منافق کی پہچان

قرآن کریم کی معروف اصطلا حات میں سے ایک اصطلاح منافق بھی ہے۔ اسلامی سو سائٹی میں جو عناصر بظاہر مسلمان نظر آتے ہیں لیکن باطن میں وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں، ایسے افراد کو منافق کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے یعنی یہ’’ دوست نما دشمن‘‘ کا کردار کرتے ہیں۔
سورۃ العنکبوت کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ:’’ اور اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون‘‘۔ (العنکبوت: ۱۱)
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں منافق کی پہچان کی وضاحت کچھ اس طرح کی ہے:’’
چار باتیں جس میں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں منافق کی ایک نشا نی رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے۔ پھر آپ نے فرمایا جب امانتدار بنا یا جائے تو خیانت کرے، جب بولے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی دے‘‘۔( صحیح البخاری، باب علامۃ المنافق)
بد قسمتی سے ہمارے نام نہاد مسلم معاشرہ میں یہ رزائل بہت تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں اور اس پر مزید یہ کہ اس منا فقانہ طرز عمل کو چالاکی اور ہوشیاری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے۔
امانت میں خیانت
اس حدیث مبارک میں منافق کی پہلی خصلت امانت میں خیانت بتا ئی گئی ہے۔ امانت کی پاسداری دراصل مومن کی پہچان ہے، آپؐ نے فرمایا: ’’ مومن کے اندر ہر عادت ہو سکتی ہے جھوٹ اور خیانت کے سوا‘‘۔( رواہ احمد عن ابی امامہ ورواہ البزار)
امانت میں خیانت کی درج ذیل شکلیں ہمارے معاشرے میں رائج ہیں، اس فہرست میں مزید اضافہ ممکن ہے:
۱۔ امانت میں خیانت یعنی کم مال واپس کرنا، اچھے مال سے خراب مال بدل لینا۔
۲ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی بھی امانت میں خیانت ہے۔
۳۔ ناپ تول میں کمی کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔
۴۔ راز بھی امانت ہے، اس کی حفاظت نہ کرنا خیانت ہے۔
۵۔ وقت کا ضیاع، کام چوری اور غیر متعلق امور سے دلچسپی بھی خیانت ہے۔
۶۔ رشوت لے کر کام کرنا اور ناحق فائدہ پہنچانا بھی خیانت ہے۔
کذب بیانی
منافق کی دوسری خصلت کذب بیانی کہی گئی ہے، اس کی درج ذیل مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں:
۱۔ اللہ کے معاملے میں جھوٹ بولنا یعنی حلال کو حرام اور حرام کو حلال بتا نا۔
۲۔ اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، عبادت کا ایسا طریقہ اختیار کرنا جو نبی سے ثابت نہ ہو۔
۳۔ جھوٹی خبریں، اور جھوٹے واقعات بیان کرنا، سنسنی خیز صحافت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔
۴۔ جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، جھوٹے مقدمات قائم کرنا۔ جھوٹی گواہی دینے والے کے تعلق سے ارشاد خدا وندی ہے:’’ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو حقیر قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا‘‘۔( آل عمران: ۷۷)
اس معاملے کی سختی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نا فرمانی کرنا، سنو! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا۔ آپ بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ راوی نے اپنے دل میں کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ترمذی)
جھوٹی قسم کھاکر تجارت کو فروغ دینا، غلط طریقے سے سامان بیچنا ،اور خریدار کو فریب دینا بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے، اس ضمن میں نبیؐ کا ارشاد ہے:’’ تین ایسے آدمی ہیں جن کی طرف روز قیامت اللہ تعالی نہ دیکھے گا، نہ ان کا تزکیہ کرے گا، اس روز ان کو درد ناک عذاب ہوگا(۱) تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا (متکبر)، (۲) احسان جتانے والا، (۳) جھوٹی قسم کھاکر اپنی تجارت کو فروغ دینے والا۔
۵۔ ایک اور انتہائی درجہ بد اخلاقی کی جیتی جاگتی تصویر جس میں نوجوان طبقہ خاص طور سے ملوث ہے، بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر بد چلنی کا الزام لگانا، حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے: ’’بے شک جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہوگی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘۔ (النور: ۳۳)
اسلامی معاشرہ کی اصل روح تو یہ ہے کہ دوسروں کے واقعی عیبوں پر بھی پردہ ڈالا جائے اور کسی بھی مومن یا مومنہ کی سرِ بازار پگڑی نہ اچھالی جائے۔ ورنہ نفرت، بغض وکینہ وغیرہ سے معاشرہ کا پاک رہ جانا بڑا ہی مشکل ہوگا۔ اگر اتفاقاً کسی کی کوئی غلط حرکت سامنے آبھی جائے تو خلوت میں حکمت کے ساتھ اسے سمجھانا ہی افضل ہے۔
بد عہدی یا معا ہدہ شکنی
منافق کی تیسری خصلت بد عہدی یا معا ہدہ شکنی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور عہد کو پورا کر و کیونکہ عہد کی پرسش ہونی ہے‘‘۔( بنی اسرائیل)
مولانا امین احسن اصلا حیؒ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
’’ اس عہد میں ہر قسم کا عہد شامل ہے خواہ وہ کسی معا ہدے کی صورت میں وجود میں آئے، لیکن عادتاً اور عرفاََاُن کو عہد ہی سمجھا اور مانا جاتا ہو، جس نوعیت کا بھی عہد ہو، اگر وہ خلاف شریعت نہیں ہے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے‘‘۔ ( تدبر قرآن)
عہد کی دو قسمیں ہیں:
الف) اللہ اور بندے کے درمیان یعنی ہر شخص کا اللہ سے یہ عہد کہ وہ سچا پکا مومن ہوگا اور جملہ معاملات میں شریعت الہی کی اتباع کرے گا۔ یہی بات سورۃ المائدۃ کی پہلی آیت میں بھی کہی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو‘‘۔( سورۃ المائدۃ، آیت:۱)
مولانا سید ابو الا علی مو دودیؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
’’ یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورہ میں تم پر عائد کی جارہی ہیں اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں ‘‘۔ ( تفہیم القرآن، حصّہ اول صفحہ: ۴۳)
ب) عہد کی دوسری قسم وہ ہے جو بندوں کے درمیان ہے، اس کی مثال ہے کام چوری کرنا، دھوکہ دینا، وعدہ پورا نہ کرنا، وغیرہ
بد زبانی و بد کلامی
منا فق کی چوتھی خصلت بد زبانی اور بد کلامی ہے، یعنی وہ مخاصمت کے وقت آپے سے باہر ہو جاتا ہے، نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگ جہنم میں اپنی بد زبانی کے سبب جائیں گے‘‘(ترمذی) جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں اہل ایمان کوئی لا یعنی اور لغو یات نہیں سنیں گے، جیسا سورۃ الواقعۃ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی‘‘۔ (سورۃ الواقعۃ: ۲۵۔۲۶)
سطور بالاکی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم غیر شعوری طور سے ہی سہی منافقت کے مہلک مرض میں مبتلا تو نہیں ہورہے ہیں؟
محمد معاذ، جا معہ ملیہ اسلامیہ۔ ای میل: [email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسئلہ بنگلہ دیش اور شہادت نظامی

تقسیم ہند اپنے آپ میں ایک بڑا سانحہ تھی، اس کے پیچھے ...