بنیادی صفحہ / ایس آئی او / طلبہ و نوجوان سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں: لبید شافی

طلبہ و نوجوان سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں: لبید شافی

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کی دو سالہ میقات کے اختتام پر عبدالقوی عادل (رکن، مجلس ادارت  ماہنامہ رفیق منزل) نے محترم لبید شافی(سابق صدر، ایس آئی او) سے انٹرویو لیا،  جس میں ملک کی موجودہ صورتحال،درپیش چیلنجز اور کرنے کے کام پر گفتگو کی گئی ہے۔۔)ادارہ(

ایس آئی او آف انڈیا کے قیام کے اڑتیس سال مکمل ہوچکے ہیں،تنظیم کی رفتار کار کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

الحمدللہ SIO نے 38 سال مکمل کیے اور سماج کی تشکیل نو کا کام انجام دیتی آ رہی ہے۔ الحمدللہ گزشتہ میقات میں بھی تنظیم کی رفتار اطمینان بخش رہی۔ بعض پہلوؤں سے تنظیم کی رفتار توقع سے بہتر رہی ہے خاص طور پر افراد سازی میں اضافہ ہوا ہے، طلبہ اور نوجوانوں کو مشن سے متعارف کرانے اور متفق بنانے میں کامیابی ملی ہے، خصوصی طور پر نارتھ ایسٹ انڈیا کے علاقوں میں تحریک کا تعارف بہت کم تھا وہاں کافی حد تک تنظیم کا تعارف عام ہوا ہے، طلبہ و نوجوانوں کی فکری رہنمائی کرنے میں کامیابی ملی ہے نیز افراد سازی اور منظم تحریکی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ  میقات میں آپ نے کیا پیش رفت یا تبدیلی محسوس کی؟ کن کن میدانوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں؟

مختلف پہلوؤں سے نئی تبدیلیاں ہوئی ہیں جیسا کہ میں نے نارتھ ایسٹ انڈیا کا تذکرہ کیا کہ تحریکی سرگرمیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے ان شاء اللہ مستقبل میں نارتھ انڈیا میں تحریک مستحکم نظر آئے گی۔دوسری بڑی پیش رفت کیمپس کے تعلق سے ہے کیمپس میں موجودہ ڈسکورس کو مخاطب کرنے کے ساتھ SIO نے نئے ڈسکورس کو موضوع بحث بنایا مثلاً کیمپس میں اسلاموفوبیا جیسے موضوع پر کھل کر بحث ہوئی طلبہ کو Engageکیا گیا۔ کیمپس میں SIO نے یونین الیکشن میں فعال شرکت کی، مختلف کیمپس کے موڈ کے مطابق کہیں پراتحاد تو کہیں آزاد طریقے سے حصہ لیا الحمدللہ اکثر کیمپس یونین الیکشن میں SIO کو کافی حد تک کامیابی ملی،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں بڑی کامیابی ملی۔ ایک خاص پیش رفت HRD کے تعلق سے ہوئی افراد تنظیم کی صالحیت اور صلاحیت پر فوکس کیا  گیا ہے صلاحیتوں کو تعمیری رخ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، Orientaiton Camp اور ورکشاپ کے ذریعے سماجی قیادت کے لیے ماہرین تیار کرنے پر فوکس کیا گیا۔

گزشتہ  میقات کی پالیسی میں ماحولیات کی پالیسی شامل کی گئی تھی۔اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی؟

خلافت الارض کے صحیح تصور کے ساتھ اس پالیسی کو شامل کیا گیا تھا۔ عموماً اس موضوع پر کم گفتگو ہوتی ہے حتی کہ تحریکی حلقوں میں بھی اس موضوع پر بہت زیادہ گفتگو نہیں ہوتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا (سورہ ھود۔۱۶) ”وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا“  قرآن کے اسی عمار ۃ  الارض کے نظریہ کو ڈسکورس بنایا گیا، تحریکی افراد اور عوام کے بیچ اس تعلق سے بیداری لائی گئی، مختلف نیشنل ورکشاپ کے ذریعہ خلافت الارض کے تصور کو عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ الحمدللہ اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی دیکھنے کو ملا۔

 گزشتہ  میقات کی پالیسی میں کیمپسز اور یونیورسٹیز میں کام پر زیادہ زور دیا گیا تھا، اس میں کس حد تک کامیابی ملی؟

 SIO نے ہمیشہ ہی کیمپس ورک پر زور دیا ہے، گزشتہ میقات میں بھی  کیمپسز پر خصوصی توجہ دی گئی، کیمپس کے موجودہ   ڈسکورس کوایڈریس کرنے کے ساتھ ساتھ نئے ڈسکورس کھڑے کرنے اور انہیں موضوع بحث بنانے کی کوشش کی گئی، اسلاموفوبیا جیسے اہم موضوع پر کیمپس میں کھل کر گفتگو ہوئی، کیمپس کے یونین الیکشن میں فعال طور پر شرکت کی گئی،مختلف کیمپسس میں SIO کے نمائندے جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔کئی  کیمپسس  میں افراد تنظیم کیمپس یونین کے بڑے عہدوں پر ہیں اور بہتر کارکردگی انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح سے کیمپس ایکٹوزم کی رفتار بھی بڑھی ہے نیشنل یونیورسٹی کے علاوہ اسٹیٹ یونیورسٹیز میں بھی فوکس کیا گیا۔کیمپسز میں منظم تحریکی سرگرمیاں شروع ہوئیں، کیمپس کے طلبہ کی اخلاقی تربیت کے لیے مختلف پیش رفت ہوئی، کیمپس میں متفقین کی تعداد میں بھی اضافہ ہواہے۔

ملک کے حالات بہت ہی تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہے ہیں، آپ کی نظر میں اس وقت ملک کی طلبہ برادری کو کیا اہم چیلنجز در پیش ہیں؟

 بالکل صحیح بات ہے کہ ملک کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، آئے دن حکومت کے نئے قوانین اورپالیسیزنے جہاں پورے سماج کو متاثر کیا وہیں طلبہ اور نوجوانوں کے سامنے بھی بڑے چیلنجزآ کھڑے ہوئے ہیں۔ بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، 45 سالوں میں پہلی بار بے روزگاری اتنی زیادہ ہوئی ہے۔ طلبہ اور نوجوان بے روزگاری کے مسئلے سے کافی پریشان ہیں۔ ملک کے ناسازگار حالات کی وجہ سے طلبہ و نوجوانوں کا تعلیم سے بھی فوکس ہٹ رہا ہے، تعلیمی پالیسی میں تبدیلیوں نے طلبہ کے فکری ارتقاء کو متاثر کیا ہے، طلبہ اور نوجوانوں میں تعلیم کو لے کر ایک خوف کا ماحول بھی ہے۔ ملک کے موجودہ حالات میں اکثر اصل مدعوں سے دھیان ہٹ جاتا ہے، ایسے میں طلبہ اور نوجوانوں میں حالات کی واقفیت کی کمی اور بصیرت کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، مدعوں کی حقیقت سے واقفیت اور آگاہی بہت ضروری ہے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر سماجی ناانصافی اورانسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں وطن عزیز کے عام طلبہ ونوجوانوں سے آپ کس رول کی توقع کرتے ہیں؟

ملک کے موجودہ حالات کو نظر میں رکھ کر یہ بالکل کہا جا سکتا ہے کہ ان حالات کی تبدیلی میں طلبہ اور نوجوان ایک اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ طلبہ و نوجوان کو چاہیے کہ وہ نظریاتی طور پر بیدار اور آگاہ رہیں کسی بھی مدعا کی اصلیت اور اثرات سے پوری طرح سے واقف ہوں۔سماج کے لیے اپنی ذمہ داری کا احساس ہو نہ صرف یہ کہ تعلیم اور تعلیمی اداروں میں متحرک ہوں بلکہ سوسائٹی کے حالات سے بھی واقف ہوں۔سماج کے مختلف محاذوں  پر قیادت میں حصہ داری ہو اور سماج کو بہترین قیادت فراہم کریں۔سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں،انسانی حقوق کی حفاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ داری ہو، قانون کے صحیح نفاذ کو یقینی بنائیں،قرآن میں خدا کا حکم ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (سورہ مائدہ آیت ۸) ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو“۔میڈیا کے پروپیگنڈہ سے آگاہی ہو، خود بھی آگاہ ہوں اور سماج کو بھی اس کے اثرات سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں۔میڈیا کے اس پروپیگنڈے کامتبادل بھی تلاش کریں، یہ وقت کی ضرورت ہے۔خدمت خلق میں خود کوپوری طرح سے سرگرم رکھیں،قرآن میں بتائے گئے العقبۃ  کا رویہ اختیار کرنا ہے۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے:  “مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا،یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔پھر(اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کوصبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی”۔ (سورہ بلد آیت ۱۱-۷۱)

ملک کی موجودہ صورتحال میں جبکہ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ان کے اندر مایوسی یا جھنجلاہٹ یا کہیں کہیں انتہاپسندی فروغ پا رہی ہے، ایس آئی او اس کے سد باب کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے؟

یقیناً ملک کی موجودہ صورتحال میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسائل ہیں مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں مایوسی کا ماحول بالکل بھی نہیں ہے۔ نا امیدی نہیں بلکہ پر امید ہیں۔آج کے حالات کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ آج مسلم نوجوان کھل کر اپنی بات رکھ رہے ہیں ناانصافی کے خلاف، میڈیا کے پروپیگنڈے کے خلاف، سماجی مسائل پر۔ ان شاء اللہ عدالت، صداقت اور شجاعت کی اصل روح کے ساتھ کام کیا تو یہ مایوسی کی فضا ختم ہو جائے گی۔جن مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ حق کی بات کرنے والے نوجوان ہیں،سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے والے نوجوان ہیں، جو کام آج اپوزیشن کو کرنا چاہیے تھا وہ کام ان نوجوانوں نے کیا ہے حکومت کو ان کی باتوں کو سننا چاہئے۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے سماج کو نئی قیادت بھی ملی ہیں سماج کی خدمت، حق و انصاف کی بات کرنے والے بڑی تعداد میں نکل کر سامنے آئے ہیں۔

 ایسے میں عام لوگوں اورسول سوسائٹی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کا ساتھ دیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ SIOنے ہمیشہ سے ہی طلبہ اور نوجوانوں کی فکر و جذبات کو تعمیری رخ دے کر کام کرنے کی رہنمائی کی ہے، پرامن اور پرسکون طریقہ سے اپنی آواز بلند کرنے کی رہنمائی کی ہے۔

دعوت دین کے محاذ پر بحیثیت مجموعی ملت اسلامیہ ہند اور بالخصوص وابستگان تنظیم کے موجودہ کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

 اسلاموفوبیا کے اس پرفتن دور میں دعوت دین کا کام ملت کے ہر فرد اور وابستگان ِتنظیم کے لیے سب سے اہم ہے۔ دعوت دین تو ہماری اہم ذمّہ داری بھی ہے۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس دور میں ہم دعوت کے کام میں اسلام کیا ہے سے زیادہ اسلام کیا نہیں ہے یہ بتانے میں مصروف ہیں۔یہ دونوں کام اہم ہیں مگر بیک وقت دونوں موضوعات کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی تعلیمات کو کھل کر بیان کرنا ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس بات کی نشاندہی کرتے جانا ہے کہ کون سی باتیں اسلام کا حصہ نہیں ہیں۔مزید یہ کہ دعوت دین کا کام چند رسومات تک محدود نہ ہو عید ملن، افطار پارٹی وغیرہ بلکہ اسلام کی دعوت توحید، رسالت، آخرت پر کھل کر بات کرنے کے لیے دوسرے اہم طریقہ کار بھی اختیار کرنے چاہیے دعوت دین انبیائی مشن ہے۔ ہر فرد کی کوشش ہو کہ وہ اس کام کے لیے جدوجہد کرے۔

جہد مسلسل کے 38 سال مکمل ہونے پر آپ وابستگان تنظیم کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

 ہم الہی ہدایات کے مطابق سماج کی تشکیل نو کا عزم رکھتے ہیں۔ لہذا ہمارے افراد میں الہی ہدایات کا فہم اور اس کی عملی کوششوں کے لیے درکار حکمت ناگزیر ہے۔ اور یہ چیزیں مطالعہ  کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ہیں،مطالعہ کے لئے افراد کو اپنے اپنے میدان منتخب کرنے چاہیے مثلا قرآنیات، سیرت، علم حدیث،علوم شریعہ،دعوت، تاریخ، اسلام و مسلمان، تحریک اسلامی، اسلامی افکار، ہندوستانی سماج، تہذیب و ثقافت، ذرائعِ ابلاغ، سیاسی سماجی و معاشی سمجھ، نظامِ تعلیم کی سمجھ، نظریاتی تعلیم کی تصوراتی سمجھ، مختلف نظریات و افکار کی سمجھ وغیرہ میدانوں میں مہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔فرد کسی ایک میدان کا ماہر ہو لیکن ہر میدان کی سمجھ و بنیادی معلومات ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سماج اور سماج کے لوگوں کے ساتھ ہماری مکمل Engagementہو، حقوق انسانی کی حفاظت، ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے آواز بلند کرنے کی جرأت و ہمت اپنے اندر پیدا کریں۔ اس تعلق سے مجھے وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی توآپ ؐحضرت خدیجہ ؓکے پاس اِس حال میں پہنچے کہ آپ پر کپکپی طاری تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے کپڑا اڑھاو، مجھے کپڑا اڑھاو“ گھر والوں نے آپ ؐ کو کپڑے اڑھائے، حتیٰ کہ آپ ؐکا خوف دور ہوگیا۔ پھر آپؐ نے حضرت خدیجہ ؓ کو تمام واقعہ سنایااور فرمایا:  ”اب میرے ساتھ کیا ہوگا؟ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔“ حضرت خدیجہ ؓنے عرض کیا:”ہرگز نہیں آپ کو یہ خوش خبری مبارک ہو، اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں فرمائے گا، خدا گواہ ہے کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں نادار لوگوں کو مال دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

زوال امت

پروفیسر عبیداللہ فراہی کسی قوم کا زوال اس کی روحانی طاقت کے ...