ہندوستان میں مسلم مفادات کی سیاست-مسلم سیاسی جماعتوں کا ظہور

محمد علی تاجدار

تقسیمِ ہند حالیہ تاریخ کا ایک بہت ہی بے نظیر واقعہ تھا۔ ایک وسیع جغرافی خطہ، مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا تھا۔ بد قسمتی سے اس واقعہ نے ان مسلمانوں پر نہایت برے اثرات مرتب کیے جو ‘پاک سرزمین’ کو ہجرت نہیں کر پائے تھے یا جنہوں نے پیچھے رہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس واقعہ نے مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات پر ایک گہرا اثر چھوڑا جو آج تک بھی مکمل طور پر زائل نہ ہوسکا۔ تقسیمِ ہند کی ذمہ داری، تقسیم کے نتیجہ میں ہونے والا خون خرابہ، دو طرفہ مہاجرت، اپنوں کا آپس میں بچھڑ جانا جیسے واقعات اور اس کے نتیجہ میں برپا ہونی والی تعجب خیز اتھل پتھل کا الزام مسلمانوں پر ڈالا گیا۔ لوگ اس بات پر بھی گفتگو کرنے لگے کہ آیا مسلمانوں کو شہریت دینی بھی چاہیے یا نہیں، کیونکہ ان کو تو ان کا من چاہا خطہ دے دیا گیا تھا۔ ماحول کی تاریکی کو مزید تاریک تر کرنے میں فسادات کا وہ سلسلہ تھا (جسے صحیح طور پر قتلِ عام کہا جائے)، جس نے ملک کے طول و عرض کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ وقت کے تقریباً دانشمند، با اثر اور متمول مسلمانوں کا ملک کے نو تقسیم کردہ حصہ کو ہجرت کرجانے کے بعد ہندوستانی مسلمان بظاہر ایک مائی باپ سے محروم قوم نظر آرہے تھے۔ اس حالت نے ملت کے جینے اور پھلنے پھولنے کی خواہش کو کچل کر رکھ دیا۔ باقی ماندہ ملّی رہنماؤں اور مسلمانوں کی حالت سے ہمدردی رکھنے والوں کی بڑی کوششوں اور اعتماد و بھروسہ بڑھانے کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں میں اس ملک میں باعزت زندگی گزارنے کی جوت جلی۔

ایک عرصہ بعد جب کہ خوف کا اثر کچھ کم ہوا اور ایسا لگنے لگا کہ ملت معمول کی طرف لوٹنے لگی ہے، یہ سوالات اٹھنے لگے کہ ملت کے مستقبل کا روڈ میپ کیا ہونا چاہیے؟ اس اہم مرحلہ پر مسلم قیادت منقسم حالت میں تھی۔ قیادت کے ایک حصہ کا یہ خیال تھا کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی خواہش کو بالائے طاق رکھنا چاہیے اور ہندوستانی سماج کے دیگر اجزاء کی طرح خاموش زندگی گزارنی چاہیے اور اپنے ذاتی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ طبقہ پنڈت نہرو کی انڈین نیشنل کانگریس کی بانہوں میں درد کا درماں تلاش کرنا پسند کر رہا تھا۔ قیادت کا دوسرا حصہ اس خیال کا حامل تھا کہ مسلمانوں کو اپنی الگ سیاسی پہچان اور جگہ بنانی ہوگی اور اپنی قسمت کو خود تراشنا ہوگا۔ تابناک ماضی کے وارث ہونے کا جذبہ اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا اس طبقہ کے عزائم و خصوصیات تھے۔

اس مضمون میں مابعد تقسیم وقوع پذیر ہونے والی ان مسلم سیاسی اداروں کی جدوجہد، خدمات اور ناکامیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہیں جنہوں نے ملت کے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں۔ وقت کی سنگینی، وسائل اور بہی خواہوں کی عدم موجودگی کی اس حالت میں یہ سعی اپنے نتائج سے قطع نظر، حالات کا مقابلہ کرنے کی کی ایک بے باک اور قابل تعریف کوشش تھی۔

1۔ آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت

اگرچہ کہ مجلسِ مشاورت کا قیام ایک غیر سیاسی ادارہ کے طور پر ہوا تھا لیکن یہ مسلمانوں کی مابعد تقسیم کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ مشاورت کا قیام ہندوستانی مسلمانوں کی تمام بڑی جماعتوں اور نامور شخصیتوں کے ایک متحدہ پلیٹ فارم کے طور پر ہوا تھا، جس کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی حالت کو بہتر بنانا اور ان کی جانوں اور روزگار کی حفاظت کرنا تھا۔

قیام کا پسِ منظر: 1964ء میں ہونے والے مسلم کش فسادات جو کہ اڑیسہ، بہار اور بنگال میں ہوئے تھے، اس نے مسلمان اہلِ دانش کو مل کر بیٹھنے اور جان و مال کی حفاظت کے لیے ایک حکمتِ عملی بنانے پر مجبور کردیا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ فسادات پہلی مرتبہ تھے۔ وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف حصوں میں فسادات ہوتے رہے ہیں جب کہ مسلم قیادت وقتی اور عارضی اقدامات پر اکتفا کرتی رہی تھی۔ اسی سے مماثل ایک میٹنگ ‘مسلم کنونشن’ کے نام سے 1961ء میں جبل پور، مدھیہ پردیش کے فسادات کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ اس سے بھی قبل 1959ء میں قاضی عدیل عباسی کی جانب سے بستی، اتر پردیش میں بھی ایسی ہی ایک میٹنگ بلائی گئی تھی۔

1961ء کی میٹنگ کے پسِ منظر کا تذکرہ بھی یہاں قابلِ ذکر ہے، جو کہ دہلی میں پروفیسر ہمایوں کبیر اور مولانا حفظ الرحمان کی جانب سے بلائی گئی تھی۔ ڈاکٹر سید محمود، جو کہ ایک نامور مسلمان، مجاہدِ آزادی اور نہرو کی کابینہ کا حصہ رہ چکے تھے، وہ بھی اس میٹنگ میں شریک تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ پنڈت نہرو ‘مسلم کنونشن’ کے انعقاد سے ناراض تھے کیوں کہ اس کی وجہ سے مسلم مسائل کی دیکھ بھال کے تعلق سے اُن پر سوالات کھڑے ہونے تھے۔ بہر حال، انہوں نے کانگریسیوں کو اس پروگرام میں حصہ لینے سے نہیں روکا۔ ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو ابتدا ء میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن حکومت نے میٹنگ کے انعقاد کنندگان پر دباؤ ڈالا کہ جماعت کو دی گئی دعوت منسوخ کی جائے۔ چونکہ جماعت کے دعوت نامہ کو واپس لے لیا گیا تھا، مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا منظور نعمانی نے بھی میٹنگ میں یہ کہ کر شرکت سے معذرت کرلی کہ یہ بیٹھک سبھی مسلمانوں کے نمائندہ ہونے کے شعار کو کھوچکی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد ایک نمائندہ وفد نے وزیر اعظم نہرو سے ملاقات کی تھی اور انہیں حالات سے واقف کروایا تھا۔

1964ء کے فسادات نے مسلم قیادت کو ایک بےنظیر انداز میں کچھ کام کرنے پر مجبور کردیا۔ سبھی مسلم جماعتوں اور فرقوں کے نمائندوں اور مسلم دانش وروں کا ایک اجلاس ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں اگست 8، 9 تواریخ کو مولانا ابو الحسن علی ندوی اور ڈاکٹر سید محمود کی جانب سے بلایا گیا۔ مابعد تقسیم کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ سبھی جماعتوں اور فرقوں کے قائدین نے ہاتھ ملالیا تھا اور مل کر بیٹھے تھے کہ ایک حکمتِ عملی بنائی جائے تاکہ مسلمانوں کو محفوظ فضا فراہم کی جاسکے اور ان کی سیاسی بےوقعتی کو کم کیا جاسکے۔ مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی (جماعت اسلامی ہند)، مولانا اسعد مدنی(جمعیۃ علماء ہند)، مفتی عتیق الرحمان عثمانی، مولانا منظور نعمانی، محمد مسلم، ابراہیم سلیمان سیٹھ (انڈین یونین مسلم لیگ) وغیرہ اس اجلاس میں شریک کچھ معروف شخصیات تھیں۔

اجلاس کے دوران مشاورت کا باضابطہ قیام عمل میں لایا گیا اور ذمہ داری دی گئی کہ فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جائے، ملت کے مورال کو بڑھایا جائے اور فرقوں کے درمیان دوری کو کم کیا جائے۔ مشاورت کے دوروں میں بعض غیر مسلم سیکولر قائدین جو کہ اس مقصد کے تئیں ہمدرد تھے جیسے کہ ننجی بھائی پٹیل، پنڈت سندرلال، منسکھ لال دوبے، ایس ایم جوشی، ڈاکٹر جن سنگھ اور تخت مال جین وغیرہ نے بھی ساتھ دیا۔ اس واقعہ نے ملت میں کافی امید اور بھروسا جگایا۔ غیر ملکی پریس نے بھی اس اجلاس کی خصوصی رپورٹنگ کی تھی اور اس بات پر خاص توجہ مرکوز کی تھی کہ کس طرح مختلف اور جداگانہ شخصیتیں اس اجلاس میں شریک ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکہ تھااور یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ یہ ملت کا نمائندہ ادارہ ملت کے تمام مسائل کا مداوا ہو گا۔

مجلسِ مشاورت اپنی ساخت میں درج ذیل اجزاء کا مرکب تھی:

1۔ انڈین یونین مسلم لیگ: یہ نسبتاً فعال و کامیاب سیاسی جماعت تھی جو مشاورت کو سیاسی بنیاد فراہم کر رہی تھی۔ اس کے قائدین اقتدار کے گلیاروں سے واقفیت کی بنا پر مشاورت کو حکومت سے گفت و شنید میں مدد کر رہے تھے۔

2۔ جماعت اسلامی ہند: جماعت کے کیڈر مشاورت کو نظریاتی رہنمائی کے علاوہ ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچہ فراہم کر رہے تھے۔ جماعت اسلامی ہند نے مشاورت کے نظریاتی ارتقاء میں بھی کافی اہم رول ادا کیا۔

3۔ جمعیۃ العلماء ہند: جمعیت، کانگریس کی طرف جھکاؤ کی حامل جماعت تھی۔ انہوں نے مشاورت کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی لین دین کے لیے مشاورت کو سیاسی بنیاد کے طور پر بھی استعمال کیا تھا۔

خدمات:

مشاورت، جس کا قیام کافی امیدوں اور عقیدتوں کے درمیان عمل میں آیا تھا، اس نے اپنے حصہ کی کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں دیکھی ہیں۔ ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے:

  • فسادات سے متاثرہ مسلمانوں کے ہمت اور حوصلہ کو بڑھانا۔
  • غیر مسلم سیکولر قائدین کے ساتھ مجلسِ مشاورت کے کل ہند دوروں نے ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان قربتیں پیدا کیں۔
  • ملت کی تمام جماعتوں اور شخصیتوں کا ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرنا۔
  • اُن مسلمانوں میں مسلمان ہونے کا احساس پیدا کرنا اور بحیثیت مسلم اپنے مسائل کے حل کی جدوجہد کرنے پر آمادہ کرنا جو اپنی مسلم شناخت کو پیش کرنے سے شرماتے تھے۔
  • بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی جانی والی دوسرے درجہ کی توجہ پر واویلہ کرنے کے بجائے ووٹ اور الیکشن کو ملت کی ترقی کے ذرائع کے طور پر استعمال کرنے کا نظریہ پیش کرنا۔

ناکامیاں:

  • اپنے بنیادی مقصد کے حصول میں ناکامی۔ مسلمانوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کی سیاسی وقعت کو بڑھانے اور مسلم دوست مینڈیٹ کے حصول میں ناکامی۔
  • مشاورت میں شامل جماعتوں اور شخصیتوں کے یکجا رکھنے میں ناکامی، جس کی وجہ سے مشاورت بے اثر ہو کر رہ گئی۔
  • تنظیم میں دراڑ، جو کہ اس کے مقاصد کے عین خلاف ہے، جس کی وجہ سے متوازی تنظیم ‘ملی کونسل’ کا قیام۔
  • ابتری، بے انتظامی اور آپسی جھگڑوں کا دور دورہ۔

2۔ آل انڈیا مسلم مجلس:

یہ دراصل مسلم مجلس مشاورت کا اتر پردیش یونٹ تھا جس نے انتخابات میں راست حصہ لینے کے مسئلہ میں مشاورت سے الگ ہو نے کا فیصلہ کیا تھا۔ مسلم مفادات سے ہمدردی رکھنے والے امید واروں کو جتوانے کی مشاورت کی پالیسی اور طریقہ کار میں ناکامی کے بعد انتخابات میں راست حصہ لینے کے مسئلہ پر مشاورت میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ ہوا یہ تھا کہ مشاورت کے تائیدی امیدوار جیتنے کے بعد اپنے وعدوں کوپورا کرنے کے بجائے اپنی پارٹی کی لائن پر کھڑے رہنے کو ترجیح دے رہے تھے، جو کہ مشاورت کی حکمت عملی پر سوالیہ نشان تھا۔ اختلافات کو رفع کرنے میں ناکامی کے بعد مسلم مشاورت اتر پردیش یونٹ، جو کہ انتخابات میں راست حصہ لینے کے حق میں تھا، تنظیم سے جدا ہونے اور اپنی الگ جماعت، آل انڈیا مسلم مجلس کے نام سے بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس جماعت کا قیام ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی صاحب نے کیا تھا۔ اس جماعت نے 1977ء کے انتخابات میں 2/اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل کی، اس کے بعد اس جماعت کی سرگرمیوں کے بارے میں کافی کچھ سننے کو نہیں ملا ہے۔ اس وقت سے یہ جماعت تعطل اور انجماد کی کیفیت میں ہے۔

3۔ آل انڈیا یونائیٹید ڈیموکریٹک فرنٹ ـ AIUDF

AIUDFکا قیام 2005ء میں مولانا بدر الدین اجمل کی جانب سے AUDF کی شکل میں کیا گیا تھا۔ آسام کی سیاسی بساط میں یہ ایک اہم طاقت ہے۔ مغربی بنگال میں بھی اس جماعت کے امیدوار قابل قدر ووٹ پارہے ہیں۔ یہ جماعت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے جو کہ لوئر آسام اور براک ویلی میں قیام پذیر ہیں۔ دوسری مسلم سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں AIUDF نسبتاً کامیاب ہے، جو کہ مختلف انتخابات میں ملنے والی مسلسل کامیابیوں سے عیاں ہے۔

اسمبلی انتخابات پارلیمانی انتخابات
سنہ سیٹیں سنہ سیٹیں  
2006 10/126 2009 1/14  
2011 18/126 2014 3/14  
2016 13/126 2019 1/14  
2021 16/126      

پچھڑے اور دبے ہوئے طبقات، لسانی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت AIUDF کے ترجیحی مسائل ہیں۔

خدمات:

  • خواتین اور دینی مدارس کے طلبہ کی تعلیم
  • مدارس کے طلبہ میں ہنر کا فروغ
  • اپنی سماجی خدمات کرنے کی شاخ مرکز المعارف کے ذریعہ وسیع پیمانے پر ہسپتال، NGOs، اور سماجی خدمات

ناکامیاں:

  • اپنے حلقوں کے عوام کے سماجی و معاشی ترقی کرنے میں ناکامی
  • خاندانی سیاست کا رجحان، جس کی وجہ سے یہ جماعت بھی دیگر جماعتوں سے مماثل ہوگئی
  • قیادت کی جانب سے وقتاً فوقتاً نامناسب بیانات، جس کی وجہ سے ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے

4۔ پیس پارٹی:

یہ جماعت ڈاکٹر محمد ایوب نے سنہ 2008ء میں اتر پردیش میں قائم کی تھی۔ یہ جماعت مسلمانوں اور دلتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس کا وجود زیادہ تر کثیر مسلم آبادی والے مشرقی یو۔پی۔ کے علاقوں میں محسوس کیا جاتا ہے۔ 2002 ء کے انتخابات میں 208 سیٹوں پر مقابلہ کرکے اس نے 4 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ 2017 ء اور اس کے بعد کے انتخابات میں یہ پارٹی ایک سیٹ پر بھی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

5۔ راشٹریہ علماء کونسل:

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر اور اس کے بعد ایجنسیوں کی جانب سے مسلم نوجوانوں کی ہراسانی کے پسِ منظر میں یہ جماعت 2008ء میں مولانا عامر رشادی نے قائم کی تھی۔ ابتداً اس کا قیام ایک پریشر گروپ کی حیثیت میں کیا گیا تھا لیکن حکومتوں کی جانب سے مطالبات کی یکسوئی کی ناکامی کی وجہ سے سیاسی جماعت میں تبدیل ہوگئی۔ مولانا عامر رشادی، ملائم سنگھ یادو کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں اور ان کے خلاف انہوں نے اعظم گڑھ حلقہ سے پارلیمانی انتخاب بھی لڑا ہے۔

خدمات:

  • 2009ء کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا اور 2،25،000 ووٹ حاصل کیے
  • 2012ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور 6،00،000 ووٹ حاصل کیے
  • 2022ء کا اسمبلی انتخاب پیس پارٹی کے اتحا دمیں لڑا

6۔ انڈین یونین مسلم لیگ:

تقسیم کے بعد ملک میں باقی رہ جانے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے حصوں کو ملا کر انڈین یونین مسلم لیگ کو قائم کیا گیا تھا۔ چونکہ شمالی ہند کے پیچھے رہ جانے والے قائدین تقریباً یا تو گوشہ نشین ہوگئے تھے یا کانگریس میں شامل ہوگئے تھے، صرف جنوبی ہند کا مسلم لیگ یونٹ قائم اور باقی رہا۔ تقسیم کے بعد اس نے اپنے دستور کی از سرِ نو تدوین کی، نام بدلا اور سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ ایم۔محمد اسماعیل اس کے پہلے صدر چنے گئے تھے اور ان کی قیادت میں اس نے اپنی انتخابی سیاست شروع کی تھی۔ شاید یہ واحد مسلم جماعت ہے جس پر کوئی بھی فرقہ واریت کا الزام نہیں لگا سکتا۔ در حقیقت مسلم لیگ کی جانب سے کی جانی والی سیاست سبھی مسلم سیاسی جماعتوں کے لیے رول ماڈل ہوسکتی ہے۔ اس جماعت کے ملک گیر سطح پر 4 ایم پیز ہیں (3 لوک سبھا میں اور ایک راجیہ سبھا میں) اور کیرالہ اسمبلی میں ۱۵ /ایم ایل ایز ہیں۔ کیرلہ کے علاوہ انڈین یونین مسلم لیگ کے نمائندے تمل ناڈو، پانڈوچیری، مہاراشٹر، کرناٹک، اتر پردیش اور آسام جیسی ریاستوں سے بھی ماضی میں چنے گئے ہیں۔

خدمات:

  • تسلسل کے ساتھ مسلمانوں کی اسمبلیوں اور پارلیمان میں نمائندگی
  • قدامت پسند لیکن غیر فرقہ وارانہ بیانیہ
  • کیرالہ کی سیاست میں مسلمانوں کو بیچ میں رکھنا، دوسری مسلم سیاسی جماعتوں کے برخلاف جو مسلمانوں کو کنارے پر رکھتی ہیں اور ان کے درجے بناتی ہیں

ناکامیاں

  • کیرلہ کی سرحد کے باہر کامیابی کے حصول میں ناکامی
  • مسلمانوں کو ایک قومی پلیٹ فارم دینے میں ناکامی

(مضمون نگار سِوِل انجینیر ہیں۔)

[email protected]

مئی 2024

مزید

حالیہ شمارہ

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں

فلسطینی مزاحمت

شمارہ پڑھیں