگہری واقفیت پیدا کرنے کے لیے ان کی تدریس کا منظم اور مستقل انتظام اور ان پر بحث مباحثے کا ماحول، تحریکی کلچر کا حصہ بننا چاہیے ۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.