مفلس کے ساتھ آسانی کا معاملہ

مرزا نہال بیگ
مارچ 2025

جو شخص کسی کے ساتھ آسانی کرے گا، دنیا میں کسی کی مدد کرے گا، کار خیر میں حصہ لے گا، خدمت خلق کرے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر آسانی اور اس کی مدد فرمائے گا۔

وَمَن يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ ، يَسَّرَ اللهُ عليه في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ( مسلم ) ” راوی حدیث ابوہریرہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی تنگ دست ( مفلس ) پر آسانی کرے گا تو اللہ تعالی اس کے اوپر دنیا و آخرت میں آسانی کرے گا۔ یہ ایک طویل حدیث کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں تمام مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ دنیا میں اپنے بھائیوں کے کام آیا کرو، ان کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کروتاکہ اللہ تعالی تمہاری مشکلات کو آسان فرمائے۔

”معسر“ اس شخص کو کہتے ہیں جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، اس کے پاس اتنی رقم نہ ہو کہ وہ اس کی ادائیگی کر سکے اور نہ ہی اپنی حالت سدھارنے کی طاقت رکھتا ہو، سماج میں رہنے والے مالدار طبقہ کو اپنی نگاہیں ایسے شخص پر رکھنی چاہئیں جو مالی مشکلات میں گھرے ہوئے ہوں، قرض میں ڈوبے ہوئے ہوں۔ اُن پر توجہ دے کر اپنے مال سے اُن کے لیے آسانی پیدا کرنی چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ اُن کی اپنے بھائی پر یہ آسانی ان کے لیے ذریعہ نجات بنے گی اور اس کے بدلہ میں قیامت میں ہی نہیں دُنیا میں بھی اللّٰہ تعالیٰ اُن کے لیے آسانی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِن كَانَ ذُو عُسرَة فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَیسَرَة وَأَن تَصَدَّقُواخَیرلَّكُم إِن كُنتُم تَعلَمُونَ (بقرہ: ۲۸۰) ” اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور صدقہ کرو توتمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم جان لو۔”

زمانہ جاہلیت میں قرض کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں سود در سود اصل رقم میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا، جس سے وہ تھوڑی سی رقم ایک پہاڑ بن جاتی اور اس کی ادائیگی ناممکن ہو جاتی ، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی تنگ دست ہو تو ( سود لینا تو در کنار اصل مال لینے سے بھی ) آسانی تک مہلت دے دو اور اگر قرض بالکل ہی معاف کردو تو زیادہ بہتر ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ کتنا فرق ہے ان دونوں نظاموں میں ، ایک سراسر ظلم ہے، سنگ دلی اور خود غرضی پر مبنی نظام ہے اور دوسرا ہمدردی و تعاون اور ایک دوسرے کو سہارا دینے والا نظام ہے۔ مسلمان خود ہی اس بابرکت اور پر رحمت نظام الہی کو نا اپنائیں تو اس میں اسلام کا کیا قصور ! کیا ہی بھلا ہو اگر مسلمان اپنے دین کی اہمیت وافادیت کو سمجھ سکیں اور اس پر اپنے نظام زندگی کو استوار کر سکیں۔

حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے گا اور آسانی فرمائے گا۔ بلاشبہ قیامت کی ہولناکیاں بہت زیادہ ہوں گی اور ان کی سختیوں کا اندازہ اسی وقت ہوسکے گا۔ لیکن ایک مومن بندہ قرآنی آیتوں میں مذکور ان سختیوں کو پڑھے گا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے ، قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: المُلْک يَوْمَئِذٍ نِ الْحَقُّ لِلرَّحْمَنِ وَ كَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِينَ عَسِيرًا ( الفرقان : ۲۶)’ اس دن حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی اور کافروں پر وہ بڑا سخت دن ہوگا ‘۔ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْم عسير (المدثر : ۸-۹) ‘اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی ، وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا’۔ ان تعلیمات کی روشنی میں یہ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی کے ساتھ آسانی کرے گا، دنیا میں کسی کی مدد کرے گا، کار خیر میں حصہ لے گا، خدمت خلق کرے گا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر آسانی اور اس کی مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

حالیہ شمارے

جدید تہذیب اور اسلامی اخلاق

شمارہ پڑھیں

عام انتخابات کے نتائج 2024 – مستقبل کی راہیں

شمارہ پڑھیں