بنیادی صفحہ / رشد / خطبہ صدارت

خطبہ صدارت

ایس آئی او آف انڈیا کی فروری 2018 میں منعقدہ کُل ہند کانفرنس میں نوجوانوں سے امیر جماعت سید جلال الدین عمری صاحب کا پُر سوز خطاب۔

الحمد للہ رب العلمین ۔ والصلوۃ و السلام علی سید المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عزیزو اور نوجوانو!
جب کبھی آپ نوجوانوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے، ایس آئی او کے ممبران سے ملاقات کا ملتا ہے، تو صحیح بات یہ ہے کہ اسی طرح کی خوشی ہوتی ہے جیسے کسی بوڑھے باپ کو اپنی اولاد کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ یہ محسوس ہوتا ہے جیسے جسم میں تازہ خون دوڑنے لگاہو۔

میرے عزیزو اور دوستو!
اگر میں پیارے بچو کہوں، تو بھی غلط نہیں ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں ، سوال کرتے ہیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ میں کہتا ہوں: اس ملک کا مستقبل میرے یہ نوجوان ہیں۔ لوگ کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اس ملک کے مستقبل کا کیا ہوگا۔ اور انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ملک کا مستقبل تابناک ہوگا۔ اس کے تابناک مستقبل کو کوئی روک نہیں سکتا۔ ہزاروں کا یہ مجمع اور جہاں میں جاتا ہوں ایسا ہی مجمع ملتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں، جماعت اسلامی میرے ساتھ ہے اور یہ ہزاروں لاکھوں نوجوان میرے ساتھ ہیں۔ یقیناً آپ میرے ہیں اور میں آپ کا ہوں۔آپ میرے ساتھ ہیں اور میں آپ کے ساتھ رہوں گا، جب تک زندگی ہے۔

(۱) میرے دوستو اور ساتھیو!
یہاں اس بات کا بار بار ذکر آتا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں ہے اور جو واقعات ہو رہے ہیں اس سے اس بات کی تائید بھی ہوجاتی ہے ۔ دستور نے جو بنیادی حقوق فراہم کیے ہیں وہ پامال ہو رہے ہیں اور حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور آبرو کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔ کوئی حکومت آپ کی حفاظت کرنے والی نہیں ہے۔ آپ کو عزت اور وقار کے ساتھ اس دنیا میں رہنا ہے، ذلت کی زندگی گوارا نہیںکرنی ہے۔

عہد نبویؐ کا ایک واقعہ ہے، جس کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے:
یَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَل(المنافقون: ۸)
’’یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا‘‘۔
یہ بے ایمان لوگ کہتے ہیں کہ مدینہ واپس ہونے کے بعد ہم میں جو عزیز ہے، جو طاقت ور ہے،وہ ان ذلیلوں کو نکال دے گا۔ قرآن نے کہاکہ ان سے کہ دو کہ

عزت اللہ کے لیے ہے:
وَلِلَّہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُون(المنافقون: ۸)
’’حالاں کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں‘‘۔
جو لوگ کہہ رہیں کہ عزت اور ذلت ہمارے ہاتھ میں ہے، ان سے قرآن کہتا ہے کہ عزت تو اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے۔ وہ عزت کے ساتھ ہیں اور عزت کے ساتھ رہیں گے۔ کوئی ان کی Dignity کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ ہجرت کے موقع پر دشمنوں نے کہا کہ ہم محمد ؐکو مکہ سے نکال دیں گے یا ختم کر دیں گے۔ قرآن نے کہا کہ بتادو ان کو کہ:
وَإِذاً لاَّ یَلْبَثُونَ خِلافَکَ إِلاَّ قَلِیْل(الاسراء: ۷۶)
’’اگر یہ ایسا کریں گے تو تمھارے بعد خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے‘‘۔

محمد ؐاور ان کے ساتھی تو کون ومکاں ہیں، ان کی وجہ سے اللہ کی رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے تمہاری زندگی ہے۔ وہ اگر چلے گئے یہاں تو تم بھی نہیں رہ سکو گے۔ یہ ملک آپ کی وجہ سے۔ آپ کے بغیر اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں آپ روشنی کا مینار ہیں۔ آپ سے دنیا روشنی حاصل کرے گی۔

(۲) میرے دوستو اور ساتھیو!
آپ کو اس ملک میں مذہبی آزادی حاصل ہے، دستور کے لحاظ سے آپ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ اسے باقی رہنا چاہیے۔ اسے ختم نہ ہونے دیجیے، اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیجیے۔ یہ قرآن نے آپ کو حق دیا ہے کہ آپ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ ہر شخص عمل کر سکتا ہے۔ قرآن نے کہا سب کو آزادی ہے۔
لا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن(البقرۃ: ۲۵۶) ’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘۔
مذہبی آزادی کا تصور تو قرآن نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّکُمْ فَمَن شَاء فَلْیُؤْمِن وَمَن شَاء فَلْیَکْفُر(الکھف: ۲۹)
’’اور اے نبی کہ دیجیے! جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے‘‘۔
جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے نکار کرے۔ اور حکومت اور اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں آیا مدینہ میں تو یہ اعلان کیا کہ:
لا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن(البقرۃ: ۲۵۶) ’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘۔
یہ ہے اسلامی ریاست ۔یہ ہے اصلاً اسلامی ریاست۔ اس میں انسان کو آزادی حاصل ہوگی اور اس اعلان کے ساتھ کام کرے گی کہ کسی کے ساتھ جبر نہیں ہوگا۔
قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَی فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْم (البقرۃ: ۲۵۶) ’’صحیح بات، غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے‘‘۔

ہدایت کیا ہے، ضلالت کیا ہے، سب واضح ہو چکا ہے۔ جو شیطان کے راستے کو چھوڑ دے اور اللہ کے راستے پر چلے تو اسے مضبوط بنیاد مل جائے گی۔
میرے دوستو اور ساتھیو! یہ اسلام کی حفاظت ہے اور دستور نے بھی آپ کو اجازت دی ہے۔ دستور ثانوی چیز ہے۔ اسلام آپ کا فطری حق ہے، یہ آپ کو خدا نے دیا ہے۔ خدا کے رسولؐ نے دیا ہے۔ تو اسے باقی رہنا چاہیے۔

(۳) دوستو اور ساتھیو!
اب میں آپ سے کچھ باتیں کہوں گا ۔ آپ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں گا۔ آپ کو یہ آزادی حاصل ہے ، کیا آپ اس پر عمل کر رہے ہیں؟___ آپ مقابلہ کیجیے۔ کسی کو اپنے حق پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہ دیجیے۔ قرآن کا حوالہ دیجیے، فطرت کا حوالہ دیجیے، دستور کا حوالہ دیجیے، سب بجا ہے___ لیکن مجھے یہ پوچھنا چاہیے ۔ میںاپنے بچوں سے نہیں پوچھوں گا تو کس سے پوچھوں گا کہ کیا تم اس کے مطابق عمل کر رہے ہو؟قرآن نے کہا تمہیں نماز کا پابند ہونا چاہیے۔ اللہ کے نیک بندے وہ ہوتے ہیں جو نماز کے پابند ہوتے ہیں اور ان کا ظاہر اور باطن اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے۔ان کے بارے میں کہا کہ وہ زکوٰۃ ، حج پر عمل کرتے ہیں اور راست باز اور باعفت ہوتے ہیں۔ با اخلاق ہوتے ہیں۔ ان کے کردار پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکَاۃِ فَاعِلُونَ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ (المومنون: ۱۔۴)
’’یقیناً فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے، جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغو یات سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔

اس میں مومنین کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی عفت اور عصمت کی حفاظت کرتے ہیں اس طرح جس طرح کسی قیمتی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے۔ دولت اور سرمایہ سمجھتے ہیں وہ عفت اور عصمت کو۔ قربان جائیے ان نوجوانوں پر جو اس صفت سے متصف ہیں۔ میں بھی قربان ہو جاؤں اور آپ بھی قربان ہو جائیں کہ کسی نوجوان کے بارے میں کہا جائے کہ فلاں مومن کے اندر یہ صفت موجود ہے۔
میرے دوستو اور ساتھیو! ایسا کردار پیدا کیجیے کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ قرآن نے کہا کہ اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جو بوڑھے ماں باپ ان کے پاس رہیں تو اف تک نہ کہیں۔ یہ نہیں کہ شادی کے بعد ان کا رویہ بدل گیا ہو۔ قرآن نے کہا خدمت کرو ان کی، انھیں اف تک نہ کہو اور شرافت کے ساتھ بات چیت کرو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْماً۔ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً(بنی اسرائیل: ۲۳۔۲۴)
’’تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اس کی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انھیں اف تک نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کرو کہ پروردگار، ان پر رحم فرما، جس طرح انھوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا‘‘۔

اللہ نے مومنوں کو یہ حکم دیا ہے کہ والدین کے سامنے جھک کر رہو۔ اپنی پرواز ان کے سامنے نہ دکھاؤ کہ ہم بھی اتنے بلند ہیں۔
ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا واقعی ہمارا رویہ ماں باپ کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمیں حکم دیا گیاہے۔ سب سے پہلے تو مجھے جائزہ لینا چاہیے۔ میرے ماں باپ نہیں رہے، لیکن جب تھے تو میں نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور آپ میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے والدین حیات ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے، سلامت رکھے، یہ رویہ ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جب قرآن نے یہ کہا تو اس وقت کسی نے آکر نبی ؐسے یہ نہیں کہا کہ ہمارا یہ بچہ ہمارے ساتھ یہ زیادتی کر رہا ہے۔ کہیں کوئی کیس درج نہیں ہوا۔ ایک بھی واقعہ نہیں ہے۔

دوستو اور ساتھیو! پرسنل لا شریعت کا بڑا حصہ ہے۔ اس کے لیے آپ مقابلہ بھی کرتے ہیں، حکومت سے مطالبہ بھی کرتے ہیں اور دستور نے بھی آپ کو حق دیا ہے کہ آپ پرسنل لا پر عمل کر سکتے ہیں۔ قرآن نے کہا کہ لازماً اس کی پابندی کرو ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔ اب جب کہ حکومت آپ کے پرسنل لا کو ختم کرنا چاہتی ہے؛طرح طرح کے بہانے ہو رہے ہیں،ایک سوال یہ بھی ہے کہ جس پرسنل لا کے لیے آپ جان دے رہے، کیا اس پر عمل بھی کر رہے ہیں؟ کیا آپ کا اپنے گھر میں، اپنی بیوی کے ساتھ وہ سلوک ہے جس کی قرآن نے تعلیم دی ہے۔ قرآن میں کہا گیا :
وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوف(النساء: ۱۹)
’’ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔

دنیا میں یہ بہترین طریقہ ہے۔ اس کے مطابق آپ کا رویہ ہونا چاہیے۔ کیا ایسا ہی رویہ ہے ہمارا ، اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے اور جائزہ لینا چاہیے۔ نبی ؐفرماتے ہیں کہ بیوی کو وہ کھلاؤ جو تم کھاتے ہو، وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا معیار زندگی اور اس کا معیار زندگی ایک ہونا چاہیے۔ تم نے اسے ملازمہ سمجھ لیا، یہ نہیں ہونا چاہیے ۔ تو کیا واقعی ہمارے گھروں کی عورتوں کے ساتھ ہمارا یہی سلوک ہے۔ نبیؐفرماتے ہیں:
خیرکم خیرکم لاہلہ، واناخیرکم لاہلہ (حدیث)

تم میں سے بہتر انسان وہ ہے جو اپنے بیوی بچوں کے حق میں بہتر ہو۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہوں۔
دنیا کے حق میں بہتر ہونا آسان ہے اور بیوی بچوں کے حق میں بہتر ہونا مشکل ہے۔ تو جس پرسنل لا کے لیے آپ جان دے رہے ہیں، میری گزارش یہ ہے کہ آپ اس کے مطابق عمل کریں۔ آپ کہیں گے ابھی ہماری شادی نہیں ہوئی۔ شادی ہوگی اور یہ سب مراحل بھی آئیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو ایسی فضا اس ملک کے اندر پیدا کرنی ہوگی اور انھیں بتانا ہوگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ تین طلاق دے دی جاتی ہے۔ تین طلاق کا مسئلہ چھوڑیے۔ وہ نہ تو عورت کے حق میں ہے نہ کسی دوسرے کے حق میں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ظلم و زیادتی اور نا انصافی ہے۔ ایسے کسی قانون کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کرکے منظور کرانے والوں نے سوچا نہیں کہ یہ آپ کے خلاف ہے ۔آپ کی مرضی کے خلاف ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا ہوگا؟ یہ تو نہیں معلوم۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس سے جان چھڑانے کے لیے کوئی تدبیر نکال لے ۔ میرے دستو اور ساتھیو۔ آپ دنیا کو بتائیے کہ پرسنل لا پر ہم لازماًعمل کریں گے اور ہر حال میں کریں گے اور ہر اس حکم پر عمل کریں گے، جس کی تعلیم قرآن نے دی ہے۔

(۴) میرے دوستو اور ساتھیو!
آخری بات مجھے یہ کہنی ہے کہ اسلام پر جو حملے ہو رہے ہیں، جن کی بہت سی مثالیں اس وقت دی گئی ہیں۔ یہ حملے جاری رہیں گے۔ ان کا مقابلہ کیجیے۔ لیکن آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ دنیا کو بتائیے کہ اسلام امن و امان کا دین ہے، دین رحمت ہے، تمہارے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی اور ساری دنیا کے لیے بھی۔ یہ کام آپ جیسے طلبہ ہی کر سکتے ہیں۔ دنیا کو بتائیے کہ جس اسلام کو بدنام کر رہے ہو جس کی تصویر بگاڑ رہے ہو، وہ اسلام وہ نہیں ہے۔ بلکہ اسلام وہ ہے، جو دنیا کو امن و امان کا پیغام دیتا ہے:
وَاللّہُ یَدْعُو إِلَی دَارِ السَّلاَمِ وَیَہْدِیْ مَن یَشَاء ُ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم(یونس: ۲۵)
’’اور اللہ تمھیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے، (ہدایت اس کے اختیار میں ہے) جس کو چاہتا ہے وہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے‘‘۔

اللہ تو دار السلام کی طرف تمھیں بلا رہا ہے، جنت کی طرف بلا رہا ہے، جہنم سے نکالنا چاہتا ہے۔ یہ کام آپ کے کرنے کا ہے۔ آپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ آپ طالب علم ہیں۔ آپ سے ہی یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اسلام پر جو حملے ہو رہے ہیں اور جس طرح اس کی تصویر بگاڑی جا رہی ہے، اس تصویر کو ٹھیک کریں۔ اس لیے کہ آپ اس وقت کالجوں، یونی ورسٹیوں، درس گاہوں میں ہیں۔ آپ کو موقع ہے ، ان اعتراضات کو سمجھیے اور ان کا جواب دیجیے۔

آخری بات یہ ہے کہ اللہ کا دین پھیلنے کے لیے آیا ہے اور اس کا پھیلانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ دین بڑی مشکلوں سے مختلف مراحل طے کرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے اور اس کے بعد دوسروں تک پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ نبی ؐنے حجۃ الوداع پر جب کہ ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان آپ کے سامنے تھے، آپ نے خطبہ دیا، اس خطبہ میں انسانی حقوق کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد فرمایا:
فلیبلغ الشاہد الغائب(حدیث) ’’جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں تک اللہ کا دین پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں‘‘۔
اس طرح یہ دین ہم تک پہنچا۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓکہتے ہیں کہ یہ امت کو آپؐ کی آخری وصیت تھی۔ اس وصیت پر آپ کو عمل کرنا ہے۔ یہ دین سب کے لیے ہے، سارے انسانوں کے لیے ہے۔ یہ ہدی للناس ہے۔ ہدایت ہے۔ ساری انسانوں کو راستہ دکھانا آپ کا کام ہے۔
میرے دوستو اور ساتھیو! آپ اس کے لیے کمر بستہ ہو جائیے۔ دیکھیے دنیا کا نقشہ بدلتا ہے، آپ بدلیں گے یقیاً دنیا بدل جائے گی۔ مگراس کے لیے آپ کو غیر معمولی قربانی دینی ہوگی۔

بہر حال میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔ میں آپ کا کیا شکر ادا کروں۔ شکر تو اللہ کے لیے ہے۔ کیا کبھی باپ بھی اپنے بیٹوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ اتنی رات گزرنے کے باوجود آپ بیٹھے رہے، پوری باتیں سنی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو باتیں عرض کی گئی ہیں وہ آپ کے ذہنوں میں محفوظ رہیں اور مجھے یہ اطلاع ملتی رہے کہ اس پر عمل ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ مجھے یہ سننے کا موقع فراہم کریں گے۔ انھیں باتوں کے ساتھ میں اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں اور آپ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ جن جذبات کے ساتھ آپ یہاں آئے ہیں، وہ جذبات باقی رہیں اور فروغ پائیں اور دنیا کو ایک نئے نظام کی طرف آپ بلا سکیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

فرد کی تعمیرمیں والدین اورسماج کا کردار

ایک نومولود بچے کے دل میں والدین کے تئیں محبت ایک فطری ...