بنیادی صفحہ / تجزیہ ۔ قومی / مجروح ہوتا ملک کا وقار

مجروح ہوتا ملک کا وقار

یوں تو ہر روز کوئی ایسا حادثہ ضرور سامنے آتا ہے جس سے سیاسی و سماجی ہلچل بنی رہتی ہے اور لوگوں میں بحث و مباحثہ کا ماحول گرم رہتا ہے لیکن ان ہی حوادث میں کچھ ایسے شرمناک واقعات بھی ہوتے ہیں جن کا تذکرہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔حالیہ دنوں تلنگانہ مسئلہ پر پارلیمنٹ میں رونما ہونے والا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے، جس کے سبب ایک بار پھر تمام عالم کے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا سر شرم سے نیچا ہو گیا۔ حالانکہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی کئی مسائل پر عوامی نمائندوں نے بدترین اور ناشائستہ حرکتوں کا مظاہرہ کیا ہے،لیکن عدم تشدد (اہنسا)کا سبق دنیا کو پڑھانے والے ملک کی پارلیمنٹ میں اس کے اراکین کا ایسا تشدد آمیز اور سخت رویہ انتہائی قابل مذمت اور لمحۂ فکریہ ہے، اور ملک کی کشتی کو چلانے والے نا خداؤں کے سامنے ایک زبردست چیلنج ہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ملک نے بہت ترقی کی ہے۔ مختلف میدانوں میں ملک نے ترقی وخوشحالی کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ دفاعی میدان میں بھی ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور دشمن کا منھ توڑ جواب دینے کی قوت رکھتے ہیں۔ ہمارے جوہری ہتھیار دشمن کی ہمت توڑنے کے لئے کافی ہیں، ان تمام ہی باتوں پر ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن بات جب کیرکٹر کی ہوتی ہے تو ہمیں شرمسار ہونا پڑتا ہے،اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ ملک کے پاس اچھے ہتھیار تو ہیں لیکن اچھے کیرکٹر کا فقدان پایا جاتا ہے۔
جب ملک میں ’منتخب افراد ‘ فکری طور پر کمزور ہو جاتے ہیں اور اپنی باتوں کو بیان کرنے کے لیے دلائل اور الفاظ کی کمی ہو جاتی ہے تو بالکل ویسے ہی حادثے پیش آتے ہیں جس طرح ملک کی پارلیمنٹ میں عوامی نمائندگان کے ذریعہ ابھی دیکھنے کو ملا۔ ایسے حادثات تمام عالم میں ملک کو شرمسار کردینے والے ہیں، اس سے ملک کے عام باشندوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، لیکن ان عوامی نمائندوں کو شائد شرم کا ذرہ برابر احساس نہیں ہوتا ؂
شرم تم کو مگر نہیں آتی
کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی ترقی کا ماڈل تیار کرنے والوں نے ملکی باشندوں کے لیے ’اخلاقی ماڈل‘ پر سنجیدگی سے غور وفکر نہیں کیا، شاید اسی لیے ملک میں ترقی تو دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اس کے شہریوں اور بالخصوص منتخب افرادمیں خوش اخلاقی کا فقدان نظرآتا ہے۔
سیاسی بد امنی:
بہت غور وفکر کے بعد بھی یہ بات میرے ذہن کی دسترس سے باہر ہے کہ عوامی نمائندوں کے اس شرمناک رویہ کو کیا نام دیا جائے۔اپنی باتوں کو منوانے کے لیے ایک دوسرے پر حملہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے ان ’منتخب افراد‘ کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں بچا ہے۔شاید اسی لیے ایک دوسرے پر حملہ آور بد امنی پر مبنی اپنے اس کردار کے ذریعہ، اور اپنی گندی ذہنیت اور کڑوے الفاظ کے ذریعہ نشانہ لگا رہے ہیں۔ ملک کے لیے یہ انتہائی بدقسمتی کا مقام ہے کہ جن نمائندوں کو ملک کے عوام نے اس لیے منتخب کیا تھا کہ یہ ان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں گے، جس سے علاقہ کے مسائل حل ہو سکیں گے، ان کا کیرکٹر خود ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اس طرح کے واقعات کا منظر عام پر آنا ملک کو اس بات پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے کہ پارلیمانی امیدواروں کی لیاقت میں بہتراخلاق کو مقدم رکھنا چاہیے۔
کمزور ہوتی جمہوری بنیادیں :
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں لیکن حالیہ واقعہ نے حکومت کے چیلنجز میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔کسی بھی جمہوری ملک میں اس ملک کے تئیں عوام کا یقین، اعتماد اور احترام ہی اس ملک کو مضبوط بناتا ہے۔ لیکن جب کسی ملک کے احترام کے مرکز اور جمہوریت کے مندر میں ہی بتوں کو توڑنے کی کوشش کی جائے تو اس ملک کی بنیاد کمزور ہوتی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے سامنے دوہرا خطرہ پیدا ہو جا تا ہے۔ پہلے تو یہ کہ عوام کے جمہوریت کے تئیں اعتماد واحترام کو برقرار رکھے اور دوسرے ایسے عوامل کی نشاندہی کریں جو اس ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔
صرف بدعنوانی ہی خطرہ نہیں:
ملک کے باعزت عوامی نمائندوں نے جس اخلاق کا اظہار کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ اور بھی غم ہیں اس ملک میں بدعنوانی کے سوا۔جس طرح میڈیا نے ملک کے سامنے کرپشن کو ہی اہم مسئلہ اور انتہائی خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے ایسے میں پارلیمنٹ کے حالیہ واقعہ نے ہمارے سامنے کچھ اور بھی پیش کیا۔یہ اور بات ہے کہ ہم اس خطرہ کو قبول کریں یا ہمیشہ کی طرح اس واقعہ سے منھ چھپا لیں لیکن یہ بات ہمیں سمجھنی ہوگی کہ کسی خطرہ سے منھ پھیر لینے سے خطرہ ٹل نہیں جاتا۔ ہاں اتنا ضرورہے کہ کچھ وقت کے لیے دل ضرور بہلایا جا سکتا ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ میں دہشت گردانہ رویے سے بڑھ کر کرپشن اور کیا ہوگا؟ اس سے بڑا خطرہ اور کیا ہوگا کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہو یا پارلیمنٹ میں، یقیناًذہنیت ایک ہی ہوتی ہے۔
عوامی نمائندوں کی برخاستگی ہی اس مسئلہ کا حل نہیں ہے،بلکہ اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ اراکین پارلیمنٹ کے اخلاق میں بدامنی اور تشدد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت یعنی ہندوستان کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ ہندوستان کے بھوشیہ وکتاؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی پارلیمنٹ کے اراکین تو جمہوری طریقے سے چنے جاتے ہیں لیکن ان کے اخلاق جمہوری نہیں لگتے ہیں ،کیونکہ لوک سبھا میں چاقو اور مرچ اسپرے کا مظاہرہ تو نکسلی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جمہوری طریقے سے چنے جانے والے لوگ جب بد امنی پھیلانے والے ہو جائیں تو یہ جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ملک کو درپیش خطروں کو محسوس کریں، لیکن میڈیا ان مبصرین کی عقل پر ہی قفل لگا دیتا ہے، چنانچہ ان کے نزدیک ملک کو خطرہ صرف پڑوسی ممالک سے ہی نظر آتا ہے۔جو خطرہ سرحد کے اندر ہے، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پارلیمنٹ کے اندر ہے،اس خطرے پر میڈیا کی نمائش اور فسطائیت نے پردہ ڈال رکھا ہے۔
نئی نسل کے لیے رول ماڈل:
ہمارے سیاست دانوں کو یہ بات ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ نئی نسل کے لیے کس طرح کی ’سیاسی میراث‘ چھوڑکر جارہے ہیں؟ان کے نقش قدم پر چل کر نئی نسل کہاں پہنچے گی اور پھر ملک کو کس جانب لے جائے گی؟ اس کے علاوہ بھی ایسے بہت سارے سنجیدہ سوالات ہیں جن پرغور ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ آخر ’جمہوریت کا احترام‘ دم کیوں توڑ رہا ہے؟ اس کے کیا اسباب ہیں؟ اس کے علاوہ بھی بہت سارے سوالوں پر غور کرنا ہوگا جواس واقعہ کے بعد وجود میں آئے ہیں، کیونکہ ’خیالات‘ صرف پیدا ہوتے ہیں مرتے نہیں ہیں۔ غور کرنے کی باتیں تو بہت سی ہیں جیسے سیاسی پارٹیوں میں اپنے ممبران کی ٹریننگ،انہیں بہتر اخلاق وغیرہ سکھانا۔لیکن ملک کو اس مسئلہ پر بہت ہی سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے باوقارپارلیمنٹ میں ایسے نازیبا واقعات دوبارہ نہ ہوں کیونکہ ایسے واقعات پارلیمنٹ کے وقار اور جمہوریت کے احترام اور اس پر اعتماد کو متأثر کرتے ہیں۔
مسیح الزماں انصاری،
مرکزی سکریٹری، ایس آئی او آف انڈیا

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

گنگناتا جارہا تھا ایک فقیر، دھوپ رہتی ہےنہ سایہ دیر تک

ڈاکٹر سلیم خان ساکشی مہاراج نے کہا تھا  ’’مودی راج بھوج ہیں ...