بنیادی صفحہ / سخن / اگر ضمیر کی چڑیاحلال کردیتے

اگر ضمیر کی چڑیاحلال کردیتے

عبدالحفیظ ۔ر،تلنگانہ

 

مرزا کا چھینکتے چھینکتے براحال تھا۔ ہم نے پوچھا ’’کیوں پریشان ہو کیا حال بنارکھاہے ،،کہنے لگے میاں تمہیں مذاق سوجھتا ہے اور ادھر ہماری جان نکلی جارہی ہے۔ گھر کا ہر فرد ہی نہیں بلکہ سارا محلہ الرجی کا شکار ہے۔گھروں کے آس پاس ،پھیلی ہوئی گندگی، گڑھوں میںجمع ہوا بارش کا پانی، مردہ جانوروںسے اٹھتا ہوا تعفن، بیماریوں کاسبب بن رہاہے۔ نالیوں کی صفائی ہوئے مہینے گزرگئے، گندگی ہے کہ بس ابل رہی ہے۔ ایک ہفتہ سے سردی زکام میں مبتلاہوں۔آج کچھ طبیعت سنبھلی جو تم سے ملنے چلاآیاہوں۔ہم نے کہامرزا کیا وجہ ہے کہ شہر میں گندگی پھیل رہی ہے۔ ہماری نظر میںتوبلدیہ والے کافی اچھاکام کررہے ہیں۔ مرزا نے کہا بلدیہ اور اس عملہ کی تعریف ہم پہلی مرتبہ سن رہے ہیں۔ ورنہ بلدیہ کے عملہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ہرچیز کو اپنی اصل جگہ پہنچانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپرنالیوں سے کیچڑ کی نکاسی کو ہی لے لو۔ اسے بڑی ہی محنت سے نکال کر نالیوں کے کنارے لگایاجاتاہے اور اسے حکم دے دیاجارہاہے کہ وہ آہستہ آہستہ پھر اپنے اصل مقام پر واپس چلاجائے۔سڑکوں کی صفائی کے بعد کچرے کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ تیز ہوا کے ساتھ اڑ کر پھر سے بکھر جائے تاکہ دوسرے دن کے لئے کام فراہم ہوسکے۔ اگر یہ کچرا ہمیشہ کیلئے سڑکوں سے دور ہوجائے پھر بلدیہ کا تقریباً عملہ بیکار ہوجائے گا۔ بلدیہ کے ذمہ داروں کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ پہلے شہریوں کو غیر قانونی کام کرنے کی مہلت دیتے ہیں پھر انہیں اپنے شکنجے میں کستے ہیں۔ اگر آپ اپنے گھر کے آس پاس کسی جانور کو مرا ہوا دیکھ کر بلدیہ کے ذمہ داروں کو اطلاع دیں، یہ لوگ تب حرکت میں آتے ہیں جب یہ محلہ بھر کو بیمارکرنے کے بعد خود مٹی میں گھل مل جاتاہے۔

ہم نے کہا مرزا تمہاری اس نکتہ چینی پر ہمیںایک مشہور لطیفہ یادآگیا۔ہوایوں کہ ایک صاحب کے گھر کی دیوار سے لگ کر ایک گدھا مرا ہوا پایاگیا۔ یہ صاحب بڑے ہی نازک مزاج تھے انہوںنے فوراً اپنے شہر کی بلدیہ کے ذمہ داروں کو فون پر بتایاکہ ان کے گھر کے قریب ایک گدھا مرکز پڑا ہواہے اسے فوراًوہاںسے ہٹایاجائے۔ بلدیہ کے جس ذمہ دار نے یہ فون ریسیو کیا وہ کافی خوش مزاج تھا اس نے انہیں جواب دیاکہ اس گدھے کی تجہیز وتکفین کی ذمہ داری محلہ والوں پرعائد ہوتی ہے۔یہ سنناتھاکہ ان صاحب کاپارہ چڑھ گیااورانہوںنے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا’’ٹھیک ہے جناب۔یہ کام ہم کرہی لیں گے لیکن اس کے وارثین کو اطلاع دینا بھی تو ہمارا فرض ہے۔،، مرزا اس لطیفے کو سن کر مسکرائے بنانہ رہ سکے۔

مرزا نے کہامیاں ہمارے شہر میں اتنے اراکین بلدیہ ہیں لیکن وہ بھی عوام نے انہیں جو ذمہ داری سونپی اس سے کچھ انصاف نہیں کررہے ہیں۔ہم نے کہا مرزا بات کچھ ایسی نہیں۔ دراصل ہمارے ان اراکین کی معیاداب ختم ہی ہونے کو ہے اس لئے عملے پر ان کی گرفت کمزور ہوچکی ہے اور کل تک جو عملہ یا بلدیہ کے ملازمین انہیں دیکھ کرالرٹ ہوجاتے تھے اب انہیں نظر انداز کررہے ہیں جس کا راست اثر شہر کی صفائی پر پڑرہاہے۔ کچھ دنوں بعد نئے اراکین کاانتخاب ہوگا پھر غالباً یہ مسائل حل ہوجائیں گے۔ ہم نے کہا مرزا ہم نے ان ہی انتخابات کونظر میں رکھتے ہوئے رکن بلدیہ بننے کے خواہشمند چند حضرات سے انٹرویو لیا تاکہ ہمیں یہ معلوم ہوسکے کہ آخر وہ انتخابات کے لئے اتنے بے چین اور مضطرب کیوں ہیں۔ سب سے پہلے ہم نے ایک پڑھے لکھے نوجوان سے بات کی۔ جب ہم نے اس سے پوچھا کہ میاں تم ماشاء اللہ پوسٹ گریجویٹ ہو۔تھوڑا ساہاتھ پیر مارلو تو اچھی ملازمت مل سکتی ہے۔ پھر تم بلدیہ کے رکن بننے کے کیوں خواہشمند ہو۔ ہمارے اس سوال پر نوجوان کو کافی غصہ آگیا۔ وہ کہنے لگا کیا تم بلدیہ کے رک بننے کو ملازمت کرنے سے کمتر سمجھ رہے ہو۔ اجی حضرت! یہ آپ جیسے ہی لوگ ہیں جو ہمیں احساس کمتری میں مبتلاکرتے جارہے ہیں۔ تم جس ملازمت کی بات کررہے ہواس سے کیاملنے والاہے۔ زیادہ سے زیادہ پیٹ پالنے، خود کے پلنے کے لئے ہرماہ پابندی سے کچھ رقم ملتی جائے گی اور نصف مہینہ گذرنے کے بعد مہینہ کے جلد اختتام کے لئے دن گننا پڑے گا۔ میں نے طئے کرلیا ہے کہ میں بلدیہ کا رکن بنوں گا۔ پہلے سال ایمانداری سے شہریوں کی خدمت کروںگا۔ پھر جیسے ہی عزت اور شہرت کے دروازے کھل جائیں گے اپنی فکر شروع کروں گا۔سب سے پہلے اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایک اچھا سا گھر بنائوں گا۔ بلدیہ کی زمین ہوگی، بلدیہ کے انجینئر کا دیا ہوا نقشہ ہوگا۔ جہاں تک ہوسکے ایمانداری کے ساتھ اس گھر کی تعمیر میں بلدیہ کا ہی میٹریل استعمال کروںگااوردیکھتے ہی د یکھتے اپنے خوابوں کا محل تعمیر کرلوں گا۔ ہم نے کہا اس تمام کام کے لئے تمہیں پیسوں کی توضرورت پڑے گی، وہ کہاں سے آئیں گے۔اس نے کہا اجی حضرت آپ بہت ہی بھولے ہیں۔بلدیہ کارکن بننے کے بعد یہ تمام باتیںسوچنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ بلدیہ کے تحت رقمی امداد کی کئی اسکیمیں ہوتی ہیں۔ اگر آپ میں کچھ مستحقین کاحق مارنے کی جرأت پیدا ہوجائے تب یہ تمام مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔

ہم نے پوچھا گھر بنانے کے فوراً بعدآپ کے اور کیا نیک ارادے ہیں۔ نوجوان نے کہا اس کے بعد میں سیٹھ شرافت علی کی لڑکی سے شادی کیلئے رشتہ بھیجوں گا۔ ہم نے کہا میاں تم ہوش میں تو ہو۔کدھر عثمان علی کدھر پیاز کی ڈلی۔ نوجوان نے کہا یہیں پر آپ لوگوں کی عقل مارکھاجاتی ہے۔ جب میں رکن بلدیہ بنوںگاتب عزت اور شہرت میرے قدم چومے گی۔ شہر کے ہر بڑے سے بڑے آدمی سے میرے قریبی مراسم ہوجائیں گے۔ہر تقریب میں ، ہر دعوت میں، شہر کے دیگر شرماء کے ساتھ میری شرکت کو ضروری سمجھاجائے گا۔ لوگ میری تعریفوں کے پل باندھتے جائیں گے۔ میری تہنیتی تقاریب منعقد ہوں گی۔ پھر سیٹھ شرافت علی کیا شہر کا کوئی بھی بڑا آدمی مجھے فرزندی میں لینے سے انکارنہیں کرسکے گا۔ ہم نے کہا ہوسکتاہے یہ ممکن ہوجائے ۔ لوگ جب چاند کو چھوڑ کر مریخ پر گھر بنانے کی سوچ رہے ہیں تب تمہاری یہ سوچ کچھ بیجانہیں۔نوجوان نے کہا اجی حضرت۔ آپ کو طنز اور تنقید کے سوا آتا ہی کیا ہے۔

کیاآپ نے نہیں دیکھا کہ پانچ سال قبل دلاور خان کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔ ایم اے، ایم فل کرنے کے بعد خانگی مدرسے میں ہزار روپیئے کی ملازمت کی خاطر چپلیں گھساکر مایوس ہوچکاتھا۔ کسی خیرخواہ کے مشورہ پر بلدیہ کا الیکشن لڑا۔ وارڈ ممبر منتخب ہوا۔ تعمیراتی کمیٹی کاذمہ دار بنا اور آج اس کی جو پوزیشن ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شاندار بنگلہ ہے۔ گھر کے سامنے گاڑی ہے ، اس کی ترقی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے سیٹھ مہذب خان نے اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ آج شہر کے معزز ترین شہریوں میں اس کا شمار ہورہاہے۔ ہم نے کہاآخر یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔ نوجوان نے کہا اس دور میں اگر انسان اپنے ضمیر کی چڑیاکو حلال کرنے کے لئے راضی ہوجائے۔تب کیا نہیں ہوسکتا۔جب بیوٹی پارلروں کے نام پر جسم فروشی کے اڈے چلائے جاسکتے ہیں۔

غریبوں کی غریبی دور کرنے کے غرض سے نوجوان لڑکیوں کی بوڑھے عربوں سے برائے نام شادیاں کرتے ہوئے انہیں قحبہ گری پر مجبور کیاجاسکتاہے،پھر ایک پڑھالکھا شخص تھوڑی سی بے ایمانی کرتے ہوئے اپنی معاشی حالت اچھی کرلے تب اس میں کیا قباحت ہے۔ ہم نے کہا میاں تمہارے ارادے توبڑے نیک معلوم ہوتے ہیں ۔آج ملک کو ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے جو ملک کو نہ سہی خود کو بدلنے کی جرأت تورکھتے ہیں۔ ہم نے مرزا سے کہا یہ ہے آج کل کے نوجوان نسلوں کی فکر۔ اگر ایسے لوگ عوامی نمائندے بن جائیں تب نہ صرف بلدیہ کا بلکہ شہریوں کابھی اللہ ہی حافظ ہے۔ مرزا نے کہا میاں اب ہمیں اجازت دو۔ یہ سب سن سن کر ہمارے کان پک رہے ہیں۔ ہم نے اللہ حافظ کہا اور نشست کو برخاست کیا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

ادب اسلامی

پروفیسر محسن عثمانی ندوی ادب کا اسلام سے گہرا رشتہ ہے بلکہ ...