بنیادی صفحہ / صریر / اہل فکرونظر کے تأثرات

اہل فکرونظر کے تأثرات

 ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی
( ماہر معاشیات اسلامی، پروفیسر ایمیریٹس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
میرے خیال میں محرک یہی تھا کہ اجنبی اقتدار میں اپنی تہذیب و ثقافت، اپنے عقائد اور مذہب کو بچانا، اسی لیے ایسے ادارے کی ضرورت سمجھی گئی جو بنیادی تعلیمات کوتہذیب اورمذہب کی بنیاد پرپیش کرنے والے افراد تیار کریں، جس سے سوسائٹی میں دینی ضروریات جو ہمارے ٹریڈیشن میں بھی ہیں پوری ہوسکیں۔یہ نہ بھولیں کہ جو ہمارے یہاں دیہات میں عام کسان ہیں جو غریب اور مزدور ہیں ان کا اسلام سے تعلق چند مواقع پر ضرور ہوتا ہے، جب بچہ ہوتا ہے، جب گھر میں موت ہوتی ہے، جب شادی بیاہ ہوتا ہے، اس طرح 6-5 ایسے موقع ہیں جس میں ہر فرد کو اپنے سے مختلف کسی نہ کسی دیندار پڑھے لکھے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر یہ ضرورت پوری نہ ہو تو اس کی زندگی میں خلا ہوگا، اور سب سے بڑا خلا وہ ہے جو انسان اندر سے محسوس کرے، یہ کوئی آبجیکٹیو چیز نہیں ہے کہ آپ کہیں کہ ہے یا نہیں ہے۔ تو اگرمدارس کا قیام عمل میں نہ لایا گیاہوتا تو یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی، یہ خلا پر نہ ہوتا۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ مدارس اسلامیہ سے پیدا ہونے والے یہ مولوی حضرات صرف پیدائش کے وقت اذان یا موت کے وقت نماز جنازہ یا نکاح کے وقت نکاح پڑھانے کے لیے مفید تھے! بلکہ اس بیچ میں نماز کے طریقے۔ دینی مسائل۔ اگر کوئی حج پہ جارہا ہو تو اس کی رہنمائی۔ اس طرح کی ضروریات کے لیے ہر بستی اور سماج کو ضرورت تھی، تو ایک سادہ سا اسٹرکچر پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے، الحمد للہ کہ ہر علاقے میں ایک مسجد ہے جس میں ایک مؤذن اور امام لوکل کمیونٹی کے سہارے رکھے جاتے ہیں، وہ یہ ضروریات بھی پوری کرتے ہیں اور بچوں کو بٹھا کر قرآن ناظرہ اور کبھی کبھی معمولی حساب کتاب بھی پڑھا دیتے ہیں۔ اس طرح مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک میرے خیال میں یہ تھا کہ کمیونٹی کی دینی اور کلچرل ضروریات پوری کی جائیں،جب تک مسلمان حکمراں رہے سرکاری خرچ پر، سرکاری اہتمام سے اور قومی اہتمام سے، دونوں طرف سے یہ ضرورتیں کافی حد تک پوری ہوتی رہیں۔ اجنبی تسلط کے بعد یہ محسوس کیا گیا خاص طور پر غدر ۱۸۵۷ ؁ء میں جو قتل عام ہوا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لوگوں کو ختم کیا گیا، جو کمیونٹی کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھتے تھے، اس کے بعد اگر یہ اہتمام نہیں کیا گیاتو یہ ضرورتیں پوری نہیں ہوسکیں گی۔
ایک بہت بڑی ضرورت کی تکمیل اس کا بنیادی محرک تھا۔اور یقیناًیہ ایک اچھا محرک تھا۔
کیا مدارس کی موجودہ صورتحال سے آپ مطمئن ہیں؟
اگر آپ نے یہ سوال نہ کیا ہوتا تو بہتر تھا، کیونکہ میرے خیال میں کوئی بھی آدمی اس کا جواب یہ نہیں دے گا حتی کہ مدرسے والے بھی کہ ہاں وہ مطمئن ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مطمئن ہیں یا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کمیاں کیا ہیں؟ اور وہ کیسے پوری کی جائیں؟ ہم اسے پوری کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ یہ بہت تفصیل طلب بات ہے۔ میں اس سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں یہ کہوں گا کہ جو ابھی پہلے سوال کا جواب تھا وہ صورتحال اب ملک کی نہیں ہے۔ جو مدارس اسلامیہ کے قیام کے وقت تھی ۲۱؍ ویں صدی کے شروع میں ہم کسی غیر ملکی حکمرانی کے سایے میں زندگی نہیں گزاررہے ہیں، نہ ایسی زندگی خود ہندوستان میں ہے جس میں قوم کچھ نہ کررہی ہو، اور حکومت طے کر چکی ہوکہ ہم کچھ نہیں کریں گے، دونوں طرف سے کام چل رہا ہے، دونوں طرف سے فنڈنگ موجود ہے، اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس سب کو آرگنائز کس طریقے سے کریں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ بنیادی اسٹرکچر میں جو ڈیڑھ سوسال پہلے بجا طور پر اس وقت کے حالات کو سامنے رکھ کر اختیار کیا گیا تھا، اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی۔ بلکہ کچھ ایسی تبدیلیاں بھی نہیں کیں جو بالکل ہوجانی چاہئے تھیں، مثال کے طور پر غدر کے دوران انگریزوں کے ساتھ انگریزی زبان سے بھی سخت نفرت تھی، اب صورتحال یہ ہے کہ انگریزی زبان سے واقفیت ایسی ہی ہے جیسے کہ دنیا کا سمجھنا اس پر منحصرہو، ایک کھڑکی ہے آپ کے پاس، اگر آپ نے اسے بند رکھا، تو باہر سے تازہ ہوا نہیں آئے گی۔ اس میں اردو یا ہندوستان کے مسلمانوں کی جودیگر زبانیں ہیں ان کی کوئی توہین نہیں ہے، بلکہ وقت کی جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے علوم، بہت سی معلومات، بہت سی تفصیلات ایسی ہیں جو ہماری زبانوں میں نہیں موجود ہیں، اور دوسروں زبانوں سے ترجمہ ہماری زبانوں میں بہت مشکل سے ہوتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں۔اس طرح انگریزی زبان تو ضروری ہے اس دنیا میں اگر ہر بچے کو نہیں تو کم از کم ہر مدرسے میں کچھ لوگ تو ایسے ہونے ہی چاہئیں جو اس پر قدرت رکھتے ہوں، یہ ایک مثال ہے صرف بہت سی اور باتیں کہی جاسکتی ہیں کہ نصاب میں کیا کمی ہے اور کیا اضافے ضروری ہیں۔
کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت نظر آتی ہے، اگر نہیں، تو اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
میں تو یہی کہوں گا کہ عصری معنویت مفقود ہے، کیونکہ جو کتابیں ہیں وہ عصری نہیں ہیں۔ اگر معاصر مصنفین کی کتابیں ہوتیں تو اس میں عصری معنویت خود بخود کچھ نہ کچھ سرایت کر گئی ہوتی۔ اگر ہم بہت پرانی کتابیں نصاب میں رکھیں گے، تو یہی ہوگا کہ وہ اپنے عصر کی عکاسی کریں گی۔ اس پر پلٹ کر کسی شخص کو یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ کیا یہ بات قرآن اور سنت پر بھی صادق آتی ہے، تو یہ بات رد کی جائے گی، اس لیے کہ قرآن کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ ہر وقت اور ہر زمانے کے لوگ اپنے زمانے اور وقت کے تقاضوں کی روشنی میں اس سے معنویت اخذ کرسکتے ہیں،اور انسان کے کلام میں یہ بات نہیں ہوتی۔ تو ایک بات یہ کہ عصر حاضر کا مطالعہ صرف کتابوں سے نہیں ہوسکتا۔ طلبہ میں اس بات کی صلاحیت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ اپنے آنکھ، کان اور چلنے والے پاؤں، ان سب کو استعمال کر کے، جیسا کہ قرآن کا تقاضا ہے اپنے دور کو، اپنے زمانے کے سماج کو، جو کسی نہ کسی معنی میں گلوبل ہے کہ ایک بستی جس میں آپ رہتے ہیں اس کو سمجھ لینا، ایک گاؤں جس میں آپ رہتے ہیں اس کو سمجھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ بعض چیزوں میں پوری دنیا پر آپ کی نظرہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر اس دنیا کے کچھ مسائل ہیں جن کا تعلق آب وہوا سے ہے جن کا تعلق وباؤں سے ہے جن کاتعلق امن اور جنگ سے ہے، یہ پوری دنیا کے مسائل ہیں، ان کو نظر انداز کرنے سے یہ مسائل چلے نہیں جائیں گے، اور وہ مسائل ایسے ہیں کہ ہماری زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ہماری زندگی پر گہرا اثر ڈالنے والی چیزوں میں سے مالی واقتصادی نظام بھی ہے، دیکھئے اس سے بڑی اور کیا چیز ہوسکتی ہے کہ آدمی کو جوسکے ملتے ہیں اس کی قوت خرید گھٹے یا بڑھے، ہر آدمی کو محسوس ہونے والی چیز ہے کہ دوسرے دن بازار جائیں، معلوم ہوا کہ کل تک جو چیز ۴؍سکوں میں آتی تھی اس کے لیے اب ۸؍ سکے چاہئیں۔ تو ایسی حالت میں جس میں دنیا میں کرنسی کی قوت خرید گھٹتی بڑھتی ہو، چیزوں کی موجودگی پر کوئی بھروسہ نہ ہو، کبھی کوئی چیز بازار میں مل رہی ہے کبھی نہیں مل رہی ہے۔ایسی صورتحال میں طالب علم کو ان تمام امور سے واقف کرانا ضروری ہے۔بعض لوگ عصری معنویت کے بہت اونچے معانی لے لیتے ہیں، میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ زمینی حقیقت کی جو بنیادی چیزیں ہیں کم سے کم ان کا تو شعور ہو، اور ان کے شعور سے ہمارا موجودہ نصاب جہاں تک میں واقف ہوں خالی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
بازیافت اس طریقے سے ممکن ہے کہ وقت کے جو تقاضے ہیں معلومات کے سلسلے میں انہیں پورا کریں، طالب علم کو کم از کم ایک ایسی زبان سکھائیں جن سے وہ دنیا کے تازہ ترین علوم تک پہنچ سکیں۔ دوسری بات یہ کہ جو مسائل جن میں سے بعض کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے اقتصادی اور مالی اسٹرکچر، دوا علاج کا معاملہ اور امن اور جنگ سے متعلق چیزیں اور ماحولیات یہ چار چیزیں ایسی ہیں جن کا ہر طالب علم کو شعور ہو کہ یہ زندگی پر اثر انداز ہونے والی چیزیں ہیں۔ اخلاق کی روشنی میں ان کی نئی تشکیل جب تک نہیں ہوگی، ان کا کوئی مثبت سماجی کردار سامنے نہیں آئے گا، سوائے اس کے کہ وہ سماج کو پیچھے کی طرف لے جائیں، اور یہ کام آج مدارس کررہے ہیں۔ میں بد قسمتی سے یہ بات کہنے پر مجبور ہوں کہ ان چیزوں کو نہ کر کے، نہ دوسری زبان سکھا کر، نہ وسائل کا شعور دے کر مدارس ایک منفی رول ادا کررہے ہیں، یہ منفی رول سماج کے لیے بے حدمضراور خطرناک ہے۔
آ پ کی نظر میں اس وقت مدارس اسلامیہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیاہے؟
دیکھئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وقت بہت ہی محدود ہے، طالب علم پر آپ جتنا بار ڈال سکتے ہیں اور اساتذہ پر جتنابار آپ ڈال سکتے ہیں اس میں بہت زیادہ لچک نہیں ہے، اب اگر آپ ماضی میں نصاب میں داخل ساری چیزوں کو جوں کا توں رکھتے ہیں تو نئی چیزوں کا اضافہ نہیں کرسکیں گے۔ اور نئی چیزوں کا اضافہ ناگزیرہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا۔ تو سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اپنی عقل اور ماضی کے نظائر کو سامنے رکھ کر یہ طے کریں کہ جو پچھلا مواد ہے اس کو کس طرح ری اسٹرکچر کیا جائے۔ افسوس یہ ہے کہ لوگ اس پر معقول باتیں بھی سننے کوتیار نہیں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ آپ یہ دیکھیں کہ جو درس نظامی دو ڈھائی سوسال پہلے کی پیداوارہے، اس بیچ میں کئی بار نصاب بدلے ہیں۔ چیزیں بدلی ہیں۔ کچھ چیزوں کو بڑھایا گیا ہے۔ کچھ گھٹایا گیاہے۔ اس سے آپ کی ہمت بڑھے گی، اس کو آپ گناہ کا کام نہیں سمجھیں گے کہ موجودہ نصاب میں سے کچھ چیزوں کو کم کریں، کچھ کو اس کی جگہ سے ہٹائیں کہ ان کی جگہ انگریزی زبان اور نئے امور کی تدیس جس میں مالیات شامل ہے وہ لائی جائے۔ میرا تجربہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا کہ ایک مجلس میں میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کیونکہ طالب علم کے طور پر مجھے یہ سابقہ پڑچکا تھاکہ میں جب حدیث پڑھ رہا تھا تب بھی اور جب فقہ پڑھ رہا تھا تب بھی اگرچہ دونوں کے استاد مختلف تھے مگر دونوں طہارت کا باب پڑھاتے تھے، اور بالکل مجھے محسوس ہورہا تھا کہ دونوں میں تکرار ہے، اس پر میں نے تجویز پیش کی کہ آپ فقہ اور حدیث کی تدریس کوری اسٹر کچر اس طرح کریں کہ کوئی تکرار نہ ہو۔ آپ طہارت پڑھانا چاہتے ہیں یا عبادات ومعاملات پڑھانا چاہتے ہیں۔ حدیث کو اور جو فقہی آراء ہیں ان حدیثوں سے مستنبط ہیں، ان کو ایک ہی استاد پڑھائے۔ اس طرح ایک تدریسی گھنٹہ خالی ہوجائے گا تو اس میں آپ کچھ دوسرا موضوع پڑھائیں۔ یہ ایک مثال تھی مگر یہ بات جس مجلس میں میں نے پیش کی اس میں بہت زیادہ باعلم اور دینی علوم سے واقف لوگ تھے وہ اچھا نہیں سمجھے اور اس پر اعتراض کیا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ حدیث اور فقہ الگ الگ نہ پڑھائی جائے۔ بہرحال آپ اور لوگوں سے رائے لیجئے یہ مسئلہ بہت سنجیدہ ہے یہ بہت سادہ نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مولانا آزاد کے زمانے میں ہمایوں کبیر کو مولانا نے کہا تھا کہ مدارس کے اندر نصاب کی ترقی کے لیے جدید عناصر کو داخل کریں۔ یہ بات اس وقت کہی تھی جب مولانا آزاد وزیر تعلیم تھے، ۶۰؍ سال ہوگئے اس کے بعد۔ یہ نہیں کہ ۶۰ سال میں کچھ نہیں ہوا، اور لوگ سوتے رہے، نہیں، بلکہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے، اس پوری تاریخ کو مرتب کیجئے۔ مختلف لوگوں نے نصاب اور نظام مدارس کی تبدیلی میں رول ادا کیا ہے۔ جامعہ ملیہ کا بھی اس میں رول رہا ہے، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ والے بھی کچھ کررہے ہیں،دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بات ابھی تک اتنے دنوں میں کہاں تک پہنچی ہے، اور آگے کیوں نہیں بڑھ رہی ہے، اس کے بعد دباؤ ڈالیے کہ اس پر کچھ لوگ اپنا ذہن لگائیں۔ کچھ وسائل صرف کئے جائیں اوراز سرنو اس پر گفتگو کا آغاز ہو، تبھی کچھ ہوسکتاہے۔
2n2
ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد سبحانی
(معروف اسلامی اسکالر، ماہر قرآنیات)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا ؟ اس کا تعلق خیال سے نہیں ہے، کہ اس سلسلے میں کوئی خیال ظاہر کیا جائے۔اس کا تعلق مدارس کی تاریخ سے ہے،اس سلسلے میں کچھ کہنے کے لیے ضروری ہے ، کہ اس کاکوئی تاریخی ریکارڈہو،جو بروقت ہمارے پاس موجود نہیں ، البتہ یہاں یہ گفتگو کی جاسکتی ہے،کہ مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا ہونا چاہیے ؟
مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے، کہ یہاں سے اچھی نسلیں تیار ہوں،ایسی نسلیں تیار ہوں، جو تقوي اورخشیت الہی کی دولت سے مالامال ہوں، جو اسلامی اخلاق سے آراستہ، اور ایمانی جذبات سے سرشار ہوں۔جو انسانیت کی دردمند،اور اپنے سماج کے لیے خیر ورحمت ہوں۔جو اسلام کا صحیح فہم رکھتی ہوں،اور تاریکی میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو روشنی دکھانے،اور اس کی صحیح رہنمائی کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔
کیا مدارس کی موجودہ صورتحال سے آپ مطمئن ہیں؟
مدارس کی موجودہ صورت حال ایسی ہے ہی نہیں،جس سے کوئی سوچنے سمجھنے والا ، یا سینے میں دھڑکتا ہوا دل رکھنے والاآدمی مطمئن ہوسکے۔مدارس کی موجودہ صورت حال بڑی مایوس کن اور انتہائی درد انگیز ہے، اس سے بس وہی لوگ مطمئن ہوسکتے ہیں، جویاتو کوئی دینی شعور نہ رکھتے ہوں، یا جنہیں ملت اور نونہالان ملت کے روشن مستقبل سے کوئی دلچسپی نہ ہو،جن کے اطمینان کے لیے بس اتنی بات کافی ہو، کہ وہ ذاتی طور پر اس ادارے سے کوئی فائدہ حاصل کر رہے ہیں،یا وہ وہاں کی کسی بڑی کرسی پر جلوہ افروز ہیں۔
کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت نظر آتی ہے، اگر نہیں، تو اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں نہ عصری معنویت نظر آتی ہے،نہ دینی اور اخلاقی معنویت نظر آتی ہے۔چاہے مدارس اسلامیہ کا پرانا نصاب تعلیم ہو، جو درس نظامی کے نام سے معروف ہے،یا اس سلسلے کے وہ سارے نئے تجربات ہوں، جو بعد میں کیے جاتے رہے ہیں، یہ سارے نصابہائے تعلیم اس لحاظ سے یکساں ہیں،کہ وہ اپنے مقصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہیں۔وہ اس طرح کی مسلم نسلیں تیار کرنے سے عاجز ہیں، جو ان دینی مدارس سے مطلوب ہیں۔وہ آج تو عاجز ہیں ہی، کل بھی اسی طرح عاجز تھے۔
یہاں یقیناًیہ سوال پیدا ہوگا، کہ ان نصابہائے تعلیم کی ناکامی کے بنیادی اسباب کیا ہیں ؟
ہمارے خیال میں اس کا ایک بنیادی سبب تو یہ ہے، کہ عام طور سے دینی اداروں کے نصاب تعلیم میں کتاب الہی کو کوئی جگہ نہیں دی گئی، بلاشبہہ متعدد تفسیروں کے کچھ اجزاء نصاب تعلیم میں شامل کیے گئے،مگر ظاہر ہے، تفسیری اجزاء کی خواندگی کو تدریس قرآن کا نام نہیں دیا جا سکتا، نہ ان اجزاء کی خواندگی سے وہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے، جو تدریس قرآن سے یقینی طور پر حاصل ہو سکتا ہے۔
ہونا یہ چاہیے کہ نصاب تعلیم میں قرآن پاک کو مرکزی حیثیت دی جائے، قرآن پاک کی تعلیم میں کسی ایک تفسیر پر انحصار نہ کیا جائے،بلکہ تمام تفسیروں سے فائدہ اٹھایا جائے،تفسیروں سے فائدہ تو اٹھایا جائے، مگرقرآن پاک پر راست غوروتدبر کو اصل اہمیت دی جائے۔
اگر کوئی ایسا موقع آجائے ،کہ قرآن پاک کے الفاظ واسلوب سے مفسرین کی رائے ہم آہنگ نہ ہو،تو مفسرین کی رائے کی پابندی کرنے کے بجائے براہ راست قرآن پاک پر غور کیا جائے، اور قرآن پاک کے لفظ واسلوب سے جومفہوم سامنے آتا ہے، اسی کو ترجیح دی جائے۔
پھر چونکہ قرآن پاک تمام علوم کا سرچشمہ ہے، جس کے اشارے قرآن پاک میں بھی موجود ہیں،اور مختلف علوم کے ماہرین بھی اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پرکھل کر اس کا اعتراف کرتے آئے ہیں، لہذا تمام علوم، چاہے وہ شرعی علوم ہوں، یا غیر شرعی ، خالص قرآن پاک کی روشنی میں پڑھائے جائیں۔
اگر تمام علوم قرآن پاک کی روشنی میں پڑھائے جائیں، توپھر شرعی علوم اور غیر شرعی علوم ، یا دینی علوم اور دنیوی علوم کا جھگڑا ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ہر وہ علم جو قرآن پاک سے جڑا ہوا ہو،وہ شرعی علم ہے، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید،دینی ہو یا دنیوی،اور ہر وہ علم جو قرآن پاک سے کٹا ہواہو، وہ غیرشرعی علم ہے، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، دینی ہو یا دنیوی۔
ہمارے نصابہائے تعلیم کی ناکامی کا دوسرا بنیادی سبب یہ ہے،کہ ان میں تربیت اخلاق اور تزکیۂ نفس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے،جبکہ دینی تعلیم کی روح ہی تزکیۂ نفس اور تربیت باطن ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر ذہن واخلاق کی تربیت کا اہتمام نہ ہو، تو دینی تعلیم انسان کو بنانے کے بجائے بگاڑتی، اور سنوارنے کے بجائے برباد کرتی ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر ذہن واخلاق کی تربیت نہ ہو،توعلم کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں، آدمی معلومات کے انبار تو جمع کرلیتا ہے،مگر علم سے تہی دامن ہوتا ہے۔زندگی کتابوں میں گزرجاتی ہے، مگرعلم سے ملاقات کی نوبت کم ہی آتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علم دین حاصل ہوجانے کے بعد اگر اس پر عمل نہ ہو تو دل سخت ہوجاتا ہے،اور دل سخت ہوجائے تو انسان بالکل ناکارہ ہوکر رہ جاتا ہے۔
لہذا حصولِ علم دین کے ساتھ ساتھ ذہن واخلاق کی تربیت ناگزیر ہے، اور ذہن واخلاق کی یہ تربیت قرآن پاک کے ذریعہ ہی ہوسکتی ہے، قرآن پاک سے الگ رہ کرتزکیۂ نفس اور تربیت باطن کی ہر کوشش ایک کار عبث بن جاتی ہے۔
رسول اللہؐنے تزکیۂ نفس کا جو عظیم الشان کارنامہ انجام دیا تھا، اور جاہلیت کے اس ماحول میں ایک ایسی امت تیار کردی تھی ، جواپنی امانت ودیانت ،تقوی وطہارت، بے لوثی و سرفروشی میں اپنی مثال آپ تھی، آپ کا یہ عظیم الشان کارنامہ سرتاسر قرآن پاک کا ہی مرہون منت تھا۔
ہمارے بہت سے اداروں نے تصوف کے ذریعہ یہ کمی پوری کرنی چاہی،مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی، اداروں میں وہ روحانی ماحول کسی بھی درجہ میں پیدا نہیں ہوسکا، جوحصول علم دین کے لیے ناگزیر تھا!
نصابہائے تعلیم کی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہ بھی رہا،کہ ہمارے اداروں نے باصلاحیت اور باکردار اساتذہ کی ٹیمیں فراہم کرنے، یاتیار کرنے کی طرف توجہ نہیں دی،اساتذہ کی تقرری میں صلاحیت سے زیادہ ذاتی تعلقات کو اہمیت دی گئی، جس کے نتیجے میں عام طور سے تعلیم و تربیت کا بلند معیار قائم نہیں ہوسکا، بلکہ دن بدن گرتا ہی چلا گیا۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں کب اہم رول ادا کیا تھا؟ اس کی ہمیں اطلاع نہیں۔ ہمیں جس چیز کی اطلاع ہے، وہ یہ ہے کہ ان مدارس اسلامیہ نے ملت اسلامیہ کا مزاج بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی! چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنا،اور انتہائی غلیظ قسم کی بد کلامی پر اتر آنا، گروہی اور مسلکی اختلافات کوہوا دینا،بے سمجھے بوجھے جاہلانہ فتوے دینا،اہل حق کی مخالفت کرنا،اور اہل باطل کی عزت افزائی کرنا، اہل حق کی پگڑیاں اچھالنا، اور اہل باطل کی دستار بندی کرنا، اپنے طلبہ کوچھوٹے چھوٹے اعمال اور عملیات کا خوگر بنانا،اور اقامت دین اور غلبۂ دین کی ہر جدوجہدسے انہیں متنفر کرنا، یہ ہمارے دینی مدارس کا شیوہ رہاہے! ایسے میں ملک وملت کی تعمیرمیں اہم رول ادا کرنے کی ان سے کیونکر توقع کی جاسکتی ہے۔
یقیناًان مدارس سے کچھ اہم شخصیتیں بھی سامنے آئیں،جنہوں نے ملک وملت کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا، اور ا پنی بردباری اور جگرسوزی سے ایک نئی تاریخ رقم کی،مگراس طرح کی شخصیات بہت کم پیدا ہوئیں ، اوران شخصیات کو مدارس کی پیداوار نہیں کہا جاسکتا،یہ وہ شخصیات تھیں جو قدرت کا عطیہ تھیں،وہ کہیں بھی، اور کسی بھی ادارے میں رہتیں، اسی آب وتاب کے ساتھ سامنے آتیں۔اس میں کسی ادارے کی کوئی کرامات نہیں تھی۔
آپ کی نظر میں اس وقت مدارس اسلامیہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
مدارس اسلامیہ کو جوسب سے بڑا چیلنج درپیش ہے،وہ اچھے طلبہ، اچھے اساتذہ،اور اچھے ذمہ داروں سے محرومی ہے! طلبہ میں علم کا شوق نہیں،آج جو طلبہ ہمارے دینی اداروں میں آتے ہیں، وہ صرف وہاں کی ڈگری، یا وہاں کا تعلیمی سرٹیفکٹ لینے کے لیے آتے ہیں، اسی لیے وہ ان اداروں میں کئی کئی سال گزار دیتے ہیں، مگر ان کے ذہن وفکر کی کوئی نشونما نہیں ہوپاتی !
وہ جو ذہنی اور اخلاقی سطح لے کر آتے، اسی سطح کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں !
بلکہ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں،کہ ہم نے اپنے بچے کو فلاں ادارے میں بڑی تمناؤں کے ساتھ بھیجا تھا،مگر وہاں کچھ بننے کے بجائے وہ اور بگڑ کر چلا آیا!
اساتذہ کو بچوں کے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔انہیں بنانے سنوارنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی،اس لیے کہ خود ان کی ذہنی، فکری، علمی، اور اخلاقی سطح بہت پست ہوتی ہے۔وہ اس قابل ہوتے ہی نہیں کہ طلبہ کو وہ کچھ دے سکیں !
جہاں تک ذمہ داروں کا مسئلہ ہے، تو وہ خود علمی ذوق اور تعلیمی شعور سے محروم ہوتے ہیں،لہذا ان کے سلسلے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ اسی میں مست ہوتے ہیں،کہ وہ ایک سلطنت کے مالک ہیں، اوربہت اونچی کرسی پر جلوہ افروز ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کی صورت حال بہت ہی دردناک ہے،آج ہرباپ کے سامنے سب سے بڑا، اور سب سے سنگین مسئلہ یہ ہوتا ہے، کہ وہ اچھی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے جگرگوشے کو کہاں لے جائے! ضرورت ہے کہ دردمندان ملت ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کریں۔

مولانا امین عثمانی 
(سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی، نئی دہلی)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
ہندوستان میں اسلامی مدارس کے قیام کے بنیادی محرکات اور اسباب مختلف ہیں، مثلاً ان میں سے ایک محرک تو یہ رہا کہ ہندوستان میں اسلام کی نشر واشاعت، دعوت وتبلیغ اور اسلامی تشخص وتہذیب اور ثقافت کی حفاظت کے لئے ذہن سازی کی جائے اور ملت کے بیٹوں کو دین کے دفاع اور اس کی نصرت وحمایت کے لئے تیار کیا جائے، دوسرا محرک یہ بھی رہا کہ علوم اسلامیہ کی ترویج اور نشر واشاعت کی خدمت انجام دی جائے، تیسرا محرک یہ رہا کہ اسلام اور اسلامی اقدار وقوانین پر ہونے والے اعتراضات اور اٹھائے جانے والے شبہات وشکوک کے بارے میں مسکت اور مدلل جواب دینے والے علماء تیار کیے جائیں، چوتھا محرک یہ بھی تھا کہ ہندوستان میں مسلم معاشرہ کی جو مختلف ضروریات ہیں اور جن کا تقاضا خود اسلام بھی کرتا ہے ان کی تکمیل میں مدد کی جائے، مثلاً نظام قضاء اور نظام امامت وجماعت کی تشکیل، اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ملکی وغیرملکی تمدنی وتہذیبی ثقافتی جارحیت کے مدمقابل ایک مضبوط فصیل قائم کی جائے تاکہ غیر اسلامی نظریات اور افکار سے ملت اسلامیہ ہند محفوظ رہے، لیکن ان تمام اعلی اور اچھے مقاصد کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ اور مقاصد بھی بعد میں شامل ہوگئے، ان میں سے ایک مسلک کی ترویج واشاعت اور مسلکی نظریات کی تشہیر اور مخصوص مسلک کی بنیاد پر تدریس وتعلیم کے نظام کی بنیاد رکھنا شامل ہوگیا، پھر اس میں ایک پہلو یہ بھی شامل ہوا کہ بدلتے ہوئے سماجی، سیاسی اور اقتصادی نیز علمی حالات ومسائل سے بے توجہی برتتے ہوئے جمود کا راستہ اختیار کیا گیااور منہج تعلیم وتدریس میں، نیز نظام تعلیم میں ایسے طریقے اور ایسی کتابیں مسلسل پڑھائی جاتی رہیں جن سے مقاصد کا حصول دشوار ہوتا چلاگیا۔ بعد میں ایک تبدیلی اور بھی آئی جو مدارس کے پھیلاؤ اور کثرت میں خاص طور سے محسوس کی گئی کہ محض اپنی بقا اور وجود کے لئے یا ذاتی اور خاندانی منشات کے لئے مدارس قائم کئے گئے ، ان کا مقصد تعلیم کم اور شخصی مصالح زیادہ رہے۔
کیا مدارس کی موجودہ صورتحال سے آپ مطمئن ہیں؟
اسلامی مدارس کی موجودہ صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ مدارس، منہج تعلیم اور مسالک کے اعتبار سے پورے ملک میں منقسم ہیں، مدارس کا ایک گروپ قدامت پسند اور قدیم طرز کا دلدادہ ہے، وہ ظاہری طور طریقوں پر زیادہ زور دیتا ہے، اس کا مقصد اور مطمح نظر متعین کورس کی تکمیل ہے خواہ مطلوب انسان تیار ہوسکے یا نہ ہوسکے، وہ اس بات پر قانع ہے کہ اس کا طریقہ، تعامل اور منہج تدریس وتعلیم سب سے فائق وبرتر ہے۔ دوسرا گروپ وہ ہے جو برائے نام ضرورتاً کچھ عصری مواد ومضامین کو بھی جگہ دیتا ہے لیکن وہ بھی اس سلسلہ میں قطعی غیر سنجیدہ ہے کہ وہ ملت اور ملک کی وسیع تر ضروریات کو بھی سامنے رکھتے ہوئے بہتر اور اچھی صلاحیت والے افراد تیار کرسکے۔ تیسرا گروپ وہ ہے جو فکری اعتبار سے بالکل قلاش اور تہی دست ہے، اس کے نزدیک وہی راستہ پسندیدہ ہے جو اس سے پہلے لوگوں نے اختیار کررکھا ہے، زیادہ غور سے اگر دیکھیں تو مدارس کا ایک بڑا گروپ درس نظامی اور طریقہ تعلیم میں دیوبند کا متبع ہے اور ایک دوسرا بڑا گروپ ندوہ کے نصاب کے مطابق چلنے کی کسی حد تک کوشش کرتا ہے ، تیسرا گروپ اصلاح وفلاح کے نظریہ تعلیم کا حامی وموید ہے، چوتھا گروپ سلفی طرز تعلیم ، خانقاہی طرز تعلیم اور ملے جلے نصاب کے طریقہ تعلیم کے تحت چلنے والے ہیں۔
موجودہ صورت حال مدار س کی یہی ہے کہ وہاں بے شمار کمیاں ، نقائص پائے جاتے ہیں، اس سلسلہ میں زیادہ تفصیل کے لئے ان کتابوں اور مقالات کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے جو بعض اصلاح پسندوں نے اس سے پہلے شائع کررکھا ہے۔
کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت نظر آتی ہے، اگر نہیں، تو اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
مدارس اسلامیہ کے موجودہ نصاب تعلیم میں عصری معنویت کا فقدان ہے، اور اس کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ خود دار العلوم دیوبند میں انگریزی تعلیم کے لئے جو بہت ہی محدود اور متعین شکل میں بنایا گیا تھا وہ بہت جلد ختم ہوگیا، اسی طرح بعض روشن خیال مدارس میں بھی طلبہ انگریزی ودیگر غیر ملکی زبانیں بالکل نہیں پڑھ پاتے حالانکہ دعوتی نقطہ نظر سے بھی اس کی ضرورت پائی جاتی ہے، جہاں تک عصری مسائل کا تعلق ہے اور سماجی علوم سے واقفیت اور آگہی کا مسئلہ ہے تو الحمد للہ دینی مدارس محاضرات کے لئے بھی آمادہ نہیں ہیں۔ یونیورسٹیز کے اساتذہ ان کے یہاں جاکر مختلف علوم کے مبادیات پر لکچر دے سکیں۔ مدارس غیر معمولی تحفظ میں مبتلا ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر عصری معلومات یا وہ علوم جن کی واقعی ضرورت پائی جاتی ہے مثلاً سیاسیات، معاشیات، سماجیات، قانون ودستور وغیرہ اگر طلبہ نے پڑھنا شروع کیا تو پھر وہ کسی کام کے نہیں رہیں گے، اس فکر کی اصل بنیاد خود دین کا ایک محدود تصور ہے جو مشکل پیدا کرتا ہے ، اگر دین کا وسیع تصور اور امت کا وسیع تصور اور دنیا میں مختلف قوموں اور تہذیبوں کا وسیع تصور اس طرح ذہن میں آئے کہ اسلام کی دعوت اور اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ دنیا کی مختلف زبانوں میں کرنے کی ضرورت ہے اور عصر حاضر میں نئے فکری رجحانات کو نئے اسلوب میں سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے، تو پھر بڑی تبدیلی آسکتی ہے، بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ نصاب تعلیم کا مکمل جائزہ ہر پانچ سال بعد تمام بڑے مدارس کے ذمہ داروں کو لینا چاہئے اور اسی طرح اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ طریقہ امتحان میں اور طریقہ تعلیم میں مزید کیا بہتری لائی جاسکتی ہے۔
آپ کی نظر میں اس وقت مدارس اسلامیہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
مدارس کو مختلف قسم کے مسائل درپیش ہیں، ان میں سے اچھے اساتذہ کی قلت، بلکہ اگر قحط الاساتذہ کہیں تو اور بہتر ہے، دوسرے بجٹ اور مالیہ کی فراہمی،لائبریری اور ضرورت کے اعتبار سے کتابوں کی عدم موجودگی، معلومات کی کمی ، ملکی اور بین الاقوامی تبدیلیوں سے بے خبری اور ناواقفیت، ملک میں آباد مختلف مذاہب اور اقوام کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ہونے والی تنقیدات اور اعتراضات سے مکمل ناواقفیت، ملک میں اسلامی دعوت اور اسلامی دعوت کی راہ میں حائل مشکلات، بدلتے ہوئے سیاسی ، سماجی، اقتصادی منظر نامے سے ناواقفیت اور ان سب سے بڑا چیلنج جو دینی مدارس کے سامنے ہے وہ یہ کہ وہ ایسے افراد کس طرح تیار کریں جو قرآن وسنت کی تشریح وتفہیم عصری وعقلی اسلوب میں کرسکیں۔ موجودہ صدی میں جو انقلابات آرہے ہیں اور جو رجحانات فروغ پارہے ہیں ان کے تناظر میں کس طرح کے بحث وتحقیق اور ریسرچ کی ضرورت ہے اور کس طرح کی عقل وفکر کی ضرورت ہے اور اسے کس معیار تک پہنچایا جائے کہ واقعی حق ادا ہوسکے، یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
مدارس کا ہندوستان میں کردار اس طرح نمایاں ہوسکتا ہے کہ تمام مدارس کو باہم مربوط کیا جاسکے یا کس طرح باہم مربوط ہوسکیں، ان کو منظم کیا جائے، ان کے طریقہ تعلیم، نظام تربیت کو زیادہ مفید، نافع اور مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے، نیز مصالح اور ضروریات کے اعتبار سے درسی کتابوں، مطالعہ کی کتابوں اور طریقہ امتحان وغیرہ میں مناسب تبدیلی لائی جائے، طلبہ کے تعلیمی دورے کرائے جائیں اور ان سے ماہ میں ایک بار فیلڈ ورک بھی کرایا جائے تاکہ وہ علاقے کی ضرورتو ں اور حالات ومسائل سے واقف ہوسکیں۔ اسی طرح دیگر بہت سے اقدامات ممکن ہیں جن کے ذریعہ مدارس زیادہ فعال رول ادا کرسکتے ہیں۔ مختلف علوم کے اساتذہ کے ذریعہ مدارس میں محاضرات کا مسلسل نظم کیا جائے تاکہ طلبہ عصری علوم سے واقف ہوسکیں وغیرہ وغیرہ۔

 مولانا نسیم غازی فلاحی
(معروف داعی، سکریٹری اسلامک ساہتیہ ٹرسٹ، نئی دہلی)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
مدارس اسلامیہ کا قیام اللہ کی مشیئت کے تحت نہایت اہم اور اعلی مقاصد کے لیے عمل میں آیا تھا، اور ان مدارس نے اہم رول ادا بھی کیا۔ ویسے یہ ایک ریسرچ ورک ہے، اس کے بعد ہی اس کا صحیح معنوں میں تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کئی لوگوں نے خاصا کام کیا بھی ہے۔
کیا مدارس کی موجودہ صورتحال سے آپ مطمئن ہیں؟
مدارس کی موجودہ صورتحال سے تو خود ان مدارس کے لوگ (اساتذہ وانتظامیہ) ہی مطمئن نہیں ہیں۔اب تو بس مشینی انداز سے کام ہورہا ہے۔ البتہ خوش آئند بات یہ ہے کہ بہت سے مدارس اس صورتحال کو بدلنے کے سلسلے میں فکرمند ہیں اور کوشاں بھی۔ لیکن نتائج صرف فکرمندی اور کوشش سے سامنے نہیں آسکتے۔ اب تو بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ اور سب سے بڑی رکاوٹ صورتحال کو بدلنے میں موجودہ ماحول اور افراد ملت کی ترجیحات میں بدلاؤ ہے۔
کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت نظر آتی ہے، اگر نہیں، تو اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
جہاں تک مدارس کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت کی بات ہے، تو اس سلسلے میں بھی مدارس کے ذمہ داران فکرمند ہیں، اور اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ مگر کوئی چیز صرف چاہنے سے نہیں ہوسکتی جیساکہ اوپر عرض کیا گیا کہ ایک مقصد کو پانے کے لیے بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ہمارے مدارس اس کے متحمل نہیں ہیں کہ ان میں بڑے پیمانے پر عصری تقاضوں کو سامنے رکھ کر کوئی بڑی تبدیلی کردی جائے۔ کاغذات میں اگر یہ کام کوئی کمیٹی نہایت حسین انداز میں نقش کربھی دے، لیکن عملاََ ان کا نفاذ ممکن نہیں۔ نصاب میں تبدیلی یا اس کو بہتر سے بہتر اور بامعنی بنانے کا عمل تدریج چاہتا ہے، اور یہ کام اسی وقت ممکن ہے کہ اس کو تسلسل کے ساتھ انجام دیا جاتا رہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
جب کسی چیز کی قدر اور حفاظت نہیں کی جاتی اور وہ ضائع ہوجاتی ہے تو اس کی دوبارہ بحالی یا حصول بہت مشکل بلکہ ناممکن سا کام ہوجاتا ہے۔ صحت خراب ہوجائے تو اس کی بحالی کا جو حال ہوتا ہے اس سے زیادہ برا حال معاشرے یا سماج یا اداروں کی خرابی کے بعد ان کو راستے پر لانے کا ہوتا ہے۔ (اس کی بازیافت کی بعض تدابیر اگلے سوال کے تحت عرض کی گئی ہیں۔)
آپ کی نظر میں اس وقت مدارس اسلامیہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
اس وقت مدارس اسلامیہ کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے، اور آئندہ ان میں اضافے ہی کا اندیشہ ہے۔ ان میں ہر چیلنج سنگین اور ناقابل فراموش ہے۔ ان چیلنجوں کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرکے ان پر غور کرسکتے ہیں۔ ایک چیلنج ہے خارجی اور دوسرا ہے اندرونی اور داخلی۔ خارجی سے میری مراد ہے مخالفین اور دشمنوں کی جانب سے کی جانے والی سازشیں اور اس سلسلے میں تگ ودو۔ اب تو یہ عناصر کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مقصد مسلمانوں کو باہم لڑانا اور منتشر کرنا، اور ہندوؤں کو منظم اور متحد کرنا ہے۔ اور وہ اپنے اس مذموم ارادے میں برابر آگے ہی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسے حربے تلاش کرلیے ہیں جن کے ذریعے وہ مدارس اسلامیہ کو بآسانی اپنا شکار بناسکتے ہیں، بلکہ بنارہے ہیں۔ مثلا انہوں نے اس کا خوب خوب اشتہار کیا ہے کہ یہ مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں۔ اگر اس خطرے کو صحیح طور پر محسوس نہ کرکے اس کے تدارک کی حقیقی کوششیں نہیں کی گئیں، تو پھر خدا نخواستہ جو صورتحال سامنے آئے گی، اس کو تحریر کرنے بلکہ دل میں سوچنے تک سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
دوسرا چیلنج داخلی ہے، اور میرے خیال سے یہ چیلنج پہلے چیلنج سے بڑا چیلنج ہے۔ بلکہ آگے بڑھ کر میں عرض کرنا چاہوں گا کہ پہلے چیلنج کا مقابلہ اس وقت تک کیا ہی نہیں جاسکتا جب تک اس دوسرے چیلنج یعنی داخلی چیلنج کا مقابلہ نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں چند متعین تدابیر اور تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں۔
ایک بات یہ ہے کہ پوری امت اور خاص طور سے مدارس اسلامیہ سے وابستہ حضرات اوپر بیان کئے گئے ان فاسد عناصر کے اس مذموم چیلنج کو عملا غلط ثابت کردیں کہ وہ ہم ایک کلمہ، ایک رسول، اور ایک قبلے پر متفق امت کو منتشر اور منقسم کرسکتے ہیں۔
کاش ہمارے علماء کرام واقعی اس کام کے لیے آمادہ ہوجائیں اور اپنے مفادات اور تحفظات کو ملک وملت کے لیے قربان کردیں۔ اس کام کا لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا ہے، یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔
دوسرا اہم کام ہمارے مدارس یہ انجام دیں کہ وہ قرآن مجید کے عائدکردہ ملت اسلامیہ کے فرض منصبی کو اپنا نصب العین قرار دے کر اس کام میں اپنے کو جھونک دیں۔ فرض منصبی سے میری مراد شہادت حق اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہے۔ اور یہ فریضہ عمل اورقول دونوں سے انجام دینا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے کروڑوں اہل وطن دین حق سے ناآشنا ہیں اور ان کی روحیں آب حیات کے لیے پیاسی ہیں۔ اگر ہم ان کو جہنم سے بچانے کا کام نہیں کریں گے، تو یاد رکھیے وہ ہماری دنیا کو بھی جہنم بنادیں گے اور ان تک حق نہ پہنچانے کی شکایت اللہ رب العزت سے کرکے ہماری آخرت کو بھی خطرے میں ڈال دیں گے۔ اپنی اصلاح اور برادران وطن تک دعوت پہنچانے کا کام ایک ساتھ ہونا ہے۔ یہ دراصل ایک ہی کام ہے، دو نہیں۔
کیا بات ہے کہ کروڑوں انسانوں کو اپنے رب کے پیغام سے محروم دیکھ کر ہمارے دل تڑپ نہیں جاتے۔ ان بندگان خدا کو جہنم کے راستے پر گامزن دیکھ کر ہمیں نیند کیسے آجاتی ہے، یہ بات قابل غور ہے۔ اس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں اس کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔یاد رکھیے صرف نصاب تعلیم کے نام سے کچھ کتابوں کو تبدیل کردینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کے اندر داعیانہ تڑپ پیدا کردی جائے۔ بندگان خدا کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی یہی تڑپ اور بے چینی وبے قراری ہمارے پیارے نبیؐ کی سب سے بڑی اور نمایاں سنت ہے۔ اور اس سنت کو زندہ ہمارے مدارس نہیں کریں گے تو کون کرے گا، ہمارے علماء ہی تو ورثۃ الانبیاء ہیں۔

 رضوان احمد فلاحی
(اسلامی اسکالر، حال مقیم لندن، برطانیہ)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
اختصار سے کہا جاسکتا ہے کہ مدارس کے قیام کا بنیادی محرک علوم اسلامیہ کا تحفظ اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا تھا۔ برطانوی استعمار سے پہلے تک قائم مدارس کا مالی انتظام وانصرام یا تو حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شامل تھا یا ان کی کفالت دین پسند اصحاب ثروت وجاگیر کرتے تھے۔ یہ مدارس علماء پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی اہل کارCivil Bureaucracy بھی تیار کرتے تھے۔ اس وقت نظام تعلیم ایک ہی تھا، دینی ودنیوی کی ثنویت سے ناواقف۔ وہی دینی بھی تھا وہی دنیوی بھی۔ غاصبانہ برطانوی قبضے کے بعد ایک طرف تو مسلمانوں کی حکومت ختم ہوگئی دوسری جانب ان دین پسندوں کی جاگیریں غاصب قوت نے اپنے قبضے میں لے لیں جس سے مدارس کی اقتصادی شہ رگ کٹ گئی اور ان کے فنا ہوجانے کا امکان قوی تر ہوگیا۔ غاصب قوت نے وفاداروں کی نسل پیدا کرنے کے لیے اپنا نظام تعلیم نافذ کردیا جس میں مسلمانوں کے صدیوں پر محیط دینی وعلمی سرمائے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ اور اگر بربنائے کرم گستری جگہ دی بھی گئی تو بقول ایک صاحب نظر کے، شراب میں چند قطرے آب زم زم کے مانند۔ اس صورت حال سے دین سے شغف رکھنے والے نفوس میں اضطراب پیدا ہونا لازمی تھا۔ لہٰذا انہوں نے دینی وعلمی سرمایہ کے تحفظ کے لیے اور اسے اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے عوامی مالی تعاون سے ملک کے طول وعرض میں مدارس قائم کرنے کا عزم کیا جس میں وہ کامیاب رہے۔
کیا مدارس کی موجودہ صورتحال سے آپ مطمئن ہیں؟
اس سوال کا جواب کسی خاص مدرسے کے تناظر میں دینا تو نسبتاً شاید آسان ہو، مجموعی طور پر بہرحال مشکل ہوگا۔ تاہم جو بات سب سے زیادہ پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ چند کو چھوڑ کر باقی مدارس کی اساس مسلکی بنیاد پر اسلامی علوم کی تدریس ہے۔ عرصۂ تعلیم کے دوران یہ مسلکی وابستگی اتنی پختہ کردی جاتی ہے کہ تاعمر اس کے منفی اثرات سے جزوی رہائی بھی دشوار ہوجاتی ہے۔ یہ صورت حال ان وابستگان مدارس کے لیے موجب تشویش تو نہ ہو، لیکن ان کے لیے ضرور بے اطمینانی کا باعث ہے جو اعتصام بحبل اللہ کی اساس پر ملت کی شیرازہ بندی کے متمنی ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ مدارس جن کے درمیان مثبت تعمیری فکر کا سراغ قدر مشترک کے طور پر لگایا جاسکتا ہے،باہم وہ بھی لاتعلق سے نظر آتے ہیں اور ’ہم چو ں دیگرے نیست‘کے خمار میں مبتلا ہیں۔ اگر یہ ہم خیال ادارے چاہیں تو مل کر علمی وتعلیمی میدان میں ایک بڑی قوت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
کیا مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں عصری معنویت نظر آتی ہے، اگر نہیں، تو اس سلسلے میں آپ کیا مشورہ دینا پسند کریں گے؟
عصری معنویت کہیں ہے کہیں نہیں، اور جہاں ہے وہاں بھی قابل اطمینان نہیں۔ چند جدید مضامین کی مبتدیانہ شمولیت یا کمپیوٹر کے استعمال کی ٹریننگ دے دینے سے عصری معنویت نہیں آتی ہے۔ اور اداروں کے بارے میں تو کچھ کہنا مشکل ہے کہ وہاں کے نظام تعلیم سے براہ راست واقفیت ادھوری سی ہے، جن اداروں سے واقفیت ہے وہاں بھی عصری مضامین کی شمولیت اطمینان بخش طریقے سے نہیں ہے۔ مثال سے بات سمجھنا آسان ہوگا۔ انگلش دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ ایک عرصہ تک اس کے سیکھنے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ بعد میں کسی قدر برف پگھلی تو سیکھنے کی اتنی رعایت دی گئی کہ طالب علم پتہ لکھ سکے اور تار پڑھ سکے، اور بس۔ اس زبان میں تقریری یا تحریری اظہار خیال کو کارِ بے سود سمجھا جاتا رہا یہ سمجھ کر کہ یہ مسلمانوں کی ’زبان‘ نہیں ہے، (ستم ظریفی یہ کہ جسے مسلمانوں کی زبان سمجھا گیا اس کی بھی معیاری تدریس مدارس میں نہیں ہوتی، الا ماشاء اللہ)۔ اس وقت امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ساؤتھ افریقہ میں پائی جانے والی مسلم آبادی کی مجموعی تعداد کئی مسلم ممالک کی آبادی سے بڑھ کر ہے، اور ان کی زبان انگلش ہے۔ انہیں اسلام کی تعلیم دینے کے لیے جو علماء برصغیر یا دیگر مسلم ممالک سے آتے ہیں وہ یا تو انگلش سے نابلد ہوتے ہیں یا ان کی انگلش دانی ’پتے‘ اور ’تار‘ سے آگے کی نہیں ہوتی ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان کے باشندوں کا ایک معتد بہ حصہ اسی زبان میں پڑھتا اور سمجھتا ہے۔ اگر ہمارے مدارس کے نصاب تعلیم میں معیاری انگلش کی تدریس شامل ہو جس کی بدولت طالب علم بے جھجھک اس میں اظہار خیال کرسکے، لکھ اور پڑھ سکے اور اسلام کی ترجمانی کرسکے تو اسے عصری معنویت سے آگاہی سمجھا جائے گا ۔ مولانا امین احسن اصلاحی جب ’الاصلاح‘ کے مدیر تھے، تو انہوں اپنے ایک اداریے میں علماء سے کہا تھا کہ وہ وقت کب آئے گا جب آپ علماء خود انگلش میں اظہار خیال پر قادر ہوں گے اور آپ کو مترجم کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
اس کے لیے کم از کم ذیل کے تین عناصر کا پایا جانا ضروری ہے:
عزت نفس کا احساس
زندہ اور حرکی تصور تعلیم
مسالک کے بجائے اسلام کی تعلیم
آپ کی نظر میں اس وقت مدارس اسلامیہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
عالمی طاغوتی قوتیں، موجودہ غیراطمینان بخش حالت میں بھی مدارس کو اپنے منصوبوں کی تکمیل میں سب سے بڑی سد راہ سمجھتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ مدارس مسلمانوں میں ’روح محمد‘ زندہ رکھنے کا سب سے بڑا واسطہ ہیں۔ اس لیے اگر ان مدارس سے ہی ’روح محمد‘ نکال دی جائے تو میدان ان کا ہے۔ اس غرض سے کہیں ترہیب سے اور کہیں ترغیب سے کام لیا جارہا ہے۔ یہ ہے چیلنج جس کا مقابلہ کرنا ہے، جذباتی اور کھوکھلے نعروں سے نہیں، بلکہ صحیح تعلیمی وعلمی بنیادوں پر۔

 زبیر ملک فلاحی
(اسلامی اسکالر وسماجی کارکن، لکھنؤ)

آپ کے خیال میں مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی محرک کیا تھا؟
یہ سوال خا لص علمی ہے۔یعنی مختلف مدارس کے تعا رفی لٹریچر میں اس سوال کا جواب تحریری طور پر مو جود ہے۔اس لئے اس با رے میں’’آپ کے خیال ‘‘کی گنجا ئش نہیں ہے۔ اہل مدا رس نے جو تحریر کیا ہے وہی ان کا بنیا دی محرک ہے۔
ہاں ذمہ داروں کی سطح سے ہٹ کر عام ملت میں جو خیال پایا جاتا ہے اور تاریخی پس منظر میں جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد اور انگریزوں کی حکومت کے قیام کے نتیجے میں یہ احساس ابھرا کہ اسلام،اسلامی علوم ومعارف اور کسی حد تک اسلامی تہذیب (اور بہت حد تک مشرقی تہذیب) کی بقا اور تحفظ نیز دفاع اور ان کی ترویج و اشاعت کے لئے کو ئی نظام ہو نا چاہئے، نیز ایسے افراد کی تیا ری ہو نی چا ہئے جو عوام الناس کی دینی رہنمائی کرسکے۔ اس کے لئے سب سے پہلے مو جودہ معنوں میں دیو بند کے مدرسہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا۔نہیں تو اس سے پہلے دینی تعلیم کے بہت سے مراکز قائم تھے مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ کے خانوادے کے بزرگوں کے تعلیمی وتدریسی مشا غل۔
ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا، مدارس کے اس اہم سماجی کردار کی بازیافت کیسے ممکن ہے؟
آپ کا سوال ہے کہ ’’ایک زمانہ تھا کہ مدارس اسلامیہ نے ملک و ملت کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا تھا ‘‘میں مدارس کے اس اہم کردار سے نا واقف ہوں۔اگر آپ کی مراد اس سے تحریک شہیدین کی مساعی ہیں تو میرا خیال ہے کہ یہ مدارس کی مر ہون منت نہیں۔ اگر آپ ریشمی رومال تحریک کی بات کریں تو وہ بھی مدرسہ دیوبند کی مرہون منت نہیں بلکہ شخصی بنیا دوں پر استوار تھی۔ اسے ہم مدرسہ سے زیا دہ بیعت وارشاد کی بنیا دوں پر استوار پا تے ہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ غالباًمولانا حسین احمد مدنیؒ نے شیخ الہند کی تحریک کو سیکولر نظام حکومت کے قیام کی جدو جہد بتا یا تھا جس کے جواب میں مولانا ابو بکر اصلا حی نے ۱۹۷۰ ؁ء سے پہلے کے ’’زندگی‘‘ کے کسی شما رے میں ایک تردیدی مضمون لکھا تھا۔ فلاح میں یہ مضمون میں نے پڑھا تھا۔ ممکن ہے آپ کی اس سے مراد ہندوستان کی آزادی میں مختلف علماء وزعماء کی کوششوں اور کاوشوں سے ہو تو اس میں واضح رہے کہ مدارس کا کیا کردار تھا؟ زیا دہ سے زیا دہ ان شخصیات کا تھا جو مختلف مدارس سے وا بستہ تھیں۔ میرا مقصود یہ ہے کہ جو چیزیں مدارس کے مقاصد واہداف ہی میں مذکور نہ ہوں وہ مدارس کا کردار کیسے شمار ہو سکتی ہیں؟ ماضی میں مدارس کا کو ئی سو چا سمجھا سما جی کردار تھا، نہ اب ہے، اور مو جودہ ہیئت میں مستقبل میں بھی نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ انتہائی عجلت میں بحالت مجبوری ایک دفا عی کو شش تھی جسے آج جب حالات اور خراب ہو گئے ہیں ،اسے مستقل با لذات ایک نظام تصور کیا جا رہا ہے اور اس سے وہ کچھ امیدیں قا ئم کی جا رہی ہیں جو ایک منظم دینی واجتما عی تحریک ہی سے ممکن ہے۔اگر مدارس کے اجتما عی اثرات کا جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ مثبت اثرات تو بہت کم ہیں ہاں منفی اثرات بہت زیا دہ ہیں۔خالص اسلا می نقطہ نظر سے دیکھیں تو محسوس ہو گا کہ مسلکی تعصبات کے استحکام وترسیخ کا کام تو خوب ہوا لیکن حقیقی اسلام کا تعارف، تعبیر و تشریح اور تفہیم کا کام بالکل نہ ہوا، بلکہ الٹا اس راہ میں یہی مدارس اور ان سے منتسبین حائل ہو گئے۔ ہاں ان مدارس سے مسا لک کے علا وہ مختلف شخصیتوں کا قد دراز ہوا اور درازئی قد کے نتیجے میں با ہم ٹکرا

تعارف: admin

x

Check Also

بے گناہ قیدی

نام کتاب: بے گناہ قیدی مصنف: عبدالواحد شیخ ناشر: فاروس میڈیا زبان: ...