بنیادی صفحہ / سخن / لہوپکارے گاآستیں کا

لہوپکارے گاآستیں کا

شیخ احمدضیاء

مرزا نے آج آتے ہی بڑے رازدارانہ لہجہ میں ہم سے کہا میاں!آج ہم نے ایک عجیب خواب دیکھاہے۔ اگرتم واقعی سیریس ہوتو میں اس خواب کے بارے میں کچھ سنائوں گاورنہ نہیں۔ہم نے کہا مرزا خواب تمہارا۔ نیند تمہاری۔ اس میں ہمیں کیا تکلیف ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے سننے کیلئے دوکان دیئے ہیں۔ ہم اس میں ناشکری کیوں کریں گے ۔ ویسے بھی تم روزانہ ایسی کونسی کارآمد باتیں کرتے ہو جو آج اجازت لے کرسناناچاہ رہیہو۔مرزا نے کہا بات کچھ ایسی نہیں۔ یہ خواب بڑامزیدار ہے۔

ہم نے خواب میں دیکھاکہ ہمیں امن کا نوبل انعام دیاجارہاہے اور اس طرح نوازے جانے کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ چونکہ ہم نے ہمارے نائب وزیراعظم شریمان نریندر مودی جی کی رتھ یاترا میں ان کے ہم سفر بننے کا شرف حاصل کیاہے اس لئے ہمیں یہ اعزاز دیاجائے گاچونکہ ہمارے اس طرح اس یاترا میں شریک ہونے سے امن عالم کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں اور صدیوں تک اس دوستانہ ماحول کے بگڑنے کاکوئی خدشہ نہیں۔

ویسے میاں ایک بات یہ بتائو یہ نوبل انعام آخر ہے کیابلا۔جو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے ۔ ہم نے کہا مرزا1833ء میںیعنی انیسویں صدی کے وسط میںالفریڈ برن ہارڈنوبل نامی ایک بچہ سویڈن میں پیداہوا اور 1896ء تک اس دنیا کے مزے لوٹتارہا۔یہ بچہ کوئی معمولی بچہ نہیں تھا بلکہ اس نے اپنی کم عمری ہی میں ڈائنامائٹ کے موجد ہونے کا شرف حاصل کیا جس کے استعمال سے دنیا کی تباہی ممکن ہوسکی ہے۔ اس شریف انسان نے تباہی کا سامان ایجاد کیا لیکن یہ اندر سے ایک اچھا آدمی تھا اس لئے زندگی بھر پچھتاتارہا کہ آخر اس نے یہ کیا کرڈالا۔ تب اس کے ذہن میں ایک بات آئی کہ جو ہوگیا سوہوگیا۔اس نے اپنی سوچ کو مثبت رخ دیا اور اپنی تمام دولت سے ایک فنڈ قائم کیا اس ہدایت کے ساتھ کہ اس رقم سے سائنسی تحقیقات کرنے والوں اور انسانیت کی بھلائی وامن قائم کرنے والوں کو ہرسال انعامات سے نوازا جائے۔ آج کل سائنسی میدان اور طبی میدان میں یہ انعام کسے مل رہا ہے اور ان سائنسدانوں کی انسانیت کی بقاء کے لئے کیا خدمات ہیں کوئی نہیں دیکھ رہاہے البتہ امن کے میدان میں اس انعام کے بڑے چرچے ہیں جسے ۔تم نے اپنے خواب شریف میں دیکھا ہے ۔ ویسے مرزا یہ انعام آخر خاص طورپر تمہیں ہی کیوںدیاگیایہ تشویش کی بات ہے۔تم واحد شخص تو نہیں جو اس یاترا میں شامل ہوئے۔ اس یاترا کے نقطہ آغاز ہی سے کئی نام نہاد مسلمانوں کے رہنما و ہمدرد اس یاترا کاحصہ بنتے گئے۔ ہمارے کئی وزراء نے بھی اس یاترا کا پرجوش استقبال کیا اور شامل ہوئے۔ ان سب کوچھوڑ کر تمہیں منتخب کرنے کی وجہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

ویسے مرزا تم نے یہ نہیں پڑھاہوگاکہ اس انعام کے لئے اصل میں جن اہم شخصیتوں کی سفارش کی گئی ہے وہ ہیں امریکہ کے سابق صدر جارج بش اور برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر، چونکہ حمص کے سربراہ شیخ احمدیٰسین کی شہادت حال ہی میں ہوئی اور جب تک یہ سفارش کا مرحلہ طئے ہوچکاتھا ورنہ جلاد اعظم ایریل شارون وزیراعظم اسرائیل کے نام کی بھی سفارش کی جاتی۔ اکثر لوگ پریشان ہیں کہ ان جلادوں کا امن انعام کے لئے سفارش کیاجانا کیامطلب رکھتاہے لیکن تم نے اس سفارشی خط کا متن دیکھاہوا ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انہیں کیوں نوبل انعام کا مستحق ٹھہرایاگیا ہے۔ اس سفارشی خط کا متن کچھ اس طرح ہے ۔

1۔امریکہ کے سابق صدر جارج بش اور برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مشترکہ کاوشیںقابل قدر ہیں۔ چونکہ ان دونوں نے مل کر ساری دنیا میں ایک دہشت پیدا کردی ہے اور انسانوں کوخدا کی یاددلادی ہے ۔ ان دونوں نے انسانوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کی بھی اچھی سعی کی ہے ورنہ دنیا کی آبادی مزید بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور لوگ دانے دانے کو محتاج ہوجاتے ۔ انہوںنے معصوم عوام کابے رحمانہ قتل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ’’بیماری کوختم کرنے کے بجائے بیماروں کو ختم کردو‘‘ مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔

2۔افغانستان اور عراق پران دونوں کی مشترکہ حکمت عملی کامیاب رہی۔ سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔ اب مسلمان عورتیں ان ملکوں میں بے پردہ گھوم رہی ہیں اور سکون کی سانس لے رہی ہیں جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ خواتین بیوٹی پارلر جارہی ہیں نوجوان ڈسکو میں ناچ رہے ہیں جو واقعی ایک پرامن ملک کی علامت ہے۔

3۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تب یہ دونوں چنگیز خان اور ہٹلر وغیرہ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور ساری دنیا کے انسانوں پر ان کی دھاک جمی ہوئی ہے۔ ساری دنیا کے لوگ ان کے کارناموں سے سہم رہے ہیں۔یہ دونوں واقعی امن کی علامت ہیں۔ اس لئے انہیں یہ انعام دے دیاگیاتو ان ممالک کے معصوم شہداء کی روحیں کانپ اٹھیں گی۔ نونہالوں کی فریاد جو وقت سے پہلے یتیم ہوگئے ہیں عرش تک پہنچ جائیں گی۔ان بیوائوں کے نالے زمین وآسمان ایک کردیں گے جنہوںنے نوجوانی ہی میں سفید لباس پہناہم نے کہا مرزا ایسا ہوگا اور واقعی ایسا ہی ہوگا۔ یہ ممکن ہے ۔ اس واقعہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی شاعر نے

کسی وقت کہاتھا کہ :
’’جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گاآستیں کا‘‘
مرزا ہمارے اس شاعرانہ جواب کو سن کر خاموش ہوگئے اور خداحافظ کہہ کر گھر کی جانب چل پڑے۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادب اسلامی

پروفیسر محسن عثمانی ندوی ادب کا اسلام سے گہرا رشتہ ہے بلکہ ...