حضرت ابراہیم: صاحب دعوت و عزیمت

0

تاریخ انسانیت میں کمال انسانیت کی منزل بلند پر پہنچنے والی مبارک ہستی بلاشبہ وہی ہے،  جس کے قبولیت اعمال کی سند خالق انسانیت نے “و ابراہیم الذی وفی”  اور ابراہیم جس نے وفا کا حق ادا کردیا ، کے الفاظ میں دی۔ قرآن مجید میں خالق کائنات نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت ، روشن اسوہ،  صفات حمیدہ اور تعلق باللہ کا تذکرہ جا بجا بڑے ناز سے فرمایا ہے۔  ان آیتوں کا سرسری سا مطالعہ بھی ہمیں اللہ کی اپنے بندے کے لئے امڈتی محبت ، اس کے لئے تحسین آمیز کلمات اور ناز بھرے تعلق  کا ادراک کر اتا ہے ۔  دلوں کو سوز جگر بخشتا ہے  اور آنکھوں کو نمی عطا کرتا ہے ۔

قانون ابتلاو آزمائش :

انسانوں کو چھانٹنے ، کندن بنانے اور اپنے لیے مخصوص کر لینے  کا ایک خدائی قانون ہے ، ایک انوکھا انداز ، ایک نرالا طریقہ۔  جس سے گزر کر انسان  کو اپنے آپ  کو منوانا اور اور ثابت کروانا پڑتا ہے ۔ پھر   لذت پذیرائی اس کے حصے میں آتی ہے ۔ خدا کی بنائی ہوئی   اس دنیا میں کسی اونچے مقام  پر پہنچنے کے لئے  انسانوں کو کڑی آزمائشوں سے  گزرنا پڑتا  ہے۔

  انسانوں کو چھانٹنے ، کندن بنانے اور اپنے لیے مخصوص کر لینے  کا ایک خدائی قانون ہے ، ایک انوکھا انداز ، ایک نرالا طریقہ۔  جس سے گزر کر انسان  کو اپنے آپ  کو منوانا اور اور ثابت کروانا پڑتا ہے ۔ پھر   لذت پزیرائی اس کے حصے میں آتی ہے ۔ خدا کی بنائی ہوئی   اس دنیا میں کسی اونچے مقام  پر پہنچنے کے لئے  انسانوں  کو کڑی آزمائشوں سے  گزرنا پڑتا  ہے۔

کامیاب انسان ( ادباء ،شعراء ،مصلحین،تجار، سائنس دان وغیرہ)  کی زندگیوں کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ کامیابی کی منزل کا راستہ آزمائشوں اور قربانیوں  کی وادیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔  یہ تو پھر ‘خلیل اللہ’  اور’  امام انسانیت’  کے منصب عظمٰیٰ کا معاملہ تھا۔قانون ابتلا بندوں کی اخلاقی تربیت کے  لئے اللہ کی ایک سنت ہے۔اسی سے بندوں  کی وہ صلاحیتیں ا بھرتی اور نشوونما پاتی  ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کر دی ہیں ، اسی سے کھرے اور کھوٹے میں  امتیاز ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی عزیمت واستقامت  کے امتحان کے  لئے خدائے ستودہ صفات نے مر حلہ وار بڑی کڑی آزمائشوں میں آپ کو ڈالا  اور یہ صاحب دعوت و عزیمت  ان تمام  آزمائشوں میں ثابت قدمی کے جھنڈے گاڑ تا ہوا اپنے رب کی نعمتوں ، رحمتوں اور انعامات کا مستحق ٹہرا۔

 صاحب تفہیم القرآن فرماتے ہیں،

” جس وقت سے حق ان پر منکشف ہوا  اس وقت سے لے کر مرتے دم تک ان کی پوری زندگی سراسر  قر بانی ہی قربانی تھی۔ دنیا میں جتنی چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان محبت کرتا ہے ان میں سے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو حضرت ابراہیمؑ نے حق کی خاطر قربان نہ کیا ہو اور دنیا میں جتنے بھی  خطرات ایسے ہیں جن سے آدمی ڈرتا ہے ان میں سے کوئی خطرہ ایسا نہ تھا جسے انہوں نے حق کی راہ میں نہ جھیلا ہو۔” (تفہیم القرآن،البقرہ حواشی 124 )

حضرت ابراہیم کی ایمان افروز اورسبق آموزدعائیں

خدا کے حکم کی تعمیل  میں عین اپنی قوم کے بت کدے میں اذان دی۔صدیوں سے جن بتوں کو معبود کے روپ میں پوجا  جا رہا تھا انہیں پاش پاش کر دیا، پاداش  جرم میں آگ میں ڈالا گیا تو خوشی خوشی اس میں جا بیٹھے۔   رب العالمین کے ایک اشارے پر والدین ،وطن اورمال و دولت پر ٹھوکر مار کر  ہجرت کے لئے تیار ہوگئے۔  دعوت دین کی خاطر پوری زندگی ملکوں ملکوں خاک چھانتے  رہے۔  جوانی میں کی گئی دعا کو بڑھاپے میں شرف قبولیت حاصل ہوئی اور اولاد کی نعمت سے بہرہ مند ہوئے۔  اس نعمت سے جی بھر کر محذوذ ہونے سے پہلے آنکھوں کی ٹھنڈک کو بے آب و گیا صحرا کے حوالے کرنے کا حکم ملاتو بلا جھجک اس پر عمل کیا۔   جب وہ جگر کا ٹکڑا دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچا تو اپنے   ہاتھوں سے ذبح کرنے کی عظیم ترین قربانی کا اشارۃ ًمطالبہ ہوا  اور خدا کی محبت کو تمام محبتوں پر قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والے سیدنا ابراہیمؑ نے محبوب حقیقی کے محض ڈھکے چھپے اشارے پر ہی بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا ۔چھری چلا ہی چاہتی تھی  کہ ندائے الہٰی نے ان کی اطاعت کی قبولیت پر مہر ثبت کردی ہے اور بیٹے کا خون بہانے سے روک دیا اور ایک ‘ ذبح عظیم’  کو اس کا فدیہ بنا دیا اور اعلان کر دیا کہ”انی جاعلک للناس اماما”(البقرہ 124 )

حضرت ابراہیم کی کامل اطاعت الہٰی، خود سپردگی اور احکامات الہٰی کی بے چوں و چرا تکمیل نے انہیں اس نعمت عظمیٰ کا حقدار بنایا۔ انسانوں کا سوادِ اعظم جن دشوار گذار گھاٹیوں، تنگ و تاریک پگڈنڈیوں،منہ زور دریاؤں اور مہیب صحراؤں کے سفر کے تصور سے کانپ اٹھتا ہے وہیں اللہ کا یہ خلیل عزیمت کا کوہ گراں بن کر راستے کی سب رکاوٹوں کو فتح کرتا ہوا کامیاب و کامران لوٹتا ہے ۔” جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے” کہ مصداق مشکل سے مشکل امتحان کا شایان شان مقابلہ سیرت ابراہیم کا ورق نورانی ہے اس کی تعریف قرآن یوں کرتا ہے،

اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین(البقرہ 131 )

اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا مسلم ہو جا تو اس نے فورا کہا، ” میں مالک کائنات کا مسلم ہوگیا”۔ حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے ہر کلمہ کی تعمیل کی۔ نہ اس کا فلسفہ پوچھا، نہ اس کا اجروثواب معلوم کیا نہ علت و حکمت کی بحث میں پڑے اور جواب میں رب العالمین نے شایان شان انعام سے آپ علیہ السلام کو سرفراز کیا۔

آج بھی ہو جو براہیمؑ سا ایماں پیدا:

حضرت ابراہیم کی حوصلہ مند معرکہ آرائی دلوں کو ہر دور میں گرماتی رہے گی ۔ خلیل اللہ کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بیان کرکے قرآن مجید دراصل ان نقوش راہ  کی طرف اشارہ کرتا ہے جو زندگی کی مشکل راہوں میں رہنمایانہ کردار ادا کرتے ہیں اور کامیابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔  ان نشانات  منزل کا دل آویز اظہار انسانی رویوں کی تربیت کا بہترین ماخذ ہے۔”زادتہم ایمانا”کے مصداق ہر آزمائش اور امتحان نے صاحب دعوت و عزیمت کی حنیفیت ،مقصد کےلئےجدوجہد اور  خدا سے وابستگی کو جلا بخشی۔ان آزمائشوں نے انہیں وہ معراج  عطا کی کہ وہ اوج ثریا پر پہنچ گئے اور بنی آدم کو وہ عزت بخشی جس کا تصور بھی ناممکن تھا۔  خلیل اللہ کے خطاب نے   جہاں قدسیوں  کو مبہوت  کیا  وہیں عالم انسانیت کو مقام کمال سے آشنا بھی کروایا۔

کلمہ  لا الہ اللہ :

اعلائے کلمتہ الحق ایک بھاری ذمہ داری ہے ۔ جب ہم اس راہ پر قدم رکھیں تو یہ جان کر رکھیں کہ آگے کن کن گھاٹیوں  کو پار کرنا اور کیسی کیسی چٹانوں سے ٹکرا نا ناگزیر ہے ۔  اور پھر ایسا بھی ہو کہ آخر وقت تک یہ علم و احساس پوری طرح تازہ رہے ۔ورنہ  اس راہ کو طئے کرنے کے لئے جو سفر ہم شروع کریں گے اس کے لیے ضروری زادراہ کبھی ساتھ نہ لے سکیں گے ۔ جس کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ ہماری سعی و جہد کے قدم منزل مقصود سے کبھی آشنا نہ ہوں گے ۔حضرت ابراہیم نے اسی حقیقت آشنائی کے بعد “انی وجہت”  کا اعلان کیا ۔ وہ جان گئے تھے کہ کتنی عظیم مہم در پیش ہے اور انہیں بلاوا کس بلندی سے آرہا ہے؟ اورپہلے دن سے وہ اس ثابت قدمی اور سرفروشی کے لیے تیار ہوگئے جو اس مہم میں لازماً درکار تھی۔ حضرت ابراہیم کی زندگی ہم راہ حق کے شہیدوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اقامت دین کی عظیم جدوجہد کا عَلم اٹھاتے  ہوئے اس کی عظمت کا پورا پورا احساس کر لیا جائے ۔ اس نصب العین  کی خاطر جو جدوجہد کی جائے اس کی بنیاد شایان شان حد  تک گہری اور مستحکم بنائی جانی چاہئے۔یہی استحکام اس جدوجہد کی کامیابی اور ہماری کامیابی کی اہم شرط ہے۔

 صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیلؑ :

معرکۂ خیر و شر  جاری ہے۔ ہر زمانے کا ایک خلیل ہوتا ہے اور ہر زمانے میں نمرود کا الاؤ ہوتا ہے جس میں سے توحید کے علمبرداروں کو گزر نا ہوتا ہے۔ پوری دنیا ایک صنم کدہ ہےاور آج کے ابراہیم کو ایک بڑا معرکہ درپیش ہے۔ آج کا بت خانہ  بھی وسیع  ہے، بت بھی متنوع ہیں  اور  آتش بھی عالمگیر ہے۔ آج کےآزر  بھی نہایت دلربا اور آنکھوں کو چندھیا دینے والے بت تراش رہے ہیں اور اقبال ہمیں آواز دیتے ہیں کہ” بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا”۔

 

معرکۂ خیر و شر  جاری ہے۔ ہر زمانے کا ایک خلیل ہوتا ہے اور ہر زمانے میں نمرود کا الاؤ ہوتا ہے جس میں سے توحید کے علمبرداروں کو گزر نا ہوتا ہے۔ پوری دنیا ایک صنم کدہ ہےاور آج کے ابراہیم کو ایک بڑا معرکہ درپیش ہے۔ آج کا بت خانہ  بھی وسیع  ہے، بت بھی متنوع ہیں  اور  آتش بھی عالمگیر ہے۔ آج کےآزر  بھی نہایت دلربا اور آنکھوں کو چندھیا دینے والے بت تراش رہے ہیں اور اقبال ہمیں آواز دیتے ہیں کہ” بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا” ۔

  پسر را گفت پیرے خرقد بازے
ترا ایں نکتہ باید حرز جاں کرد
بہ نمرودان ایں  دور آشنا باش
زفیض شاں براہیمی تواں کرد
(کلیات اقبال فارسی: 894 )

( ایک  گدڑی پوش بزرگ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تو اس نکتہ کو حرز جان بنا لے کہ تجھے  اس دور کے نمرودوں سے آشنا  ہونا ہے ۔ کیونکہ انہیں سے مقابلہ کرتے ہوئے تو براہیمی طرز عمل اختیار کر سکتا ہے )

 زندگی کے نمرود کی شناخت لازمی ہے۔ صعوبتوں کے جمگھٹوں اور مصیبتوں کے مرحلوں میں جو نکتۂ جانفزا انسان کو مطمئن اور شادکام رکھتا ہے وہ ، ” یقیں مثل خلیل آتش نشینی” ہے۔  یقین،  اپنی صداقت کا،   اپنے مقصد کا، اپنے خدا کا، اس کی حقانیت کا۔ یقین کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ یہ یقین کے اس کی مدد کی جائے گی ۔ یہ یقین کے جو کچھ ہو رہا ہے کسی خاص مقصد کے لئے  ہے ،چاہے بظاہر ہم اس کے مقصود تک نہ پہنچ پائیں۔’  یقینِ  ابراہیم’  کامیابی کی کلید کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے جس کی دور نو میں ہمیں اشد ضرورت ہے ۔یہ یقین نہ صرف انسانی ذہن کو مطمئن کر تا ہے بلکہ انسان کی روح تک کو شانت کرتا ہے۔ ابتلاؤں و آزمائشوں   کے دوران قوت عطا کرتا ہے۔ مسائل کو انگیز کرنے، مشکلات میں ڈٹے رہنے،  کٹھنائیوں میں جمے رہنےاور  آزمائشوں میں تھمے  رہنے کا ہنر عطا کرتا ہے۔ یہ یقین،  مہیب شب میں تھرکتی ہوئی لو  کا کام کرتا ہے ۔

قانون ابتلا اور ہم : 

اللہ کے قانون  ابتلا کا اصل تعلق نہ نبوت سے ہے نہ صحابیت سے بلکہ اس کا راست تعلق ایمان سے ہے اور  جس پر بھی یہ قانون نافذ ہوتا ہے اس کے مومن ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ سنت ابتلا کا رشتہ مقصد اور نصب العین سے ہے۔ مقصد زندگی جتنا عظیم ہوگا آزمائشیں بھی اسی پائے کی ہونگی۔  بڑی منزلوں کے مسافر وں کو دوران سفر خون کے دریا اور آگ کے صحرا پار کرنے لازمی ہیں ۔ یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے ۔ یہ آزمائشیں  ہمہ جہتی ہوتی ہیں۔  انسان کو ہر طرف سے ٹھونک بجا  کر دیکھا جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ کا ایک گوشہ چھانا جاتا ہے۔ اس کے جذبات کا کوئی تارا ایسا نہیں ہوتا  جس پر مضراب  ابتلا کی ضرب نہ پڑتی ہو ۔

“کیا ان لوگوں نے یہ گمان  کر رکھا ہے کہ وہ اتنا کہہ کر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا” (سورۃ العنکبوت)۔ یہ اور اس طرح کی دوسری آیتوں میں اللہ تعالی نے جس چیز کو امتحان کا سبب بتایا ہے وہ ایمان کا دعویٰ ہے۔ جنت کا ملنا  ایمان پر منحصر ہے اور خود ایمان کا” ایمان” ہونا آزمائشوں کےموقعوں پر  ظاہر ہونے والی عزیمت اور ثابت قدمی پر موقوف ہے ۔ یہ آزمائشیں فرد کے اخلاقی ارتقا   کا زینہ ہوتی ہیں۔ اس کے دل کے میل کو ابتلاؤں کی بھٹی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اس کی کمزوریاں مشکلات و مصائب کی لگاتار ٹکریں کھا کر طاقت سے بدلنے لگتی ہیں۔

 مولاناصدرالدین اصلاحی اس ضمن میں بہترین رہنمائی فرماتے ہیں ،

” ہمارے سامنے دین کی حقیقت موجود ہے، اس کے اصول موجود ہیں ،اس کے بنیادی احکام اور ہدایات موجود ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کا عملی نمونہ موجود ہے، دینی دعوت کا مزاج ان کے فطری مراحل اور ان کی پوری تاریخ سب کچھ موجود ہے۔ اس لیے جس دم  ہم نے اللہ کی اس زمین  پر اپنی صحیح حیثیت اخلاص کے ساتھ اختیار کرلی اور اپنے مقصد حیات کو نگاہوں کے سامنے رکھ لیااسی دم ہمیں معلوم ہونا شروع ہو جائے گا کہ کدھر جانا ہے اور کس طرح کے مرحلوں سے گزرنا ہے؟۔ ہم قدم اٹھاتے جائیں گے اور  قرآنی ہدایات ہماری سمت سفر متعین کرتی جائیں گی اور انبیاء علیہم السلام کا اسوہ  روشنی کا مینارہ بن کر اس کے ایک ایک نشیب و فراز کو کو اجاگر کرتا چلا جائے گا۔ ہم جب مومن کی حیثیت سے سامنے آئیں گے اور بندگی کا عزم لے کر اٹھیں گے تو اللہ تعالی کی سنت ابتلا  بھی ساتھ  ہی  ساتھ اپنا کام شروع کر دے گی۔ پھر جوں جوں آگے بڑھتے جائیں گےرکاوٹیں خود آکر ہمارا استقبال کریں گی۔ وہ اپنا تعارف کرائیں گی۔ ہمیں ان کے پہچاننے کیلئے کسی کاوش کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان کا نام تو ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا جنہیں نظر ڈالتے ہی ہم پڑھ لیں گے، بشرطیکہ ہم خود ایسا چاہیں اور دانستہ آنکھیں بند نہ کر لیں]۔ ۔۔۔۔۔[۔فکر و نظر کی یہ راستی  اپنا کام اسی  وقت  کر سکتی ہے جب انسان کے اندر مضبوط قوت ارادی اور عزیمت موجود ہو۔” (اساس دین کی تعمیر :282)

– ملا بصیرت بازغہ

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Verified by MonsterInsights