دنیا چھوٹ جانے والی ہے!

ایڈمن

ڈاکٹر وقار انورانکم لتحرسون علی الامارۃ وستکون ندامۃ (وحسرۃ) یوم القیمۃ فنعم المرضعۃ وبئست الفاطمۃ ۔(عن ابی ہریرۃ: السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث نمبر ۱۷۴۱)’’عن قریب تم امارت کی حرص کروگے اور عنقریب قیامت کے دن یہ امارت ندامت (اور حسرت) کا…

ڈاکٹر وقار انور

انکم لتحرسون علی الامارۃ وستکون ندامۃ (وحسرۃ) یوم القیمۃ فنعم المرضعۃ وبئست الفاطمۃ ۔(عن ابی ہریرۃ: السلسلۃ الصحیحۃ، حدیث نمبر ۱۷۴۱)
’’عن قریب تم امارت کی حرص کروگے اور عنقریب قیامت کے دن یہ امارت ندامت (اور حسرت) کا باعث ہوگی۔ اس لیے کہ دودھ پلانے والی اچھی ہوتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری‘‘۔
آں حضرتؐ کی یہ حدیث ان احادیث میں شامل ہے، جن میں امارت طلب کر کے حاصل کرنے اور اس کی حرص کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ احادیث کے مطالعے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دیگر ذمہ داریوں کی طرح امارت، حکومت، سربراہی اور اقتدار کے لالچ سے ہر شخص کو دور رہنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ فتنے ہیں جو دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ کوئی ذمہ داری مل جائے اور اس کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت کوئی شخص اپنے اندر پاتا ہو تو اسے قبول کر سکتا ہے، لیکن اگر وہ صلاحیت نہ رکھتا ہو تو صاف صاف معذرت کر لینی چاہیے۔


اقتدار حاصل ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے ذاتی اعمال کے ساتھ ساتھ دیگر افراد جن کی سربراہی اسے حاصل ہے کہ معاملات کے لیے بھی جواب دہ ہو جائے۔ ایک مشہور حدیث میں ہے کہ ہر راعی (ذمہ دار) سے اس کی رعیت (ما تحتوں) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ایک اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اس جواب طلبی میں راعی دغا باذ ٹھہرا تو اس کا انجام جہنم ہوگا۔
درج بالا حدیث میں امارت کی حرص کا نتیجہ قیامت کے دن ندامت اور حسرت بتایا گیا ہے۔ قیامت کے دن یہ ذمہ داران اپنے معمورین کے سامنے اس طرح پیش کر دیے جائیں گے کہ اس کا سارا اقتدار ختم ہو چکا ہوگا اور وہ بے بس ہو کر بندگان خدا کے سامنے شرم سار ہو رہا ہوگا اور اس بات کی حسرت ہوگی کہ کاش وہ زمین پر اپنے دور حیات میں امارت کی حرص سے بچا ہوتا۔


زمین پر حاصل ہونے والا اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ اکثر دنیا کی زندگی میں ہی وہ اقتدار چھن جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں تو موت کے بعد کی سزا تو ہر شخص کو چکھنا ہی ہے۔ سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجارہ۔ متذکرہ حدیث میں دور اقتدار کی ان فانی لذتوں اور پھر ان سے محروم ہوجانے کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے۔ گود کے بچے کا وہ زمانہ جب اسے اس کی والدہ یا کوئی اور دودھ پلانے والی خاتون دودھ پلا رہی ہوتی ہے، اس کے لیے وہ بہت مزہ کا ہوتا ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے ، جب اس کا دودھ چھڑایا جاتا ہے، اسے وہ وقت جتنا بھی ناگوار ہو اس کا دودھ چھڑا دیا جاتا ہے۔ یعنی دودھ پلایا جانا کتنا اچھا ہوتا ہے اور اس کاچھڑایا جانا کتنا برا۔ اس مثال کی طرح اگر ہم اقتدار اور دیگر لذتیں فراہم کرنے والی دنیا کو وددھ پلانے والی خاتون کی طرح سمجھ لیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو کچھ اس دنیا میں حاصل ہو رہا ہے، اسے ایک وقت ختم ہوجانا ہے اور ہمارے سب مال و اسباب اور دیگر بندگان خدا پر ہماری سربراہی چھین لی جائے گی اور اس وقت اس بات کا کوئی لحاظ نہیں کیا جائے گا کہ ایسا ہونا ہمیں پسند ہے یا ناپسند ۔


اس حدیث میں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ امارت کی طلب کے اس غلط عمل میں امت مسلمہ مبتلاء ہونے والی ہے۔ ہم اپنے زمانے میں نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں آں حضرتؐ کی یہ پیشین گوئی کتنی درست ہے۔ اس لیے درست رویہ یہی ہے کہ ہر اس کام میں بشمول امارت کی حرص سے بچا جائے جو قیامت کے دن خدا اور بندگان خدا کے سامنے ندامت اور اپنی دنیا کی سابقہ زندگی کے طرز عمل کے سلسلے میں حسرت کا باعث بنے۔

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں