بنیادی صفحہ / سخن / مضطرب کیوں تو۔۔۔؟

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟

مضطرب کیوں تو۔۔۔؟

مضطرب کیوں تو زمانے میں نظر آتا ہے
ہر گھڑی رونے رُلانے میں نظر آتا ہے
عقل پر پڑگیا آکرتری کیسا پردہ
رات دن پینے پلانے میں نظر آتا ہے
میکدہ اور صنم خانہ ہے مسکن تیرا
مسجدیں اور مدرسے ہیں ترے مرثیہ خواں
حق کے پیغام کو اور دین مبیں کو چھوڑا
تجھ سے قرآن کا ہرصفحہ ہے فریاد کناں
تجھ سے بیزار ہے ملت کا نظام رنگیں
تو کسی وقت یہاں اور کسی وقت وہاں
عقل واخلاق کی وہ شمع فروزاں کھوئی
دین وایمان کی وہ آتش سوزاں کھوئی
گرچہ دشوار ہے، پرخار ہے منزل تیری
تیری صورت سے بھی بیزار ہے منزل تیری
سعی پیہم کی قسم، عزم مصمم کی قسم
خوف اور کسل کے اس پار ہے منزل تیری
حق نگہباں ہے سفینے کا تجھے کیا غم ہے
ہٹلر وقت کی طاقت کا تجھے کیا غم ہے
روک دے بڑھ کے اگر لاکھ ہیں موذی ظالم
ہے نگہباں ترا اللہ تجھے کیا غم ہے
حق فراموش جو ہیں ان کو اور عیاروں کو
ضرب کاری تو لگا ان کا تجھے کیا غم ہے
چھوڑ دو ساتھیو اب نالہ وشیون کرنا
مشعل حق سے اندھیروں میں اجالا کرلو
پاک دنیا نے تیری خلوت وجلوت دیکھی
نظم وپابندی وکردار کی عظمت دیکھی
زہدوتقوی کی، طہارت کی نزاکت دیکھی
عشق اسلام بھی اور عزت وعصمت دیکھی
دل میں شوخی تو نگاہوں میں محبت دیکھی
عظمت رفتہ کی جاتی ہوئی غیرت دیکھی
دل میں اک حوصلہ ہو دین کے پھیلانے کا
دین پھیلانے کا اور کفر سے لڑجانے کا
عشق ہو محو تماشہ تو نظر ہو بیتاب
تجھ کو کچھ ڈر نہ ہو گھر بار کے لٹ جانے کا
نوروحدت کی شعاعوں سے ہو لبریز ایاغ
دم لو لگ جائے اگر منزل جاناں کا سراغ
اپنے دل میں تو محبت کا جہاں پیدا کر
درد دل گریۂ شب سوزنہاں پیدا کر
ولولہ کام کا، اور فکر ونظر پیدا کر
اپنے اسلاف کا اپنے میں ہنر پیدا کر
حق کی خاطر جو جئے دوش پہ سر پیدا کر
اپنے اس پیکر خاکی میں جگر پیدا کر
راہ روکے جو ہے شیطان قلعہ خیبر کا
تم اکھاڑو اسے اس وقت کا حیدر بن کر
رہو دنیا میں غریبوں کا سہارا بن کر
موج دریا سے الجھ جاؤ سفینہ بن کر
حق کی پرنور شعاعوں سے منور ہو دماغ
ظلمت کفر مٹے اور جلے حق کا چراغ
محمد امین احسن،
بلریاگنج ۔ اعظم گڑھ

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

حیا ہی زندگی ہے

(ان نوجوانوں کے نام جو فحاشی اور عریانیت کے دلدل سے نکلنے ...