بنیادی صفحہ / متفرق / مغربی بنگال میں بائیں بازو کی حکومت سے برطرفی

مغربی بنگال میں بائیں بازو کی حکومت سے برطرفی

ملک کی ریاست مغربی بنگال میں بائیں بازو کی پارٹیوں نے تقریباََ۳۵؍سال مستقل حکومت کی، اس حکومت کی بنیاد مزدوروں کی انقلابی تحریک تھی، جو اس وقت کی حکومتی پالیسیوں سے عاجز تھی۔ لیکن سال ۲۰۱۰ ؁ء آتے آتے کمیونسٹ حکومت نے عوام کے درمیان اپنی مقبولیت کو پامال کرلیا، اور تمام سطحوں کے انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئی، جبکہ سال ۲۰۰۸ ؁ء تک کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ بائیں بازو کے اتحاد والی گزشتہ تین دہائیوں سے زیادہ برسراقتدار پارٹی اپنی طاقت کھوکر اس طرح ناکام ہوجائے گی۔ اس زبردست برطرفی کے میری نظر میں چند اسباب تھے، جو کہ درج ذیل ہیں:
(۱) غیر متحرک کردار: بائیں بازو کی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے برسراقتدار تھی، اس لیے اقتدار کے نشے میں ان کو مکمل یقین تھا کہ مستقبل میں بھی ان ہی کی حکومت رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ترقی کی رفتار جمود کا شکار ہوگئی، صوبہ کے کئی اہم اشوز میں ان کا رویہ غیر مؤثر رہا، اور اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر بدامنی کا بول بالا ہوگیا۔ حکومت کی بے اعتنائی سے سماجی جرائم کا طوفان برپا ہوگیا۔
(۲) عوام کی بے حرمتی: کمیونسٹ حکومت کے دور میں بائیں بازو کی جماعتوں کے کارکنان سے عام عوام خود کو غیر محفوظ اور بے عزت محسوس کرنے لگے تھے، لیکن عوام کے سامنے کوئی دوسری امید کی کرن نہیں تھی، کیونکہ اس وقت نہ تو کوئی سیاسی پارٹی اتنی مضبوط نظر آتی تھی، اور نہ ہی تبدیلی کی کوئی علامت۔ کچھ لوگ تو اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’اس حکومت کو کوئی بھی ہٹا نہیں سکتا‘‘، لیکن جب ترنمول کانگریس نے زبردست کوششوں کے تحت خود کو ایک مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر ابھارا، تو حکومتی تبدیلی کی امیدیں قوی ہونا شروع ہوگئیں۔
(۳) ترنمول کانگریس کا ابھار: نندی گرام اور سنگور میں ترنمول کانگریس نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج سے خود کو تبدیلی کی ایک علامت کے طور پر قائم کیا۔ اس پارٹی نے ان تحریکوں سے زبردست عوامی حمایت اور شہرت حاصل کی۔ عوام کا بھروسہ بائیں بازو کی حکومت پر سے ختم ہونا شروع ہوگیا تھا، ترنمول کانگریس نے نعرہ دیا کہ’’ان کو ۳۵؍سال تو ہمیں بھی ۵؍سال‘‘۔ اتفاق سے اسی وقت ماؤنواز تحریک کے جنگل محل اور لال گڑھ کے واقعات بھی لوگوں کے سامنے ظاہر ہوچکے تھے، جس میں حکومت کی پوری طرح حمایت حاصل تھی۔
بالآخر، مغربی بنگال میں برسوں بعد تبدیلی آئی، اور اس تبدیلی نے یہ ثابت کیا کہ یہ تبدیلی ترنمول کانگریس کے بدست نہیں آئی ہے، بلکہ بائیں بازو کی جماعتوں اور ان کی حکومت کی عوام کے تحفظ وعزت کو پامال کرنے پر عوام کی جانب سے غصہ واشتعال کی وجہ سے آئی تھی۔
(آیت اللہ فاروق، مغربی بنگال)
کیرلا اور ملک کی دوسری ریاستوں میں کمیونسٹ پارٹیوں کی صورتحال
ملک میں ابھی ۲؍پارٹیاں میدان میں دکھائی دے رہی ہیں، ایک کانگریس اور دوسری بی جے پی۔ ایک زمانے تک لیفٹ پارٹیاں ایک تیسرے آپشن کے طور پر ابھر کرنے آنے والی لگ رہی تھیں، لیکن فی الحال ان کا میدان میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے۔
لیفٹ پارٹیاں ایک زمانے میں پچھڑے ہوئے لوگوں کی پارٹی تھیں، کمزور طبقات ان پر اعتماد کرتے تھے، اوراسی لیے بہت سارے لوگوں نے ان کا ساتھ بھی دیا تھا، لیکن آج کے زمانے میں ان لوگوں کے بارے میں ایسا تصور کرنا نا مناسب یا نادرست ہے۔ آج اس کے لیڈرس بہت ہی تعیش کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کا طرز زندگی بہت ہی اعلی قسم کا ہوتا ہے، شائد یہ بھی ایک وجہ ہے کہ وہ کمزور طبقات سے دور ہوگئے ہیں۔
جب سے انہوں نے جمہوری سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے، اسی وقت سے ان کی فکر بحران کا شکار ہونے لگی ہے، اور جب ان کا فکری بحران شروع ہوا تو اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ آج اس کے یہاں مکمل طور سے استعماری پالیسی اختیار کرنے کی کوشش چل رہی ہے۔ کیرلا میں دیکھئے، کسی بھی مسئلہ میں ان کا کوئی خاص رول نہیں نظر آتا ہے۔ نیشنل ہائی وے کے مسئلہ پر احتجاجی مظاہرہ ہو، کوکا کولا کے مسئلے پر احتجاج اور مظاہرے ہوں، چنگارا والے مسئلے پر مظاہروں کی بات ہو، اس جیسے کسی بھی عام عوام کے مسئلے پر لیفٹ پارٹیاں آواز اٹھاتی نظر نہیں آئیں گی۔ ان تمام ہی معاملات میں کسی نہ کسی حد تک وہ استعماری پالیسی کا ساتھ دیتی نظر آئیں گی۔
پارٹی کا داخلی انتشار یا داخلی سیاست بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پارٹی کی سکریٹریٹ کسی سمت میں جارہی ہے اور پارٹی کا چیف منسٹر کسی دوسری سمت میں جارہا ہے، عموماََ جب بھی وہ حکومت میں آئیں ہیں ایسا ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے کچھ لوگوں نے فکری بحران کے مسئلے کو لے کر پارٹی چھوڑ دی ہے،اور وہ یا تو کسی دوسرے گروپ میں جاکر مل گئے ہیں یا انہوں نے کوئی دوسری پارٹی بنالی ہے۔
لوگوں کو پارٹی پر جو اعتماد تھا، وہ اب ختم ہوتا نظر آرہا ہے، فسادات میں پارٹی کے کیڈرس شامل ہوتے ہیں، کرپشن میں وہ دملوث ہیں، اور جب ان کے اوپر تنقید کی جاتی ہے تو وہ نفرت کے جذبات میں یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ ان کے قتل کے درپے ہوجاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ لیفٹ پارٹیاں اب بدنام ہوتی جارہی ہیں۔
لیکن اس سب کے باوجود ملک میں فاشزم کے خلاف کسی آپشن کو سامنے لانے کی ضرورت ہے، کب تک کانگریس کو فاشزم مخالف مان کر اس کو سپورٹ کرتے رہیں گے؟! ہمیں ایک متبادل پیش کرنا ہوگا۔ فی الحال ہمارے لیے مناسب یہی ہوگا کہ ریاستی اور علاقائی پارٹیوں کے ساتھ لیفٹ پارٹیوں کو جوڑ کر تیسرے فرنٹ کو قوت فراہم کریں۔
(انصار ابوبکر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

غزل

خان حسنین عاقبؔ علامہ اقبال ٹیچرس کالونی، مومن پورہ، واشم روڈ، پوسد  ...