بنیادی صفحہ / رشد / مطالعۂ قرآن: کیا، کیوں ا ور کیسے؟

مطالعۂ قرآن: کیا، کیوں ا ور کیسے؟

مطا لعہ کیا ہے؟
مطا لعہ سنجیدہ پڑھائی کانام ہے جو صاحب مطالعہ کا ذہنی افق وسیع کرے اور اس کے ذہنی رویے میں تبدیلی پیدا کرے۔ مطا لعے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مطالعہ چوکنا اور بیدار ہو، یعنی دورانِ مطالعہ اس کا ذہن صرف مطلوبہ کتاب یا رسالہ کی طرف یکسو ہو۔ کسی کتاب کو رَٹ لینے کا نام مطالعہ نہیں ہے۔ اسی طرح کسی مضمون پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے کو بھی مطا لعہ نہیں کہا جاسکتا ۔ کار آمد مطالعے کے لئے یہ منا سب ہوگا کہ جو بھی یاد رکھنے کے قابل بات نظر سے گزرے اسے نوٹ بُک یا کاغذ پہ رقم کر لیا جائے۔ مطا لعے کے بعد حاصل مطا لعہ کا لکھ لینا بھی بے فائدہ نہ ہوگا۔
مطا لعۂ قرآن کیوں؟
مولانا صدر الدین اصلا حیؒ اپنی مقبولِ عام کتاب ’’ قرآن مجید کا تعارف‘‘ کے مقدمہ میں بہت قیمتی بات لکھتے ہیں۔ آپ پہلے ہی صفحہ پر رقمطراز ہیں:
’’قرآن مجید اس زمین پر اللہ رب العالمین کی سب سے بڑی نعمت اور بندوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انسانی فلاح ایک لفظ بے معنی بن جاتا ہے اگر انسان قرآن سے ناآشنا ہو‘‘۔ ( صفحہ :۵)
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت تورات دن ہوتی ہے اور الحمد للہ اسے یاد کرنے اور یاد رکھنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس نعمت کبیر سے فائدہ اٹھانے اور زندگی کے جملہ مسائل میں اس کی اما میت تسلیم کرنے سے عملًا انکار کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
قرآن کا مطالعہ کیوں ہو؟ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے قرآن کریم میں ہی اس کا جواب موجود ہے۔ قرآن شروع میں ہی یہ اعلان کرتا ہے۔ سورہ بقرہ کے شروع میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’الف۔ لام۔ میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے پر ہیزگارلوگوں کے لئے‘‘۔( البقرہ آیت:۱)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے رجوع اِلی القرآن نا گزیر ہے۔ جتنا زیادہ قرآن سے تعلق ہوگا اتنا ہی صراط مستقیم پر چلنا آسان ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک بندۂ مؤ من محض کتب بینی کی غرض سے مطالعہ نہ کرے بلکہ اس ارادہ کے ساتھ مطالعہ کی ابتداء کرے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی حتی المقدور کوشش کرنی ہے۔ اہل ایمان کی ایمانی کیفیت یکساں نہیں رہتی بلکہ اس میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ ایمان میں اضافے کے لیے آیات قرآنی میں غور و فکر نا گزیر ہے، ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ : ’’سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں‘‘۔ ( سورہ الا نفال آیت: ۲)
افسوس اس بات کا ہے کہ دیندار افراد بھی بیدارئ ایمان کے اس نسخہ سے استفادہ نہیں کرتے، نتیجے کے طور پر مطلوبہ ارتقاء کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پاتا۔ اللہ کے نبیؐ کا ارشاد اس ضمن میں ہمارے ذہنوں میں رہنا چاہیے، آپؐ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’جس شخص کے دل میں قرآن کا کوئی حصّہ نہ ہو وہ ایسا ہے جیسے ویران گھر‘‘۔ (ترمذی، دارمی)
ایک اور موقع پر اللہ کے نبیؐ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ’’دلوں کو بھی اسی طرح زنگ لگ جاتا ہے جس طرح پانی سے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! دلوں کے زنگ کو دور کرنے والی شئے کیا ہے؟ فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن مجید کو پڑھنا‘‘۔(بیہقی)
مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے نبیؐ کی شفاعت احا دیث سے ثابت ہے، یقیناًنیک لوگ شفاعت کے مستحق ہوں گے لیکن جن لوگوں کی زندگی میں قرآن کریم کے لیے کوئی گوشہ نہیں ہے ان کی شفاعت تو خیر کیا ہوگی، قرآن حکیم کہتا ہے کہ اللہ کے نبیؐ خود ان پر مقد مہ قائم کریں گے، ارشاد ربانی ہے:
ترجمہ: ’’ اور رسولؐ کہے گا اے میرے رب میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنا لیا تھا‘‘۔ ( الفرقان: ۳)
سید ابو الا علیٰ مودودیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ انہوں نے اسے ہذیان اور بکو اس سمجھا، دوسرے یہ کہ انہوں نے اسے اپنے ہذیان اور بکو اس کا ہدف بنا لیا اور اس پر طرح طرح کی باتیں چھانٹتے رہے۔‘‘ (تفہیم القرآن حصّہ سوم صفحہ:۷ ۴۴)
کیونکہ قرآن اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے، اس لیے عقل کہتی ہے کہ اسے آسان ہونا چاہے۔ قرآن کا بھی یہی دعویٰ ہے، ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ: ’’ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ۔‘‘(سورہ القمر: ۱۷)
اب اس سے بڑھ کر اور کیا جسارت ہوسکتی ہے کہ اللہ تو یہ کہے کہ قرآن آسان ترین ہے، نصیحت اور غور و فکر کے لیے لیکن مسلم معا شرہ کے نام نہاد دانشوراسے مشکل بتائیں اور بد قسمتی سے ان کی بات چل بھی جائے۔ یہ ہمارے لیے اور تمام غیرت مند اہل ایمان کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔
مطا لأہ قرآن کے بہترین اوقات
یوں تو مطا لأہ قرآن کے لیے کوئی متعین وقت نہیں ہے تاہم قرآن کریم میں بعض اشارات اس ضمن میں ملتے ہیں، جیسے سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تبارک تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ: ’’نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو، کیونکہ قرآن مشہود ہوتا ہے‘‘۔ ( سورہ بنی اسرائیل، آیت: ۷۸)
اس آیت کریمہ میں جہاں نماز قائم کرنے کے مختلف اوقات کی نشا ندہی کی گئی ہے۔ وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اِن ہی اوقات میں تدبر قرآن بھی کیا جانا چاہیے، خاص طور سے سونے سے پہلے اور اٹھنے کے فوراً بعد کی تصریح احادیث سے بھی ہوتی ہے اور سلف صالحین کا بھی یہی عمل رہا ہے۔ چنانچہ آج بھی علماء دین کا یہ طریقہ ہے کہ فجر کے فوراً بعد درسِ قرآن یا تذکیر قرآن کا اہتمام کیا جائے۔ ماہرین صحت وتعلیم کا بھی کہنا ہے کہ بیداری کے فوراً بعد جوبھی کام کیا جاتا ہے وہ آسانی سے دماغ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔
مطا لأہ قرآن کیسے؟
مطا لأہ قرآن انفرادی بھی کیا جا سکتا ہے اور اجتماعی بھی۔ اجتما عی کوشش اس ضمن میں پسندیدہ ہے۔
ایک موقع پر نبیؐ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے۔ آپؐ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ذکر الٰہی میں مصروف ہیں اور کچھ لوگ ایک حلقہ بنا کر قرآن پڑھنے اور پڑھانے میں مشغول ہیں۔ آپ مؤخر الذکر گروہ میں شامل ہوگئے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ’’میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘۔ (ابن ماجہ)
مذ کورہ واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبیؐ نے اس عمل کو پسند فرمایا، البتہ نبی ؐکے دور مبارک میں اس طرح کے حلقوں کی کثرت نہیں تھی۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ ہم اپنے تحریکی رفقاء کو اسی طرح تدبر قرآن پر آمادہ کریں، جس طرح ایک طالب علم اپنے کورس( نصاب) کی کتابیں پڑھتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر قرآن مجیدپڑھنے، اس کو سمجھنے، اس سے فائدہ اٹھانے اور اسے اپنی زندگی کے ہر گوشے میں جاری و ساری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مطالأہ قرآن کے لیے لغت، تفاسیر اور سیرت کی کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اہل علم سے استفادہ اور ان کے سامنے زانوے تلمذ بھی تہہ کرنا چاہیے جس کا چلن بہت کم ہو گیا ہے۔ قرآن کریم کے فہم کے سلسلے میں تنگ نظری سم قاتل ہے۔ لہٰذا اس سے پرہیز ضروری ہے ۔ علامہ اقبال کا یہ شعر بھی مشعل راہ ہے:
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ را زی نہ صاحب کشاف
ہم نماز کے بعد یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ ’’ اے اللہ اس قرآن کو ہمارے سینے کا نور بنا دے، آمین‘‘، اس سے امید کی جاتی ہے کہ خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اسی کے ساتھ قرآن کریم کو حفظ کرنے کا اہتمام بھی لا زماً کیا جانا چاہیے، اس عمل سے دوران نماز تدبر قرآن میں مدد ملے گی۔ کیونکہ دوران نماز بندہ اپنے رب سے نہایت قریب ہوتا ہے۔ اس لئے فہم قرآن کے نئے دریچے کھلتے ہیں اور بہت سے راز افشاں ہو تے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا نے کے لئے عربی (قرآنی عربی) سیکھنے کا بھی اہتمام ناگزیر ہے۔ آخری بات یہ کہ قرآن کیونکہ محض ایک تھیوری نہیں ہے بلکہ مومنین کے لیے کتاب زندگی ہے اس لئے بار بار یہ جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ ہم کو اس سے کتنی زندگی ملی؟

محمد معاذ، جا معہ ملیہ اسلامیہ۔ ای میل: [email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

دور حاضر میں نوجوانوں کی ترجیحات

محمد آصف ا قبال کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوان ...