اسکولوں کی نج کاری (Privatisation) – RTEکے تناظر میں

مدحت فاطمہ

ہندوستان کے طبقاتی معاشرے میں اسکول برابری کی علامت ہوتے ہیں۔ انہیں فنڈنگ اور انتظام کے لحاظ سے بڑے پیمانے پر تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: عوامی، نجی امداد یافتہ اور نجی غیر امدادی۔سرکاری اسکولوں کو عام طور پر سرکاری کہا جاتا ہےاور مرکزی یا ریاستی حکومت کی طرف سے فنڈ اور انتظام کیا جاتا ہے۔ سرکاری اسکول مفت ہوتے ہیں اور انہیں مفت دوپہر کا کھانا، نصابی کتابیں (آٹھویں جماعت تک) اور یونیفارم فراہم کیے جاتے ہیں اور قانون کے مطابق سرکار ہر بچے کو اس میں داخل کرنے کی پابند ہے۔ جب کہ پرائیوٹ اسکول وہ ہیں جہاں حکومت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ وہاں نہ تو حکومت فنڈز دیتی ہے اور نہ ہی انتظام و انصرام کرتی ہے۔ یہ آزادانہ طور پر عوام کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔
ہندوستان میں جب سے RTEایکٹ آیا ہے تب سے لوگ اپنے بچوں کا زیادہ سے زیادہ پرائیوٹ انگلش میڈیم اسکولوں میں داخلہ کرانا پسند کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی حکومتی اسکول بند ہو رہے ہیں۔ ان اسکولوں میں کم سے کم پیسوں میں ہندوستان کی غریب عوام اور پچھڑے علاقوں کے بچّے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔

RTE ایکٹ کیا ہے ؟
یہ ایکٹ 1/اپریل 2009 کو نافذ ہوا۔ اس کے تحت ” بچوں کو اسکول میں ابتدائی تعلیم کی تکمیل تک مفت اور لازمی تعلیم کا حق” فراہم ہے۔ یہ اس بات کی ضمانت بھی دیتا ہے کہ ” ہر بچہ اس تعلیم کو حاصل کرے جو اسکولوں میں تسلی بخش اور مساوی معیار کی ابتدائی تعلیم ہو اور جو ضروری اصولوں اور معیارات کو پورا کرتی ہے۔”یہRight to education ایکٹ تعلیم ‎کو 6 سے 14 سال کی عمر کے ہر بچے کا بنیادی حق بناتا ہے اور ابتدائی اسکولوں میں کم سے کم نمبرات لاگو کرتا ہے۔ اس کے تحت تمام پرائیویٹ اسکولوں سے 25 فیصد سیٹیں مختص کی جاتی ہیں (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پلان کے طور پر ادائیگی ریاست کی طرف سے کی جاتی ہے)۔ بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں معاشی حیثیت یا ذات کی بنیاد پر تحفظات کی بنا پر داخل کیا جاتا ہے۔ یہ تمام غیر تسلیم شدہ اسکولوں پر بھی پابندی لگاتا ہےاور داخلے کے لیے کوئی عطیہ یا مقابلہ فیس اور بچے یا والدین کا انٹرویو نہ کرنے پر زور دیتا ہے۔ ایکٹ کے تحت ابتدائی تعلیم کی تکمیل تک کسی بھی بچے کو روکا نہیں جاسکتا، نا ہی نکالا جاسکتا ہے اور ہر بچے کو بورڈ کے امتحان میں پاس بھی کر دیا جاتا ہے۔ اسکول ترک کرنے والوں کی خصوصی تربیت کا بھی انتظام بھی اس میں شامل ہے تاکہ انہیں ایک ہی عمر کے طلبہ کے برابر لایا جاسکے۔

تعلیمی تبصرہ نگاروں  نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر privatisation of education کی طرف لے جا رہا ہے۔ بہت سے گورنمنٹ اسکول اس کی وجہ سے بند ہو گئے کیونکہ کوئی ان کے انتظام کے لیے موجود ہے نہ ہی اب وہاں کی انتظامیہ مضبوط ہے۔اتر پردیش میں سرکاری اسکولوں کی تعداد میں,074 26کی کمی دیکھی گئی، جو ستمبر 2018 میں 1,63,142 سے ستمبر 2020 میں 1,37,068 ہو گئی اور مدھیہ پردیش میں 1,22,056 سے,152 99 ہو گئی۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آنے والے دس سالوں میں حالات اور بدتر ہو جائیں گے اور گورنمنٹ اسکولنگ سسٹم جو غریب عوام کو مفت تعلیم فراہم کرتا تھاوہ بند ہو جائے گا۔
اسکولوں کی بڑھتی نج کاری (privatisation) سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گورنمنٹ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے یہ کر رہی ہے تاکہ اسے اپنے اسکولوں کا نہ انتظام و انصرام کرنا پڑے اور نہ ان پر پیسے خرچ کرنا پڑے۔ یہ گورنمنٹ اسکولنگ سسٹم کی ناکامیابی کی علامت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ستمبر 2018 اور ستمبر 2019 کے درمیان ملک کی سرکاری اسکولوں کی تعداد میں,000 51یا 4.78 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران نجی اسکولوں کی تعداد میں,739 11یا 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔
وزارت تعلیم کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، 2020-21 کے دوران ملک بھر میں,000 20سے زائد اسکول بند کر دیے گئے اور اساتذہ کی تعداد میں بھی پچھلے سال کے مقابلے میں 1.95 فیصد کمی آئی ہے۔2021 – 22 میں تقریباً,000 20اسکول بند کیے گئے اور تقریباً 1.9 لاکھ اساتذہ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایسا ہی اوڈیسہ، راجستھان، اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں بھی دیکھا گیا کہ پچھلے سالوں میں بھاری تعداد میں حکومتی اسکول بند ہوئے۔

مترا راجن (Mitra Arjun) جو کہ RTE فورم نامی ایک NGOسے جڑے ہیں انہوں نے اپنے بیان میں کہا، “حکومت کو چاہئے کہ وہ ان بچوں کی نقشہ سازی کرے جنہوں نے اسکول ترک کیا ہے اور جو بچہ مزدوری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان بچوں کو اسکول کی تعلیم دلانا چاہیے۔ جس سے تمام سرکاری اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔حکومت کو چاہئے کہ وہ گورنمنٹ اسکولوں کا انتظام و انصرام کرائے، وہاں کی انتظامیہ کو درست کرنے کے لئے جو بھی قدم اٹھا سکتی ہے اٹھائے اور سرکاری اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کرے۔”

(مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے، پالیٹیکل سائنس کی طالبہ ہیں۔)

[email protected]

مئی 2024

مزید

حالیہ شمارہ

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں

فلسطینی مزاحمت

شمارہ پڑھیں