غزل

ایڈمن
نومبر 2013

مجھ کو دے دو سزائے پھانسی اب بات حق تھی زباں پہ آئی ہے ہم نے دامن بھرا ہے کانٹوں سے تم نے پھولوں سے بیر کھائی ہے دیکھو قاتل پھرے ہے آوارہ موت حصے میں میرے آئی ہے تہمتوں…

مجھ کو دے دو سزائے پھانسی اب
بات حق تھی زباں پہ آئی ہے
ہم نے دامن بھرا ہے کانٹوں سے
تم نے پھولوں سے بیر کھائی ہے
دیکھو قاتل پھرے ہے آوارہ
موت حصے میں میرے آئی ہے
تہمتوں کا اثر کہاں ہوگا
ہم نے جینے کی قسم کھائی ہے
جاؤ تم سے قطع تعلق ہے
تم نے قیمت مری لگائی ہے
سارے نقد اور تبصرے ہم پر
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
ہم نے کانٹوں کو روند ڈالا ہے
تم نے پھولوں سے چوٹ کھائی ہے
آنسوؤں سے فضا معطر ہے
کیا سحر نے غزل سنائی ہے

نجم السحر، الجامعۃ الاسلامیۃ شانتاپرم کیرلا

حالیہ شمارے

جدید تہذیب اور اسلامی اخلاق

شمارہ پڑھیں

عام انتخابات کے نتائج 2024 – مستقبل کی راہیں

شمارہ پڑھیں