مولانا سید جلال الدین انصر عمری: ایک عہد کا خاتمہ

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

اس بے ثبات کارخانہ عالم کی ہر شے کی انتہا فنا پر منتج ہوتی ہے، عدم ہر موجود کا انجام اور موت ہر زندگی کا لازمہ ہے، کائنات کی سب سے سچی کتاب کلام الہی نے نہایت واضح لفظوں میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔ہرجاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے تم سب کو پورا بدلہ روز حشر ہی دیا جائے گا پھرجو شخص جہنم سے نجات پاگیا اور جنت میں داخل ہوگیا درحقیقت وہ کامیاب وبامراد ہوگیا ،یہ زندگی اس جنت کے مقابلے میں دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے(آل عمران 185)اسی  حقیقت کو دوسرے مقام پر پروردگار عالم نے ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دنیا کی ہر چیز فانی اور عارضی ہے صرف تمہارے عظیم الشان اور کریم رب کی ذات باقی رہنے والی ہے (رحمن 26/27)

لیکن مسلسل فنا کی طرف جانے والے ہست وبود کے قافلوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے وجود سے ارد گرد کی دنیا روشن ہوجاتی ہے، جادہ حیات پر ان کے کردار ستاروں کی طرح جگمگا اٹھتے ہیں، ان کے نقوش قدم آنے والی نسلوں کے لیے نشان راہ اور سنگ میل بن جاتے ہیں وہ اپنے بلند کردار وعمل اور علمی وادبی کمالات سے کارناموں کی ایک دنیا آباد کر کے اس جہان بے ثبات میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں ۔

مولانا جلال الدین انصر عمری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی انہی اوصاف وکمالات اور خصوصیات کی حامل تھی جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، وہ دنیا میں آئے تو اسی طرح جس طرح عام بچہ پیدا ہوتا ہے مگر جب رخصت ہوئے تو پورا ایک عہد ایک تاریخ اور اور ایک زمانے کو ساتھ لیتے گئے، انھوں نے علم وعمل کی مختلف جہتوں میں اتنے وسیع اور وقیع کارنامے انجام دئیے ہیں کہ ان کی ذات ایک اکیڈمی اور ایک انجمن کی صورت میں بدل گئی۔

مرحوم وسیع النظر عالم دین بھی تھے اور نبض شناس داعی ومبلغ بھی، عظیم مصلح بھی تھے اور مربی بھی،  درد مند اور مؤثر خطیب وواعظ بھی تھے اور بصیرت مند دینی وسماجی رہنما بھی، باشعور امیر بھی تھے اور دیدہ ور قائد بھی، ان تمام اصلاحی، سیاسی، سماجی، تعلیمی اور تربیتی کمالات کے ساتھ ساتھ وہ زبردست مقالہ نگار، مضمون نگار اور محقق ومصنف بھی تھے۔ قدرت نے انہیں متنوع صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انھوں نے ان تمام صلاحیتوں کو دینی وملی خدمات کے لئے وقف کردیا ۔

مولانا عمری مرحوم کی زندگی جہد مسلسل اور حرکت وعمل کا تابندہ استعارہ ہے ۔انھوں نےافکار ونظریات اور علم وعمل کے مختلف جہات میں نہایت مصروف اور جد وجہد بھری زندگی گذاری ہےاور دین وملت کے اکثر محاذ پر اپنی بے لوث سرگرمیوں اور مخلصانہ خدمات کا نقش قائم کیا ہے، انھوں نے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے دینی و عصری تعلیم کی راہیں ہموار کی ہیں،  نصاب تعلیم کی تجدید کاری کی ہے، غیر مسلموں میں دعوت دین کی خدمات انجام دی ہیں، مسلم معاشرےکو اپنے پراثر علمی مواعظ سے جادہ حق کا راستہ دکھایا ہے، اسلامی نظام اور اسلامی دستور حیات سے ایک عالم کو روشناس کیا ہے۔

مولانا عمری مرحوم زبردست اسکالر اور مصنف بھی تھے بلکہ ان کی زندگی کا یہ پہلو دیگر جہات پر نمایاں فوقیت رکھتا ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر تقریباً پچاس کتابیں لکھی ہیں۔جن میں تجلیات قران ،اوراق سیرت،غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق،خدا اور رسول کا تصور،اسلام اور مشکلات حیات،اسلام کی دعوت ،اسلام کا شورائی نظام ،اسلام میں خدمت خلق کا تصور،اسلام انسانی حقوق کا پاسباں،غیر اسلامی ریاست اور مسلمان،اسلام کا معاشرتی نظام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

مولانا مرحوم کی قلمی فتوحات میں خواتین سے متعلق ہدایات بڑی اہمیت رکھتی ہیں انھوں نےخواتین کی عائلی ومعاشرتی زندگی سے متعلق متعدد اہم کتابیں لکھ کر ایک بڑی ضرورت کی تکمیل کی ہے اس حوالے ان کی درج ذیل کتابیں علمی ودعوتی مراحل میں قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔مثلاً عورت اسلامی معاشرے میں،مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کا جائزہ،عورت اور اسلام،مسلمان خواتین کی ذمہ داریاں اور اسلام کا عائلی نظام، ان کی نبض شناسی اور عصر حاضر کے تقاضوں پر بصیرت مندانہ شعور وادراک کا روشن ثبوت ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا قلم کے دھنی اور فطری مصنف تھے انھوں نے طویل عرصے تک بیک وقت سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ اور جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہنامہ زندگی نو نئی دہلی کی کامیاب ادارت کا فریضہ انجام دیااور ان رسالوں کو نہ صرف ترقی کی بلندیوں پر پہونچایا، بلکہ اس کے ذریعے اہل قلم کی ایک زبردست ٹیم بھی تیار کردی ۔

علوم کے تبحر اور کمالات کی تابندگی اور کارناموں کی شہرت کے باعث عموماً انسانی دل ودماغ میں امتیازات اور انفرادیت کی ایک لہر سی سرایت کرجاتی ہے مگر مولانا مرحوم کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا ان کے علم اور ان کی عظمتوں نے ہمیشہ انہیں تواضع اور انکساری کے فرش پر بٹھائے رکھا ان کے یہاں ہٹو بچو کا کردار اور بے جا تقدس کا ہالہ نہیں تھا کہ ملاقات کے لیے واردین ترس کر رہ جائیں، وہ بہت سادہ ،بے تکلف، بے تصنع اور عام فرد کی طرح زندگی گذارتے تھے، مخلوق کی ان کے دل میں بہت قدر تھی، وہ اللہ کے لئے زندہ تھے اور اللہ ہی کے لئے ان کی ساری تگ ودو تھی، ان کی زندگی شہرت ونام ونمود سے ناآشنا، جاہ و منصب اور صلہ وستائش سے بے پروا تھی۔

وہ امارت کے منصب پر ضرور تھے مگر اصلاً زندگی بھر انھوں نے خود کو خادم سمجھا، ان کا وجود تقوی سے آراستہ اور قلب کی دنیا خوف خدا سے معمور تھی، ان کی اس سادہ سی سنت رسول کے مطابق زندگی کو دیکھ کر مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے کہا تھا کہ،”مولانا کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے”۔

مولانا مرحوم کے متنوع اوصاف وکمالات کی وجہ سے مناصب ان کے قدموں میں رہتے تھے۔ 1954ء میں عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد متعدد مناصب اور عہدے آپ کی شخصیت سے وابستہ تھے۔ آپ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور پھر امیر تھے،سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے بانی ومدیر تھے، ماہنامہ زندگی نو نئی دہلی کے ایڈیٹر تھے، جامعۃ الفلاح بلریاگنج اعظم کے شیخ الجامعہ تھے، جامعہ نسواں علی گڑھ کے سرپرست  اورمسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر تھے ۔

مولانا مرحوم 1935ءمیں شمالی آرکوٹ ضلع تمل ناڈو کے ایک گاؤں پٹگرام میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ہائی اسکول تک اپنے گاؤں میں حاصل کی بعد ازاں ملک کے مشہور  ادارہ جامعہ دارالسلام عمرآباد تمل ناڈو سے عالمیت اور فضیلت ( اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز ) کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد مدراس یونیورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل کورس کی تکمیل کی، پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی زبان میں بی اے کیا۔

فکری اعتبار سے شروع سے ہی جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس جماعت کے شعبہ تحقیق سے وابستہ ہوگئے ۔ 1956ءمیں باضابطہ طور پر اس کے رکن بنے۔ دس سال علی گڑھ کے جے آئی ایچ سٹی صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جون 1986ءسے دسمبر 1990ء  تک  جماعت اسلامی ہند کے اردو ماہنامہ ” زندگی نو ” کے ایڈیٹر رہے۔ 1982ء  سے سہ ماہی رسالہ ” تحقیقات اسلامی” کا اجراء کیا اوراس کے ایڈیٹر بھی رہے۔ اپریل 1990ء سے مارچ 2007ء تک مسلسل چار مرتبہ جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر اور 2007ء  سے 2019ء تک مسلسل تین بار صدر ( امیر ) کے عہدے پر فائز رہے۔

نظام عالم کے مطابق مولانا مرحوم کی زندگی کا سفر پورا ہوچکا تھا وقت موعود آیا اور پھر علم وعمل کا یہ آفتاب 26/اگست 2022ء بروز جمعہ ہمیشہ کے لیے روپوش ہوگیا ۔

کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں

صدیوں مجھے گلشن کی فضا  یاد کرے  گی

تحریر نگار: شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی

اکتوبر 2022

مزید

حالیہ شمارہ

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں

فلسطینی مزاحمت

شمارہ پڑھیں