اچھے رفیق بنیں اور اچھے رفیق چنیں

ایڈمن

محمد اکمل فلاحی عن أَبی موسی الأَشعَرِیِّ: أَن النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: ”إِنَّما مثَلُ الجَلِیس الصَّالِحِ وَجَلِیسِ السُّوءِ: کَحَامِلِ المِسْکِ، وَنَافِخِ الْکِیرِ، فَحامِلُ المِسْکِ إِمَّا أَنْ  ف یُحْذِیَکَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ ریحًا طیِّبۃً، ونَافِخُ الکِیرِ إِمَّا أَن…

محمد اکمل فلاحی

عن أَبی موسی الأَشعَرِیِّ: أَن النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: ”إِنَّما مثَلُ الجَلِیس الصَّالِحِ وَجَلِیسِ السُّوءِ: کَحَامِلِ المِسْکِ، وَنَافِخِ الْکِیرِ، فَحامِلُ المِسْکِ إِمَّا أَنْ  ف یُحْذِیَکَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ ریحًا طیِّبۃً، ونَافِخُ الکِیرِ إِمَّا أَن یَحْرِقَ ثِیابَکَ، وإمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیحًا مُنْتِنَۃً”(متفقٌ عَلَیہِ)

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اچھے دوست اور برے دوست کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا:”اچھے دوست اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی مانند ہے،کستوری اٹھانے والا یا تو آپ کو ہدیہ میں دے دے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا کم از کم اچھی خوشبو تو پائیں گے، جب کہ بھٹی جھونکنے والا آپ کے کپڑوں کو جلا دے گا یا کم از کم آپ اس سے بدبوپائیں گے۔“  اس حدیث میں اچھے رفیق بنانے اور برے رفیق سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

            اچھے رفیق کیوں بنائیں؟ کیوں کہ اچھے رفیق ظاہر و باطن کی اصلاح کرتے ہیں۔ تو کیا آپ اچھے رفیق بنانا پسند نہیں کریں گے؟

            برے رفیق کیوں نہ بنائیں؟کیوں کہ برے لوگوں کی صحبت برائی کا ہی سبب بنتی ہے، اور ہر کسی کو معلوم ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔ تو کیا آپ برے لوگوں کو اپنا رفیق بناناپسند کریں گے؟ کیا آپ خود کو تباہ کرنا پسند کریں گے؟

            اچھا رفیق خدا کی بڑی نعمت ہے۔ اگر آپ اچھا رفیق چن لیں تو آپ کی زندگی سنور جائے۔اگر آپ اچھے رفیق کا انتخاب کر لیں تو آپ کی زندگی میں چار چاند لگ جائے۔ آپ اچھے رفیق کو تلاش کریں۔اچھا رفیق مل جائے تو اس کی قدر کریں۔ آپ برے لوگوں کو اپنا رفیق نہ بنائیں۔ ہاں انہیں اچھا بنانے کی فکر اور کوشش ضرور کریں۔

            سوال یہ ہے کہ اچھا رفیق ہے کون؟ اس کی پہچان کیا ہے؟اس کی خوبیاں کیا ہیں؟

            کیا اچھا رفیق وہ ہے جو آپ کی صرف تعریف کرے؟کیا اچھا رفیق وہ ہے جوآپ کو آداب و القاب سے نوازے؟کیا اچھا رفیق وہ ہے جوآپ کی ہاں میں ہاں ملائے؟کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ اس کی پہچان بڑے بڑے لوگوں سے ہے؟کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاس دولت ہے؟کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاس بنگلہ اور کار ہے؟کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ وہ شہرت والا ہے؟ کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اونچے منصب والا ہے؟کیا اچھے رفیق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اونچے خاندان والا ہے؟

            نہیں یہ اچھے رفیق کی پہچان نہیں ہے۔نہیں، یہ اچھا رفیق نہیں ہے۔اچھے رفیق کی اچھی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اگر وہ ان خوبیوں کا مالک ہے تو اچھا رفیق ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ایک اچھے رفیق میں کون کون سی خوبیاں پائی جاتی ہیں:  

            اچھا رفیق وہ ہے جو غلطیوں کی نشان دہی کرے۔اچھا رفیق وہ ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔اچھا رفیق وہ ہے جو برائیوں سے بچے۔اچھا رفیق وہ ہے جو برائیوں سے بچائے۔اچھا رفیق وہ ہے جو خطروں سے آگاہ کرے۔اچھا رفیق وہ ہے جو جینے کا سلیقہ سکھائے۔اچھا رفیق وہ ہے جو حقیقی کامیابی یعنی آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھائے۔اچھا رفیق وہ ہے جو خیر کے کاموں میں تعاؤن کرے۔ اچھا رفیق وہ ہے جو اچھے کاموں پر ہمت افزائی کرے۔ اچھا رفیق وہ ہے جو اچھا مشورہ دے۔اچھا رفیق وہ ہے جو اچھے مشوروں پر عمل کرے۔ اچھا رفیق وہ ہے جو مایوسی کے وقت امید کی کرن بن جائے۔اچھا رفیق وہ ہے جو غم کی حالت میں خوشی کی بہار بن جائے۔اچھا رفیق وہ ہے جو آزمائشوں میں ساتھ نہ چھوڑے۔اچھا رفیق وہ ہے جو ایثار و قربانی کا نمونہ پیش کرے۔اچھا رفیق وہ ہے جو دل کی بیماریوں (خود غرضی، خود پسندی، بغض و حسد، مکر و فریب، غرور و تکبر) سے پاک ہو۔

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں