براؤزنگ ٹیگ

Education

طلبہ میں ڈپریشن کے اسباب اور سد باب

امتیاز اقبال علم کا حصول دینی و دنیاوی دونوں نقطہ نظر سے اہمیت کا حامل ہے۔ہندوستان کے موجودہ حالات اور ان حالات میں اہل ااسلام کی صورت حال کے پیش نظر علم کے حصول کی اہمیت سہ گنی ہوگئی ہے۔اپنی عرفی و قومی حیثیت کو منوانے کے لیے بھی حصول

نصابی کتب کے ذریعے تاریخ ہند کو مسخ کرنے کی کوشش: ایک مطالعہ

دلشانہ سمیہ پچھلے پچاس سالوں میں ہندوستانی تاریخ کے حوالے سے ایک نیا بیانیہ سامنے آیا۔جس میں ہندو شناخت کو نمایاں کیا گیااور دیگر اقلیتوں کوملک میں گھس پیٹھوں کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ہندو قوم پرستوں نے ہمیشہ سے ہندوستانی تاریخ کو

نصاب تعلیم اور سماجی عدم مساوات

کرشن کمار مصنف این سی ای آر ٹی کے سابق ڈائرکٹر ہیں۔ بشکریہ، انڈین ایکسپریس ہندوستان جدید ٹیکنالوجی اور شہری رنگارنگی سے آراستہ ایک ملک ضرور بن گیا ہے لیکن ذات پات جیسا قدیم اور فرسودہ نظام اب بھی ہمارے سماج اور سیاست پر اثر انداز ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن بل: ریفارم یا تعلیمی اداروں میں قبضہ کی کوشش

شارق انصر مرکزی حکومت اپنے اقتدار کے چار سال مکمل کرچکی ہے اور اب اقتدار کے آخری مرحلے میں ہے۔ تعلیمی ریفارم کے نام پر مودی حکومت نے کوئی ٹھوس کام اب تک نہیں کیا۔ نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر مرکزی حکومت کوئی قابلِ ذکر پیش رفت کرنے میں ناکام

منڈل کمیشن کے بعد تعلیمی اداروں کا جائزہ

منڈل کمیشن کے بعد تعلیمی اداروں کا جائزہ تخلیق علم کے متبادل طریقوں کا ادراک طاہر جمال کے ایم عام طور پر یونیورسٹیز اور اعلی تعلیم کے اداروں کو انسانی سماج، بلکہ ملک کا آئینہ تصور کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں اور طلبہ کے عزائم کو اسی

دہلی یونیورسٹی میں ذات اور مذہب کے نام پر امتیاز: ایک مطالعہ

عفیف احمد ڈی یو ہندوستان میں اعلیٰ درجے کی مرکزی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس کا غیر معمولی کٹ آف ہی ہے جو اسے ہندوستان کی سر فہرست تین یونیورسٹیوں میں جگہ دیتا ہے۔ ہر سال داخلے کے لیے یہاں بڑی تعداد میں درخواستیں آتی ہیں۔ مختلف شعبوں

اسکولی سطح پر ذات پات

سعادت حسین تعلیم میں عدل و انصاف کی بات بہت سارے ماہر ین تعلیم نے کی ہے۔ جیسے امرتیا سین نے 'تعلیم میں ’’عدل‘‘ کی بات تو گیتا نمبیسان نے 'تعلیم میں ’’مساوات‘‘ ' کی بات کی ہے۔ ماہر ین تعلیم عدل،انصاف اور مساوات کو متبادل کے طور پر پیش کرتے

تعلیم کا داخلی استعمار

جسیم پی پی میلکم ایکس نے کہا تھا کہ’’تعلیم مستقبل کی کنجی ہے کل یہ ان کے پاس ہوگی جو اس کے لیے آج تیاری کریں ‘‘۔ میلکم ایکس کا یہ قول صحیح ہے لیکن ہندوستان میں اس کنجی کا حصول مشکل تر ہوچکا ہے۔ کیونکہ تعلیم کا حصول یہاں صرف سماج کے بعض

تعلیمی صورت حال کی بہتری میں والدین اور اساتذہ کا کردار

منظر قاسم،الخبر،سعودی عرب ’’پڑھو اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ،جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی،پڑھو! اور تمہارارب بڑاکریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘۔(العلق ۱۔۵) یہ ہے…

اسلام کا تصورِ تعلیم

نوید السحر صدیقی تاریخ کی بصارت نے دیکھا ہے کہ ترقی، عزت ،تکریم و شہرت اس قوم کا مقدر بنی جس نے علم کو سرمایہ حیات بنا لیا ہو۔ دنیا کی ہر قوم کو اس قوم کے آگے اپنا سر خم کرنا پڑا جس غور و فکر، تحقیق اور علم کی دنیا میں عرق ریزی کی، باوجود اس…