پیغام

عزیز طلبہ اور نو جوانوں!
اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ ایک مرتبہ پھر ہمیں رمضان المبارک کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ تربیت و تزکیہ کا مہینہ ہے۔ اگر ہم کماحقہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی ذاتی اصلاح و تر بیت پر توجہ دیں تو ہماری زندگیوں پر اس کے مثبت اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور سال کے بقیہ دن بھی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوش نودی کی طلب میں گزریں گے۔ اس تعلق سے آپ کی خدمت میں چند باتیں عرض ہیں:
۱۔ رمضان المبارک کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہے۔ اسی مہینے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل کیا، جس میں انسانوں کی رہنمائی کا پورا سامان موجود ہے۔ رمضان اور قرآن دونوں روزِ قیامت بار گاہ الہی میں سفارشی بنیں گے۔ اس لیے ہمیں اس ماہ مبارک میں قرآن سے اپنے تعلق کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ ہماری کوشش صرف زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھ لینے تک محدودنہ ہو بلکہ فہم قرآن پر بھی توجہ دیں اور ہمارے اندر یہ عزم پیدا ہو کہ قرآن کے جن احکام و تعلیمات کا ہمیں علم ہوگا انہیں اپنی زندگیوں میں بھی نافذ کرنے کی کوشش کریں گے۔
۲۔ رمضان کو حدیث میں’صبر کا مہینہ ‘ قرار دیا گیا ہے۔ صبر نام ہے اپنے جذبات کو قابو میں کرنے کا۔ تحمل اور برداشت کا۔ برائیوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنے کا، راہِ حق میں استقامت اور پامردی دکھا نے کا۔ ان تمام پہلوؤں سے روزہ ہماری تربیت کرتا ہے۔ عموماً نو جوانوں میں ان چیزوں کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔ وہ جلدی مشتعل ہو جاتے ہیں۔ عجلت پسندی کے باعث اپنی کوششوں کے نتائج جلد دیکھنے کی خواہش شدید ہوتی ہے، دنیاوی لذّتیں انہیں اپنی طرف کھینچتی ہیں تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے اور مختلف طرح کی برائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس پہلو سے بھی ہمیں اپنا جائزہ لینے اور اپنی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔
۳۔روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس سے تقویٰ کی صفت پروان چڑھتی ہے، تقویٰ کیا ہے؟ یہی کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کو پیش نظر رکھے۔ اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں سے خوش ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کی طرف لپکے اور ان کو بجا لائے۔ اسی طرح وہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں سے ناراض ہوتا ہے، چنانچہ ان سے دور بھاگے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔ رمضان کے روزے انسان کی ایسی تربیت میں معاون ہوتے ہیں۔ ہمیں اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ کی صفت کو ابھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
۴۔ رمضان کو ’شہر المواساۃ‘ یعنی ہمدردی کا مہینہ بھی کہا گیا ہے۔ بھوک پیاس برداشت کرکے انسان کو دوسروں کی تکالیف اور ان کے درد و الم کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے، غریبوں کی مدد کرنے، بے سہاروں کے کام آنے اور مختلف طریقوں سے ان کی ضروریات پوری کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس کا بڑا اجر بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے اور حتی الوسع اس کار خیر سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
مجھے امید ہے کہ آپ حضرات اپنے مقام اور کیمپس میں رمضان المبارک کا استقبال بھرپور طریقے سے کریں گے۔ اس کی اہمیت و فضیلت کی طرف طلبہ برادری کو متوجہ کریں گے، تلاوتِ قرآن، شب بیداری، اجتماعی افطار، دینی کتب کے مطالعہ کا اہتمام کریں گے اور اپنے معمولات اس طرح ترتیب دیں گے کہ آپ کی شخصیت کا ارتقا ہو اور اس میں زیادہ سے زیادہ نکھار پیدا ہو۔
(نصرت علی)
قیم جماعت اسلامی ہند

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

یہ لڑائی ہندوستانی فرقہ پرستوں کے خلاف لڑی جارہی ہے

محمدفراز احمد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 2 مئی کو ہوا واقعہ ...