بنیادی صفحہ / رزم / کیمپس کا کام

کیمپس کا کام

امین عثمانی

(قسط ۵)

            یونیورسٹی میں 26جنوری کی چھٹی تھی اس لئے ہوسٹل میں رہنے والے اشوک اور راجکمار دونوں نے گھر جانے کا پروگرام بنالیا۔دونوں اپنے بیگ لیے یونیورسٹی ہوسٹل کے گیٹ تک پہنچے ہی تھے کہ اقبال خان (جو اشوک اور راجکمار کے کلاس فیلو تھے) سامنے آتے دکھائی دیے، بولے ارے یار کہاں جارہے ہو دونوں؟ دونوں نے جواب دیا کہ اپنے گھر جارہے ہیں، اپنے گاؤں، وہاں کھیت ہے، ہریالی ہے، تالاب ہے، ندی ہے، باغ ہے، مویشی جانور ہیں، گھی دودھ ہے، تازہ سبزیاں ہیں، خوب مستی کریں گے، ندی کے تازہ پانی سے نہائیں گے۔

            اقبال بولے تو میں کیا کروں، اشوک نے کہا تو بھی اپنے گھر جا، ورنہ ہوسٹل میں رک، ایسے بھی تو پڑھاکو ہے، کہاں گھومتا پھرتا ہے، کتابوں کا کیڑا اور لائبریری کا کھوجی ہے، جا جا کتابیں پڑھ، تجھے گھومنے پھرنے سے کیا لینا دینا۔

            نہ جانے اقبال کے من میں کیا ہل چل ہوئی، بولے، مجھے بھی ساتھ لے چلو، دونوں نے کہا، کوئی بات نہیں، چل آجا ساتھ، میرا گھر گاؤں کا بہت بڑا ہے، ہوسٹل کے چار کمروں کے برابر ایک کمرہ ہے وہاں چل ساتھ۔ تینوں نے تھری ویلر لیا اور شام چار بجے بس اڈہ پہنچ کر ایک بس میں سوار ہوگئے، راستہ لمبا اور کئی گھنٹوں کا تھا۔ بس میں مونگ پھلی کھاتے ہوئے اشوک نے اقبال سے پوچھا ارے یاریہ تو بتا، تو اسلام دھرم کو مانتا ہے، میں ہندو دھر م، کو، تو بھی منش(انسان) ہے اور میں بھی، پھر تجھ میں، مجھ میں کیا انتر (فرق) ہے، میں تیرے ساتھ کھاتا پیتا ہوں اور تو بھی میرے ساتھ، مجھ میں تجھ میں کیا فرق ہے؟ اقبال نے کہا انسان ہونے کے ناطے تو کوئی فرق نہیں، انسان ہونے کی وجہ سے جو ضرورت تیری، وہ میری، مگر دھرم نے جو اپدیش مجھے دیا ہے اس کی وجہ سے مجھ میں، تجھ میں انتر ہے، میں صرف ایک اللہ کو مانتا ہوں اور تو کئی دیوتاؤں کو مانتا ہے، میں قرآن کو اللہ کی آخری کتاب مانتا ہوں اور تو کئی ایسی کتابوں کو مانتا ہے جس میں بہت کچھ بدل دیا گیا ہے اور وہ آسمانی نہیں، تو رسالت کو نہیں مانتا، آخرت کو نہیں مانتا مگر میں توحید، رسالت، آخرت تینوں کو مانتا ہوں، آسمانی کتاب قرآن میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرتا ہوں، آخری نبی نے جو بتایا ہے اس کو جاننے،سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کرتا ہوں، تیرے نزدیک بہت سی چیزیں حلال ہیں لیکن میرے دھرم میں وہ حرام ہیں۔جیسے سود، شراب، جوا، ناپاکی، سوّر، یہ سب تیرے لئے ٹھیک ہے، پرنتو (مگر) میرے دھرم میں حرام ہے، مجھ میں تجھ میں وچاروں کا فرق ہے“۔ اشوک بولا”اچھا! مسلمان، ہندو لڑکی سے شادی کرتے ہیں، لیکن دونوں اپنے اپنے دھرم پر رہتے ہیں تو اس میں کہاں فرق ہے، بیاج پر قرضہ مسلمان بھی بینک سے لیتے ہیں اور ہندو بھی، تو اس میں کہاں فرق ہے، مسلمان اپنی بیویوں کو طلاق دے کر بچوں سمیت گھر سے نکال دیتے ہیں اور ہندو بھی، اس میں کیا فرق ہے؟“اقبال نے کہا، ”ہاں بھارت میں بہت سے مسلمان سیاسی فائدوں یا پیسوں، عہدوں کے لئے یا محبت میں اندھے ہو کر ہندو لڑکی سے شادی کرلیتے ہیں لیکن دھرم کے انوسار (اعتبار) سے یہ غلط ہے۔ اسلام میں یہ وواہ بیاہ ویلڈ نہیں ہے، چاہے بھارتی قانون کی آنکھ میں ویلڈ ہو!“۔راجکمار بولا،”ارے ہندو بھی تو ایسی قوم ہیں جن کے یہاں بھگوان نے مسینجر (پیغمبر) بھیجے، تیری کتاب (قرآن) میں لکھا ہے ناکہ ہر قوم کی طرف ہم نے ڈرانے والا بھیجا اور ہم نے ہر قوم کے لئے رسول بھیجا لیکن سب کے بارے میں اس کتاب میں بتایا نہیں، تو اَوَش (یقینا) ہندوؤں کے لئے بھی بھارت میں میسنجر(رسول) آئے ہوں گے، تب ہی تو ان کی کتابوں (رامائن، گیتا) میں اچھی اچھی باتیں موجود ہیں، ہماری جو کتابیں ہیں اگر تم (مسلمان) ان کو بھگوان کی بھیجی پستک مان لو تو تب تو ہندو مسلمان کے بیچ آپس میں شادی بیاہ ہوسکتا ہے“۔اقبال نے کہا،”ہمارے دھارمک گرو کے وچار میں ہندو اہل کتاب نہیں ہیں، مطلب ان کی کتاب، آسمان سے نہیں اتاری گئی“۔راجکمار نے ہچکولے کھاتی بس سے باہر نظر ڈالتے ہوئے کہا،”ہندوؤں کی دھارمک پستکوں میں محمد(ﷺ) کے آنے کی بات لکھی ہے، تو پھر کیسے وہ آسمانی کتاب نا ہے؟ بس اچانک کسی جگہ رک چکی تھی۔ شاید کسی ڈھابہ پر لوگ چائے کے لئے اترنے لگے تھے۔ اس لئے یہ تینوں بھی اتر کر چائے ناشتہ میں لگ گئے۔

            آسمان پر بادل چھا چکے تھے۔ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی تھی۔ مسافر بس کی طرف رخ کرنے لگے تھے۔ راجکمار نے جلدی سے سگریٹ خریدا اور دھڑا دھڑ کش لینا شروع کردیا۔اقبال نے کہا۔”یار! یہ سگریٹ کینسر پیدا کرتا ہے، گلا اور پھیپھڑے کو متاثر کرتا ہے اسے مت پیو، اس کی جگہ ٹافی یا دھنیا لے لو“۔ اشوک نے کہا،”ہاں اب تو ایک سے ایک قسم کی خطرناک سگریٹ ملنے لگی ہے جس سے دماغ پر نشہ الگ آجاتا ہے اور آس پاس کے انسانوں کو دھویں اور بدبو سے تکلیف الگ ہوتی ہے“۔

            یہ سب باتیں کرتے ہنستے ہوئے تینوں اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ چکے تھے۔ بس سڑک پر دوڑنے لگی تھی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد بس ایک جگہ رک گئی۔ شاید ٹریفک جام تھا اور جام بھی لمبا۔پتہ چلا کہ کسی دلت لڑکے کو اونچی ذات والوں نے کسی جھگڑے میں ماردیا تھا۔ تمام گاؤں کے دلتوں نے اکٹھا ہوکر سڑک جام کردی ہے۔ خیر پولیس جب آئی تو تب راستہ کھل سکا اور بس چلی۔ اشوک بولا،

”یار راجکمار! کیا دلت ہریجن انسان نہیں، ان پر کیوں ظلم ہوتا ہے وہ غریب ہیں، پچھڑے ہیں، ان کے پاس ایجوکیشن نہیں، پیسہ نہیں، اسی لیے؟کیوں آخر لوگ ان کو ستاتے ہیں؟“ راجکمار بولا،”ہماا بھارت اس لیے تو اَن (دوسرے) دیشوں سے پیچھے ہے، یہاں انسانوں کے بیچ بھید بھاؤ، اونچ نیچ کے وچار بہت پھیلے ہوئے ہیں“۔

            تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد بس پھر رک چکی تھی۔ ہر طرف ہنگامہ تھا۔ پتہ چلا جاٹوں نے ریزرویشن کے ایشو پر ریل، روڈ سب دھرنا دے کر جام کررکھا ہے، اور ہر طرف پردرشن (مظاہرہ)ہے۔ آگ، دھواں، شور وہنگامہ بپا ہے، اقبال بولا،”یار! یہاں پیلٹ گن کا استعمال کیوں نہیں ہورہا جس کوکشمیر میں پولیس نے یوز کیا تھا؟“ راجکمار نے جواب دیا،”اس گن کا یوز صرف کشمیر کے لئے ہے، بقیہ بھارتیوں کے لئے پیلٹ گن کا استعمال جس سے آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور آنکھ کی روشنی چلی جاتی ہے، صحت برباد ہوجاتی ہے وہ صرف کاشمیریوں کو ٹھیک کرنے کے لئے کیا جاتاہے“۔ اقبال نے کہا،”ایک ملک کے باشندوں کے ساتھ دو الگ الگ سلوک؟بتاؤ یہ کیسا جسٹس ہے؟“راجکمار بولا،”انصاف کیا چیز ہوتی ہے؟انصاف کون کرتا ہے؟ بھگوان خود انصاف نہیں کرتا!کسی کو آنکھ دیتا ہے کسی کو نہیں دیتا، کسی کو پیر دیتا ہے کسی کو اپاہج بنا کر پیدا کرتا ہے، کسی کو دولت دیتا ہے، کسی کو روٹی بھی نہیں دیتا۔بھگوان کا انصاف کہاں ہے، جو تم انڈین گورنمنٹ کے انصاف کا ایشو اٹھا رہے ہو“۔ پچھلی سیٹ پر دو غیر مسلم بھائی ان لڑکوں کی باتیں سن رہے تھے۔اچانک بھڑک کر غصہ میں بول پڑے، لگتا ہے یہ دیش ورودھی مسلمان ہے۔تب ہی جاٹوں اور ہندوؤں پر پیلٹ گن چلانے کی بات کررہا ہے، اور نیائے(انصاف) کا نام لے کر سرکار کے اچھے کاموں کی برائی کررہا ہے۔ راجکمار نے زور سے جواب دیا”تم سے مطلب؟ہم لوگ فرینڈ ہیں اور کلاس میٹ بھی، ہماری آپس کی باتوں سے تجھے کیا سروکار، تو چپ رہ!“۔

             تینوں بس سے اتر گئے اور کسی کسان کی بگّی (بھینسا گاڑی) پر بیٹھ کر ایک گاؤں کی طرف چل پڑے جہاں راجکمار کے ماما رہتے تھے۔وہ جاٹوں کے لیڈر بھی تھے، اشوک نے کہا،”یہاں رک کر پھر آگے گھر جانے کا راستہ نکالیں گے“۔

            ماما مکیش نے تینوں کو مہمان بنایا، کھلایا پلایا، اور ایک کمرے میں سونے کا انتظام کردیا۔ سب تھکے تھے ہی، جلد ہی نیند آگئی۔ آنکھ کھلی تو رات ہوچکی تھی۔ راجکمار کے ماما اور ان کے بچے بار بار راجکمار کو اٹھارہے تھے۔سب اٹھے، ہاتھ منھ دھوکر دال پنیر، گھی میں تر روٹیاں، بیگن آلو مٹر کا سالن، تلے ہوئے آلو، بھنڈی کی سبزی، دہی، ویج پلاؤ، اچار، پاپڑ، سب کھا کر گرم گرم چائے پی۔ جب سب رات کا کھانا کھا چکے تو راجکمار سے ماما نے کہا کہ جیپ کا انتظام ہوگیا ہے، اس پر بیٹھ جاؤ دو تین گھنٹوں میں گھر پہنچ جاؤگے۔تینوں نے رات ہی میں سفر کیا اور راجکمار کے گاؤں آسانی سے آدھی رات کو پہنچ گئے۔

            پہنچتے ہی سب سوگئے۔ اشوک تو اپنے گھر چلا گیا، وہ بھی اسی گاؤں کا تھا۔صبح ہوچلی تھی مندر کی گھنٹیوں کی آواز سے اقبال کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس کو یاد آیا کہ دوڑ بھاگ اور تھکن میں مغرب عشا کی نماز قضا ہوگئی ہے،۔اس نے نہادھوکر وضو کرکے کپڑے بدل کر جلدی سے فجر کی نماز پڑھی۔ قبلہ کا اندازہ خود ہی کیا۔اس سے بھول ہوگئی اور اذان کی آواز کہیں سے نہ آئی۔ شاید پورا علاقہ غیر مسلم بھائیوں کا تھا۔دنیا جاگ چکی تھی، مرغ بانگ دے رہے تھے، پرندوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ سویرے سویرے اقبال کے لئے گرم گرم چائے آئی، چائے کم دودھ زیادہ۔

            اقبال جب فجر کی نماز خشوع کے ساتھ پڑھ رہا تھا تو راجکمار کے والد اسے غور سے دیکھ رہے تھے، بولے”تم نماج پڑھ رہے تھے، کیا؟ اس میں کیا کیا بول رہے تھے؟“ اقبال نے نماز میں جو آیات تلاوت کی تھیں، سب کا مطلب بتایا۔ یعنی ترجمہ سنایا۔راجکمار کے پتا جی(باپ) نے کہا،”یہ تو سچ مچ اوپر والے کی بات ہے! آسمان والا ہی یہ سب بتا سکتا ہے۔۔۔ پتر! کچھ اور بتا تو قرآن کا نام لے رہا ہے وہ کیا ہے؟“اقبال نے بتایا ”وہ آسمان سے زمین پر بھیجی ہوئی اللہ کی کتاب ہے جو پیارے نبی پر اتاری گئی“۔ راجکمار کے پتا نے کہا،”اچھا، قرآن میں سے مجھے بھی کچھ سنا“۔اقبال نے وہ آیات پڑھنی شروع کی جن کی شروعات”مِن آیاتہ“سے ہوتی ہے جن میں اللہ نے اپنی نشانیاں بیان کی ہیں۔اقبال کو یہ آیات زبانی یاد تھیں۔ اس نے ان سب کا ترجمہ خوبصورت اور سلیس زبان میں سمجھایا تو راجکمار کے پتا سب سن کر رونے لگے۔ آنکھوں میں آنسو آگئے۔بولے پتر!یہ کتاب مجھے بھی دے سکو ہو،پڑھوں،شاید بھگوان میرے من کوشانتی دے اورمجھے پوتر (پاک)بنادے“۔ اقبال نے کہا،”ضرور بھیجوں گا“۔اتنے میں راجکمار اندر سے آیا، بولا”کیا بات چل رہی ہے پتا جی! ماتا جی بلا رہی ہیں آپ کو“۔

            اقبال خان سے راجکمار کے گھر، خاندان، رشتہ داروں نے جمع ہوکر ناشتہ کے وقت اسلام دھرم کے بارے میں بہت سے سوالات کرڈالے۔چار شادی، زیادہ بچے، تعلیم کی کمی، لڑنے مرنے کی عادت، ہندوؤں سے دشمنی، خواتین کی حقوق سے محرومی، اسلامی تاریخ کاخون خرابہ اور جنگوں کے واقعات، ہندو مسلم سماجکے درمیان دوری، ہندو لڑکیوں سے شادی اور لڑکوں سے نہیں، ہندوؤں کے تیوہاروں میں نہ شرکت نہ مبارکباد، گائے کا ذبیحہ، جانوروں کی قربانی کی وجہ، مسلمانوں کے اندر کی لڑائی، دیوبندی بریلوی، وہابی، شیعہ سنی ڈفرنسس(اختلافات)، اکثر مسلمان لڑاکو کیوں ہوتے ہیں، آخری نبی ہندوستان میں کیوں نہیں آئے،مسلمان ہندوؤں کی دھارمک پستکوں کو کیوں نہیں پڑھتے، وغیرہ۔سب نے اتنے سوالات کیے کہ اقبال پریشان ہوگیا۔وہ صرف یہی کہتا رہا کہ مسلمان اپنے خدا اور رسول کے طریقہ پر نہیں ہیں، اور قرآن پر عمل نہیں کررہے ہیں،اس لئے ان میں خرابیاں، برائیاں پیدا ہوگئی ہیں، ورنہ اصل اسلام کو قرآن میں اور محمد صاحب(ﷺ) کے پیغام اور ان کی زندگی میں دیکھئے، اس کو پڑھنے سے کنفیوژن دور ہوجائے گا۔

            اقبال نے دل میں سوچا کہ واقعی ہمیں سنسکرت اور پالی سیکھ کر ہندؤوں کی کتابوں کو پڑھنا چاہئے، باتوں باتوں میں ناشتہ میں کافی وقت لگ گیا، ناشتہ پر اشوک کا بھائی بلراج بھی آگیا تھا، اقبال، راجکمار یہ سب مل کر گاؤں میں نکلے، اور باہر تالاب تک پہنچے ہی تھے کہ ادھر سے اسی گاؤں کی دو تین لڑکیاں آتی دکھائی دیں، اشوک نے بتایا کہ اس میں موہنی اس کے چاچا کی بہن ہے جو آئی آئی ٹی(IIT) میں ریسرچ کررہی ہے، اشوک نے آگے بڑھ کر موہنی کو آواز دی اور بتایا کہ یہ اقبال ہے جو اس کا ساتھی ہے اور ساتھ گاؤں گھومنے آیا ہے۔ یہ سارے تالاب سے مچھلیاں پکڑنے میں لگ گئے۔ دیر بعد اقبال نے کہا،”ندی پر چلتے ہیں وہاں وضو کرکے نماز پڑھ لیں گے“۔

            موہنی نے شام کے ڈنر کی دعوت دیدی، اس کے پتا بہوجن وکاس پارٹی کے نیتا تھے اور گاؤں کے پردھان بھی۔رات کے کھانے پر کیلے کے پتوں پر کھانا پروسا گیا۔ پیتل کے گلاس اور پیتل کے برتن۔ کھانا سادہ تھا۔ دال،روٹی، اچار،ساگ اور آلو کی سبزی۔ کھانے پر موہنی بولی،”اشوک، یہ جو تمہارے فرینڈ ہیں اقبال، یہ دلتوں سے نفرت کرتے ہیں یا محبت؟اگر محبت کرتے ہیں تو اب تک کتنے دلتوں کے گاؤں میں گئے اور لوگوں سے ملے؟ غریب ہریجن بستیوں میں مسلمان تو قدم دھرتے نہیں، نفرت کرتے اور بھید بھاؤ، اونچ نیچ، کو مانتے ہیں“۔اقبال نے شرمندگی سے کہا،”بات سچ ہے، کبھی دلت، ہریجن آبادی میں خود نہیں جاسکا۔لیکن یہ میری غلطی ہے“۔ موہنی نے اقبال سے، اسلام میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں کئی سوال کئے، اقبال نے مطمئن کرنے کی کوشش کی، موہنی نے کہا۔”آپ مجھے اسلام کی وہ کتاب دیں، جو انسانوں کے حقوق کے بارے میں بتا سکے، اسلام اپنے نہ ماننے والوں کے بارے میں کیا کہتا ہے“۔اقبال نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور کتاب بھیجے گا۔اشوک نے بتایا کہ گاؤں کی کئی دلت لڑکیاں الگ الگ یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں، اور اچھے کورسیز میں ہیں، تاکہ بھارت میں وہ اپنا حق لے سکیں۔

            گاؤں میں دو تین دن گزار کر سب لڑکے واپس یونیورسٹی آگئے۔ اب اقبال کے ذہن میں بہت سارے سوالات، خیالات آرہے تھے۔ وہ حامد کے کمرہ کی طرف چل پڑا کہ ہندو بھائیوں، بہنوں کے سوالات کے جوابات دینے کی مناسب تیاری ہوسکے۔ چنانچہ تحریکی حلقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء نے مشورہ کرکے پانچ باتیں طے کیں؛ایک، ایک سوالنامہ تیار کیا جائے جس کے تحت مذہب، اور مذاہب میں اسلام دھرم کے بارے میں غیر مسلم طلباء، طالبات کی رائے حاصل کی جائے۔ کیا انہوں نے اسلام کے بارے میں صرف سنا ہے یا پڑھا بھی ہے، کن کتابوں سے پڑھا ہے، اصل اسلامی مآخذ سے یا دوسروں کی پستکوں سے۔ کیا انہوں نے قرآن پڑھا ہے؟ کیا انہوں نے نبی کی سیرت پڑھی ہے؟ اسلام کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں، اور کیا رائے رکھتے ہیں؟ اسلام کا پیغام، اصول وقانون ان کی نظر میں کیسا ہے؟ کیا مسلمانوں سے ان کا سماجی تعلق رہا ہے؟ان کا مسلمانوں کے اخلاق وکردار کے بارے میں کیا تجربہ رہا؟ مسلمانوں اور دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے درمیان وہ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ کیا انہوں نے صوفیاء کے مزارات کی زیارت کی ہے؟ہندوستانی صوفیاء کے بارے میں وہ کیاجانتے ہیں؟ دو،ڈسکشن کے ایسے پروگرام رکھے جائیں جس میں غیر مسلم طلباء زیادہ ہوں اور پروگرام کا موضوع انسانیت واخلاق کے بارے میں ہو،مثلاً مختلف مذاہب میں انسان اور انسانیت کا مقام، مختلف مذاہب میں اخلاق وسلوک کا تصور۔تین،مطالعہ اسلام کے تحت ہوسٹل میں انعامی مقابلہ رکھا جائے۔اس سلسلہ میں دو تین بنیادی کتاب تعارف اسلام کی دی جائے اور پھر سوال وجواب کے ذریعہ بہتر مطالعہ کرنے والے طلباء کو انعامات دیئے جائیں۔چار،خاص خاص موقع پر ایسے پروگرام رکھے جائیں جس میں باہم قربت پیدا ہو، مثلاً مختلف مذاہب کی مذہبی کتابوں کا تعارف ہو۔ پروگراموں میں بھی غیر مسلم طلباء کو زیادہ سے زیادہ شریک کیا جائے۔قریب کرنے کے مقصد سے ہولی، دیوالی، اور مختلف مذاہب کے تیوہاروں کے تعارف وتاریخ پر بھی پروگرام رکھے جاسکتے ہیں۔پانچ،ہندی اور انگریزی زبانوں میں ایسی دو تین کتاب تیار کی جائے جس میں سوال وجواب کی شکل میں اسلام سے متعلق اعتراضاات کے جوابات عقلی دلائل کے ساتھ دیئے جائیں، جو آسان زبان میں ہو، یہ کتاب طلباء میں برابر تقسیم کی جاتی رہے۔

            تحریکی حلقہ کے طلباء نے انسانی خدمت، بے لوث خدمت کو بھی خاص طور پر مشورہ کا موضوع بنایا کہ سود (انٹرسٹ) کے پیسے جمع کرکے مختلف انسانی خدمت میں خرچ کرکے مستحق طلباء کی مدد کرنی چاہئے۔ مشورہ میں ثقافتی پروگراموں کا بھی ٹاپک (عنوان) آیا کہ ہم کس طرح کے کلچرل پروگرام کریں، ثاقب اعظمی نے کہا کہ غزل، بیت بازی، برجستہ تقریر، نعتیہ مشاعرہ، تمثیلی مشاعرہ، موضوعاتی انعامی مقابلہ، کھیل کود کے مقابلے، یہ سب ہوسکتے ہیں۔ناصر رامپوری نے رائے دی کہ یہ سب اب پرانا ہوچکا ہے۔اب ڈرامہ، دستاویزی فلم، یا تعلیمی ثقافتی فلم، تاریخی فلم، قوالی، یہ سب کیا جانا چاہئے۔اس طرح کے پروگراموں میں ساز کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں۔ساز کے استعمال پر راشد نے اعتراض کیا کہ یہ صحیح نہیں۔ نواب نے بتایا کہ دوسرے ممالک کے تحریکی طلباء ونوجوان، ڈھول، نقارہ، دف، ساز سب استعمال کرتے ہیں۔ بس مقصد اور عنوان اور پیغام اخلاقی و تعمیری ہونا چاہئے۔ حامد نے کہا کہ ثقافتی پروگرام مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں لیکن اصل موٹو،مقصد ونشانہ کیا ہے یہ واضح رہنا چاہئے۔ موسیقی کی ضرورت اگر کسی خاص قسم کے پروگرام میں ہوسکتی ہے تو وہ کیا ہے؟ اس پر گفتگو کریں۔ حامد کے قریبی ساتھی اور فعال کارکن نے کہا کہ جو کام آسانی سے اور فطری انداز میں ہو وہی بہتر ہے، کام میں اخلاص ہو، اسی سے کامیابی ملے گی، طے پایا کہ عالمی تحریک اسلامی کے طلباء میں ثقافتی پروگرام کس طرح کے ہوا کرتے ہیں، اس کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔

            حامد نے پہلا ڈسکشن پروگرام اپنے ہوسٹل کے طلباء کے لئے ”ہم اور ہماری سوچ“ کے عنوان پر رکھا۔ اس ڈسکشن پروگرام میں صرف حامد کے ہوسٹل سے ڈیڑھ سو طلباء شریک ہوئے۔حامد نے ڈسکشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اسٹوڈنٹ ہیں الگ الگ کورس، زبان اور ڈیپارٹمنٹ کے ہیں، لیکن ہم سب کچھ نہ کچھ سوچتے ہیں۔اپنے بارے میں، دوسروں کے بارے میں، کورس کے بارے میں، زندگی کے بارے میں، مستقبل کے بارے میں، مگر سوچتے ضرور ہیں۔ ہم کیا سوچتے ہیں، ہماری سوچ کیا ہے، اس پر ہم سب کو آج بولنا ہے، ہر کورس کے ایک اسٹوڈنٹ کو بولنا ہوگا، پھر اس پر تین اسٹوڈنٹ کوشچن (سوال) کریں گے۔

            سب سے پہلے سنی تھیالوجی کے اسٹوڈنٹ مفتی ماجد قاسمی کھڑے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں۔ سب انسانی حقوق میں برابر ہیں۔ خواہ کسی کا مذہب کچھ ہو، ہم سب کو مل جل کر سکون چین سے رہناچاہئے اور آپس میں لڑنا نہیں چاہئے، سب سے پہلے انسان اور انسانیت اور انسانی خدمت کا کام ہونا چاہئے، پھر جہاں ہم بستے رہتے ہیں وہاں کے ماحول کو خوبصورت، پرکشش، حسین بنانا چاہئے۔ پیڑ لگانے چاہئیں۔ صفائی ستھرائی کا کام کرنا چاہئے۔ ماحول میں گھٹن، کشمکش، تناؤ کے بجائے سکون وآرام اور شانتی بنانا چاہئے۔یہ کیسے ہو یہی ہم سوچا کرتے ہیں۔

            اس کے بعد شیعہ تھیالوجی کے طالب علم سید اسد علی رضوی بولے کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کے اندر یونٹی، اتحاد ہونا چاہئے۔ بڑے مقصد کے لئے سارے فرقوں کو مل جل کر کام کرنا چاہئے۔ آپسی میل ملاپ بہت ضروری ہے۔ شیعہ، سنی دونوں مل کر اگرکام کریں تو طاقت وصلاحیت کا اچھا استعمال ہوسکتاہے۔

            لا فیکلٹی کے اسٹوڈنٹ ہریش دوبے نے کہا کہ ہماری سوچ کے انوسار (مطابق) سب کو برابر کا حق ملنا چاہئے۔ آزادی ملنی چاہئے۔ زندگی گزارنے کے لئے نوکری ملنی چاہئے۔ دھرم کی بنیاد پر ٹکراؤ اور لڑائی ختم ہونی چاہئے۔ مسلمان ہندوؤں کو تنگ نہ کریں، ان پر کمنٹ اور تنقید نہ کریں، ان کا دھرم تبدیل کرانے کی کوشش نہ کریں،تو میرے وچار میں کوئی جھگڑا فساد نہ ہو۔(جاری۔۔۔)

Ameen Usmani

Secretary, Islamic Fiqh Academy, India.

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

طالب علم اور تاخیر لذت

ڈاکٹر آفاق ندیم خان             امریکہ کے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ...