بنیادی صفحہ / نظر / ہائیر ایجوکیشن کمیشن بل: ریفارم یا تعلیمی اداروں میں قبضہ کی کوشش

ہائیر ایجوکیشن کمیشن بل: ریفارم یا تعلیمی اداروں میں قبضہ کی کوشش

شارق انصر

مرکزی حکومت اپنے اقتدار کے چار سال مکمل کرچکی ہے اور اب اقتدار کے آخری مرحلے میں ہے۔ تعلیمی ریفارم کے نام پر مودی حکومت نے کوئی ٹھوس کام اب تک نہیں کیا۔ نئی تعلیمی پالیسی کو لے کر مرکزی حکومت کوئی قابلِ ذکر پیش رفت کرنے میں ناکام ہے اور جس کے نتیجے میں مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل اسمرتی ایرنی کو محکمہ سے ہٹا کر پرکاش جاوڈیکر کو نیا وزیر بنا دیا گیا۔ پرکاش جاوڈیکر نے بھی تعلیمی میدان میں کچھ خاص کارنامہ انجام نہیں دیا جس کے نتیجے میں اب جلد بازی کرتے ہوئے اب حکومت ریفارم کے نام پر الٹے سیدھے فیصلے لے رہی ہے۔


مرکزی حکومت کے ذریعے ۲۷؍جون ۲۰۱۸ء کو اعلیٰ تعلیم سے متعلق ایک ڈرافٹ منظر عام پر آیا جس کا نام ہائیر ایجوکیشن کمیشن بل ہے۔ جس کے مدنظر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی ) کو ختم کرنا ہے یعنی پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت بنے UGC Act 1956کو ختم کرکے HECI-18بل کو لاگو کرنا ہے۔ دراصل اس سے پہلے بھی شیپال کمیٹی، نیشنل نالج کمیشن اور ہری گوتم کمیٹی نے بھی یوجی سی کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔لیکن حکومت نے جس انداز سے اور جلد بازی میں اس کا مسوّدہ پیش کیا اس سے اس کی غیر سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو مودی حکومت کے کئی سابقہ فیصلوں میں بھی نظر آتی ہے۔


۲۷؍جون ۲۰۱۸ء کو اس بل کی تفصیلات کو عوام کے درمیان لایا گیا اور محض ۱۰ دن کے اندر یعنی ۷؍جولائی تک عوام سے رائے مانگی گئی۔ حکومت کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے اتنے بڑے فیصلے کے لیے عوام سے رائے طلب کرنے کے نام پر صرف خانہ پری کی کوشش کی گئی۔ بعد میں جب اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اسے بڑھا کر ۲۰؍جولائی تک کردیا گیا۔اس بل کے خلاف ماہرِین تعلیم نے سخت حیرانی اور غصہ کا اظہار کیا اور اسے بنا ٹھوس تیاری، بغیر رائے مشورے اور جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ قرار دیا۔ دوسری جانب بل میں جو باتیں کہی گئی ہیں اس سے اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ حکومت اس کے ذریعہ تعلیمی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے اور انتہائی محدود اختیارات رکھنے والا ایک کمیشن بناکر چور دروازے سے تعلیمی اداروں کے انتظام و انصرام پر قابض ہونا چاہتی ہے۔جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو دیے جانے والے بجٹ، گرانٹس وغیرہ کا فیصلہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل اور حکومت ہند کرے گی جبکہ کمیشن صرف تعلیم سے جڑے معاملوں پر نظر رکھے گا۔ کمیشن کو تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کی اجازت ہوگی ساتھ ہی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں کو ملنے والے گرانٹس اور الحاق کو ختم کرنے کی سفارش کا حق بھی حاصل ہوگا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں پر جبراً مسلط ہونا چاہتی ہے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کو انجام دلانے کی حکومتی کوشش سے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر ضرب لگے گی جس سے ان اداروں کی آزادی چھن جانے کاخطرہ یقینی ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں بے خوف ہوکر تعلیمی اداروں کا تعلیمی سرگرمیاں انجام دینا مشکل تر ہوگا۔ حکومت کے بجٹ، گرانٹس اور پیسوں سے متعلق ایماندارانہ فیصلہ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس سے تعلیم کا معیار متاثر ہوگا اور حکومت اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی اداروں پر اثر انداز ہوسکے گی۔


اس مجوزہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلبہ کے مفاد کی خلاف ورزی کرنے والے اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معیار میں تخفیف کرنے کی صورت میں کمیشن تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی بھی سفارش کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کمیشن ہی نصاب طے کرے گا اور یہ بھی طے کرے گا کہ طلبہ کیا سیکھیں گے اور کیا نہیں سیکھیں گے۔ اس سے نہ صرف طلبہ کی تخلیقی صلاحیت کو نقصان پہنچے گا، بلکہ تعلیمی اداروں میں آزادی، ریسرچ اور نالج کلچر پر بھی زبردست ضرب لگے گی۔ ہندوستان میں ہر تعلیمی ادارے کی الگ پہچان اور منفرد معیار ہے سب کو ایک ہی رنگ میں رنگنے کی یہ کوشش ہمارے اعلیٰ تعلیم کی خود مختاری اور انفرادیت کو زبردست نقصان پہنچا سکتی ہے۔


ہائیر ایجوکیشن کمیشن بل پر ایک نظر :

  • بل میں تجویز کیے گئے مرکزیت کے خیال سے ملک کی تکثیریت، جمہوری قدروں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
  • پیش کش اور کامیابی پر منحصر فنڈنگ کا نظام پسماندہ سماج سے آنے والے طلباء کو متاثر کرے گا۔
  • مجوزہ قانون اعلیٰ تعلیم کے اصل مقصد علم کے حصول اور تخلیق کے عمل سے زیادہ زور inputاور outputکے عمل پر دیتا ہے، جو تعلیم کے فلسفہ کے مخالف ہے۔
  • اس بل میں مجوزہ کئی شرائط ملک کی ریزرویشن پالیسی اور سماجی عدل کے خلاف ہیں۔
  • مجوزہ قانون، کمیشن کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور ۱۲؍افسروں کی تقرری کے مکمل اختیارات مرکزی حکومت کو دیتا ہے۔ اس میں مرکزی حکومت کے ۲ نمائندے بھی ہوں گے۔ حکومت ملک سے باہر رہنے والے شخص کو بھی چیئرمین بناسکتی ہے جس پر لوگوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔
  • تقررکے لیے بنائی گئی کمیٹی تعلیمی لحاظ سے کمیشن کے چیئرمین، وائس چیئرمین کے تقرر کی اہل نہیں ہے۔
  • مرکز کے دو نمائندے کابینہ سکریٹری اور ایجوکیشن سکریٹری کا کمیٹی میں ممبر کی حیثیت سے رہنا، سبھی فیصلوں پر حکومت کے اثر انداز ہونے کا خطرہ پیدا کرے گا۔
  • مخصوص نظریہ کے ماننے والے سیاسی پارٹی کے حامل لوگوں کو فیصلہ ساز عہدوں پر مقرر کیا جائے گا تاکہ ایک مخصوص نظریہ کی اشاعت کی جاسکے۔
  • کمیشن کی پوری تشکیل اور ڈھانچہ اس طرح کا ہے، جس پر ہمیشہ مرکزی حکومت غالب رہے گی۔
  • کارپوریٹ میدان سے ایک شخص کا بحیثیت ممبر تقرر مرکزی حکومت کے مارکیٹ اور کارپوریٹ ایجنڈے کو صاف ظاہر کرتا ہے۔
  • کمیشن میں صرف ۲؍اساتذہ ہوں گے جب کہ یوجی سی میں کم سے کم ۴؍اساتذہ کے ہونے کی بات کہی گئی ہے۔
  • کمیشن کو صرف حکومت کو صلاح دینے کی طاقت ہوگی، اعلیٰ تعلیم کے لیے فیس طے کرنے کے طریقے اور معیار طے کرنے کا کام کمیشن کرے گا اور حکومت کو صلاح دے گا۔
  • ث تعلیمی اداروں میں ڈونیشن کلچر پر روک لگانے کے تعلق سے UGC Act 1956میں تفصیلی بات کہی گئی ہے لیکن اس بل میں صرف صلاح دینے کی حد تک ہی اسے محدود کردیا گیا ہے۔
  • مجوزہ بل میں کمیشن تعلیمی اداروں کی تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں کا سالانہ ڈاٹا بیس تیار کرے گا اور اس کی رینکنگ کرے گا، لیکن اسے عملی طور پر انجام دینا مشکل ہے۔ اس وقت ملک میں ۷۸۹ یونیورسٹیز اور ہزاروں کی تعداد میں کالجز موجود ہیں۔ ان تمام کا یکساں ڈاٹا بیس تیار کرنا اور اس کا سالانہ جائزہ لینا آسان کام نہیں ہے۔
  • غیر جانبدارانہ طور پر جائزہ لینا جہاں مشکل ہے وہیں میٹرو، شہروں، قصبوں اور گاؤں کے تعلیمی اداروں کے بیچ فاصلہ بڑھنے کا خطرہ ہے۔
  • مجوزہ بل میں سب سے پریشانی کی بات اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے ہوگی جو سب سے زیادہ حکومت کے نشانے پر ہیں اور حکومت من مانے طریقے سے اس کا فائدہ اٹھائے گی۔


یوجی سی کے قیام کا مقصد اور مجوزہ بل کی حکومتی کوشش:


یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قیام ۱۹۵۶ء میں پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر کرنا، اس کی مانٹیرنگ اور دیکھ بھال کرنا تھا۔ یہ کمیشن اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے گرانٹس کی فراہمی، معیار کی جانچ اور اس کی رینکنگ بھی کرتا ہے۔ فرضی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فہرست بھی وقتاً فوقتاً جاری کرتا ہے۔


آزادی کے بعد ۴۹۔۱۹۴۸ء میں مشہور ماہر تعلیم ایس رادھا کرشنن کی قیادت میں اس کے قیام کی کوششوں کا آغاز ہوا اور ملک کی ضرورت کے پیش نظر اعلیٰ تعلیم کے معیار اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کا قیام عمل میں آیا۔ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے ہاتھوں ۲۸؍دسمبر ۱۹۵۳ء میں اس کی سنگ بنیاد رکھی گئی اور ۱۹۵۶ء میں پارلیمنٹ ایکٹ ۱۹۵۶ء کے تحت University Grants Commission Act 1956عمل میں آیا۔پچھلے ۷۰ سالوں سے یو جی سی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنے اور بہتر تعلیمی انفراسٹکچ فراہم کرنے میں سرگرداں ہے۔ اسے ختم کرنے کی سفارشیں پچھلے کئی کمیٹیوں نے دی ہیں، لیکن اس کے بدلے میں اعلیٰ تعلیم کی مانیٹرنگ، معیار، رینکنگ اور دیگر معاملات کا انتظام وانصرام کیسے ہوگا اس پر کوئی ٹھوس حکمت عملی کا خاکہ نہیں پیش کیا گیا ۔ یوپی اے کے دورِ حکومت میں National Council for Higher Education & Resource (NCHER)بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن حکومت اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ۔ UGCکو ختم کرکے نئے کمیشن پر جو دلیلیں دی جارہی ہیں اس پر بھی اب تک کوئی ٹھوس شکل پیش نہیں کی جاسکی۔ کہا گیا کہ یوجی سی تعلیمی معیار اور ریسرچ کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اور یوجی سی کی بیوروکریسی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم میں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔گرانٹس دینے اور رینکنگ کے سلسلے میں کئی خرابیاں پائی گئی ہیں۔حکومت اب نئے حالات میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کا ایک معیار طے کرے گی وغیرہ۔


دراصل ان سب مسائل کا ‘حل یعنی مجوزہ بل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت جلد بازی میں کچھ نیا کرنے کی کوشش میں اعلیٰ تعلیم کا بیڑا غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ جس طرح پلاننگ کمیشن کا نام تبدیل کرکے اُسے نیتی آیوگ بنایا گیا اور حکومت اس میں ناکام رہی اس بات کا اندیشہ حکومت کے اس فیصلے سے بھی ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت پچھلے ۴ سالوں میں تعلیم کے معیار کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی ہے۔ بجٹ میں کمی کی گئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ اور فنڈ کٹ کیا گیا۔ تعلیم کے زعفرانی کرن کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ چار سال میں نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر بھی کوئی ٹھوس چیز نہیں لاسکی ہے جس سے حکومت پر دباؤ ہے۔ اور وہ اسی دباؤ کے تحت جلد بازی میں اسے پیش کر اپنی پیٹھ تھپتھپانا چاہتی ہے۔ ۱۳؍اگست ۲۰۱۵ء میں مشہور ماہر تعلیم اور نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے کہا تھا کہ مودی حکومت میں تعلیمی اداروں کی اکیڈمک خود مختاری کو زبردست خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ حکومت اب اپنے ایجنڈے سے اس بات کو ثابت کررہی ہے۔


ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا نظام دنیا میں تیسرا سب سے بڑا نظام ہے۔ ۱۹۵۰ء سے ۲۰۱۴ء تک ہندوستان میں یونیورسٹیز کی تعداد ۳۴ گنا بڑھی ہے۔ اس وقت ملک میں تقریبا ۸۰۰ یونیورسٹیز اور ۴۰ ہزار کے آس پاس کالجز ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے ہونے کے باوجود ان میں تعلیمی معیار کا فقدان نظر آتا ہے۔ ملک میں بیرونی تعلیمی اداروں کی شاخ قائم کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ موجودہ حکومت بھی یہ کام کررہی ہے لیکن ملک کے تعلیمی اداروں کو عالمی رینکنگ کے برابر لانے کی کوششیں زیادہ منظم طریقے سے نہیں ہوپائی ہیں۔ حکومت صرف چنندہ اعلیٰ تعلیمی اداروں پر فوکس کرتی ہے جبکہ سیکڑوں اعلیٰ تعلیمی ادارے بری حالت میں ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں ملک کی بڑی آبادی پڑھتی ہے۔ اگر ان کے فنڈ انفراسٹکچر، ٹیچرس اور دیگر ضروریات کو پورا کردیا جائے تو ملک میں اعلیٰ تعلیم کا معیار خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

شیخ یوسف القرضاوی اور مسلم دنیا کے مسائل

اشتیاق عالم فلاحی علامہ یوسف القرضاوی ایک جری اور بے باک عالم ...