نالندہ یونیورسٹی : ماضی سے حال تک

ایڈمن

طلحہ منان شمالی ہندوستان کے صوبہ بہار کے راجگیر علاقے میں واقع نالندہ یونیورسٹی ایک تحقیقی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور یونیورسٹی ہے جسے ایسٹ ایشیا سمٹ میں حصہ لینے والے ممالک کی حمایت حاصل ہے ۔۲۵؍نومبر ۲۰۱۰؁ ء…

طلحہ منان

شمالی ہندوستان کے صوبہ بہار کے راجگیر علاقے میں واقع نالندہ یونیورسٹی ایک تحقیقی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور یونیورسٹی ہے جسے ایسٹ ایشیا سمٹ میں حصہ لینے والے ممالک کی حمایت حاصل ہے ۔۲۵؍نومبر ۲۰۱۰؁ ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک خصوصی ایکٹ کے ذریعہ یہ یونیورسٹی دوبارہ وجود میں آئی اور اسے “قومی اہمیت کا ادارہ” قرار دیا گیا۔ نالندہ اپنے ماضی میں ایک بہت بڑی اور زبردست تاریخ سمیٹے ہوئے ہے جس کی بنا پر یہ اپنے تمام شعبوں میں کمال تک پہنچنے اور اعلی تعلیم و تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے خواہاں ہے۔ اس یونیورسٹی کے تجویز کردہ بین الحکومتی میمورنڈم پر تقریباً سترہ ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ اب یہ یونیورسٹی دنیا کے ساتھ اپنے کھوئے ہوئے تعلقات اور شراکت داروں کو جو ایشیا میں موجود ہیں، واپس پانا چاہتی ہے۔

قدیم ہندوستان کی تاریخ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نالندہ اس دور میں اعلی تعلیم کا سب سے اہم اور مشہور مرکز تھا۔ اسے گپت سلطنت کے ایک مشہور حکمراں کمار گپت نے قائم کیا تھا۔اس ادارے کی فلاح و بہبود کے لئے کمار گپت کے بعد آنے والے حکمرانوں کی طرف سے بھی پوری مدد کی گئی اور اتنا ہی نہیںبلکہ کمار سلطنت کے زوال کے بعد بھی آنے والی سلطنتوں اور شاہی خاندانوں نے اس ادارے کو دی جانے والی امداد جاری رکھی۔ بدھ مت کے ماننے والے عظیم حکمراں ہرش وردھن نے اس ادارے کے تحفظ کے لئے کافی کام کیا۔ اس کے علاوہ اس ادارے کو غیر ملکی حکمرانوں سے بھی امداد ملتی رہتی تھی۔بدھ مت کے طلبہ کے علاوہ دیگر مذاہب و ممالک کے طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ ہندوستان کی موجودہ بہار ریاست کی راجدھانی پٹنہ سے ۸۸کلومیٹر دور راجگیر علاقے میں مشہور مؤرخ الیگزینڈر نے اس ادارے کے جو باقی ماندہ نشانات دریافت کیے ہیں، ان سے اس ادارے کی عظمت و وقار کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تاریخی کتبوں، کتابوں اور ساتویں صدی میں ہندوستان آنے والے چینی سیاح ہنس آنگ کے سفر ناموں سے اس ادارے کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت یہاں تقریباً دس ہزار طلبہ اور دو ہزار اساتذہ ہوا کرتے تھے۔ خود چینی سیاح ہنس آنگ نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنی زندگی کے دو سال یہاں طالب علم اور استاد کے طور پر گزارے ہیں۔ انہوں نے اپنے سفر ناموں میں نالندہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ہنس آنگ نے لکھا ہے کہ ہزاروں طالب علم نالندہ میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور اسی وجہ سے نالندہ مشہور تھا۔ ہمارا پورا دن مطالعہ میں گزر جاتا تھا، اگر یہاں کسی رائے پر اختلاف ہوتا تو کسی کو اپنی بات منوانے کے لئے مجبور نہیں کیا جاتا تھا۔کسی طالب علم کو مارا پیٹا نہیں جاتا تھا۔غیر ملکی طلبہ بھی یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔آسْنگ نامی چینی مؤرخ نے لکھا ہے کہ یونیورسٹی کے مشہور علماء کرام کے نام یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر جلی حروف میں لکھے جاتے تھے۔نالندہ کی شہرت کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ گوتم بدھ کے سب سے فرما بردار طالب علمــ’ ساری پتر‘ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی اور آگے چل کر بدھ مت کے بہت بڑے عالم بنے تھے۔ ان کی شہرت کے بارے میں جان کر خوداس وقت کا حکمراں اشوک ان سے ملنے آیا تھا اور نالندہ کو کافی مالی امداد دے کر گیا تھا۔

یہ دنیا کی پہلی مکمل طور پر رہائشی یونیورسٹی تھی جہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک مثلاً کوریا، جاپان، چین، انڈونیشیا، فارس اور ترکی وغیرہ سے طلبہ آتے تھے۔ نالندہ کے کچھ مخصوص تعلیم یافتہ گریجویٹ اپنی تعلیم پوری کرنے کے بعد پوری دنیا کے مختلف علاقوں میں جاکر بدھ مت کی تعلیمات کو عام کرتے تھے۔ اسی لئے اس یونیورسٹی کو نویں صدی سے بارہویں صدی تک بین الاقوامی سطح پر خوب شہرت حاصل ہوئی۔

انتہائی منظم اور وسیع علاقے میں واقع اس یونیورسٹی کا کیمپس فن تعمیر کا ایک حیرت انگیز نمونہ تھا۔مکمل کیمپس ایک بڑی اور پختہ دیوار سے گھرا ہوا تھا جس میں داخلے کے لئے ایک مرکزی دروازہ تھا۔ شمال سے جنوب کی جانب مٹھوں کی قطاریں تھیں جن کے سامنے خوبصورت عبادت گاہیں بنی ہوئی تھیں۔ مرکزی اسکول میں سات بڑے کمرے اور تین سو دیگر کمرے تھے جہاں لیکچرز ہوا کرتے تھے۔ ابھی تک کھدائی کے دوران تیرہ مٹھ دریافت ہوئے ہیں۔ ایک مٹھ ایک سے زائد منزلوں پر مشتمل ہوتا تھا جہاں طلبہ کی رہائش کا پورا انتظام کیا گیا تھا۔ہر مٹھ میں ایک کنواں، آٹھ بڑے کمرے جو کہ لیکچرز کے لئے مخصوص تھے، ایک عبادت گاہ اور باغیچہ بھی تھا۔

پوری یونیورسٹی کا ناظم ‘آچاریہ’ یا وائس چانسلر ہوتا تھا، جسے اس وقت کے کچھ مشہور راہبوں کی جانب سے منتخب کیا جاتا تھا۔ آچاریہ دو مشاورتی کمیٹیوں کے مشوروں سے سارے انتظامات کرتا تھا۔ پہلی کمیٹی تعلیم اور نصاب سے جڑے مسائل دیکھتی تھی اور دوسری کمیٹی مالیاتی نظام و دیگر نظم و ضبط کے معاملات پر نظر رکھتی تھی۔ یہ کمیٹی یونیورسٹی کو عطیہ کردہ دو سو گاؤں سے ہونے والی پیداوار اور آمدنی کی نگرانی بھی کرتی تھی۔ اسی آمدنی سے ہزاروں طلبہ کے لیے خوراک، لباس اور رہائش کے انتظامات ہوتے تھے۔یونیورسٹی میں تین قسم کے اساتذہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے جو کہ اپنی قابلیت کے اعتبار سے پہلے، دوسرے اور تیسرے زمرے میں آتے تھے۔نالندہ کے مشہور اساتذہ میں شیل بھدر، دھرم پال، چندر پال، گڑمتی وغیرہ تھے۔ساتویں صدی میں جب چینی سیاح ہن سانگ یہاں آیا تھا، اس وقت یہاں کے وائس چانسلر شیل بھدر تھے جو کہ اس وقت ایک عظیم استاد اور عالم کی حیثیت رکھتے تھے۔ایک قدیم روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ریاضی کے مشہور دانشور آریا بھٹ بھی اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے تھے۔ آچاریہ طلبہ کو زبانی لیکچرز کے ذریعے سکھاتے تھے۔ اس کے علاوہ، کتابوں کی تشریح بھی کی جاتی تھی، درس و تدریس کی کلاسز عام طور پر دن میں ہوتی تھیں اور دن کے آخری پہر میں ہر روز، مطالعہ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی شکایتوں کو سنا جاتا تھا اور ہر ممکن حل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔یہاں ناگا ارجن، وسو بندھو، آسْنگ اور دھرماکیرتی کی کتابوں کا تفصیلی مطالعہ ہوتا تھا۔وید، ویدانت بھی پڑھائے جاتے تھے۔گرامر، فلسفہ، علم جراحت، علم نجوم، یوگا اور طب بھی نصاب کے تحت موجود تھے۔کچھ دانشوران کا خیال ہے کہ نالندہ کی کھدائی میں پائے گئے بہت سے مجسموں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں دھات کے مجسمے بنانے کی سائنس کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہو گا۔۔ یہاں علم نجوم کے مطالعہ کے لئے ایک خصوصی شعبہ بھی قائم تھا۔

داخلہ کے لیے اہلیتی امتحان بہت مشکل ہوتا تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں باصلاحیت طالب علم ہی داخلہ لے سکتے تھے۔ داخلہ کے لئے انہیں تین مشکل ٹیسٹ میں کامیاب ہونا ضروری تھا۔ اچھے اخلاق کا ہونا اور یونیورسٹی کے قوانین کی پابندی کرنا داخلہ کے بنیادی شرائط میں شامل تھا۔ شروع میں طالب علم یہاں صرف اعلی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے لیکن بعد میں یہاں ابتدائی اور ثانوی درجات کی تعلیم کا بھی اچھا انتظام ہو گیا تھا۔
نالندہ یونیورسٹی میں ہزاروں طلبہ اور اساتذہ کے مطالعہ کے لئے ایک نو منزلہ لائبریری تھی جس میں تین ملین سے زائد کتابوں کا مجموعہ تھا۔ اس لائبریری میں تمام موضوعات سے متعلق کتابیں تھیں۔ یہ لائبریری تین بڑی عمارتوں پر مشتمل تھی جن میں پہلی ’رتن رنجک ‘ دوسری ’رتنو ددھی‘ اور تیسری ’رتن ساگر‘ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ’رتنو ددھی‘ لائبریری میں ہاتھ سے لکھی گئی کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ ان میں سے کئی کتابوں کی کاپیاں چینی سیاح اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

طلبہ کی رہائش کے لئے تین سو سے زائد کمرے تھے جن میں ایک یا ایک سے زائد طلبہ کے رہنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ طلبہ کو ہر سال ان کی کارکردگی کے مطابق کمرہ دیا جاتا تھا۔ اس کا نظم و نسق خودطلبہ کے ذریعہ اپنی طلبہ یونین کی رہنمائی میں کیا جاتا تھا۔ یہاں طلبہ کی خوداپنی یونین موجود تھی۔ وہ اپنی یونین کے انتظامات اور انتخابات خود ہی کرتے تھے۔طلبہ یونین طلبہ کے مختلف مسائل مثلاً رہائش اور کھانے کا اچھا انتظام وغیرہ پر نظر رکھتی تھی۔ طلبہ کو کوئی مالی فکر نہیں تھی۔ تعلیم، خوراک، کپڑے، ادویات اور علاج ان کے لئے مفت تھے۔ریاست کی طرف سے دو سو گاؤں بطور عطیہ موصول ہوئے تھے، جن کے کھیتوں کی پیداوار اور اناج سے یونیورسٹی کے اخراجات پورے کئے جاتے تھے۔

تیرہویں صدی تک اس یونیورسٹی کا وجود مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ مسلم مؤرخ منہاج اور تبتی مؤرخ تارا ناتھ کے اکاؤنٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ یونیورسٹی ترکوں کے حملوں کی وجہ سے تباہ ہو گئی۔تارا ناتھ کے مطابق آچاریوں اور راہبوں کے آپسی تنازعات نے بھی اس یونیورسٹی کے وقار کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔اس یونیورسٹی پر پہلا حملہ ہڑ حکمراں مہرکل نے کیا تھا۔۱۱۹۹ ؁عیسوی میں ترک حکمراں بختیار خلجی نے اس یونیورسٹی پر حملہ کیا اور اسے جلا کر پوری طرح تباہ کر دیا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ نالندہ کی عظیم الشان لائبریری کئی مہینوں تک جلتی رہی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اگر اس یونیورسٹی کو تباہ نہ کیا جاتا تو آج یہ دنیا کی سب سے قدیم ترین یونیورسٹیوں ،اٹلی کی بولونا (۱۰۸۸ ؁)، برطانیہ کی آکسفورڈ (۱۱۶۷ ؁) اور قاہرہ کی الاظہر (۹۷۲ ؁) سے بھی قدیم یونیورسٹی ہوتی۔

اس وقت یونیورسٹی کے باقیات چودہ ہیکٹر کے علاقے میں موجود ہیں۔ کھدائی میں دریافت تمام عمارتوں کو سرخ پتھر سے بنایا گیا ہے۔ یہ کیمپس جنوب سے شمال کی جانب بنا ہوا ہے۔ مٹھ یا وہار اس کیمپس کی مشرقی اور مندر مغربی سمت میں ہیں۔ اس یونیورسٹی کیمپس کی سب سے اعلیٰ عمارت ’وہار‘ تھی جس کی دو منزلہ عمارت آج بھی یہاں باقی ہے۔ مؤرخین مانتے ہیں کہ شاید اساتذہ اپنے طلبہ کو یہاں سے خطاب کرتے ہوں گے۔ اس وہارمیں ایک چھوٹی سی عبادت گاہ بھی محفوظ حالت میں موجود ہے جس میں بدھ کی مورت کو رکھا گیا ہے۔ یہی مندر اس کیمپس کا سب سے بڑا مندر ہے۔اس مندر کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی چھت سے پورے علاقے کا ایک نظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ یہ مندر بدھ کی کئی چھوٹی مورتیوں سے گھرا ہوا ہے۔

چونکہ نالندہ تعلیم و علوم سائنس کا قدیم ترین مرکز رہا ہے اسی لئے انٹرنیشنل آرگنائزیشن یو نیسکوکی جانب سے اسے کبھی بھی عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں ہندوستان کی جانب سے یونیسکو کو سفارش بھیج دی گئی ہے۔ ہندوستان کے شعبہ آثار قدیمہ نے اسے’ محفوظ ثقافتی ورثہ ‘قرار دیا ہے اور اس جگہ کی اس کی اصل بناوٹی طرز پر مرمت کرائی گئی ہے۔ یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس کی اصل شکل میں تبدیلی نہ آ سکے۔

نالندہ یونیورسٹی میں فی الحال تین اسکول چل رہے ہیں جو طلبہ کے لئے مختلف کورسز فراہم کرتے ہیں۔ یہ اسکول طلبہ کو ہر طرح کے ماحول میں سیکھنے پر زور دیتے ہیں تاکہ وہ حقیقی مسائل کو جان کر ان کا بہتر حل دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ ان اسکولوں میں تاریخی مطالعات، علم الموسمیات و ماحولیات اور فلسفہ بدھ مت اور موازنہ بین المذاہب کے اسکول شامل ہیں۔ ان سبھی اسکولوں میں طلبہ کا پہلا بیچ ۲۰۱۴؁ میں شروع ہوا تھا۔مستقبل میں نالندہ پانچ مزید سکولوں کی تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں لسانیات اور ادبیات، بین الاقوامی تعلقات اور مطالعہ امن، انفارمیشن سائنس اور ٹیکنالوجی، معاشیات اور مینجمنٹ و عوامی صحت کے اسکول شامل ہوں گے۔ ان تینوں اسکولوں میں یونیورسٹی پوسٹ گریجویشن کورسز یعنی ماسٹرز پروگرام فراہم کر رہی ہے۔یہ اسکول تمام پروگراموں کے ذریعے باہمی یونیورسٹیوں اور اداروں کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ تعاون پر مبنی تحقیق، بیرون ملک تجربات کا مطالعہ، اور غیر ملکی زبان کی تربیت پر زور دیتے ہیں۔ طلبہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بین الجامعات تحقیق پر زور دیں، اپنی پسند کے مطابق اسکول اور پروگرام کو منتخب کریں اور اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیںتاکہ وہ دنیا میں موجود پریشانیوں کا بہتر حل پیش کر سکیں۔

اسکول آف ہسٹورکل اسٹڈیز (تاریخی مطالعات) :

یہ اسکول فیکلٹی کے اراکین اور گریجویٹ طلبہ کی ایک متحرک کمیونٹی ہے۔یہاں طالب علم ایشیائی و غیر ایشیائی ممالک کی ثقافتی و سیاسی، معاشی، زبانی و بصری آرٹس اور مذہبی تاریخ کے اہم پہلوؤں پر ریسرچ کرتے ہیں۔ اسکول طلبہ کے لئے پوسٹ گریجویشن ڈگری کورس یعنی ایم اے چلا رہا ہے جس میں طلبہ عالمی اور موازناتی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بین الاقوامی سطح پر ایشیائی اور عالمی تاریخ کے متعلق ایک مسابقتی پروگرام بھی چلاتا ہے۔ فی الحال نالندہ یونیورسٹی دوسرے اسکولوں اور تاریخی مطالعات کے طلبہ کے ساتھ مل کر زندہ آرکائیو یا محفوظ شدہ دستاویز (Archive Living ) کی تعمیر پر کام کر رہی ہے۔اس کے ذریعہ تاریخی اہمیت کی چیزوں کو تمام شکلوں مثلاً زبانی، بصری اور متنی وغیرہ میں دیکھا جا سکے گا۔ یہ آرکائیو صرف شناختی تحقیق اور تدریس کے علاقوں سے متعلقہ مواد جمع نہیں کرے گا بلکہ مقامی کمیونٹی کے تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے، مقامی سائٹس کے ساتھ تعلقات بھی پیدا کرے گا۔ ان آرکائیو کو آنلائن ہوسٹ کرنے کے بعد یہ صرف نالندہ یونیورسٹی کے طلبہ کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے سبھی طلبہ کو تاریخ کے میدان میں ریسرچ کے وسائل فراہم کرے گا۔

اسکول آف ایکولوجی اینڈ انوارمینٹل اسٹڈیز (علم موسمیات و ماحولیات) :

یہ اسکول ہیومن ایکولوجی، ہائیڈرولوجی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر، موسمیاتی تبدیلی، اور انرجی اسٹڈیز جیسے موضوعات پر مختلف پروگرام چلاتا ہے۔ نالندہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر ایک خوبصورت دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ یونیورسٹی ایک ’’زندہ لیبارٹی‘‘ ہے جس میں جغرافیائی، ماحولیاتی اور موسمیاتی علوم میں تحقیق کر کے طلبہ کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس وقت اس اسکول میں بڑے پیمانے پر زبردست تحقیقات چل رہی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔
1. Transport and retention of engineered nanoparticles in porous media.
2. Transport and leakage of CO 2 gas through heterogeneous subsurface system.
3. Groundwater mapping and well-logging of shallow aquifers.
4. Changing Irrigation Practices and Emerging Sustainability Challenges in South Bihar.
5. Physical and cultural environment of Eastern Himalayas.

فی الحال یہ اسکول دو سال کا پوسٹ گریجویشن کورس (ایم اے اور ایم ایس سی) چلا رہا ہے۔کورس کے آخری یعنی دوسرے سال کے اختتام پر طلبہ کو کسی موضوع پر ریسرچ کرنے کے بعد تحقیقی مقالہ پیش کرنا ہوتا ہے جس کے بعد انہیں ڈگری فراہم کی جاتی ہے۔

اسکول آف بدھسٹ اسٹڈیز، فلاسفی اینڈ کمپیرٹؤ ریلجن (فلسفہ بدھ مت اور موازنہ بین المذاہب) :

یہ اسکول بدھ مت کی تہذیب، فلسفہ اور تاریخ کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے ساتھ دیگر مذاہب کا موازنہ کر کے طلبہ کے اندر تنقیدی تجزیہ کرنے کا فہم پیدا کرتا ہے۔ اسکول قدیم زبانوں کے استعمال پر زور دیتا ہے اور طلبہ کو کم سے کم ایک کلاسیکی بدھ زبان (سنسکرت، پالی، تبتی) یا کسی دیگر زبان کا مطالعہ کرنا ضروری قرار دیتا ہے تاکہ وہ بدھ مت کے قدیم دستاویز اور مذہبی کتابیں پڑھنے کے قابل بن سکیں۔ اس وقت یہ اسکول طلبہ کے لئے ایک پوسٹ گریجویشن پروگرام (ایم اے) چلا رہا ہے۔

نالندہ یونیورسٹی اپنے ہونہار طلبہ، مالی اعتبار سے کمزور طلبہ اور غیر ملکی طلبہ کے لئے مختلف اسکالرشپ پروگرام بھی چلا رہی ہے۔جن میں سے کچھ اسکالرشپ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر دی جاتی ہیں اور کچھ اسکالرشپ کے لئے انہیں باقاعدہ کسی پروجیکٹ وغیرہ پر کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ ان تینوں اسکولوں میں سے کسی بھی اسکول میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ با آسانی نالندہ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ داخلے کا طریقہ کار بہت آسان ہے۔آنلائن داخلہ فارم بھرنے کے بعد طلبہ کو دو مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے مرحلے میں طلبہ کے گزشتہ تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر چنندہ افراد کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔اس کے بعد ان افراد کو انٹرویو میں ان کی پرفارمنس کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے۔
داخلےسےمتعلق مزیدمعلومات کےلئےطلبہ مندرجہ ذیل ایڈریس پر ای میل کر سکتے ہیں۔
[email protected]
اس کے علاوہ دیگر معلومات کے لئے یونیورسٹی کی ویب سائٹ nalandauniv.edu.in پر جا سکتے ہیں۔

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں