بنیادی صفحہ / فکر / ہمارا ہر کام ہماری فکر کا عکاس ہونا چاہیے: سلمان احمد

ہمارا ہر کام ہماری فکر کا عکاس ہونا چاہیے: سلمان احمد

صدر تنظیم برادر سلمان احمد سے خصوصی انٹرویو

برادر سلمان احمد کومیقات ۲۰۲۱-۲۲ کے لئے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او )کے کل ہند صدر کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے۔اس موقع پر ادارہ رفیق منزل کی جانب سے موصوف سے خصوصی انٹرویو لیا گیا اورمختلف تنظیمی،تحریکی اور سماجی موضوعات پر ان سے گفتگو کی گئی۔افادہ عام کے لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔


میقات رواں میں تنظیم کے چالیس سال مکمل ہو رہے ہیں، اس سفر میں تنظیم کی رفتار کیسی رہی؟ مستقبل قریب میں آپ تنظیم کو کہاں دیکھتے ہیں؟
شاید بہت سے دوستو ںکو ہمارا جواب ناگوار گزرے لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تنظیم کی رفتار اچھی نہیں رہی ہے۔ جو ذمہ داری ہم پر ہے اور جو مواقع اس ملک میں ہمیں حاصل ہیں اور ماضی میں بھی رہے ہیں اس اعتبار سے جو کچھ ہم کو کر لینا چاہیے تھا ،بڑی حد تک ہم اس کو نہیں کر سکے ۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ تنظیم نے اپنے چالیس سالہ سفر میں بڑے کام نہیں کیے ۔ یقیناً بہت سے کام کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کی ہماری رفتار متاثر رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ مستقبل قریب میں تنظیم کو دیکھنے کا تعلق بھی اصلاً اسی بات سے ہے کہ ہم اپنے نظریے کو ،اپنی فکر کو کتنے بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور سماج کو سمجھا نے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ہم کتنے بہتر انداز میں اپنے نظریے کو،اپنے کاموں کو سماج سے مربوط و متعلق بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور پھرکیسے اس پوری جدوجہد کے ذریعے سے راے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرتے ہیں۔یہ چیزیں طئے کریں گی کہ مستقبل میں تنظیم کہاں کھڑی ہوتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا بڑا دعویٰ کرنا کہ ہم مستقبل میں بہت اچھی پوزیشن میں ہوں گے یا پھر یہ بات کہنا کہ ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔اصلا ًیہ ہماری حکمت عملی،جدوجہد اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پرمنحصر ہے۔


اس دو سالہ میقات کے لیے کیا خاص ترجیحات متعین کی گئی ہیں؟ اور لانگ ٹرم پلاننگ میں کیا شامل کیا گیا ہے؟
لانگ ٹرم پلاننگ کے سلسلے میں جو چیز ہمارے پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ تحریک اسلامی کے آئیڈیا پر ازسر نو غور کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ موجودہ حالات میں تحریک اسلامی کیسی ہو، اس کی زبان اور بیانیہ کیساہو، اس کے تنظیمی خد و خال کیسے ہوں، ہم تحریک کے بیانیہ کو سماج سے کس حد تک، کیوں اور کیسے ہم آہنگ بنائیں، نیز ہم سماجی تبدیلی کی حرکیات اور تقاضے کو سمجھیں اور اس حوالے سے تنظیم کے مشن، اپروچ، اور لینگویج پر مستقل غور و خوص کرتے رہیں۔ ان امور پر اسٹڈی کا کام شروع ہوا ہے اور اس سلسلے میں شوریٰ کے خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوں گے ا ن شاء اللہ۔ دوسری بات ترجیحات کے حوالے سے یہ ہے کہ مختلف میدانوں میں اپنے ممبران کی بھی اور عام نوجوانوں کی بھی استعداد سازی پر توجہ دی جائے گی ۔ صلاحیتوں کی شناخت کے بعد اسے پروان چڑھایا جائے گا تاکہ مختلف میدانوں کے ماہرین تیار ہوسکیں۔اسی طرح فکر اسلامی کی تشکیل و ارتقاء، تنظیم کی توسیع و استحکام اور دعوت دین کے عمومی مزاج اور رجحان نیز ملت میں داعیانہ کردار کی بحالی بھی خاص طور پر ہمارے پیش نظر ہے۔


گذشتہ کئی میقاتوںمیں ملک کے حالات کی وجہ سے وابستگان تنظیم پولیٹیکل ایکٹوزم کی جانب زیادہ راغب رہے ۔آپ کی رائے میں تنظیم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ اس سلسلے میں میقات رواں کا کیا پروگرام ہے؟
یہ ایک بہت پیچیدہ سوال ہے اور اس کا کوئی جواب ہاں یا ناں کی شکل میں نہیں دیا جا سکتا ہے کہ آیا بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے یا اس نے تنظیم کو نقصان پہنچایاہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے حالات کے اعتبار سے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔یقیناً اس کے نتیجے میں تحریک کی outreach بڑھی، سماج سے تعلق مضبوط ہوا اور ہم کیمپسوں میں penetrate کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن اس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کا احساس ہے کہ ہمارے بہت یا بعض کام متاثر بھی ہوئے اور یہ فطری بات ہے کہ آپ ایک کام کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں تو دوسرے کام متاثر ہوسکتے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مجموعی حیثیت میں جو ہمارا پولیٹیکل ایکٹوزم رہا اس نے تنظیم کے لیے خیر کی کئی نئی راہیں ہموار کی ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ اس کے دعوتی بیانیے پر کیا اثرات مرتب ہوئے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں دعوت بمقابلہ سیاست کااپروچ صحیح نہیں ہے، ہم تو اسلام کو ایک کُل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو یقیناً ہماری سیاست اورپولیٹیکل ایکٹوزم میں دعوت شامل ہے اور جب ہم اپنے دعوتی بیانیے کو تشکیل دیں گے تو وہ بھی سماج کے سیاسی حقائق سے آنکھیں بند کر کے نہیں دیں گے ۔یہ پہلو ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے ۔اس سلسلے میں اس دفعہ ہم زیادہ توجہ سیاسی استعداد سازی پردیں گے اور اس کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی سمجھ بوجھ پیدا کریں۔سیاسی شعور کو ترقی دی جائے اور لوگ سیاست کو اس کے جامع تصور کے ساتھ دیکھنے کے عادی بن جائیں۔دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ سمجھ پیدا ہوگی تو پھراس سمجھ کے اعتبار سے ہم اپنی سیاسی استعداد کو بڑھانے کی پوزیشن میں ہوں گے ۔فی الحال جہاں ہم ہیں اور جہاں پہنچنا چاہتے ہیں ان دونوں کے درمیان طویل فاصلہ ہے اور یہ فاصلہ صلاحیت اور صالحیت کے ذریعے سے طے پاسکتا ہے۔اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہماراہر کام ،ہماری فکر کا عکاس ہونے چاہیے ۔ہمارے سیاسی بیانات ہماری فکر و عقیدہ کی عکاسی کرنے والے ہوں اور اس کے نتیجے میں ہمارے پیغام کے لیے مثبت تبدیلی آرہی ہے تو اس سے زیادہ مستحسن کوئی چیز نہیں ہے ۔لیکن اگر ہمارا پولیٹیکل ایکٹوزم ہماری فکر کی عکاسی نہ کرے اور لوگوں کو اسلام سے قریب کرنے کے بجائے اسلام سے دور کرنے کا سبب بنے تو پھر ایسی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


اس میقات کی پالیسی میں اسٹیٹ اور پولیٹیکل ایکٹوزم سے سوسائٹی اور سوشل ایکٹوزم کی جانب رخ تبدیل ہوتا محسوس ہورہا ہے ۔اگر ایسا ہے تو اس کی وجوہات کیا رہیں اور اس سلسلے میں وابستگان سے کیا مطلوب ہے؟
اس شفٹ سے یہ مراد تو بالکل نہیں ہے کہ ہم سیاسی میدان میں کام نہیں کریں گے یا سیاسی مسائل پر بات نہیں کریں گے بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست خود بھی سماج ہی کا ایک حصہ ہے اور پھر ہم یہ بھی سمجھتے ہیں اور سمجھانا چاہتے ہیں کہ سیاست محض انتخابی سیاست یا الیکشن تک محدود نہیں ہے بلکہ اپنے آپ میں ایک وسیع چیز ہے جس میں انتخابی اور غیر انتخابی دونوں قسم کی سیاست شامل ہے۔اگر آپ سیاست کو اس حیثیت سے دیکھیں تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔البتہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کہیں نہ کہیں ہمارے ڈسکورس میں بھی حکومت،انتخابی سیاست اور ان سے جڑے مسائل کو ضرورت سے زیادہ مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے اس چیز پر ازسر نو غورکیا جانا چاہیے ۔اور ہمیشہ ہم احتجاجی سیاست اورتصادم کے موڈ میں رہیں یہ مناسب نہیں ہے ۔اســ’’ مخصوص سیاسی دنیاـ‘‘ سے باہر بھی ایک بڑا سماجی میدان موجود ہے جس میں کام کرنے کی ضرورت ہے، ہم اس پر بھی توجہ دیں۔لیکن اس کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ ہم ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے اور ان مسائل سے جن سے ہم انگیج ہوتے رہے ہیں بالکل ڈس انگیج ہوجائیں گے۔


ملک میں بڑھتے ہوئے پولرائزیشن کو روکنے کے لیے عام طلبہ برادری اور امن پسند شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟ اس سلسلے وابستگان تنظیم کا کیا خاص رول ہونا چاہیے؟
دیکھیے ملک میں پولرائزیشن ہو یا نہ ہو فرقہ واریت ہو یا نہ ہو،بحیثیت مسلمان دعوت دین ہماری ذمہ داری ہے ۔تو ظاہر سی بات ہے کہ حالات سازگار ہوں تب بھی یا ملک میں نفرت کا ماحول ہو تب بھی ہمارا بنیادی کام تو یہ ہے کہ ہم دین کے بنیادی پیغام کو تمام لوگوں تک پہنچائیں اور جب ہم یہ کام کریں گے تو وہ صبر و حکمت کے ساتھ بھی ہوگا اور دل سوزی و نرمی کے ساتھ بھی ۔ لہٰذاپہلی اور اولین بات تو یہ ہے کہ ہم داعیانہ مزاج پیدا کریں، اپنے اندر بھی اور ملت کے اندر بھی۔دوسری بات یہ کہ ملک میں سیاسی ایجنڈا کے تحت اسلاموفوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے ہمیں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہوگا۔
اسی کے ساتھ ہم سمجھتے ہیں کہ ghetoization ایک بڑا مسئلہ ہے ۔اس سلسلے میں (افراد کے درمیان ) ذاتی روابط کو فروغ دینا ہوگا۔ہمیں ایک ایسی سیاسی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے کہ جہاں ایک طرف ہم اپنے حقوق کی بات کریں وہیں اس بات کا بھی خیال رکھیںکہ ہمارے حقوق کی بات صرف ہم تک ہی محدود نہ رہ جائے بلکہ ملک کی ایک بڑی آبادی جو مظلوم ہے اور مختلف حوالوں سے مسائل کو جھیل رہی ہے ان کو بھی ساتھ لیا جائے ۔لوگوں کو اہم مسائل کی جانب متوجہ کیا جائے ۔اور ایسا نہ ہو کہ ہم ظلم سے نفرت کرتے کرتے ظالم سے بھی نفرت کرنے لگ جائیں اور پھر ظالم ہی سے نہیں بلکہ ظالم کی ساری کمیونٹی سے نفرت کرنے لگ جائیں اور پھر اسی کو ہی قوم و ملت کی خدمت سمجھنے لگیں۔


مسلم نوجوانوں میں اپنی شناخت پہ اصرار (Identity assertion) کا رویہ بڑھ رہا ہے ،اسے آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
ہم ان اصطلاحات میں بات نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جب ہم ان اصطلاحات کے چکر میں پڑتے ہیں تو ہر کوئی اس کی اپنی تعریف اور اپنی تعبیر لے کر آتا ہے اور اس کی بنیاپر اُس کے فوائد و نقصانات گنواتا ہے ۔ اس سوال کو اصطلاح سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ شناخت کے حوالے سے اسلام کا جو نظریہ ہے یا ہمارا جو تصور وہ یہ ہے کہ شناخت ہمارے عقیدے سے اور ہمارے اصولوں سے قائم ہوتی ہے ۔تو جب آپ identity assertion کی بات کریں اور وہ identity عقیدے اور اصولوں کی بنیاد پر ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔وہ تو ایک مستحسن چیز ہے ۔خود قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ اس شخص سے بہتر کس کی بات ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔لیکن آپ ابتداء کے دونوں کام کریں بھی نہیں ،اس پرتوجہ بھی نہ ہو، نہ اللہ کی طرف بلانے کی فکر ہو اور خود آپ کا کرداربھی ایسا نہ ہو جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ یہ نیک کردارہے اور پھر آپ محض یہ کہتے رہیں کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں اور چونکہ میں مسلمان ہوں اور مظلوم بھی اس لیے حق ہر معاملے میں میرے ہی ساتھ ہے تو یہ دعویٰ فائدہ مند نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی سیاسی زبان کے اثرات کو دیکھنا چاہیے ۔اس اصطلاح سے اوپر اٹھ کر اگر کسی سیا سی ڈسکورس کے نتیجے میں ہمارے اندر بھی نفرت پیدا ہورہی ہے، ہمارے اندر یہ حوصلہ پیدا نہیں ہورہا ہے کہ ہمیں ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنی ہے، ظالم کا ہاتھ پکڑنا ضرور ہے لیکن عصبیت کی بنیاد پر توڑنا نہیں ہے، اس سے نفرت نہیں کرنی ہے ۔اگر ہم ہر چھوٹے بڑے ظالم اور سیاسی مخالف کو فرعون وقت سمجھتے ہوئے بنی اسرائیل کی نجات کا نعرہ تو بلند کرتے رہیں لیکن خود موسوی کردار، موسوی دعوت و طریقہ دعوت سے کوسوں دور رہیں تو یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں ہو سکتی۔
اس طرح مسائل کے سلسلہ میں سیاسی یا سماجی دبائو یا سادہ لوحی کے تحت ایسا ڈسکورس کھڑا کرنے کی کوشش کرنا جس میں آپ مسائل کی اہم بنیادوں یا ان میں سے کسی بنیاد کے وجود ہی سے سرے سے انکار کردیں جیسا کہ بعض حضرات شناخت سے جڑے ہر سوال کے سلسلہ میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو ایک نان اشو یا غیر حقیقی مسئلہ کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ دوسرے قسم کی شدت پسندی اور زیادتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہمیں ان دونوں انتہاوںسے بچنا چاہیے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ (شناخت پر )اصرارکے نام پر ہم کر کیا رہے ہیںیہ اہم ہے ۔یہ اہم نہیں ہے کہ آپ کیا اصطلاح اور الفاظ استعمال کررہے ہیں،اگر وہ چیز لوگوں کو ہم سے قریب کرنے کے بجائے متنفر کررہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ چیز نہ صرف یہ کہ نظریاتی سطح پر صحیح نہیں ہے بلکہ ملک میں مسلم اقلیت کے لیے تو حکمت عملی کے نقطہ نظر سے بھی نقصاندہ ہے۔

ملک و بیرون ملک میں اسلاموفوبیا بڑھ رہا ہے ۔اس کو کیسے روکا اور کاونٹر کیا جاسکتا ہے؟
اسلاموفوبیا کے کئی اسباب ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ سیاسی ایجنڈا کے تحت قصداًاسلام سے ،مسلمانوں سے نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے تو ہم کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ یہ محض کوئی ردعمل والی بات بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں نے چونکہ دعوتی کام نہیں کیے ہیں اس لیے اسلاموفوبیا ہے ،بلکہ اس کے پیچھے ایک متحرک سیاسی ایجنڈاہے اس کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ اسلاموفوبیا کو جو لوگ پھیلا رہے ہیں وہ چار پانچ چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ایک ہے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا ۔دوسرا اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کچھ بڑی بڑی چیزوں کو غلط انداز میں پیش کرنا۔مثلاً اسلام میں عورت کا مقام وغیرہ ۔دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے اور لوگوں میں پائے جانے والے اشکالات اور عدم تحفظ کے جذبات کو استعمال کیا جاتا ہے کہ مسلمان لو جہاد کررہے ہیں یا آبادی کے حوالے سے جھوٹ پھیلایا جاتا ہے ۔اس قسم کے پروپیگنڈہ کو کاونٹر کرنا چاہیے اور حکمت کے ساتھ ان کے جوابات دینے چاہیے ۔ اسلاموفوبیا کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ghettoization بہت زیادہ ہے اوربالخصوص سماج میں،شہروں میں،کیمپسوں میںافراد کے مابین ذاتی روابط نظر نہیں آتے۔ لوگ ghettos میں رہنے کے عادی ہوگئے ہیں یا ان کو مجبور کردیا گیا ہے ۔ہم کو ان ghettos سے باہر نکل کر لوگوں تک پہنچنا پڑے گا تبھی one to one contact بڑھے گا، ڈائیلاگ ہوگا، گفتگو ہوگی تو مختلف سطح پر اس کو کاونٹر کیا جاسکتا ہے ۔ساتھ ہی سیاسی سطح پر بھی ہم کو ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں نفرت پھیلانے کی کوشش ناکام ہو۔ ہوتا یہ ہے کہ جب سیاسی سطح پر نفرت کو سرپرستی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اثرمیڈیا،سوشل میڈیا اور لوگوں کے پرسنل ڈسکشن میں نظر آتا ہے تو سیاسی سطح پر بھی اسلاموفوبیا کو کاونٹر کرنے کے لیے کچھ مثبت ایجنڈا سیٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


عام طلبہ و نوجوانوں میں دعوتی سوچ اور اپروچ کو کیسے فروغ دیا جائے ؟نیز دعوت، ہماری سرگرمیوں کا مرکزی عنوان کیسے بنے؟
اس کا ایک تعلق تو اس بات سے ہے کہ ہم کتنی سنجیدگی سے دعوت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں کتنا سوز و درد ہمارے دلوں میں موجود ہے ۔اگر ہم انسانوں سے ہمدردی نہیں رکھتے، ان سے محبت نہیں کرتے، ان کی آخرت کو بچانے کی فکر نہیں ہے تو پھر چاہے کتنے ہی طریقے بتادئے جائیں(لیکن اس سے) کوئی خاص چیز حاصل نہیں ہوتی ۔ داعیانہ سوز اور تڑپ دلوں میں پیدا ہونی چاہیے اور احساس ذمہ داری ہونا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب احساس ذمہ داری ہو تو دین کا صحیح فہم، اور دین کے صحیح فہم کے ساتھ ساتھ جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں اس کا بھی صحیح فہم ہم کو حاصل ہو۔ہم انسانوں تک پہنچتے رہیں، ان کے ساتھ انگیج ہوںاور جب کسی فرد سے بات کریں یا کسی کمیونٹی سے تو اس کا سماجی ،مذہبی بیک گراؤنڈ جس کے نتیجے میں اس کا مکمل زاویہ نظر تشکیل پاتا ہے،کی بھی بہتر اسٹڈی ہمارے پاس ہونی چاہیے ۔اکیڈمک سطح پر بھی کام کی بہت ضرورت ہے( کیونکہ) اب تک ہم وہ لینگویج ڈیولپ نہیں کرسکے ہیں جس کے ذریعے سے ہم ایک عام ہندوستانی سے رابطہ استوار کرسکیں۔لہٰذا لینگویج ڈیولپ کرنا اور پھر اس لینگویج کے ذریعے لوگوں تک پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے ۔نیز وقتی سیاسی مسائل کو ڈیل کرتے ہوئے ہمارا یہ کام دب نہ جائے یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔یہی کام ہمارے کرنے کا بھی ہے اور یہی کام ملت کے باقی طلبہ و نوجوانوں کے کرنے کا بھی ہے۔


تنظیمی کلچر کیسا ہونا چاہیے؟
تنظیمی کلچر کے سلسلے میں کئی تجزیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ تنظیم کا اپنا ایک متعینہ کلچر ہے ۔یہ بھی رائے ہے کہ تنظیم کا اپنا کوئی کلچر ہی نہیں ہے ۔دو سال کی میقات ہوتی ہے جب افراد بدلتے ہیں تو مستقل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایس آئی او کی ایک حیثیت یہ بھی ہے وہ تحریک اسلامی کی تجربہ گاہ ہے۔اس لحاظ سے ایس آئی او میں نئے نئے تجربات ہوتے رہنے چاہیے اور ہم کو کسی بھی چیز کو محض اس وجہ سے ردنہیں کرنا چاہیے کہ یہ اس سے پہلے نہیں ہوا یایہ ہمارے تنظیمی کلچر کا حصہ نہیں ہے ۔ہم چیزوں کو ان کی میرٹ کی بنیاد پر دیکھیں گے اور اگر محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں یا آگے بڑھنے کے راستے تلاش کرسکتے ہیں تو نئے تجربات مستقل ہر سطح پر ہونے چاہیے ۔ سوچنا یقیناً بڑا کام ہے لیکن جو چیز آپ سوچ چکے ہیں اس پر دوبارہ سوچنا اور زیادہ بڑا کام ہے ۔ہماری تنظیم میں لرننگ کلچر ہونا چاہیے کہ فرد بھی سیکھے، تنظیم بھی سیکھے اور مستقل ہم سیکھنے کے سفر سے گذرتے رہیں۔لرننگ کلچر سے زیادہ بہتر کوئی اور کلچر طلبہ تنظیم کے لیے نہیں ہوسکتا ہے۔


وابستگان میں علمی و فکری ذوق و شوق پروان چڑھانے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
مطالعہ کی اہمیت و ضرورت پر وقتاً فوقتاً گفتگو ہوتی رہتی ہے ۔فی الحال ہم جس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے وہ یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی کام ایسا ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کو مطالعہ کی طرف راغب کرے یعنی کہ ہمارے کاموں کے پیچھے ایک مضبوط علمی و فکری بنیاد ہونی چاہیے ۔اگر ہم اس طرح سے کام کرنے لگیں تو لوگ مطالعے کو اپنی ضرورت سمجھتے ہوئے اس کی طرف راغب ہوںگے۔ اب اگر ہمارے سارے کام ایسے ہوں کہ آپ پڑھیں یا نہ پڑھیں کام تو ہوجاتا ہے تو لوگ مطالعہ کی طرف کم راغب ہوں گے ۔ہمیں مطالعے کو اجتماعی ضرورت اور فرد کی تزکیہ و تربیت کے حوالے سے انفرادی ضرورت کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔جب ہم ایسا کریں گے تو کیڈر مطالعہ کی طرف اور زیادہ راغب ہوگا ۔


قارئین رفیق منزل کے لیے کیا پیغام دیں گے؟
اس سلسلے میں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ جس دور سے ہم گذر رہے ہیں وہ اصلاً مواقع کا دور ہے ۔ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے بہت سی صلاحیت رکھی ہیں۔ایک طرف تو ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ ہمارے اندر کیا صلاحیتیں ہیں، کیا قوتیں ہیں اور کس میدان کے لیے اللہ نے ہم کو بنایا ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ اس میدان میں کیا مواقع اور امکانات موجود ہیںاور پھر اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھائیں اپنی استعداد کو ڈیولپ کریں اور ساتھ ہی ساتھ سماج کو contributeکریں۔سخت کوشی اور مجاہدہ کا مزاج ڈیولپ کریں۔اللہ پر توکل بھی رکھیں تو یقیناً ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں بہتری آئے گی ۔انشاء اللہ۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

زوال امت

پروفیسر عبیداللہ فراہی کسی قوم کا زوال اس کی روحانی طاقت کے ...