بنیادی صفحہ / رشد / معبود کا حقیقت پسندانہ تصور

معبود کا حقیقت پسندانہ تصور

(ذیل میں ڈاکٹر محمد معظم علی، کرناٹک (حفظہ اللہ ورعاہ) کی ایک نئے انداز کی تحریر نذرقارئین ہے، موصوف قرآن مجید سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، چنانچہ یہ تحریر بھی موضوع پر قرآن مجید کے گہرے مطالعہ کی آئینہ دار ہے۔۔۔۔۔۔ ادارہ)

انسان اپنی زندگی میں ایک چیز کی کمی محسوس کرتارہتا ہے اور رہ رہ کر اس کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں یہ کمی محسوس ہوتی رہتی ہے اور بعض مرتبہ تو بہت ہی شدت کے ساتھ اِس کا احساس ہوتا ہے اور وہ بے چین ہو جاتا ہے، اور بعض مرتبہ ذہنی توازن کھو بیٹھنے کی حد (Nervous Breakdown) تک حالت پہنچ جاتی ہے اور وہ خود کشی کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔اِس لیے چاہتا ہے کہ کوئی اس کا ساتھی ہو جو ہمیشہ ہمیش، ہر جگہ اور ہر وقت اس کے ساتھ رہے، اس کی پکار پر اس کی مدد کرے، اس کی رہنمائی کرے، اس کو مشکلات اور پریشانیوں میں سہارا دے ، اس کی حاجتوں کو پورا کرے، اور بظاہر نہ ہونے والے کام بنا دے، اس کی جان کی حفاظت کرے ، تکلیف اور بیماریوں کو دور کرے ، اور ذہنی وقلبی سکون بخشے۔
آدمی اپنی زندگی میں شدت کے ساتھ جو کمی محسوس کر رہا تھا بے بسی اور مایوسی کی حد تک، اِس اچھے ساتھی کی وجہ سے زندگی کو زندگی ملی، زندگی کے اندر ایک جماؤ اور ٹھہراؤ آیا (Stability) اورسکون و راحت حاصل ہوئی۔نتیجہ میں انسان کے دل میں ایسے اچھے ساتھی کے لیے محبت ، اور احترام و اعتماد پیدا ہوا، اور دل اس کو سجدہ کرکے اس کا شکر بجا لانا چاہتا ہے ، اس کی تعریف کے گن گانا چاہتا ہے یعنی اس کے ساتھ مراسمِ عبودیت بجالاناچاہتا ہے یعنی یہ تمام کیفیات جو انسان کے اندر پیدا ہوئیں وہ کسی کی پرستش کرنے کی کیفیات اور ادائیں ہیں اور جو رویہ اس کے ساتھ رکھا گیا اور جو خصوصیات اس ساتھی کی ہیں وہ ایک معبود کی ہیں۔ یعنی جو انسان کا ہمیشہ کا ساتھی ہے وہ اس کا معبود ہے اور جو شدید کمی محسوس کی جا رہی تھی وہ معبود ہی کی تھی اور جب معبود کو مان لیا گیا اور یقین کر لیا گیا تو وہ کمی پوری ہوئی اور زندگی کو رہنمائی اور سکون ملا۔ معلوم ہوا، احساس ہوا، اور یقین آیا کہ معبود انسانی زندگی کی شدید بلکہ بنیادی ضروت ہے جس کے بغیرزندگی کے اندر جان نہیں آسکتی اور زندگی صحیح رخ پر گامزن نہیں ہو سکتی بلکہ حادثات کا شکار ہوجاتی ہے۔غرض کسی کو معبود بنانا یہ انسان کی اپنی اندرونی آواز، فطری تقاضا (Demand) اور روزمرہ کی ضرورتِ زندگی ہے۔
حقیقی معبود کو پرکھنے کے لیے اس کی اپنی چند خصوصیات (Criteria)
پچھلی سطور میں غورو فکر اور بحث کے بعد معبود کا جو تصور سامنے آیا ہے کیا وہ د ل و دماغ کو بھاتا ہے؟ اگر دماغ مطمئن ہے اور دل گواہی دیتا ہے کہ معبود ایساہی کچھ ہونا چاہیے تو پھر تلاش کرنا چاہیے کہ ایسی خوبیوں اور خصوصیات کی مالک ہستی جو ہماری زندگی کی اہم اور بنیادی ضرورت ہے، کہاں، کس آئیڈیالوجی (Idiology)،کس کتاب، اور کس مذہب میں مستند انداز میں پائی جاتی ہے۔ کوشش بہرحال ہونی چاہیے۔ حقیقی معبود کی سچی طلب اور تڑپ آدمی کو اس مقام اور سرچشمہ تک پہنچادے گی جہاں اس کو ذہنی و قلبی اطمینان حاصل ہوگا۔ تحقیق کے لیے کچھ رہنمائی میری دوسری تحریر ’’خالق سے ملاقات کیجئے‘‘ میں مل سکتی ہے جو اِس سلسلہ تحریر کا دوسرا اور آخری حصّہ ہوگی۔
معبود کی خصوصیات ایک نظر میں:
149 معبود وہ ہو جس نے ہمیں حیات دی(خالق)۔ ہم نہیں تھے، ہمیں وجود بخشا۔ اسی محسن اعظم کا حق بنتا ہے کہ اس کوسجدہ کیاجائے اور اس کے علاوہ کسی کو بھی نہ کیا جائے۔
149 اصل اور اول و حقیقی زندگی صرف خالق کی ہے اور خالق ہی معبود ہوتا ہے۔ اس لئے معبود ہی کے ہاتھ میں ہے تمام زندگیوں کو وجود بخشنااور ختم کرنا۔اس لئے وہی عبادت کے لائق ہے۔
149 معبود کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ اْسے موت لاحق نہ ہو، اُس کی حیات لامتناہی ہو۔ وہ ہمیشہ باحیات رہے،اُس کی زندگی کو زوال نہ آئے۔
149 وہ ہمیشہ پوری تابناکی کے ساتھ زند ہ رہے، تب ہی انسانی حیات پورے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ حیات دینے والے سے رجوع کرتی رہے گی۔
149 معبود وہ ہے جس کا اقتدار زمین و آسمان پر چھایاہوا ہو، کوئی گوشہ نہ چُھوٹاہو۔مقتدرِ اعلی و حاکم ہو۔
149 معبود وہ ہے جو تمام کمزوریوں،غلطیوں اور نقائص سے پاک اور کمالات و خوبیوں کا مجموعہ ہو۔
149 معبود ایک پاکیزہ ترین ہستی ہوتی ہے جس کے تعلق سے کسی بُرائی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔
149 معبود وہ ہے جو ہمیشہ سالم رہے یعنی کبھی بیمار نہ ہو، اْس پر کوئی آفت نہ آئے، کوئی کمزوری لاحق نہ ہو، کبھی اُس کے کمال پر زوال نہ آئے۔جو خود آفت کا شکار ہوتا ہو دوسرے کو کیا سلامتی دے گا، اور دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔
149 معبود ہمیشہ بے نیاز ہوتا ہے۔
149 معبود وہ ہے جو ہر چیز پر اِس قدر قادر ہو کہ کسی کو کچھ دینا چاہے تو کوئی روک نہ سکے اور روک دے تو کوئی دے نہ سکے۔
149 معبود وہ ہے جو چیزوں کو اور حیات کو عدم سے وجود میں لاتا ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کے ہاتھ میں حیات اور موت ہو۔
149 معبود وہ ہے جس نے کائنات اور کائنات میں پائی جانے ولی حیات کے درمیان موافقت رکھ دی کہ حیات باقی اورجاری رہے۔
149 معبود وہ ہے جو غفلت کے تمام اثرات سے کمال درجہ پاک ہو۔ اونگھ، نیند اور تھکاوٹ سے پاک ہو۔
149 معبود وہ ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہو، ہر زمانے کا اور ہر مقام کا علم رکھتا ہو، یعنی کوئی چیز اُس کے علم و معلومات سے خارج نہ ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کے فیصلے کو کوئی چیلنج نہ کرسکے اور نہ ہی اُس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے روک سکے اور نہ ہی وہ اپنے کاموں کے لئے کسی کے سامنے جوابدہ ہو۔ وہ سب سے بالا اور بااختیار ہستی ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کی مدتِ حیات اور قوتِ حیات کی کوئی حد بندی نہ ہو۔
149 معبود وہ ہے جو چھپا ہواہو، غیب میں ہو، نظروں سے اوجھل ہو تاکہ ہم ہر جگہ اور ہر وقت اس کا تصور کر کے اسے اپنے سے قریب محسوس کر سکیں اس کی صفات کے ذریعہ ۔۔۔کہ ہر جگہ اور ہر وقت وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہر جگہ اورہروقت وہ ہمیں سن رہا ہے۔ ہر جگہ، ہر وقت اور ہر چیز پر وہ قادر ہے تو ہم بھی اپنے آپ کو اس سے قریب محسوس کر سکتے ہیں،محبت کرتا ہوا، معاف کرتا ہوا، رحم کرتا ہوا۔ اِس قربت کے احساس کی بنا پر کہ اس کی ناراضگی کا ڈر اور اس کی نافرمانی پر اس کی سزا کا خوف محسوس ہوتاہے۔یہ تمام خوبیاں اس کی صفات کے تصور میں پوشیدہ ہیں جو کہ یقیناًاس کی ذات میں موجود ہیں۔ لیکن مجرد ذات کا تصور اِس قدر غیر معمولی اثر (Impact) انسانی زندگی پر نہیں ڈال سکتاجتنا کہ اس کی صفات کا علم و تصور۔
149 خالق ہی معبود ہوتاہے اور خالق یکتا اور تنہا ہے۔ اِس لئے معبود بھی ایک ہی ہوتاہے۔
149 معبود وہ ہے جس کی کوئی فیملی نہ ہو،فیملی کا مطلب معبود کی بھی حاجات و ضروریات اور خواہشات و محتاجی ہے جو اس کے کمزور ہونے کا اظہار بھی ہے اور دلیل بھی۔اور کمزور ہستی معبود نہیں ہوتی، کمزور ہستی کو معبود نہیں بنایا جاتا۔
149 حقیقی معبود وہ ہے جس کو کوئی مانے یا نہ مانے، اطاعت کرے یا نہ کرے، اس کے حضور جھکے یا نہ جھکے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
149 معبود وہ ہے جو کسی کا بنایا ہوا،یا پیدا کیا ہوا، یا جنم دیا ہوا نہ ہو، اور نہ اُس جیسا یا اُس کے برابر کوئی اور ہو۔معبود وہ ہے جو ہرکمزوری سے پاک ہو،ارادہ، عمل اور حیات کی حدبندیوں (limitations) سے پاک ہو۔
* پیدا ہونا/پیدا کیا جاناایک کمزوری ہے۔
* مرنا ایک کمزوری اور بے بسی ہے۔
* پیدا ہونے اور مرنے کا مطلب زندگی کا محدود ہوناہے۔
149 معبود وہ ہے جوکسی کے سامنے جوابدہ نہ ہو۔ جوابدہی اس کو کرنی ہوتی ہے جو کمزور ہو، غلطی کر سکتا ہو، طاقت اور چیزوں کا غلط استعمال کر سکتا ہو، ظلم کر سکتا ہو، حق مار سکتا ہو، ناانصافی کر سکتا ہو۔ معبود اِن تمام نقائص سے پاک، عظیم اورمقتدرِ اعلیٰ ہو۔
149 جو کسی کی بخشی ہوئی زندگی پر زندہ ہیں آخروہ کیوں کر معبود ہو سکتے ہیں؟ معبود وہ ہستی ہے یا ہوسکتی ہے جو خود سے زندہ ہو۔
149 جس کا خلق و ملکیت سے کوئی تعلق نہیں وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے؟کس طرح اُس کا حق بن سکتا ہے کہ اُس کی عبادت کی جائے۔جبکہ وہ نہ خالق ہے نہ مالک۔
149 معبود کے اندر حاکمانہ صفات ہوں۔کائنات کی ہر چیز اُس کے حکم کے تابع ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کی پناہ لے کر فرد اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا ہو۔ اور یہی کچھ انسان چاہتا ہے یعنی پناہ و حفاظت۔
149 معبود وہ ہے جس کو انسان کے معاملات سے دلچسپی ہو۔ انسان کے روزمرہ کے معاملات کے تعلق سے وہ بے پرواہ نہ ہو۔دلچسپی ہو تبھی عبادت کے لئے دل راغب ہوتا اور جھکتا ہے۔اگر دلچسپی نہیں تو انسان کو بھی اُس کی عبادت سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟اگر معبود دلچسپی نہ لے تو انسان کے لئے بھی اُس کی اپنی زندگی بوجھل ہو جاتی ہے۔ ایسی ہستی کو معبود ماننے یا نہ ماننے سے فردکو کوئی فائدہ نہیں۔
149 معبود وہ ہے جو انسان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا بحسن و خوبی انتظام کرے۔اگر وہ یہ سب نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا تو معبود بننے کے لائق نہیں، عبادت کے لائق نہیں۔ ایسی ہستی کو معبود ماننے سے کوئی فائدہ نہیں۔
149 روزمرہ کی زندگی میں انسان سے معبود کا تعلق بڑی قربت کا ہو، انسان اُس کو ہمیشہ اپنے ساتھ محسوس کرے۔ اِس قربت کے احساس و یقین کا زبردست اثر انسانی زندگی پر ہر پہلو سے پڑتا ہے۔ زندگی کے اندر ٹھہراؤ اور سکون آتا ہے اور زندگی ہر مرحلہ میں صحیح رخ اختیار کرتی ہے، پوری سرعت (Dynamic) کے ساتھ۔
149 معبود وہ ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول کرے اور معاف کرے تاکہ زندگی جو بوجھل ہوگئی تھی معبود کو ناراض کرنے کی وجہ سے ، وہ پُر سکون ہوجائے۔
149 معبود وہ ہے جو ہر انسان سے محبت کرے اور اُن کے درمیان کوئی فرق نہ کرے تاکہ ہر انسان کے لئے وہ ہستی معبود بن سکے۔ پیدائشی طور پر وہ کسی کو چہیتا نہ رکھے اور بندہ و معبود کے درمیان کسی ہستی کی مداخلت کو پسند نہ کرے، راست گفتگو کا موقع دے اور اُس کا طریقہ بتائے(ہر انسان کااپنے معبود سے غلام و آقا کا دائمی اور پیدائشی تعلق ہو)۔
149 جس عظیم ہستی کی خوشی اور رضا مطلوب اور مقصود ہے وہی معبود ہوتا ہے۔
149 معبود وہ ہے جو اپنے ہر بندے سے محبت کرتا ہو اور جس کا راست تعلق اپنے ہر بندہ سے ہو اور بندہ کے ہر عمل اور ہر بات کا علم اُسے ہو کہ انصاف کے دن کسی کی سفارش کی اُسے ضرورت نہ ہو۔
149 معبود وہ ہے جو اپنے بندے کی پکار کا جواب دے، اس کی مدد فرمائے، اُسے مصیبتوں سے بچالے۔ ایسی ہی ہستی عبادت، شکر، حمد اور سجدے کے لائق ہے۔
149 معبود وہ ہے جواپنے بندوں میں انصاف کرتا ہو، انصاف کے دن اور بے لاگ انصاف۔ (جو انصاف کے احساس سے خالی ہو، انصاف نہیں کرتا، یا نہیں کرسکتا، اُس کی عبادت کرکے، اُسے راضی کر کے کوئی فائدہ نہیں)
149 جو انصاف قائم کرتاہو، جزا و سزا دیتا ہو، وہی قابلِ عبادت ہے۔
149 معبود وہ ہے جو زندگی کے لئے رہنما اصول دے اور پوری زندگی کے لئے بہترین تعلیمات دے تاکہ انسان اچھی اور پُر سکون زندگی گزارسکے۔ اور اِن تعلیمات کو انسانوں تک پہنچنے کا انتظام کرے۔
149 معبود اُس کوہونا چاہیے جوہر چیزکی تخلیق کے بعد اُس کے مقصدِوجودکوپوراکرنے کے لئے راستہ بتاتا ہو۔
149 معبود وہ نہیں جو نہ زندہ ہے اور نہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔
149 معبود وہ نہیں جومرتا ہویا ماراجاسکتاہو۔جو اپنی زندگی کی حفاظت نہیں کرسکتا ۔
149 معبود وہ ہے جو سب سے بڑا (عظیم) اور سب پر فوقیت رکھنے والا (Supreme)ہو۔
149 معبود وہ ہے جو ہر عیب سے پاک ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کے لئے ساری تعریف ہو۔
149 معبود وہ ہے جس کا کوئی کام عبث و فضول نہ ہو۔
149 جو ہر چیز سے باخبر رہتاہو۔ جو بے خبر ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟
149 معبود وہ ہے جو زندگی کی تمام کمزوریوں اورمحتاجیوں و مجبوریوں سے پاک ہو۔
149 معبود وہ ہے جو اُن تمام کمزوریوں سے پاک ہو جو کائنات اور اس کے اندر حیات کے انتظامات میں مانع ہوں۔
149 معبود اس قدربااختیار اور بااقتدار ہو کہ اس کا ایک حکم کسی کام کے انجام پانے کے لئے کافی ہو جائے، اس کو کسی کام کے انجام دینے کے لئے بھاگ دوڑ اور اسباب کی ضرورت نہ ہو، بس اس کا ارادہ اور حکم کافی ہوجائے۔
149 معبود کو ہر وقت، ہر کام میں، اور ہر پہلو سے آزاد ہونا چاہیے۔ انحصار و محتاجی کمزوری کا سبب بھی ہے اور کمزوری کا ثبوت بھی۔ اور کمزور ہستی معبود نہیں ہوسکتی۔ کمزور ہستی کی عبادت کرنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔
149 معبود کو تمام کمزوریوں سے پاک اور خوبیوں کامجموعہ ہونا چاہیے۔جو ہستی پیدا کرتی ہے وہ بے انتہا طاقتور اور علم و حکمت اور قدرت سے بھرپور اور ہر کمزوری سے پاک، آزاد و خودمختار، آزادانہ فیصلہ کرنے والی اور خودرہنما ہوتی ہے(Self Guided)۔ اور پیدا کرنے والی ہستی ہی معبود ہوتی ہے۔
149 ہمارا معبود بھی وہی ہے جو زمین و آسمان کا معبود ہے۔
149 معبود وہ ہے جس کے سامنے سب بے بس ہوں اور وہی فائق ہو(Dominant)۔
149 معبود اور عبادت کے لائق وہ ہے جس کا اقتدار اور مضبوط گرفت آسمان اور زمین کی ہر چیز پر ہو۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اُس کی گرفت سے باہر نہ ہو۔
149 جس کے انتظامات ہوں زندگی کی بقااور کائنات کی بقاکے لئے وہی عبادت کے لائق ہے۔
149 جس کاکوئی اختیار نہیں وہ معبود نہیں۔
عبادت اس کی کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
149 جو پیدا کرتا ہے( خالق) نہ کہ پیدا کیا جاتا ہے (مخلوق)۔
149 ہر نقص سے پاک اور بے عیب کی، نہ کہ ناقص اورعیب دار کی۔
149 جو قوی ہے نہ کہ کمزور۔
149 جو خود سے قائم و دائم ہے نہ کہ کسی کے رحم و کرم پر قائم ہے۔
149 لافانی کی عبادت کی جاتی ہے نہ کہ فانی کی۔
149 حاجت روا کی نہ کہ محتاج کی۔
149 باریک بیں اور باخبر کی، نہ کہ اس کی جو کچھ نہ جانتا ہو،اورکچھ نہ سنتا ہو۔
149 جو سبحان ہے صرف اُسی کو سجدہ کیا جاتا ہے۔ اِسی میں انسان کی عزت ہے اور جو عیب دار ہے اور سبحان نہیں ہے، اسے سجدہ کر کے آدمی اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

سوشل میڈیا اور سیلفی کلچر کے خطرات

شاداب موسیٰ، اورنگ آباد آج کی جدید اور تکنالوجی کے میدان میں ...