غزل

چھپانے کا غم اب جگر چاہیے
خوشی بانٹنے کا ہنر چاہیے

پڑھیں صرف تسبیح اہلِ خرد
جنوں کا تقاضا ہے سر چاہیے

جو کہتے ہو اس کو کرو خود بھی تم
جو باتوں میں تم کو اثر چاہیے

شبِ ہجر آخر کو لمبی ہوئی
ترے وصل کی اب سحر چاہئے

میں دل میں چھپی نفرتیں دیکھ لوں
خدایا مجھے وہ نظر چاہئے

اگر تم کو احمد ہو عزت کی چاہ
تمہیں بھی تو کرنی قدر چاہیے

ذکی احمد ۔ بھیونڈی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادھورا شعر (طنز و مزاح)

زبیر اختر تذکرہ ہے شعر مکمل کرنے کا… یعنی ایک مصرع موجود ...