معیار تعلیم: مسائل اور حل

ایڈمن

محمد اظہرالدین، سابق صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا علم کو بجا طور پر انسان کی ’ تیسری آنکھ‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کو سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم…

محمد اظہرالدین، سابق صدر تنظیم ایس آئی او آف انڈیا

علم کو بجا طور پر انسان کی ’ تیسری آنکھ‘ کہا جاتا ہے۔ انسان کو سچائی کی پہچان‘ حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ علم ہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز بھی علم ہی ہے۔قران مجید نے حضرت آدم ؑ کے دنیا میں بھیجے جانے کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ وعلم آدم الأسماء کلھا ‘ (ہم نے آدم کو تمام چیزوں کا علم دیا) ۔ فرشتے اس علم سے ناواقف تھے۔ سورہ بقرۃ (آیات ۳۰ تا ۳۳) میں اس واقعہ کا تفصیلی مطالعہ بتاتا ہے کہ حضرت انسان کی دیگر مخلوقات پر برتری کا سبب یہی ’ علم‘ بنا۔ یہی علم انسان کے اندر ’جوہر انسانیت‘ پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔مشہور فرانسیسی مفکر روسیو کہتا ہے کہ ’ ’جس طرح درختوں کا ارتقاء کاشت کاری کے ذریعے ہوتا ہے ‘ اسی طرح انسانوں کا ارتقاء تعلیم کے ذریعے ہوتا ہے‘‘۔
عصر حاضر میں علم کی فراہمی کے لئے اسکول و کالجز کی شکل میں ایک باقاعدہ تعلیمی نظام قائم ہے۔اس نظام کی مضبوطی و پائیداری ہی ملک و سماج کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ آزاد ی کے بعد ہندوستان کی تعمیر نوکا روڈمیپ تیار کرنے کے لئے جو پلاننگ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اس نے اپنی سفارشات کے مقدمے میں بڑی اہم بات کہی تھی۔’’ہندوستان کی تقدیر کا منصوبہ کلاس روم کی چہار دیواری کے اندر طے کیا جارہا ہے‘‘۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج علم و تعلیم کی اہمیت کو ہر سطح پرمحسوس کیا جارہا ہے ۔ بلکہ مبالغہ نہ ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ روٹی ‘ کپڑا اورمکان کی بنیادی ضروریات میں اب ’تعلیم ‘ کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ بھی بڑی تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم جس قدر عام ہوئی ہے اسی قدر معیار تعلیم میں گراوٹ بھی آئی ہے۔ذیل میں معیار تعلیم کے سلسلے میں درپیش چند اہم مسائل اور ممکنہ حل تحریر کئے جارہے ہیں۔
تعلیم کا تجارتی کرن:
1991 میں نرسمہاراؤ کے دور حکومت میں ملک میں ’ نجی کاری‘ (Privatisation) کا سلسلہ شروع ہوا۔ لا محالہ اس نے تعلیم کے میدان کو بھی متأثرکیا۔ ہر چند کہ نجی کاری کے تعلیم پر مثبت انداز بھی پڑے اور بعض پہلوؤں سے Quality Educationکے لئے راہیں ہموار ہوئیں، لیکن وسیع تر دائرہ میں اس عمل نے تعلیم کے وقار اور مقاصد کو خوب مجروح کیا۔ بے لگام اور اندھا دھند نجی کاری نے فطری طور پر ’تجارتی کرن‘ کو جنم دیا۔ 2000 میں NDAحکومت نے تعلیم کی صورت گری کے لئے ’برلا امبانی کمیٹی ‘ تشکیل دی ( واضح ہو کہ برلا اور امبانی دونوں محض سرمایہ دار ہیں، نہ ماہر تعلیم ہیں اور نہ ہی دانشور ) اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ایک اہم بات یہ لکھی کہ ’ ’ ہمیں اپنے اس تصور میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ تعلیم سماجی تبدیلی کا ذریعہ ہے‘‘۔ اس رپورٹ نے ملک کے تعلیمی منظر نامے کو مکمل ’بازاری کرن‘ کی راہ پر ڈال دیا، یہاں تک کہ 2010میں اس وقت کے HRDوزیر کپل سبل اعلان کر بیٹھے کہ’ ’ تعلیمی اداروں میں’ منافع خوری‘ ایک معقول بات ہے‘‘۔ اس طرح گزشتہ ۲۵؍ سالوں میں تعلیم جیسی مقدس چیز ’جنس بازار‘ (COMMODITY) بنی رہی۔ تعلیمی ادارے ’کارخانے‘ کی شکل اختیار کرگئے۔ تعلیمی اداروں کے صدر ’سیٹھ‘ بن بیٹھے۔ اساتذہ ’غلام ‘ اور طلبہ’گاہک‘ بنا دیئے گئے۔ راقم کی دانست میں یہ تعلیم کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ (Tragedy) ہے۔اس کے نتیجے میں طلبہ کے داخلے اور اساتذہ کی تقرری صرف ’پیسوں‘ کی بنیاد پر ہونے لگی۔ گرم جیب اور Purchasing Powerہی واحدمعیار انتخاب بن گیا اور صلاحیت‘ قابلیت‘ محنت و Percentage جیسی بنیادی چیزیں حاشیے پر چلی گئیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے Rules & Regulations بنائے جس سے اس ’تجارتی ذہنیت‘ کی حوصلہ شکنی ہو۔
حکومت کی عدم سنجیدگی:
تعلیم اور صحت کو کسی بھی ملک کا ’سماجی اثاثہ‘ (Social Capital) کہا جاتا ہے۔ فلاحی ریاست (Welfare State) کی ذمہ داریوں میں انہیں خصوصی مقام حاصل ہوتا ہے۔ نجی کاری کے نتیجے میں ایک جانب حکومت نے تعلیم کے سلسلے میں اپنے رول کو انتہائی کم کردیا دوسری جانب رہے سہے اختیارات میں بھی اصلاحات (Reforms) کے نام پر تعلیم کے معیار کو خوب متأثر کیا۔ ’حق تعلیم‘ اگرچہ مقصد کے اعتبار سے خوب صورت محسوس ہوتا ہے کہ 6 سے14 سال کے بچوں کو لازمی و مفت تعلیم دی جائے لیکن اس بل کی جزویات معیار تعلیم کو متأثر کرنے والی ہیں مثلا کسی بچے کو فیل نہ کرنا‘ اسکول نہ آنے پر سختی نہ کرنا‘ قطعاََ سزا نہ دینا یہاں تک کہ بچوں کو گھورنا بھی نہیں (حالانکہ ماہرین نفسیات و تعلیم کا یہ ماننا رہا ہے کہ بچے کی تربیت میں سزاؤں کا بھی اپنا رول ہوتا ہے۔ اذیت ناک سزاؤں پر یقیناًپابندی ہونی چاہئے۔ لیکن اسا تذہ کو بے دست و پا کردینا کسی صورت مناسب نہیں)۔ یہ وہ دفعات ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری حکومت کی ساری توجہ صرف ’شرح خواندگی‘ (Literacy Rate)میں اضافے پر ہے۔ معیار تعلیم کے لئے وہ سنجیدہ نہیں۔محض سطحی تبدیلیوں سے ہم خود کو مطمئن کرنا چاہ رہے ہیں۔ اسی طرح کئی جعلی (fake) اسکول‘ کالجز ‘ یونیورسٹیز اور Deemed Universitiesپر بھی حکومت کی کوئی گرفت نہیں جو طلبہ کوگھر بیٹھے ڈگریاں بٹورنے کا’سستا ‘ موقع فراہم کررہی ہیں۔
اساتذہ۔ سب سے کمزور کڑی:
اساتذہ کو ’ معمار قوم‘ سمجھا جاتاہے۔ یہ سنگین مسئلہ ہے کہ اساتذہ اپنے اس معیار اور وقار کو کھو رہے ہیں۔ شعبہ تدریس کا تقدس مجروح ہو چکا ہے۔اساتذہ (بالعموم) نصاب کی تکمیل‘ بچوں کی کردار سازی اور اپنی مجموعی ذمہ داریوں میں انتہائی غیر ذمہ دار ہوچکے ہیں۔ وہ صرف 10بجے سے5 بجے تک اسکول آکر ’خانہ پری ‘ سرگرمیاں انجام دے کر ’قانونی تقاضے ‘ پورے کرلیتے ہیں ۔ان کی گفتگوؤں کے موضوعات صرف GR‘ Increment‘ Pay کمیشن‘ چھٹیوں کی تعداد جیسی چیزیں ہوتی ہیں۔ گویا وہ صرف اپنے’ حقوق‘ اور ’ مفادات‘ کے لئے فکر مند ہوتے ہیں۔ ’فرائض‘ کی ادائیگی کی فکر بہت کم لاحق ہوتی ہے۔ایسے اساتذہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں جو تدریس سے قبل خصوصی تیاری کرتے ہیں‘ اپنے مضمون پر عبورحاصل کرنے کے لئے مستقل نصابی و غیر نصابی کتابوں‘ اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور تدریس کو ’ بوجھ‘ سے زیادہ ’ شوق ‘ سمجھتے ہیں۔اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اساتذہ سب سے پہلے خود اپنے آپ کو ’ طالب علم ‘ سمجھیں‘، استاد بن جانے پر بھی ’ حصول علم‘ میں مصروف رہیں۔ ڈگری اورسرٹیفیکٹ کے حصول پر ’خواب خرگوش‘ کا شکارنہ ہوجائیں۔ اساتذہ کے حصول علم پر کبھی Full Stopنہیں لگنا چاہئے۔انہیں شعبہ تدریس کو Professionسے پرے ایکMission اورPassion سمجھنا چاہئے۔
اس مسئلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شعبہ تدریس سے انتہائی ناکا ر ہ یا کمزور طلبہ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ آج دو پیشوں کے لئے ہمارے یہاں کوئی قابلیت نہیں چاہئے۔ بلکہ ’ نا اہلی‘ ہی ’معیار انتخاب ‘ ہے۔ ایک ’عالم دین ‘ بننے کے لئے اور دوسرے ’ اساتذہ ‘ بننے کے لئے۔عام الفاظ میں’ جو کہیں کا نہیں ہوتا اسے ان دونوں پیشوں سے جوڑ دیا جاتا ہے‘ ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں پیشے ’ ذہن سازی‘ اور ’انسان سازی‘ کے عظیم مراکز ہیں۔ راقم کی رائے میں اگر ہم یہ طے کرلیں کہ آئندہ تین نسلوں تک ملت کے ذہین ترین اور قابل ترین طلبہ کو اساتذہ اور علماء بنائیں گے تو اس ملت کی تقدیر کے بڑے درخشاں باب کھلیں گے۔
پرائمری تعلیم کا کھوکھلا پن (بنیاد کی کمزوری):
تعلیمی نظام میں پرائمری تعلیم کو بجا طور پر ’ بنیاد کا پتھر‘ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ پتھر بہت ہی کمزور ہوچکا ہے۔ پرائمری تعلیم سے نکلنے والی ایک کثیر تعداد بنیادی صلاحیتوں ’تحریر‘ اور ’خواندگی‘ تک سے نا بلد ہے۔ حتیٰ کہ دسویں کلاس تک پہنچنے والی ایک تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو اپنا نام تک بھی لکھنا نہیں جانتی۔ اس کی ذمہ دار صرف پرائمری تعلیم ہے۔ حکومتی اداروں(نگر پریشد ‘ ضلع پریشد وغیرہ کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں) کا تو معاملہ ہی جد ا ہے کہ وہاں کئی کئی کلاس کو صرف ایک استاد پڑھاتا ہے ‘ لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھی بھاری فیس وصول کرنے کے بعد ساری توجہ صرف ظاہری چیزوں (عمدہ یونیفارم‘ بھاری بستہ‘ خوب صورت اور پر شکوہ عمارتوں) پرصرف کردی جاتی ہے۔ بچے کی Learning Skillاور اس کی ذاتی نشونما پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
امتحانی نظام:
امتحانات طلبہ کے آگے بڑھنے کا ’دروازہ‘ ہوتے ہیں۔حقیقت پسندانہ تجزیہ بتاتا ہے کہ ہمارا امتحانی نظام محض ’یاد داشت‘ کو ’اہلیت کی بنیاد‘ قرار دیتا ہے ۔ طلبہ کی سمجھ ‘ شعور‘ عملی و تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے میں یہ بہت ناقص ہے ۔طلبہ کو سال بھر’کتابی خول‘کے اندر محصور رکھا جاتا ہے اور ’کتابی کیڑا‘ ہونا ہی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ (کتاب کی اہمیت سے ہرگز انکا ر نہیں لیکن حصول علم میں ’مطالعہ ‘ کے ساتھ ’ مشاہدہ‘ اور ’ تقلید‘ کے ساتھ ’تخلیق ‘ بھی ضروری ہے)
امتحانی نظام کا ایک اور بڑا نقص’ نقل ‘ اور امتحان کے بعد Valuersکے پاس جاکر کی جانے والی وہ بد عنوانیاں ہیں جن میں اساتذہ اوراسکول کی انتظامیہ’ بہ نفس نفیس‘ شریک ہوتی ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ کہ یہ سارے کام ’ خیر خواہی‘، ’ملت کی ترقی‘، اور ’خدمت خلق‘ جیسے خوش نما (درحقیقت پر فریب) ناموں سے کئے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس عمل نے ہمارے طلبہ سے محنت وجدوجہد کا مادہ چھین لیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن میں ہمارے طلبہ پچھڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ ’میٹھا زہر ‘ ہے جو ہمیں مسابقت کے میدان سے یکسر کاٹ دیتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ صرف دینی و اخلاقی پہلو ہی سے غلط نہیں ہے بلکہ خالص تعلیمی نقطہ نظر سے بھی طویل المیعاد سطح پر یہ ہمارے لئے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔
طریقۂ تدریس:
تدریس میں \’What\’کے ساتھ\’How\’بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ یعنی ’کیا پڑھایا جارہا ہے‘ یہ جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم ہے ’کیسے پڑھایا جارہا ہے‘ ۔ Contentکے ساتھ ہمTechniqueکو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہمارے اساتذہ کا انداز اس وقت بہت روایتی محسوس ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کو سنا سنا کر انہیں ’سن‘ کردیتے ہیں ‘ Passive Listenerبننے سے کوئی بڑی تبدیلی طا لب علم میں نہیں آسکتی۔ استاد کو One Way Lectureکی بجائے Interactive طریقہ اپناناچاہئے۔ اس کا کام صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ طلبہ کے ذہن و دماغ کو جھنجھوڑ نا ہے، اور یہ کام طلبہ کی فعال شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ طریقہ تدریس ایک ’فن‘ ہے ۔ ضروری نہیں کہ اپنے مضمون کی مکمل معلومات رکھنے والا کوئی ٹیچر ’مثالی ٹیچر‘ کہلائے۔ معلومات کے ساتھ اسے طلبہ تک پہنچانے کی Skillیا فن جب تک کسی استاد کے اندر نہیں ہوگا وہ ’مثالی معلم‘ نہیں بن سکتا۔ مختلف تدریسی وسائل (Teaching Aids) کے استعمال پر بھی اساتذہ کو توجہ دینی چاہئے۔
کمزور طلبہ پر عدم توجہ :
ہر کلاس میں ذہین ‘ اوسط اور کمزور ہر قسم کے طلبہ پائے جاتے ہیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کلاس میں بالعموم ۵۰ فیصد سے زائد بچے کمزور ہوتے ہیں۔ اساتذہ اپنی تدریس اوسط اور ذہین بچوں کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔ کمزور بچے اس میں سے کچھ اخذ نہیں کرپاتے۔ وہ صرف جسمانی طور پر کلاس میں حاضر رہ کر ’خیالات کی دنیا‘ میں گم ہوتے ہیں۔ لہذا اساتذہ کو ایک جانب اپنی تدریس کی سطح مزید کم کرنی چاہئے اور کلاس کے کمزور بچوں کو بنیاد بناکر پڑھانا چاہئے۔ لیکن اس میں ذہین اور اوسط بچوں کا وقت ضائع ہونے اور نصاب کی تکمیل کے طول پکڑنے کا امکان ہے۔ لہذا اس کی Idealشکل یہ ہو سکتی ہے کہ ان کمزور بچوں کے لئے خصوصی کوچنگ لی جائے اور ان کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ اس کے لئے اساتذہ کوخصوصی محنت کی ضرورت ہے۔ محض ’قانونی‘ تقاضے پورے کرنے والے اساتذہ سے اس ’بڑے‘ کام کی امید نہیں کی جاسکتی۔
بڑی بڑی جماعتیں (Class Size) :
تدریس کو مؤثر بنانے کے لئے ہر طالب علم پر’ انفرادی توجہ ‘ ازحد ضروری ہے۔لیکن کلاس میں طلبہ کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے (بعض اوقات سو سے زائد) کہ محسوس ہوتا ہے گویا استاد لکچر نہیں دے رہا ہے بلکہ ’خطاب عام‘ کررہا ہے۔ ’جم ٖغفیر‘ ہونے کے باعث وہ ہرطالب علم پر توجہ نہیں دے پاتا۔تدریس کے دوران ہر طالب علم سے سوالات‘ ہوم روک‘ کلاس ورک‘ عملی کام‘ Assignmentکی جانچ ضروری ہے۔ اس کے بغیر طلبہ کا ذاتی ارتقاء ممکن نہیں ۔ لیکن اگر ہوم ورک دیا جائے تو۱۰۰ طلبہ کی کلاس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر طالب علم کا ہوم ورک جانچا جائے (اور اگر ایسا کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لیے کم از کم ۳ پیریڈس مطلوب ہوں گے)۔ کلاسیز کی بڑی بڑی سائز اس وقت ہمارے نظام تعلیم کا ایک بڑا نقص ہے۔ اس سلسلے میں ایک قابل تعریف قدم ’حق تعلیم‘ قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کی رو سے ہر کلاس میں صرف30 طلبہ ہوں گے۔ لیکن اس کا نفاذ اب تک نہیں ہو پایا۔یہ وقت ہے کہ علم دوست اور سماجی تنظیمیں اس کے نفاذ کے لیے قانونی لڑائی لڑنے کے لیے میدان میں اتریں۔
گھروں کا’ غیرتعلیم دوست‘ ماحول:
تعلیمی عمل وہ ’مثلث‘ ہے جس میں طالب علم اور اساتذہ کے ساتھ والدین بھی شامل ہیں۔ تعلیمی مثلث کا یہ آخر الذکر محاذ بالعموم نظر انداز کردیا جاتا ہے۔یہ محاذ ’گھر‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔ طا لب علم ۲۴ میں سے تقریبا ۸ گھنٹے اسکول میں گزارتا ہے اور بقیہ ۱۶ گھنٹے (یعنی دو تہائی وقت) گھر میں گزارتا ہے۔ بد قسمتی سے گھروں کا مجموعی ماحول Education Friendlyنہیں ہے۔ پڑھائی کے اوقات میں ٹی وی کا ز وردار آواز سے چلنا‘ گھر میں شورشرابہ‘ جھگڑے‘ بچوں کی پڑھائی کے لئے علیحدہ کمرے کا نہ ہونا،یا کم از کم ٹیبل کرسی کا نہ ہونا‘ والدین کا بچوں کو پڑھائی کے لئے باقاعدگی سے نہ بٹھانا، وہ امور ہیں جس کے باعث کوئی طالب علم مشکل ہی سے گھر پر پڑھائی کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔ والدین کو یہ توفیق بھی کم ہی ملتی ہے کہ اساتذہ سے بہ نفس نفیس مل کر اپنے بچے کی کارکردگی کے Updatesلیتے رہیں۔اور اگر مل بھی جائے تو وہ اپنے بچے کی کارکردگی سے زیادہ اساتذہ کا’ احتساب‘ لینا اپنی شان سمجھتے ہیں۔حق تعلیم بل کی سزاؤں کے تعلق سے دفعہ نے اس سلسلے میں جلتے پر تیل کا کام کیا ہے۔ سرپرست بمقابلہ (v/s) اساتذہ کے کلچر کو بھی ختم ہونا چاہئے۔ انہیں ’فریق‘ کی جگہ ’رفیق‘ سمجھنا چاہئے۔ والدین کے بجٹ میں تعلیم کا تناسب بھی توجہ چاہتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے قیمتی کپڑے‘ جوتے ‘ ٹی وی اور موبائیل خریدنے میں تو کوئی کسر نہیں چھوڑتے لیکن بستہ‘ کتابیں ‘ یونیفارم‘ ٹیوشن ‘کوچنگ وغیرہ پر بڑے ’کسمساتے‘ ہوئے خرچ کرتے ہیں۔ صحیح کہا جاتا ہے ’’جو قوم مہنگے جوتے خریدنے میں فخر اور سستی کتابیں خریدنے میں عار محسوس کرے اسے جوتوں ہی کی ضروت ہے‘‘۔
ہم نصابی سرگرمیوں کا فقدان:
تعلیم طالب علم کی ہمہ جہت شخصیت سازی کا نام ہے۔ مہاتما گاندھی کے مطابق’ تعلیم فرد کے جسم‘ ذہن اور روح کی ہمہ جہت تربیت کا نام ہے۔‘ ارسطوو افلاطون سے لے کر سرسید و ذاکر حسین تک سبھی ماہرین تعلیم (الفاظ کے پھیر بدل کے ساتھ) اسی تصور تعلیم کو مانتے ہیں۔آج ’تعلیم برائے حصول معاش‘ کا ایسا یک رخی تصورآگیا ہے جس میں طالب علم کی صلاحیتوں کو نکھرنے کے مواقع کم ہی ملتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ طالب علم کی شخصیت سازی میں ہم نصابی سرگرمیوں کا ۸۰ فیصد حصہ ہوتا ہے۔اسی وجہ سے ’زائداز نصابی سرگرمیوں ‘ کا لفظ بدل کر اسے ’ہم نصابی سرگرمیوں‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن اس اصطلاحی تبدیلی سے بات آگے نہیں بڑھ پائی۔ وال میگزین‘ اسکول میگزین‘ جنرل نالج ‘ سیرت و صحابہ کوئز‘ سائنسی نمائش‘ ڈرامے ‘ Mimicry‘ مشاعرے‘ لڑکیوں کے لئے مہندی ‘ڈش و دست کاری کے مقابلے‘ ڈرائنگ و کارٹون سازی ‘ Hobbyکے مقابلے ‘ بیکار چیزوں سے مفید چیزیں بنانا‘ کھیل کود ‘ مباحثے‘ تعلیمی ٹورس‘ پکنک‘ شہر کی قابل شخصیات سے طلبہ کو Interact کروانا‘ طلبہ کی عدالت‘ طلبہ کی پارلیمنٹ جیسی ایک طویل فہرست ہے جس سے نہ صرف تعلیم کا عمل خوشگوار بنے گا اور طلبہ کو تفریح و مسرت محسوس ہوگی بلکہ ان کے اندر کی خوابیدہ صلاحیتیں بھی نکھریں گی۔ اس سے کلاس کے Backbenchersکو بھی اپنے ’کچھ‘ ہونے کا احساس ہوگا۔لیکن یہ ساری سرگرمیاں ہمارے اساتذہ اپنے لئے’ بوجھ ‘جانتے ہیں۔ ذمہ داران کو اس کے لئے اقدام کرناہوگا اور یہ ذہن بھی بنانا ہوگا کہ یہ سرگرمیاں تعلیم کا نقصان نہیں بلکہ وسیع تر تعلیمی عمل کا حصہ ہیں۔
مناسب اور معقول انفراسٹرکچر کی کمی:
معیار تعلیم کی بلندی میں گرچہ انفراسٹرکچر کو ثانوی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسکول کی عمارت میں خاطر خواہ کمرے‘ ان کمروں میں مناسب چھت اورپنکھوں کا انتظام‘ بیٹھنے کے لئے سہولت بخش Benches اور Deskکی فراہمی‘ بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی وغیرہ کے بغیر ہم اچھے تعلیمی نتائج کی توقع نہیں کرسکتے۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت کی امداد (Aids & Grants) کم سے کم تر ہوتی جارہی ہیں۔ طلبہ تنظیموں کے بار بار مطالبہ کے باوجود حکو مت اپنے بجٹ میں ۴؍فیصد سے زائد رقم تعلیم کے لئے مختص کرنے کو تیار نہیں۔( ترقی یافتہ ممالک میں اوسطا ۱۰؍ فیصد بجٹ تعلیم کے لئے مخصوص ہوتا ہے) جتنی امداد دی جاتی ہے اس کا بھی خطیر حصہ ’بیوروکریسی‘ کی نذر ہوجاتا ہے۔ اورخانہ پری کے لئے معمولی رقم مستحق اداروں تک پہنچتی ہے۔ ان دونوں پہلوؤں سے توجہ دینے کی ضروت ہے۔ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ کی دیانت داری اور مضبوط قوت ارادی ضروری ہے۔
خلاصہ:
معیار تعلیم کی بلندی ایک Phenomenon Multi Factorial ہے۔ چنانچہ تمام عوامل پر’ متناسب‘ توجہ دے کر ہی اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کسی ایک پہلو پر توجہ دے کر بقیہ کو نظر انداز کرنے سے ’پائیداراور دیرپا‘ حل نہیں نکل سکتا۔ اس کے لئے مضبوط قوت ارادی اور حد درجہ قوت عمل کی ضرورت ہے، اسی سے تعمیر ملت و تشکیل سماج کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔ سچ کہا شاعر مشرق نے ؂
تعلیم ہے فقط امراض ملت کی دوا

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں