بنیادی صفحہ / نظر / مختلف مذاہب میں عورت کا تصور
Pic: Google.com

مختلف مذاہب میں عورت کا تصور

محمد اعظم

عورت اور مرد دونوں کو ہی نسل آدم کہا گیا ہے ۔ انسان ہو نے کی حیثیت سے تمام انسان قابل عزت ہیں ۔ انسانیت کے ایک حصے کی ترجمانی اگر مرد کر تا ہے تو دوسرے حصے کی عورت کر تی ہے ۔ کو ئی معاشرہ ایسا نہیں جو کہ صرف مردوں پر مشتمل ہو اور نہ اس کے بر عکس ہے ۔دونوں میں لازم و ملزوم کی نسبت ہے ۔ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں جس طرح مرد کا کرداراہمیت کاحامل ہے بعینہ اسی طرح ہی عورت کا کر دار بھی کلیدی اہمیت کا حا مل ہے ۔ معا شرے میں نسل نو کی تربیت عورت ہی کے ہاتھوں ہو تی رہی ہے اور ہو سکتی ہے ۔ ماںکی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ کے تصور نے عورت کی حیثیت اور کر دار کو مزید مستحکم اورمستند بنا یا ہے ۔ بلکہ ہمارے معاشرے اور تہذیب میں خاندانوں اور نسلوں کے سنور نے اور بگڑ نے میں عورت بحیثیت بہن، بیٹی،ساس ،بہو اور دیگر تما م رشتوںمیں بہت اہم کر دار کی حا مل ہے ۔

سوال یہ ہے کہ عورت کے اس کر دار کے ساتھ معاشرے نے کیارویہ اپنا یا؟ عورت کا یہ استحقاق دنیا بھر میں متاثر رہا ہے اور آج بھی ہے ۔بیداری کی تمام تحریکوں کے با وجود بھی عورت زیر عتاب ہی چلی آرہی ہے اور حا لات تبدیل نہیں ہو سکے ہیں ۔مختلف طبقات اور معاشروں میں عورت کی حیثیت پر ڈاکٹر خالد علوی کے بقول: ’’ یہ بات مسلَّم ہے کہ عورت معاشرے میں ایک ایسا نا گزیر عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ سماجی اور تمدنی اصلاح و بقاء کا انحصار تقریبا اسی عنصر پرہے ۔ عورت کی حیثیت ، اس کا کردار و عمل اور اس کی حیات بخش صلاحیتیں معاشرے کے عروج و زوال کا سامان ہیں ‘‘ (1) عورت و مرد نوع انسانی کے دو جزء ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو مستلزم ہیں۔ انسانی معاشرے کو اگر گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو مرد اور عورت اس گاڑی کے دو پہئے ہیں ۔ تاہم عورت ہر دور اور ہر زمانے میں ظلم و ستم کا شکار رہی ہے اور اپنے حقوق سے محروم رہی ہے ۔ذیل میں مختلف طبقات و معاشرے میں عورت کی کیا حیثیت رہی ہے مختصرا ًبیان کیا جارہا ہے۔

یونان


موجودہ مغربی تہذیب کی تہہ میں یونانی فکرو معاشرت اور رومی قانون و معاشرت بنیادکے طور پر کار فرما ہیں ۔یونانی معاشرت میں عورت تمام حقوق سے محروم تھی۔ ان کے اساطیری ادب (Mythology) میں ایک خیالی عورت پانڈورا (pandora)کو انسانی مصائب کا موجب قرار دیا گیا تھا ۔ بازاروں اور شہروں میں عورتوں کی کھلے عام خرید و فروخت ہوتی تھی۔ اسے کسی چیز کا کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ حتیٰ کہ اپنے ذاتی معاملات میں کسی بھی قسم کا تصرف کرنے کی وہ مجاز نہ تھی ۔عورت مردوں کی دست نگرتھی ۔یونانی سوسائٹی میں عورت کی کوئی وقعت اور کوئی مقام اس کی شایان شان نہ تھا ۔ یونانی اپنے دور عروج میں اخلاقی خرابیوں کا شکار تھے ۔مرد اخلاقی اعتبار سے آزاد تھے ۔ تاریخ اخلاق یورپ میں عورت کے حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:’’ بحیثیت مجموعی با عصمت یونانی بیوی کا مرتبہ انتہائی پست تھا ۔اس کی زندگی غلامی میں بسر ہوتی تھی۔ لڑکپن میں اپنے والدین کی ،جوانی میں اپنے شوہر کی ، بیوگی میں اپنے فرزندان کی وراثت میں ہوتی تھی ۔اس کے مقابلے میں اس کے مرد وغیرہ کا حق ہمیشہ راجح سمجھا جاتا تھا ۔طلاق کا حق اسے قانوناً حاصل ضرو ر تھا، تا ہم عملًا وہ اس سے کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکتی تھی کیوں کہ عدالت میں اس کاظہار یونانی ناموس و حیا کے منافی تھا‘‘(2)


روم


اہل روم کے یہاں بھی عورت کی کم و بیش وہی حالت تھی جو یونانیوں کے یہاں تھی ۔عورت کو یوم ولادت سے وفات تک ایک زیر نگرانی قیدی کی حیثیت سے رکھا جاتا تھا ۔اس کے ساتھ رحم کا معاملہ نہیں کیا جاتا تھا، مروت کا سلوک نہیں کیا جاتا تھا ، مودت و محبت کا برتائو نہیں ہوتا تھا ۔نظام معاشرت میںمردخاندان کا سردار ہوتا تھااور اپنے خاندان پر مکمل اختیار رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات اسے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا بھی اختیار ہوتا تھا ۔ عورت خاندانی نظام میں قید تھی۔ وہ گوشت نہیں کھا سکتی تھی ۔گوشت صرف مردوں کی غذا تھی۔ عورت بولنے کا کوئی حق نہ تھا۔وہ جان بوجھ کر اندھی بنا دی گئی تھی ۔گھر سے باہر بھی عورت کی وہی حالت تھی جو گھر کے اندرتھی ۔ لیکی رومی لکھتا ہے ’’ عورت کا مرتبہ رومی قانون نے عرصہ دراز تک نہایت پست رکھا ۔افسر خاندان جو باپ ہوتا تھا یا شوہر اسے اپنے بیوی بچوں پر پورا اختیار تھا وہ جب چاہے عورت کو گھر سے نکال سکتا تھا ‘‘(3)


ایران


یونان وروم کی طرح ایران بھی ایک قدیم تہذیبی مرکز رہاہے ۔مولانا ابو لحسن ندوی کے بقول :’’ متمدن دنیا کی تولیت و انتظام میںایران روم کا شریک تھا لیکن بد قسمتی سے وہ دشمن انسانیت افراد کی سر گرمیوں کا پرانا مرکز تھا ۔وہاں کی اخلاقی بنیادیں زمانہ دراز سے متزلزل چلی آرہی تھیں۔ جن رشتوں سے ازدواجی تعلقات دنیا کے متمدن و معتدل علاقوں کے باشند ے ہمیشہ نا جائز اور غیر قانونی سمجھتے رہے ہیں اور فطری طور پر اس سے نفرت کرتے ہیں،ایرانیوں کو ان کی حرمت و کراہت تسلیم نہیں تھی ۔ یزدگرد دوم جس نے پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں حکومت کی اس نے اپنی لڑکی کو زوجیت میں رکھا پھر قتل کردیا ۔ بہرام جو چھٹی صدی عیسوی میں حکمراں تھا اس نے اپنی بہن سے اپنا ازدواجی تعلق رکھا ۔‘‘ (4)
ایران میں مختلف خیالات کے حکمراں ہوئے ہیں ۔کسی نے عورت کو تباہی و بربادی کا سبب مان کر شادی پر ہی پابندی لگادی تھی ، کسی نے مساوات و اشتراکیت کی بنیاد پر عورتوں کو سب کے لئے حلال قرار دے دیا اور مال و زن کو مثل آگ ، پانی اور چارہ کے مشترک اور عام کردیا ۔الغرض ایران میں عورتوں کو ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ نوشیرواں عادل کے زمانے میں بھی اس سے انتہائی بے رحمی کا سلوک کیا جاتا تھا ۔


یہ رہا دنیا کی بڑی تہذیبوں کا حال۔اسلام ، عیسائیت ، یہودیت ، ہندو مت اور بدھ مت کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے ۔اب ذیل میں مذکورہ مذاہب میں عورت کی کیا حیثیت رہی ہے ، اسے بیان کیا جا رہا ہے۔


ہندو مذہب اور عورت


ہندو مذہب دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔تاریخی لحاظ سے اکثر مورخین کا خیال ہے کہ ہندو مذہب کاآغاز اس وقت ہوا جب آریائوں نے 17سو (ق م) بر صغیر پر حملہ کیا تھا۔ آریوں کی آمد سے قبل دراوڑ تہذیب میں عورت خاندان کی سربراہ تصورکی جاتی تھی اور اسے عزت و اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جہاں تک ویدک دور کا تعلق ہے اس میں بھی عورت کی حیثیت بہتر نظر آتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عورت کے حقوق کو نظر انداز کیا جانے لگا ، چناچہ منو کے قانون کے مطابق عورت ہمیشہ کمزور اور بے وفا سمجھی گئی ہے اوراس کا ذکر ہمیشہ حقارت کے ساتھ آیا ہے۔ (5) جھوٹ بولنا عورت کا ذاتی خاصہ رہا ہے (6) عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچپن میں باپ کے اختیار میں رہے ، جوانی میں شوہر اور شوہر کی وفات کے بعد بیٹوں کے اختیار میں رہے ۔ (7)ہندو قوانین کے مطابق اگر شوہر اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ ہو تو وہ اپنی بیوی کو کسی اور مرد سے تعلقات پیدا کرنے کو کہہ سکتا ہے تا کہ وہ اولاد پیدا کرسکے ، یہ عورت دوسرے مرد سے صحبت کرے گی ،بچہ جنے گی ،لیکن بیوی وہ اس پہلے شوہر کی ہی رہے گی ۔ اسی کے گھر میں رہے گی اور پہلا شوہر ہی نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوگا ۔

ستی کی رسم سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندو دھرم میں عورت کی کیا حیثیت رہی ہے ۔شوہر کے فوت ہوتے ہی گویا عورت زندہ در گور ہو جاتی ہے۔ وہ کبھی دوسری شادی نہ کر سکتی ، اس کی قسمت میں طعن و تشنیع اور ذلت و تحقیر کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔وہ عورتیں جو ستی نہ ہوتی تھیںان کو گھر کی لونڈی اور دیوروں کی خادمہ بن کر رہنا پڑتا ۔ ڈکٹر گستائولی بان کے مطابق :’’ بیوائوں کو اپنے شوہروں کی لاش کے ساتھ جلانے کا ذکر منو شاستر میں نہیں ہے لیکن معلوم ہو تا ہے کہ یہ رسم ہندوستان میں عام ہو چلی تھی یونانی مورخین نے اس کا ذکر کیا ہے‘‘ ۔ (9) ستی کی رسم سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو عورتوں کو وراثت سے محروم رکھا گیا ہے ۔اس کے رشتہ دار جائیداد لیں گے لیکن اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کو مذہبی تعلیم سے بھی محروم کیا جاتا تھا ۔ عورت کو نکاح ثانی کی اجازت نہیں تھی ۔اس کو اختیار تھا چاہے تو ستی ہوجائے یا بیوہ بن کر رہے ۔


یہودیت اورعورت


یہو دیت کا شمار دنیا کے قدیم مذاہب میں ہو تاہے ۔ظاہر ہے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ایک آسمانی مذہب ہے ۔ یہودی خودکو اللہ کی منتخب قوم مانتے ہیں۔ یہ مذہب بنیادی طور پربنی اسرائیل سے محبت کر تا ہے۔ جو بلا شبہ ایک منتخب قوم تھی جن کی ہدایت کے لیے اللہ تعالی نے بہت سے رسول بھیجے۔ان کے سب سے بڑے نجات دہندہ حضرت موسی ؑتھے، جن کو تورات عطا کی گئی جو یہود ی ماخذ ہے ۔ اس مذہب کی روایات عورت کے بارے میں اچھا تصور نہیں پیش کرتیں۔ان کے نزدیک عورت بد طینت اور مکار ہے۔کیوں کہ اس نے آدم کو بہلا پھسلا کر جنت کا ممنوعہ پھل کھانے پر آمادہ کیا ۔ عہد نامہ قدیم میں ہے ’’ جب اللہ نے آدم سے پوچھا کہ کیا تو نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس کی بابت میں نے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھا نا تو آدم نے جواب دیا کہ جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھا لیا ‘‘ (10) تو اس حرکت پر اللہ نے اس کو (حوا) مخاطب فر ما یا کہ ’’ میں تیرے حمل کو بہت بڑھائوں گا۔ تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکو مت کرے گا۔‘‘(11)مذکورہ بالا آیات سے واضح ہوتا ہے کہ در اصل حوا نے ہی آدم کو گمراہ کیا۔ اس لئے اسے اس جرم کی سزا یہ دی کہ وہ حمل میں انتہائی تکلیف دہ صورت کا سامنا کرے گی اور ہمیشہ مرد کی محکومیت میں رہے گی ۔ چناچہ یہودیت میں عورت کو کسی غلام و محکوم سے بڑھ کر نہیں مانا گیا ہے ۔عورت مکمل طور پر مرد کی دست نگر ہے۔ وہ مرد کی مرضی کے بنا کوئی کام نہیں کر سکتی ، مرد جب چاہے اس کو گھر سے نکال دے ( طلاق دے دے ) ۔ یہودی قانون شریعت کے مطابق عورت کے بارے مساوی حق کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مہر کے علاوہ عورت کسی چیز کی حقدار نہیں،، وراثت میں بھی عورت کا نمبر پوتوں کے بعد آتا ہے ۔ مرد وارث کی صورت میں وہ محروم رہے گی ۔ ( 12 ) بہر حال یہودی قانون و شریعت میں عورت کو ناپاک تصور کیا گیا ہے اور اس دنیا کی تمام آفات و مصائب کا سبب عورت کو مانا گیا ہے ۔


عیسائیت اور عورت


عیسائیت میں بھی عورت کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا ہے جیسا یہودیت میں ۔در آں حالیکہ یہودیت کے زوال پذیر ہونے کے بعد مسیحیت نے معاشرے میں خوبصورت اقدار صحیح صورت میں پیش کیں ۔لیکن عیسائیت کی بد قسمتی ہے کہ عیسائیت کی روش عورت کے ساتھ اور بھی زیادہ نا پسندیدہ تھی۔ عیسائیت نے نہ صرف اس کی تحقیر و تذلیل کی بلکہ اسے انسانیت کا مجرم بھی قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک عورت برائی اور مصیبت کی جڑ ہے۔ عیسائی نقطہء نظر کا اندازہ طرطولین کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے: ’’ اے عورتو! تم نہیں جانتیںکہ تم میں سے ہر ایک حوا ہے۔ خدا کا فتویٰ جو تمہاری جنس پر تھا وہ اب بھی تم میں موجود ہے تو پھر جرم بھی تم میں موجود ہوگا ،تو تم شیطان کا دروازہ ہو۔ تم ہی نے آسانی سے خدا کی تصویر یعنی مرد کو ضائع کیا ۔‘‘ (13) سینٹ پال جو موجودہ عیسائیت کا بانی ہے عورت کے بارے میں اس کا خیال ہے ’’ عورت کو چپ چاپ کمال تابعداری سیکھنا چاہئے اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے اور وہ مرد پر حکم چلائے بلکہ چپ چاپ رہے کیوں کہ پہلے آدم بنایا گیا اس کے بعد حوا کو، اور آدم نے فریب نہیں کھایا بلکہ عورت فریب کھاکر گناہ میں پر گئی ‘‘ ۔ ( 14 ) کرائم سوسٹم کی رائے عورت کے بارے میں یہ ہے کہ ’’ عورت ایک نا گزیر برائی ، ایک پیدائشی وسوسہ ، ایک مرغوب آفت ، ایک خانگی خطر ،ایک آراستہ برائی ہے ‘‘ ۔ (15 )


مسیحی اخلاقیات میں تجرد اور صنفی تعلقات سے کنارہ کشی ہی اصل کمال تھا۔ اس لئے نکاح اور صنفی تعلقات بذات خود نا قابل التفات تھے ۔ مسیحی شریعت میں جتنے قوانین بنے اس میں عورت کی حیثیت کو پست رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ وراثت و ملکیت میںاس کے حق محدود رکھے گئے ہیں۔وہ خود اپنی آمدنی پر بھی مختار نہیں تھی۔ ہر چیز کا مالک مرد تھا ۔ طلاق و خلع کی اجازت نہیں تھی ۔مذہب اور قانون کی وجہ سے نکاح کا تعلق نا قابل انقطاع تھا ۔ نکاح ثانی کی اجازت نہیں تھی۔ مسیحی علماء نکاح ثانی کو مہذب زنا کاری کا نام دیتے تھے ۔مسیحی دنیا میں عورت کی زندگی ایک بے بس مخلوق اور مرد کے ہاتھ محض کھلونے کے سوا کچھ نہ تھی ۔


بدھ مت اور عورت


بدھ مت کا وجود ہندو مت میں رائج غلط رسوم و بدعات کا نتیجہ ہے۔ گوتم بدھ نے عورت و مرد کو کسی حد تک مساوات کی لڑی میں پرونے کی کوشش کی ہے ۔ا نہوں نے عورتوں کو مذہبی اور سماجی کاموں میں حصہ لینے کی آزادی دی ، عورت کو گھر کی حکمرانی کا موقع دیا ۔لیکن دوسری جانب بدھ مت میں حیرت انگیز طور پرعورتوں کو چوروں سے تشبیہ دی گئی ہے ’’ کہ ان کے پاس چوروں کی طرح متعدد حربے ہیں اور سچ کا ان کے پاس گزر نہیں ۔‘‘ (16)


اسلام اور عورت


تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل پوری دنیا میں عورت کا وجود ذلت ، شرم اور باعث ننگ وعار تھا۔ اگر کسی کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی تو یہ بات باپ کے لئے باعث عیب تھی۔ جاہل افراد سسرالی رشتہ کوکمتر سمجھتے تھے ۔بعض سنگدل باپ اپنی بیٹی کو زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ارشاد باری ہے ’’ اللہ نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا ہے ۔‘‘ ( النساء:1)یہ آیت ان لوگوں کی تردید کرتی ہے کہ جو عورت کو انسان تصور نہیں کرتے ۔ قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیں کہ جن میں عورت کو عمدہ مخلوق کہا گیا ہے ۔ارشاد ہے ’’ اور جو کوئی نیک کا م کرے گا،خواہ مرد ہو یا عورت ،اور صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذر ا بھی ظلم نہیں ہوگا ۔‘‘ ( النساء : 124) اسلام نے اپنی عمدہ اور اعلیٰ تعلیمات میں ہر طرح کے حقوق میں عورتوں کو شریک کیا ہے ۔کسی بھی حق سے عورتوں کو محروم نہیں رکھا ہے۔ اسلام نے ان تمام بدعات و رسومات کا مکمل خاتمہ کیا ہے ۔جو قبل از اسلام عورتوں سے متعلق رائج تھیں۔ مثلاایام حیض میں عورت کسی سے مل نہیں سکتی ، کسی کے پاس بیٹھ نہیں سکتی ، گھر سے باہر نہیں جا سکتی وغیرہ ۔

بالغ لڑکی اپنی جائیداد(وراثت) کو اپنی مرضی سے فروخت کر سکتی ہے ۔ اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتا ۔ عورت تجارت کر سکتی ہے اور اس کی اولین و بہترین مثال حضرت خدیجہ ؓ ہیں جوبین الاقوامی سطح کی bussiness womenتھیں۔دوسرے مذاہب کی عورتوں کو یہ سب کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکلنا پڑا یا اپنے حدود سے باہر آنا پڑا۔مگر مسلم عورتیںاپنے حدود میں یہ سب کر تی تھیں اور کر سکتی ہیں ۔ نکاح کے موقع پر مرد بہ طور مہر رقم کی ادائیگی کرے اور عورت اس رقم کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کر سکتی ہے ،جسے چاہے دے سکتی ہے۔اسلام نے عورت کو ماں ہونے کی حیثیت سے مردوں کے بالمقابل تین گنا زیادہ درجہ بلند کیا ۔ حدیث پاک کے وہ الفاظ یاد کریں جب ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا :’’اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ دونوں میں سے کون میری توجہ کا زیادہ مستحق ہے ؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری ماں ۔‘‘ آپ ﷺ نے تین بار ماں کہا اور چوتھی بار میں کہا’’ تمہارا باپ۔‘‘

اگر کوئی شخص کسی معصوم اور بھلی عورت پر بیہودہ الزام لگائے تو اسے بھرے بازا رمیں اسّی کوڑے لگانے کی سزا بتائی گئی ہے اور زنا بالجبر کے لیے تواس بھی زیادہ سخت سزا اور تعزیرات ہیں۔دین فطرت نے عورتوں کوحق رائے دہی عطا کیا۔ امریکہ نے 1976 میں عورتوں کو جنگ میں شامل کیا جب کہ مسلمان عورتیں غزوات میں نہ صرف شامل ہوتی تھیں بلکہ جنگ بازوں کی مرہم پٹی بھی کرتی تھیں ۔حضرت عائشہ ؓ کااسلامی معلومات ، تاریخ ، ریاضی ، مسائل و فقہ اور ادب و شاعری میں کوئی ثانی نہیں ۔ ان کے تفقہ فی الدین پر 88؍اسکالروں کی گواہی موجود ہے۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ ؓ کھیتی کرتیں اور رسول اللہ ﷺ اس اناج کو کھاتے ۔ حضرت سودہ ؓ چمڑے کا کاروبار کرتی تھیں۔ حضرت خولہ ؓ اور صفیہؓ عطر تیار کرتی تھیں ۔حضرت سمیہ ؓ اسلام کی راہ میں شہادت پانے والی پہلی خوش نصیب اور قابل رشک خاتون تھیں ۔حضرت فاطمہ بنت خطابؓ حضرت عمر ؓ کی مشرف بہ اسلام ہونے کا ذریعہ بنیں۔حضرت خنساءؓ مشہور مرثیہ گو شاعرہ تھیں ۔جنگوں میں عورتیں مشورے دیا کرتیں اور ان کے مشوروں کو قبول کیا جاتا۔


مذکورہ تمام خواتین اسلام نے پردے میں رہ کر تاریخی کارنامے انجام دیے۔سچ تو یہ ہے کہ اسلام نے عورتوںکا مقام اتنا بلند کر دیا کہ اب اس کی کوئی بلندی قطعاً نہیں ہو سکتی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین زیادہ سے زیادہ اپنی اسلامی معلومات میں اضافہ کریں اور انہیں پھیلائیں۔وہ اپنے حقوق کی نگہبان خود بنیں۔ کیوں کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام عطا کیا جو کسی بھی سماج میں عورت کو حاصل نہیں ہے ۔


MOHAMMAD AZAM
Department of Theology
Aligarh Muslim University, Aligarh
Email: [email protected]


مراجع و مصادر
(۱) علوی، ڈاکٹر خالد علوی ، اسلام کا معاشرتی نظام ، الفیصل ناشران و تاجران اردو بازار ، لاہور ، ص ۴۶۱۔
(۲) لیکی، لیکی رومی ، تاریخ اخلاق یورپ ، ترجمہ از عبد الماجد بی ، اے، مسلم یونیورسٹی پریس علی گڑھ ( ۱۹۲۸) ج ۲ ص ۱۹۰۔
(۳) ایضا ، ص ۱۹۳ ۔
(۴) حدوٹی، مولانا محمود الرشید حدوٹی ، اسلام اور عورت ، تحقیق و تصنیف ، لاہور (۲۰۰۱) ص ۱۱ ۔
(۵) بان ، گستائولی بان ، تمدن ہند ترجمہ از سید علی بلگرامی ، مطبوعہ شمشی آگرہ ( ۱۹۱۳) ص ۲۳۶۔
(۶) منو ، منو سمرتی ، ادھیائے ۹ ، منتر ۱۷ ۔
(۷) ایضا ، ادھیائے ۵ ، منتر ۱۴۷ ۔
(۸)ایضا ، ادھیائے ۹ ، منتر ۱۰۴ ، ۱۰۵ ۔
(۹) تمدن ہند ، ص ۲۳۸ ۔
(۱۰) کتاب پیدائش ، ب ۳ ، آیت ۱۱ ۔
(۱۱) ایضا ، آیت ۱۶ ۔
(۱۲ ) انسائیکلو پیڈیا آف برناٹیکا ، مقالہ یہودیت ۔
(۱۳) اسلام کا معاشرتی نظام ، ص ۴۶۶ ۔
(۱۴) ایضا ، ص ۴۶۶ ۔
(۱۵) کرائم سوسٹم ، کرنتوں کے نام پہلا خط ،ب ۱۱ ، آیت ۳ تا ۱۰ ۔
(۱۶) انسائیکلو پیڈیا آف ریلی جن ، بدھ مت ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

این آر سی کا مسئلہ مہاراشٹر میں نہیں تو ہریانہ میں کیوں؟

amarujala.com تصویر بشکریہ ڈاکٹر سلیم خان ہریانہ اور مہاراشٹر میں ریاستی انتخاب ...