بنیادی صفحہ / خبر / پردہ کبھی بھی تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہا : جی آئی او

پردہ کبھی بھی تعلیم اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہا : جی آئی او

حیدرآباد: گرلز اسلامک آرگنائزیشن کے زیر اہتمام نمائش میدان حیدرآباد میں لڑکیوں، طالبات و خواتین کی ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس کا موضوع “زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری” رکھا گیا۔ اس کانفرنس میں تعلیم کے مختلف شعبہ جات جیسے انجینئرنگ، میڈیسن، آرٹس اور تحقیق وغیرہ سے منسلک طالبات و خواتین کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔ اس موقع پر تعلیمی ایکسپو کا اہتمام کیا گیا۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے کراٹے چمپئن سیدہ فلک اور سلمہ فاطمہ ، کمرشیل پائلٹ نے شرکت کی ۔  سلمہ فاطمہ نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لڑکی کی پرورش والدین اسلامی طرز پر کریں گے تو اس کی دنیا اور آخرت کامیاب ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ مسلم خواتین و لڑکیاں پردے کی پابند ہوجائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود سختی سے پردے کی پابند ہوں ، پائلٹ کے لئے مجھے انٹرویوز دینے پڑے اس وقت حجاب کے متعلق مجھ سے سوالات کئے گئے جس پر میں نے ان سے کہا کہ “حجاب ہے تو میں ہوں” یہاں تک کہ آج طیاروںکی اڑان کے درمیان کبھی پردہ حائل نہیں ہوا۔

کراٹے چمپئن سیدہ فلک نے کہا کہ موجودہ حالات میں لڑکیوں کو اجتماعی طور پر صلاحیتوں کا آشکار کرنا وقت کی اہم ضرورت ۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ لڑکیاں تعلیمی میدان کے علاوہ دوسرے میدانوں میں بھی قدم رکھیں تاکہ ان کی صلاحیتیں مزید پروان چڑھ سکیں۔  جناب عبدالرقیب لطیفی رکن شوری جماعت اسلامی تلنگانہ نے کہا کہ ملت کی بہنوں اور ماوں کو چاہئے کہ کہ وہ اسلام کا ایک مکمل نمومہ بنیں اور تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوائیں۔ خانسہ فاطمہ، ریاستی صدر جی آئی او تلنگانہ نے ملک میں خواتین کے تحفظ پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ترقی کے نام پر مغربی تہذیب کے پُر کشش فریب میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں ۔

مولانا حامد محمد خان، امیر حلقہ جماعت اسلامی حلقہ تلنگانہ نے  کہا کہ باطل طاقتیں آج میڈیا اور ٹی وی کے ذریعہ خواتین اور لڑکیوں سے کھلواڑ کررہی ہیں۔ لیکن اس کا یہ کھلواڑ اسلامی خواتین پر ذرہ برابر بھی اثر انداز نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مرد کی ترقی کی پشت پر عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ ہی ایک بچے کو بولنا اور میں اخلاق، شرافت اور انسانیت پیدا کرتی ہے۔ اس لئے ماں کی گود کو پہلا مدرسہ کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ان قدیم ماوں سے خالی ہے جس نے اپنے لڑکوں کی تربیت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا اور گھر کو ایک مدرسہ کی حیثیت دی اور بچوں کی اس طرح آبیاری کی جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابیات کی تربیت کی تھی۔

کانفرنس میں مخلتف مقابلہ جات میں کامیاب طالبا ت کو مہمان مقررین کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا۔  محترمہ ناصرہ خانم صاحبہ قومی سکریٹری، جماعت اسلامی ہند، محترمہ آسیہ تسنیم ریاستی ناظمہ شعبہ خواتین، جماعت اسلامی تلنگانہ، مدیحہ امرین،سکریٹری جی آئی او، تلنگانہ ، منزہ زرین صدر جی آئی او حیدرآباد نے بھی خطاب کیا۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مصری عوام سیسی کے خلاف سڑکوں پر، استعفی کا مطالبہ

مصر کے متعدد اہم شہروں میں ہزاروں مظاہرین صدر عبدالفتاح السیسی کے ...