غزل

پروفیسر شاہد ذکا ء اللہ

میری زندگی میرا بانکپن میری ہر خوشی کا حساب کیوں
میرے ہم نشیں میرے روز و شب میری دوستی کا حساب کیوں
میری فکر ہے میری سوچ ہے میرا درد ہے میری آرزو
میرے آنسوئوں پہ سوال کیوں میری خاموشی کا حساب کیوں
مجھے کیا پسند ہے ناپسند میری چاہتیں میری خواہشیں
میرا حسن ہے میرا ذوق ہے میری دلبری کا حساب کیوں
میری حسرتیں میرے خواب ہیں میری گفتگو میرا رنج و غم
میرے ہونٹ ہیں میرا جام ہے میری تشنگی کا حساب کیوں
یہ شعورِ حسنِ مزاج ہے میں نظر نظر سے ہوں آشنا
میرا وقت ہے میرا فیصلہ میری ہم سری کا حساب کیوں
میری جستجو میرا ذہن ہے میری وسعتیں میرا سلسلہ
میری رہ گزر میرا حوصلہ میری برتری کا حساب کیوں
کہ خیال ِحرمت عشق ہے،مجھے پتھروں سے گلہ نہیں
میرے زخم ہیں میری سسکیاں میری بے بسی کا حساب کیوں

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

حیا ہی زندگی ہے

(ان نوجوانوں کے نام جو فحاشی اور عریانیت کے دلدل سے نکلنے ...