بنیادی صفحہ / نظر / نعمت قرآن کی شکرگزاری

نعمت قرآن کی شکرگزاری

قرآن مجید جیسی کتابِ ہدایت پانے پر اِنسانوں کا ردعمل کیاہوناچاہیے۔ اِس سوال کاجواب خوداِس کتابِ ہدایت نے دیا ہے۔ اِس کتاب کی عظمت کے تین بنیادی تقاضے ہیں۔ اِس پر ایمان لایاجائے، اس کتاب کے نازل کرنے والے کی کبریائی کااعتراف و اظہار کیاجائے اور اِس کتاب کے ملنے پر شکر ادا کیاجائے۔ شکر کا ایک لازمی جز یہ ہے کہ اِنسان اِس کتاب سے فائدہ اٹھائے اور اپنی زندگی کے لیے اس سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرے۔
(۱)اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لانے کے معنیٰ اللہ کی پکار کا جواب دینے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:
وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُواْ لِیْ وَلْیُؤْمِنُواْ بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُون۔ (البقرۃ:۱۸۶)
’’اور اے نبی! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انھیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتااور جواب دیتاہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ توقع ہے کہ وہ راہِ راست پائیں گے۔‘‘
(۲) قرآن مجید پر ایمان لانے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی بڑائی کااعلان کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں ان میں یہ بات بھی شامل تھی:
یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَأَنذِرْ o وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ o (المدثر:۱۔۳)
’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔‘‘
وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَلَم یَکُن لَّہُ شَرِیْکٌ فِیْ الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُن لَّہُ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلَّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْراo (بنی اسرائیل: ۱۱۱)
’’اور کہو تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو اور اس کی بڑائی بیان کرو۔ کمال درجے کی بڑائی۔‘‘
رَب کی بڑائی کایہ اعلان نماز کے اندر بھی ہونا چاہیے اور نماز کے باہر بھی۔ نماز ادا کرنے والے اہل ایمان نماز کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ بار بار دہراتے ہیں، جو اللہ کی بڑائی کااعلان و اِظہار ہے۔ نماز کے باہر اِنسانی معاشرے میں دعوتِ اسلامی دراصل اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا ہی دوسرا نام ہے۔
نعمتِ قرآن کی شکرگزاری
رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی۔ چنانچہ اس مہینے میں خاص طور پر اِس نعمت کاشکر ادا کیاجانا چاہیے۔ شکر کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید کے حقوق ادا کیے جائیں۔ یہ حقوق مندرجہ ذیل ہیں:
ایمان، تمسّک، تلاوت، تدبّر، اتباع، تعلیم، دعوت الی القرآن، اِقامت۔
(الف) قرآن مجید کا پہلا حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لایاجائے۔
فَآمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالنُّورِ الَّذِیْ أَنزَلْنَا وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌo (التغابن:۸)
’’پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘
مولانا مودودیؒ اِس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’یہاں سیاق و سباق خود بتارہاہے کہ اللہ کی نازل کردہ روشنی سے مراد قرآن ہے، جس طرح روشنی خود نمایاں ہوتی ہے اور گردو پیش کی ان تمام چیزوں کو نمایاں کردیتی ہے، جو پہلے تاریکی میں چھپی ہوئی تھیں، اسی طرح قرآن ایک ایسا چراغ ہے جس کابرحق ہونابجائے خود روشن ہے اور اس کی روشنی میں اِنسان ہر اس مسئلے کو سمجھ سکتا ہے جسے سمجھنے کے لیے اس کے اپنے ذرائع علم و عقل کافی نہیں ہیں۔‘‘
رمضان المبارک میں اہل ایمان کو قرآن مجید پر اپنے ایمان کو تازہ کرنا چاہیے۔ یہ شکر گزاری کا پہلا قدم ہے۔
(ب) قرآن مجید پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو مضبوطی سے تھاماجائے:
وَالَّذِیْنَ یُمَسَّکُونَ بِالْکِتَابِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ إِنَّا لاَ نُضِیْعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِیْنo(الاعراف: ۱۷۰)
’’جو کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، بے شک ہم ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔‘‘
’’تمسّک بالکتاب‘‘ کے معنیٰ ہیں ’’زندگی کے کسی معاملے کو کتاب الٰہی کی رہنمائی سے محروم نہ رہنے دینا۔‘‘
(ج) قرآن مجید کا اگلا حق یہ ہے کہ اس کی تلاوت کی جائے:
اتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ وَلَذِکْرُ اللَّہِ أَکْبَرُ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونo (العنکبوت: ۴۵)
’’(اے نبی) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمھاری طرف وحی کے ذریعے سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناًنماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کاذِکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔اللہ جانتاہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘
رمضان کی راتوں میں نماز میں کھڑے ہوکر قرآن کی تلاوت کرنے کی فضیلت بیہقی کی اِس روایت میں بیان ہوئی ہے:
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن بندے کی شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ کہتاہے کہ اے رَب! میں نے اس کو دِن بھرکھانے (پینے) اور شہوات سے روکے رکھا، تو میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہتاہے :(اے رَب)میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا، تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پس اِن دونوں کی شفاعت قبول فرمالی جائے گی۔‘‘
(د) قرآن مجید پر تدبر اس کی تلاوت کالازمی اور فطری جز ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِیْ إِلَیْْہِمْ فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَo بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونo (النحل: ۴۳۔۴۴)
’’(اے نبی)ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغام وحی کیا کرتے تھے۔ اہل ذکر سے پوچھ لواگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔ پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجاتھا اور اَب یہ ذِکر تم پر نازل کیا ہے۔ تاکہ تم لوگوں کے ساتھ اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیے اتاری گئی ہے اور تاکہ لوگ (خود بھی) غوروفکر کریں۔‘‘
أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَاo (محمد: ۲۴)
’’کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یا دِلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں۔‘‘
(ھ) قرآن مجید کا اگلا حق یہ ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔
وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُم مِّن قَبْلِ أَن یَأْتِیَکُمُ العَذَابُ بَغْتَۃً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونo (الزمر: ۵۵)
’’اور پیروی اختیار کرو اپنے رَب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘
المصoکِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَo اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونo (الاعراف: ۱۔۳)
’’ا۔ل۔م۔ص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمھاری طرف نازل کی گئی ہے پس اے نبی! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو۔ لوگو! جو کچھ تمہارے رَب کی طرف سے تم پر نازل کیاگیا ہے ،اس کی پیروی کرو اور اپنے رَب کو چھوڑکر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔‘‘
(و) قرآن مجید کا یہ حق ہے کہ اس کی تعلیم کو عام کیاجائے:
إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی مِن بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِیْ الْکِتَابِ أُولَءِکَ یَلعَنُہُمُ اللّہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللَّاعِنُونَ o إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَیَّنُواْ فَأُوْلَءِکَ أَتُوبُ عَلَیْْہِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُo (البقرۃ:۱۵۹۔۱۶۰)
’’جولوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، حالانکہ ہم انھیں سب اِنسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتاہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ البتہ جو اس روِش سے بازآجائیں اوراپنے طرزِ عمل کی اِصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں، ان کو میں معاف کردوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہوں۔‘‘
(ز) کتب آسمانی اِس لیے نازل ہوئی تھیں کہ ان کو قائم کیاجائے:
قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْْءٍ حَتَّیَ تُقِیْمُواْ التَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنo(المائدۃ:۶۸)
’’صاف کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! تم ہرگز کسی اَصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو،جوتمہارے رَب کی طرف سے تم پر ناز ل کی گئی ہیں۔ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیاگیاہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور اِنکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ مگر اِنکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔‘‘
تورات اور انجیل کی طرح آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کی اِقامت بھی کتابِ الٰہی پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے اور یہی شکرگزاری کی تکمیل ہے۔

ڈاکٹر محمد رفعت، پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ نئی دہلی

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سماجی تبدیلی اور اسلامی فکر

ذوالقرنین حیدر سماج کیا ہے اور سماجی تبدیلی کیا ہے؟ سماجی تبدیلی ...