غزل

سر سے دستار گری ہاتھ سے ہتھیار گرے
مصلحت اوڑھ کے جب قوم کے سردار گرے

کشتی قوم بھلا پار کہاں سے لگتی؟
موجِ طوفان سے گھبراکے جوپتوار گرے

اور ہوں گے جوترے درپہ گرا کرتے ہیں
غیر ممکن ہے کہ مجھ سا کوئی خود دار گرے

وہ کہ ہر روز عداوت کی بناء رکھتے ہیں
اپنی کوشش ہے کہ نفرت کی یہ دیوار گرے

ہم تو سمجھتے تھے اٹھانے وہ ہمیں آئیں گے
بس یہی سوچ کے رستے میں کئی بار گرے

جان تھی جب تو کوئی پوچھنے والابھی نہ تھا
اب میری لاش پہ بیکار عزادار گرے

جھک کے چلنا تو شریعت کا تقاضا ہے مگر
اتنا بھی ٹھیک نہیں جس سے کہ معیار گرے

شوق دنیائے سخن کے کئی استاد سخن
بحر و اوزان میں لنگڑاتے کئی بار گرے

سلیم شوق پورنوی

 

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

حیا ہی زندگی ہے

(ان نوجوانوں کے نام جو فحاشی اور عریانیت کے دلدل سے نکلنے ...