2014-15 بجٹ

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

نئی حکومت کی جانب سے نیا بجٹ پیش ہوا تو یہ محسوس ہوا کہ اس میں کوئی نئی بات ہوگی، لیکن بجٹ کے تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ اسی رخ پر ہے، جیسا کہ بجٹ سابقہ ادوار میں بنتا رہا ہے۔ دراصل نرسمہا راؤنے ۱۹۹۱ء میں ملک کی معیشت کو جس راہ پر ڈال دیا تھا، اسی پر بعد کے زمانے کے تمام فائنانس منسٹر اپنے بجٹ کی بنیاد رکھتے رہے۔ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت میں ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے معیشت کی صرف ایک راہ چھوڑی ہے، ہندوستان اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
سب سے اہم سوال بجٹ بناتے وقت یہ پیش آتا ہے کہ سابقہ ترقیاتی منصوبوں اور نئی تجاویز کے لیے فنڈ کہاں سے حاصل ہوگا۔ معیشت کی حقیقی حالیہ آمدنی اتنی نہیں ہوتی ہے کہ وہ ان ضرورتوں کو پورا کرسکیں۔ اس کے لیے ملک اور بیرون ملک سے قرض حاصل کرنے، عوام پر ٹیکس کے بوجھ کا اضافہ کرنے، پرائیویٹ سیکٹر سے سرمایہ کاری کرانے اور دیگر غیر ملکی ذرائع سے سرمایہ کاری کے طریقوں کا عمل ہوتا رہا ہے۔
قرض کے ذریعہ فنڈ حاصل کرنے کے سلسلے میں نئے فائنانس منسٹر نے اپنے بجٹ کی تقریر میں یہ درست بحث کی ہے کہ یہ طریقہ ناپسندیدہ ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں مستقبل کے شہریوں کو مقروض بنانے اور ان کے ٹیکس میں اضافہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس کے حل کے طور پر نئے بجٹ میں تین درج ذیل طریقوں پر زور دیا گیا ہے:
(۱) عوام سے سرمایہ کاری کرانے
(۲) غیر ممالک ذرائع سے راست سرمایہ کاری کرانے (FBI)
(۳) پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے کام کرانے (PPP)
پہلے طریقے کے مطابق بینکوں کی ترقی کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یعنی ملک کے بینکنگ نظام کو بہتر بنانے کے لیے جس مزید فنڈ کی ضرورت ہے وہ ملک کی عوام سے سرمایہ کاری کراکر حاصل کرنے کی تجویز بجٹ میں دی گئی ہے۔
FBIکے سلسلہ میں مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً : انشورنس سیکٹر اور دفاعی ضرورتوں کے لیے اس طریقہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔
PPPسے متعلق مختلف تجاویز رکھی گئی ہیں خصوصاً چھوٹے شہروں کی جدید کاری کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے اشتراک کی بات کہی گئی ہے۔
دراصل FBI اور PPPکے متعلق طریقوں کا ذکر سابقہ کانگریس کی حکومتوں کے ذریعے بھی ہوتا رہا ہے ، البتہ اول الذکر طریقہ یعنی ملک کی عوام سے ملک کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری میں شراکت اس حکومت کی ایک زور دار تجویز ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طریقہ کو نئے پروجیکٹ کے لیے بھی استعمال کیا جائے اور بقیہ دو طریقوں پر انحصار کم سے کم کیا جائے۔
بچت میں گراوٹ:
بجٹ تقریر کے پارہ ۱۹۵ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ملک میں بچت کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ سال ۱۳۔۲۰۱۲ء میں ملک کے اندرونی بچتGBPکا 30.1فیصد تھا جبکہ سال ۱۰۔۲۰۰۹ء میں 33.7فیصد تھا۔ یہ ایک نامناسب رجحان ہے۔ ہندوستان اور چین کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ یہاں کے لوگ بچت کرتے رہے ہیں، جب کہ ترقی یافتہ ممالک امریکہ، جرمنی وغیرہ میں بچت کا رجحان بہت کم ہوگیا ہے۔ مستقبل کی آمدنی کی بنیاد پر حال کی اخراجات میں اضافہ اس منفی رجحان کا سبب ہے۔ افراد، خاندان اور ممالک سب اپنے اخراجات کا بجٹ اپنی آمدنی سے زیادہ بناتے ہیں اور مستقبل کی آمدنی سے اس قرض کو ادا کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی فرد آج ایک کار خریدلے اور مستقبل کے مشاہروں سے اس کی قسط کو ادا کرے۔ اسی طرح خاندان کے تمام سامانِ تعیش کا حصول ہوتا ہے۔ نتیجتاً بچت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بچت کا جو فیصد اوپر درج ہوا ہے وہ دراصل قانونی طور پر مجبور کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ مثلاً ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کے لیے کسی خاص اسکیم میں رقم جمع کرنا یا پراونڈنٹ فنڈ کے لیے جبری وصولی۔ یہ بات واضح ہے کہ ملک کو ترقی کے لیے عوام کی بچت کی اشد ضرورت ہے اور اگرآمدنی کا یہ ذریعہ وافر مقدار میں موجو د ہو تو ترقی فطری رفتار سے بغیر قرض کا بوجھ بڑھائے ہوتی رہے گی۔
بجٹ کی نمایاں خصوصیات:
(۱) شہری علاقوں کی ترقی کا بڑا منصوبہ بنایا گیا ہے اور چھوٹے شہروں میں بھی ان سہولیات کی فراہمی کا ارادہ کیا گیا ہے، جو دنیا کے بڑے ملکوں میں حاصل ہے لیکن اس نقشہ کار میں دیہی علاقوں کی ترقی کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ زیادہ تیز رفتار سے دیہاتوں کو چھوڑ کر شہروں میں منتقل ہوتے چلے جائیں گے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اگر تعلیم، صحت، صاف پانی، اچھی سڑکوں اور ان جیسی بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں تو شہروں کی طرف رخ کر نے کا رجحان بدل جائے گا۔اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ بہت سے لوگ جو اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد شہروں میں بادلِ ناخواستہ رہتے ہیں وہ بھی واپس اپنے گاؤں جانا پسند کریں گے۔
(۲) تعلیم اور صحت کے اعلیٰ مراکز کے قیام کے تحت کئی آئی آئی ٹی (IIT)، آئی آئی ایم (IIM) اور آئی آئی ایم ایس(IIMS) کا ذکر بجٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ حکومت تعلیم اور صحت کے میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتی ہے اور اسے پورا کا پورا پرائیویٹ اداروں کو دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے البتہ پرائمری تعلیم کے ادارے اور چھوٹے چھوٹے دوا خانوں کے قیام کا ذکر بجٹ میں تلاش نہیں کیا ہے۔ اصلاً حکومت کو بنیادی تعلیم پر زیادہ رقم خرچ کرنی چاہیے اور عوام کی عمومی بیماریوں کے لیے ملک کے دور دراز علاقوں میں شفا خانوں کے قیام کو ترجیح دینا چاہیے۔
(۳) اقلیتوں کی موروثی صلاحیتوں کو محفوظ رکھنے اور ان میں اضافہ کرنے کا ذکر بجٹ میں موجود ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں میں چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں پائی جاتی ہیں، جو مناسب سرمایہ اور دیگر مواقع حاصل نہیں ہونے کے سبب ضائع ہورہی ہیں۔ مثلاً مؤ میں زری کا کام، فیروزآباد میں چوڑی کا کام، بنارس میں ساڑیوں کا کام، علی گڑھ میں تالے کا کام، لکھنؤ میں زری کا کام اور اس طرح کی بے شمار چیزیں ملک کے طول و عرض میں سینہ بہ سینہ رازوں کی طرح مختلف خاندان کے افراد میں منتقل ہوتی جاتی ہیں۔ ان کو اگرمحفوظ کرلینے اور مزید ترقی دینے کی باضابطہ کوشش کی جائے اور اس کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے تو صرف یہی نہیں کہ یہ فنون باقی رہ جائیں گے بلکہ بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے ذرائع ختم نہیں ہوں گے۔
(۴) یہ بات اچھی ہے کہ نئے بجٹ میں سابقہ تجاویز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بات کا خطرہ محسوس کیا جارہا تھا کہ اقلیتوں سے متعلق پروجیکٹ میں سرمایہ فراہم کرنے میں کمی کی جائے گی،لیکن ایسا نہیں ہوا، البتہ مدارس کی جدید کاری کے لیے سوکروڑ کی رقم فراہم کرنے کا عقدہ ابھی طشت از بام نہیں ہوا۔ بہار، بنگال اور اس طرح کے دیگر صوبوں میں جہاں سرکاری مدارس پائے جاتے ہیں، وہاں انہیں فنڈ فراہم کرنے کی بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن ملک کے بڑے مدارس جو خصوصاً اترپردیش میں موجود ہیں، اپنی مالی ضرورت کے لیے حکومت کی طرف رجوع کرنے سے مکمل احتراز کرتے ہیں، وہ عوامی چندوں سے چلائے جاتے ہیں۔ ان کی جدید کاری کے لیے حکومت کی طرف سے فنڈ کے نظم کی آخر کیا معنویت ہے۔
(۵) ٹیکس کی چھوٹ جو فراہم کی گئی ہے، وہ لوگوں کی امید سے کم ہے۔ لیکن جو بھی ہے غنیمت ہے۔ ڈائرکٹ ٹیکس کوڈ(DTC)جو دراصل انکم ٹیکس ایکٹ کی نئی شکل ہوگی، کو جلد از جلد نافذ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ میں جو سہولیات موجود ہیں، وہ جاری رکھی جائیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ مذہبی اداروں کو ٹیکس کی جو چھوٹ فلاحی اداروں کے ساتھ ساتھ حاصل ہے، وہ جاری رہے اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ DTCکا جو ڈرافٹ موجود ہے اس کے مطابق اس چھوٹ میں کمی کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
پورے بجٹ کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ ویسا ہی ہے جیسا اس سے قبل ہوتا رہا۔ انتخاب کے موقعوں پر کیے جانے والے دعوؤں اور وعدوں سے قطع نظر بجٹ کی تیاری میں ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے۔ حکمرانی کا فن (Art of Governance) دوسرا ہوتا ہے اور حزبِ مخالف کا انداز دوسرا ہوتا ہے۔ کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں کا فلسفہ معیشت ایک ہی ہے یعنی
اندازِ فکر یکساں ہے اندازِ بیاں اور

ڈاکٹر وقار انور، مرکز جماعت اسلامی ہند
[email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

“کشمیر رک سا گیا ہے” – ملک معتصم خان

کشمیر کے حالات بچشم سر دیکھنے کے بعد ماہنامہ رفیق منزل سے ...