بنیادی صفحہ / نظر / مسلم: یکساں مواقع سے محروم ایک طبقہ

مسلم: یکساں مواقع سے محروم ایک طبقہ

زبیر عالم

اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کل مسلم آبادی میں پسماندہ مسلم لوگوں کا تناسب  85 فیصد ہے۔ اتنا بڑا ووٹ فیصد رکھنے والے طبقے کو کوئی بھی سیاسی جماعت کس طرح نظر انداز کر سکتی ہے؟

یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ ہر طرح کی تبدیلی اور لہر کے باوجود بھی اس طبقے کو اب تک ایک اہم شریک کارکے طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کہ ذریعہ سے قبول نہیں کیا گیا ہے۔ اس بات کو قبول کیا جانا چاہئے کہ اس ملک کے سیکولر گروہ نے سب کی شرکت کو یقینی بنانے والی جمہوریت  (Participative Democracy)  کو بڑھاوا دینے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے جس کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔اس کے نتیجے میں بہت سے محروم طبقات کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اتنی ساری تبدیلی اور مثبت پیش رفت کے تناظر میں پسماندہ سماج کے وجود اور عز و وقار سے متعلق سوال اپنے آپ بہت اہم بن جاتے ہیں۔ ملک کی آبادی می تقریبا14 فیصد تناسب رکھنے والا طبقہ اب تک ان جماعتوں کی طرف سے کیوں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے؟ کیا اسے سیکولر جماعتوں کی ناکامی نہ مانا جائے؟اس طبقے سے ہمدردی رکھنے کا دعویٰ کرنے والی سبھی جماعتیں تقریبا 70 سال کی جمہوریت میں بھی انتہائی خطرناک صورتحال میں رہ رہے اس طبقے کو اس کے دستوری حقوق سے مستفید کیوں نہیں کرا پائیں؟

ہم یہاں کسی خاص جماعت یا کسی خاص فرد پر الزام تراشی کرنے کی بجائے مسئلہ کی اصل صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ کیونکہ ہمارا ماننا ہے کی الزام تراشی کی جگہ مسائل کو صحیح طورسے سمجھنا اور اس کے حل کے لیے دستوری فریم ورک میں کوشش کرنا ایک جمہوری نظام کے لئے زیادہ ضروری ہے۔ہمارا مثالیت پسند (آئڈیلسٹ)نظریہ یہ بھی کہتا ہے کہ، بعض استثناء کے ساتھ، جس طرح ملک میں بنیادی تبدیلی کے لئے کانگریس پارٹی کی کوششوں کا انکار نہیں کیا جا سکتا ٹھیک اسی طرح سماج وادی اور امبیڈکر وادی جماعتوں کی کوششوں کی بھی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہنا صحیح ہوگا کہ مستقبل میں بڑی تبدیلی کاامکان بھی انہیں جماعتوں سے وابستہ ہے۔ یہ جماعتیں بھی بلاشبہ قومی سطح کی جماعت بن سکتی ہیں۔ان جماعتوں کی، ہر قسم کے ترقی پذیر سماج میں یکساں مقبولیت انہیں زیادہ مضبوط اور امکانی بناتی ہے۔ ساتھ ہی مطلوبہ تبدیلی کے لئے اعتماد بھی عطا کرتی ہے۔ اگر یہ جماعتیں ملک کے پسماندہ سماج کو مین اسٹریم میں لانے کے لئے خالص نیت کے ساتھ کوشش کرتی ہیں تو اس محروم طبقے کہ خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

یہاں لفظ پسماندہ کے لغوی معنی پر بحث کرنا زیادہ اہم نہیں ہے بلکہ یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ پسماندہ طبقات کے زندگی گزارنے کے وسائل کیا ہیں؟ کیا مسلم طبقے کے معاشی، سماجی اور تعلیمی مطالبات ملک کے دوسرے محروم طبقات سے الگ ہیں؟ کیا وہ پسماندہ ہندوستان کے پچھڑے، مظلوم اور حاشیہ پر موجودلوگوں سے کوئی الگ شناخت رکھتے ہیں؟ اگر ان کی شناخت بھی دوسرے محرومین کی طرح ہے تو پھر اس طبقے کو دستوری علاج (Constitutional Remedy)کا فائدہ کیوں نہیں مل رہا ہے جسے آئین ہند کا اہم حصہ کہا جاتا ہے اور بابا صاحب امبیڈکر نے بھی جسے بہت مثبت پیش رفت مانا تھا؟

مسلم طبقے کے مباحثہ میں کیے گئے سوالوں کے جواب خود سوالوں میں ہی موجود ہیں؟ملک کی اکثریت پسماندہ طبقات پر مشتمل ہے۔ملک کی بہت سی پیشہ ورانہ ذاتوں اور گروہ کی طرح مسلمانوں کے بھی زندگی گزارنے کے وسائل یکساں ہیں۔دوسرے گروہ کی طرح اس سماج میں بھی تنوع موجود ہے اور شناخت کے بہت سے حوالے ہیں۔پسماندہ سماج کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس طبقے کو مواقع اور وسائل کے حصول میں دستور کی بنیادی روح کے برعکس تعصب کا سامنا کرناپڑ تا ہے۔ مثال کے طور پر اس ملک کے بنکروں کو لیا جائے تو اس طبقے کی پیشہ ور پہچان ایک ہے۔اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں بنکروں کا یہ طبقہ کل مسلم آبادی کا 4.5 شیئر کرتا ہے۔ملک کی کئی ریاستوں میں دوسرے مذہب کے ماننے والے بنکر درج فہرست ذاتوں میں شامل ہیں۔مثال کے طور پر گجرات میں کولی/کوری برادری کو دیکھ سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی بنکروں کی ضمنی ذاتیں بھی معاشی وسماجی حیثیت کے مطابق درج فہرست ذاتوں میں شامل ہیں اور نمائندگی کے مسئلہ کو حل کر رہی ہیں۔اس دستوری نظام کے مطابق ایسے گروہ /برادریاں نہ صرف اصل دھارا کا حصہ بن رہی ہیں بلکہ دستور کی قوتوں کی قبولیت کو بھی واضح کر رہی ہے۔اس تناظر میں سب سے زیادہ افسوس دہ بات یہ ہے کہ مسلم بنکر درج فہرست ذاتوں سے باہرہے۔اس طرح کی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں۔سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا اس جگہ پر مذہبی پہچان کے علاوہ کوئی اور عنصر کام کر رہا ہے؟ یہاں کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ جب ہمارا دستور مذہب، ذات وغیرہ کی بنیاد پر تعصب کی نفی کرتا ہے تو اس مسئلہ پر عدم مساوات کیوں موجود ہے۔اس سوال پر تمام ترقی پذیر لوگوں اور دلت مسلم اتحاد کا نعرہ دینے والی جماعتوں اور سیکولر جماعتوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا ماننا ہے کہ اس سوال کو سلجھائے بغیر محروم طبقات کے اتحاد(Unity of Oppressed) کا کوئی بھی نعرہ بے معنی ہوگا۔

اس پورے تناظر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مذہبی انتہا پسندی کہ اس دور میں محروم طبقات کوان کے حقوق دینے کی یقینی کوششوں سے ہی مساوات پر مبنی سماج کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ہمارا یہ ماننا ہے کہ ملازمت کے یکساں مواقع کی بنیاد پر سماج کے الگ الگ گروہ کو نشان زدہ کرنا اور ان طبقوں کو ایک کل بناکر ایک طرح کی واضح شناخت بناتے ہوئے دستور کے عطا کردہ حقوق کی بحالی کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس کوشش سے ہم نہ صرف مذہبی انتہا پسندی کا علاج کر پائیں گے بلکہ ملک کی ترقی اور اتحاد کے لئے بھی ہم اہم ضرورت بن جائیں گے۔ آج جبکہ دنیا کے ترقی پذیر ملکوں میں بدترین عدم مساوات کا اعتراف کرنے کا ماحول بن گیا ہے تو ہمیں بھی اس بارے میں سنجیدگی سے غور وفکر کرتے ہوئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔کسی بھی ترقی پذیر سماج کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر کی عدم مساوات کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہے۔کیونکہ جب ایک مرتبہ آپ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں توگویامسائل کے حل کی طرف آپ پہلا قدم بڑھاتے ہیں۔

اس ملک کے پسماندہ طبقے کے معاشی، سماجی اور تعلیمی مطالبات بھی اس ملک کی اکثر آبادی کے حقوق کی طرح ہیں۔ سماجی اور معاشی بنیاد پر مساوات اس سماج کا مقصد ہے اس لئے وسائل اور موقعوں کی حصولیابی میں کسی بھی طرح کے امتیاز کا انکار اس طبقے کا بنیادی نعرہ ہے۔یہ بات صد فیصدسچ ہے کہ ہم نے چند اسباب کی بناپر سماجی تانے بانے کو مضبوط کرنے کی بجائے سیاسی کنٹرول کو بنائے رکھنے پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم تقریبا سترسال کی اس جمہوریت میں کہیں نہ کہیں ناکام رہے ہیں۔ معماران قوم کے خوابوں کے مطابق کام نہیں کیا جا سکا ہے۔

ترقی پذیر قوتوں کے ذریعے مضبوط سیاسی کنٹرول قابو میں نہیں کر پانے کے سبب ہی یہ نظارا دیکھنے کو مل رہا ہے کہ علی الاعلان ایک بڑے طبقے اور گروہ کو اصل دھارے سے کاٹ دینے کی بات کہی جاتی ہے۔اس تناظر میں یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ آخر کیا اسباب ہو سکتے ہیں کہ اس طرح کی مہم میں ملک کے پسماندہ اور مظلوم طبقے ہی ہمیشہ زیاں خوارreceiving end)پر(ہوتے ہیں۔اس کا جواب اوپر کی سطروں میں موجود ہے۔ایسی حالت میں سنجیدگی کے ساتھ کی گئی کوشش ہی ترقی پذیری کی ضامن ہوگی۔ اس بات پر گرہ باندھ لینے کی ضرورت ہے کہ سماجی ڈھانچے میں مساوات کا نظریہ ہی ملک کی بنیاد کو مضبوط بنائے گا اور حاشیہ پر موجودلوگوں میں مثبت توانائی پیدا کرے گا۔

اسی طرح پسماندہ طبقے کی شناخت پر غور و کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی شناخت بھی اس ملک کی اکثریت کی شناخت کی طرح ہے۔منڈل کمیشن کی رپورٹ اس حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض استثناء کو چھوڑ کر اس کمیشن کی ساری سفارشیں پسماندہ طبقے پر مکمل طور سے لاگو ہوتی ہیں۔لیکن کیا آج پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ تقریبا 28 برس بعد منڈل کمیشن کی سفارشوں سے پسماندہ طبقہ مستفید ہوا ہے؟

اس کا جواب ہاں میں ہوتا تو جسٹس راجندر سچر درج فہرست ذاتوں کی اپنی رپورٹ میں اس طبقے کی حالت دلتوں (SC/ST) سے بدتر نہیں بتاتے۔یہاں ذرا ٹھہر کر غورکرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا سبب ہے کہ منڈل کمیشن پسماندہ طبقے کو قانون کے باوجود بھی حقوق نہیں دلوا سکا؟ سچ تو یہ ہے کہ نا انصافی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔پہلے تو مسلم دلت ذاتوں کو غلط طریقے سے او بی سی فہرست میں جگہ دی گئی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی حیثیت دیگر درج فہرست ذاتوں کے مساوی ہے۔او بی سی ایک بڑا طبقہ ہے۔جس میں بہت زیادہ تنوع ہے۔اس میں بہت سی ذاتوں میں مذہبی انتہاپسندی بھی پائی جاتی ہے۔نتیجے میں مسلم او بی سی اور دوسری او بی سی کے درمیان مواقع کی کوشش میں فرق ملاحظہ کیا گیا ہے۔مسلماو بی سی کو کم مواقع ملنے پر دانشور یہ کہتے ہیں کہ یہاں مذہبی شناخت اصل سبب نہیں ہے۔پرکاش امبیڈکر نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں او بی سی کی بہت سی ذاتوں کو مذہبی انتہاپسندی سے متاثر بتایا تھا۔اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں او بی سی کی تقسیم نہ ہونے کے سبب بھی مسلم او بی سی، دیگر او بی سی ذاتوں سے مسلسل پچھڑتے رہے ہیں۔مواقع کی حصولیابی میں مذہبی شناخت کا مسئلہ کھڑا ہونا الگ سبب ہے۔ان حقائق سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ منڈل کمیشن کی سفارشات سے غیر مستفید پچھڑے طبقے مذہبی انتہا پسندی اورسیاسی ایجنڈوں کی دوہری چپیٹ میں ہیں۔یہ حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ دستور کے مطابق معاشی اور سماجی بنیادوں کوپالیسی سازی (Policy Making)کی بنیاد بنایا جائے اور مذہبی شناخت کونظر اندازکیاجائے۔اس تناظر میں جسٹس راجندر سچر اور جسٹس رنگناتھ مشرا وغیرہ کی سفارشوں کو عمل میں لایا جائے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر سنجیدگی کے ساتھ کوشش کی جائے تو عدم مساوات اور مذہبی انتہا پسندی سے آزاد سماج کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے۔ اپنی اس کوشش سے ہم سب کی شرکت کو یقینی بنانے والی جمہوریت (Participative Democracy)  کو آگے بڑھائیں گے اور نظر انداز کئے گئے لوگوں کو اصل فہرست کا حصہ بنا کرکار تعمیر وطن (Nation Making)میں شریک اور شامل کرسکتے ہیں۔

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

تبدیلی مذہب مخالف قوانین صرف مسلم یا عیسائی مخالف نہیں ،بلکہ ہرانسان کے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے: فواز شاہین

(حالیہ دنوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے متعلق ...