بنیادی صفحہ / نظر / مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین سڈنس سے عزام تک

مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین سڈنس سے عزام تک

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بڑی خبر یہ ہے کہ ایس آئی او کے ممبر عبد اللہ عزام طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔کئی روز کی زبردست انتخابی مہم کے بعد ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۴ کو انتخابات ہوئے اور اسی رات رائے شماری کے بعد عبد اللہ عزام کی کامیابی کا اعلا ن کر دیاگیا۔ عزام اور ان کے ساتھیوں نے خوشخبری سنتے ہی جامع مسجد کا رخ کیا اور نماز شکرانہ ادا کی۔ اس طرح ۱۳۰؍سالہ قدیم یونین کی تاریخ میں ایک خوشگوار روایت کا اضافہ ہوا۔
سرسید علیہ الرحمہ نے قوم کو زبوں حالی سے نجات دلانے کے لیے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا تو اس کالج کو ہر اس سہولت سے آراستہ کیا جو اس وقت دنیا کے معروف اداروں میں دستیاب تھی۔ سرسید کی آنکھوں کے سامنے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کا مثالی کردار تھا۔ وہاں طلبہ کی اخلاقی تربیت، شخصیت سازی اور اظہار مافی الضمیر پر قدرت کے لیے ڈبیٹنگ کلب قائم تھے۔ سید والا گہر نے یہاں بھی ایک ڈبیٹنگ کلب بنایا۔ حسن اتفاق سے اس وقت کالج کے پرنسپل Henry George Siddon\’s تھے، جو کیمبرج یونیورسٹی میں ڈبیٹنگ کلب کے صدر رہ چکے تھے، انہیں اس کلب کا صدر بنایا اور اس کا نام بھی سڈنس ڈبیٹنگ کلب رکھ دیا۔ مسٹر سڈنس کو نئی نسل کی نشو ونما اور شخصیت سازی میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے زمینی حقائق کا جائزہ لے کر یہاں کی ضروریات کے لحاظ سے اس کے قواعد وضوابط مرتب کیے۔اور۲۶؍ اگست ۱۸۸۴کو اسٹریچی ہال میں اس کا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں کالج کے تمام طلبہ، اساتذہ، عمائدین اور سرسید علیہ الرحمہ بنفس نفیس شریک ہوئے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ سید والاگہر حاضرین کے سامنے آئے، کلب کے اغراض ومقاصد بیان کیے، آپ نے فرمایا ’’اس کلب کے قائم کرنے کا مقصد بھی وہی ہے جو اس کالج کے قیام کا مقصد ہے یعنی طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا، بہترین تربیت کرنا، مسابقت کے ہرمیدان میں انہیں فوقیت دلانا اور ملک وقوم کی خدمت کے لیے لائق افراد تیار کرنا۔ مسٹر سڈنس کے بعد کلب کے صدر بحیثیت عہدہ ہمیشہ ادارہ کے سربراہ اعلیٰ ہوتے رہے، طلبہ میں سے ایک نائب صدر، ایک سکریٹری، اور دس کابینی ممبران منتخب ہوا کرتے تھے۔ صدر کی حیثیت سرپرست اعلیٰ کی ہوتی، کلب کے تمام کام اور انتظامات منتخب طلبہ ہی انجام دیتے، سب سے پہلے نائب صدر جناب سجاد حیدر اور سکریٹری سید محمد علی منتخب ہوئے۔
کلب نے روزِ اول سے اپنا کام زور وشور سے شروع کردیا، ہرہفتے طلبہ جمع ہوتے، تقریریں ہوتیں، مباحثے اور مضمون نویسی کے مقابلے ہوتے۔ طریقہ یہ ہوتا کہ پہلے اور تیسرے ہفتے میں انگریزی اور دوسرے اور چوتھے ہفتے میں اردو میں مقابلے ہوتے۔ مہینے میں ایک آدھ برجستہ مباحثہ(Extempore speach) بھی ہوجاتا، تین ماہ میں ایک بار ڈبل ایکس ٹمپور پروگرام ہوتا، جس میں بحث کا موضوع صرف پانچ منٹ پہلے بتایا جاتا اور جب مقابل ڈائس پر پہنچتا مزید ایک پرچی نکالتا، اگر اس میں For نکلتا تو موضوع کے حق میں بولتا اور اگر Against نکلتاتو موضوع کی مخالفت میں بولنا ہوتا، اس طرح یہ کلب اپنے ممبران کی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بن گیا۔
سڈنس کلب کا ۱۸۸۴ء میں آغاز ہوا، پھر اس نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا، سال بہ سال انتخابات ہوتے رہے، ۱۹۰۲ء میں اعزازی لائبریرین کے ایک نئے عہدے کا اضافہ ہوا، ۱۹۰۵ء میں اس کی عالیشان عمارت تعمیر ہوئی تو سڈنس ڈبیٹنگ کلب کا نام ’’سڈنس یونین کلب‘‘ کردیا گیا۔اس میں ایک معیاری لائبریری قائم کی گئی، تازہ اخبارات ورسائل کا اجراء عمل میں آیا، پہلی بار دولسانی(انگریزی واردو) مجلہ یونین ریویو نکلنا شروع ہوا۔
۱۹۲۰میں کالج کو خود مختار سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اس تبدیلی کے بعد کچھ راہ ورسم بدلی، کچھ طرز زندگی اور طور طریق میں بدلاؤ آیا۔ اب سڈنس یونین کلب کا نام’’ مسلم یونیورسٹی یونین‘‘ ہوگیا، مگر کام اور ذمہ داریاں وہی رہیں۔ کارواں آگے بڑھتا رہا۔یونین کی تاریخ میں انقلابی تبدیلی ۱۹۵۲ء میں رونما ہوئی۔ نام میں لفظ Students کا اضافہ ہوا۔ اس کا پورا نام ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین ‘‘ہوگیا۔ نیا دستور العمل نافذ ہوا۔ نئے دستور میں سربراہ ادارہ شیخ الجامعہ یونین کا سرپرست قرار پایا۔اور صدر کا عہدہ بھی طلبہ کے پاس آگیا، اعزازی لائبریرین کا عہدہ ختم کردیاگیا۔ صدر، نائب صدر، سکریٹری اور دس کابینی ممبران بدستور باقی رہے۔لنگدوہ کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آئی تو عام طور سے ارباب انتظام نے اس کا استقبال کیا۔اس کی سفارشات کی روشنی میں طلبہ یونینوں کے لیے نیاضابطۂ اخلاق مرتب ہوا۔ جویہاں کی طلبہ یونین پر بھی لاگو ہوا، جس نے کئی برائیوں کو ختم کیا اور کئی نئی برائیوں کو جنم دیا۔
یونین نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی اعزازات اور مڈلس شروع کیے، جو سال بھر کی سرگرمیوں کے جائزہ کے بعد ان طلبہ کو ملتے جو واقعی مستحق ہوتے، ان امتیازی تمغوں کو حاصل کرنے کے لیے زبردست مسابقت ہوتی اور جو پاجاتا پھولے نہ سماتا۔ ۱۸۸۸ءHorold Cox کیمبرج اسپیکنگ ایوارڈ شروع ہوا، جو اس طالب علم کو ملتا جو سال بھر کے مباحثوں میں باعتبار مجموعی سب سے بہتر قرار پاتا۔ ۱۹۱۴ء میں Meston آکسفورڈ ایوارڈ شروع ہوا جو سالانہ تحریری مقابلے میں بہترین مقالہ نویس کو دیا جاتا تھا، سرشاہ سلیمان گولڈمڈل ان طلبہ کے لیے شروع کیا گیا جو انڈرگریجویٹ ہوں اور یونین کی سرگرمیوں میں برابر شریک رہتے ہوں نیز اچھے مباحث بھی ہوں۔ ۱۹۵۳ء میں سیدنا سیف الدین یونیورسٹی کے چانسلر ہوئے تو انہوں نے تین گولڈ مڈل عنایت فرمائے۔ ان کے نام مرحوم نے خود طے کردئیے اور قواعد وضوابط کی ترتیب ومڈلس کی تقسیم یونین کے سپرد کردی۔ ان میں(۱) سیفی امداد علی گولڈ مڈل برجستہ تقریری مقابلے کے لیے (۲) سیفی برہان الدین گولڈ مڈل برجستہ مضمون نویسی کے لیے (۳) سیفی فدا حسین بہترین اردو مقرر کے لیے طے کیے گئے۔
ان سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یونین کے پلیٹ فارم پر بلند پروازی کے کیسے کیسے وسائل مہیا تھے، جس میں پرواز کا عزم ہوتا، وہ اس کا ممبر بن جاتا اور ترقی کی بلند وبالا چوٹیاں اس کے قدموں میں آجاتیں۔
اس یونین کا علمی وثقافتی سرگرمیوں میں یہ مرتبہ تھا کہ طلبہ کی یہی منتخب ٹیم یونیورسٹی کی تمام تر ادبی، ثقافتی اور رفاہی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہوتی، یہی سالانہ آل انڈیا مباحثہ کا انعقاد کراتی، یہی کل ہند مشاعرہ کی آرگنائزر ہوتی، یہی اپنی ٹیموں کو باہر بھیجتی ، یہی ڈرامٹک کلبوں کو دعوت دیتی، توسیعی خطبات کا اہتمام کرتی، آفات میں ریلیف کا کام کرتی، ملک وقوم پر کسی طرف سے بھی آنچ آتی تو سب سے پہلے آواز بلند کرتی۔ الغرض بانی درسگاہ نے اس کے قیام کے وقت جو حسین خواب اپنی آنکھوں میں سجائے تھے، یونین اپنی جدوجہد سے اس کی عملی تعبیر پیش کرکے ان کی روح کو سکون پہنچاتی رہی اور ادارہ کا نام روشن کرتی رہی۔
یونین نے ان کاموں کے علاوہ کئی ایسے دیرپا کام بھی کیے جو شاید ہی کسی دوسری طلبہ یونین کے حصہ میں آئے ہوں۔ ان میں ایک بڑا کام ملازمین کے بچوں کے لیے اسکول کا قیام ہے۔ ۱۹۳۸ء میں چند طلبہ اور ایک معلم کے ذریعہ عبد البصیر خاں یونین اسکول کا آغاز ہوا جو برسہابرس یونین کے بجٹ پر چلتا رہا اور یونین ہی تمام امور سر انجام دیتی رہی۔ اب۲۰۱۳ سے یہ اسکول ترقی کرکے یوجی سی کے بجٹ پر آگیا ہے اور یونین کے بجائے یونیورسٹی کے اسکولوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ اسی طرح رفیع ریلیف سوسائٹی کا قیام بھی یونین کا اہم کارنامہ ہے۔ یہ خالصتاً ضرورت مند اور کمزور طلبہ کے امداد کے لیے قائم کی گئی تھی۔ عام طلبہ کی جیب سے ایک معمولی رقم حاصل کی جاتی ہے، اور خاموشی سے درجنوں طلبہ کی کفالت کردی جاتی ہے۔
علی گڑھ کی طلبہ یونین اپنے عظیم کارناموں کے علاوہ دلکش روایات کی وجہ سے بھی مشہور ہے، یہاں کی ہرادا نرالی ہے، مہمانوں کا استقبال، انتخابات کی شوخیاں اور شرارتیں ، فریق مخالف سے اظہار الفت ومحبت اور حلف برداری کی جگہ رسم تنصیب۔ سب الگ شان رکھتے ہیں۔ یونین کی زندہ اور تابندہ روایات میں نامور ہستیوں کا استقبال اور اعزازی ممبر شپ کی پیش کش ایک زندہ روایت ہے۔ جب بھی یونیورسٹی میں کوئی سرابراہِ مملکت یا معزز ہستی آتی تو یونین اس کا استقبال کرتی اور اعزازمی ممبر شپ عطا کرتی ہے، اس استقبالیہ تقریب کے مناظر ایسے دلکش ہوتے ہیں کہ زندگی بھر کے لیے یاد گار بن جاتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مہمان جب ڈائس پر آکر کھڑا ہوجاتا ہے تو غیر مرئی طور پر اس کے اوپر پھولوں کی بارش شروع ہوجاتی ہے اور سامنے سے تالیوں کی زبردست گڑگڑاہٹ کے درمیان دیر تک پنکھڑیاں برستی رہتی ہیں بعض دفعہ اتنے پھول برسا دئیے جاتے ہیں کہ مہمان گھٹنوں تک پھولوں میں ڈوب جاتا ہے پھر اس کی خدمت میں مسجع و مرصع سپاس نامہ پیش کیا جاتا ہے۔ استقبال کا یہ نادر طریقہ دیکھ کر مہمان متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے اور خوشی سے سرشار ہونے والے مہمانوں میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، شاہ سعود، علامہ اقبال، ڈاکٹر تاراچند اور فخر الدین علی احمد جیسی نامور ہستیاں شامل ہیں۔ یونین کی ایک نادر پہچان یہ ہے کہ اس کا الیکشن پارٹی لائن پر نہیں ہوتا بلکہ امیدوار کی شخصی صلاحیتوں پر ہوتا تھا۔ صلاحیت اور صالحیت کے مقابلہ میں داغ دار دامن والا کوئی شخص امیدواری کی جرأت ہی نہیں کرسکتا تھا۔ جو تقریر، تحریر، کلاس پرفارمینس، سلیقہ مندی، خوش اخلاقی اور خدمت خلق میں طاق ہوتا، وہی دعوت مبارزت دیتا۔ یونین کے اس پلیٹ فارم پر ہندوومسلم ،شیعہ و سنی، دیوبندی و بریلوی، سندھی و پنجابی، بہاری اور اعظمی جیسی مذہبی، مسلکی یا علاقائی عصبیت کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، الیکشن جیتنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہنر اظہار مافی الضمیر پر قدرت تھی۔ سڈنس اسپیکنگ کلب سے لے کر یونین کی پوری زریں تاریخ میں فیصلہ کن عنصر اسپیکنگ پاور کو ہی سمجھاجاتا رہا ہے۔ یہ شاید صرف علی گڑھ کا امتیاز ہے کہ انتخابی مہم کے آخری دن تمام امیدواران اور طلبہ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ امیدواران مقررہ موضوع پر تقریر کرتے ہیں اور عام طور سے یونین کی فصیل سے سامعین کا دل جیتنے والا ہی انتخابی نتائج میں فاتح قرار پاتا تھا۔
الیکشن کی تابندہ روایات میں یہ بھی ہے کہ مخالف فریق کے خلاف صرف شعلہ نوائی اور بیان بازی ہی نہیں ہوتی بلکہ مخالفت میں ہرطرح کا مواد جمع کیا جاتا اور اس کا استعمال روا رکھا جاتا ہے۔اسی درمیان حیرت ناک طور پر ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اگر فریقین آمنے سامنے آجائیں تو دونوں طرف سے سلام میں مسابقت ہوتی ہے اور دونوں امیدوار ایسے گلو گیر ہوتے ہیں جیسے ہمیشہ کے دیرینہ یار ہوں اور دونوں طرف کے حمایتی زور دار تالیوں سے اس ملاقات کی داد دیتے ہیں۔ یہ انوکھی روایت بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ انتخابی مہم کی آخری رات فتنہ انگیزی کی رات ہوتی ہے، اس رات میں کمزور امیدوار اوچھے وار کرتے ہیں، بعض دفعہ صریح غلط بیانی اور فرضی کہانیوں پرمشتمل ہینڈبل تقسیم کیے جاتے اور پوسٹر لگائے جاتے ہیں اور پکڑے جانے پر رسوائی کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔
۱۳۰؍ سالہ یو نین کا آخری پڑاؤ۱۵۔۲۰۱۴کا انتخاب ہے جو ۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۴کو مکمل ہو ا۔اس وقت تک ایسے عظیم الشان کردارکے حامل ادارہ میں کا فی کچھ بدل چکا تھا ۔یونین جن اقدار اور کارناموں کی وجہ سے جا نی جاتی تھی،دھیرے دھیرے وہ تاریخ کا حصہ بن گئے ۔ دنیا بھرمیں تہذیبی زوال آیا ،معاشرتی قدریں بدلیں،اچھا برااور برااچھا ہو گیا ۔تعلیمی اداروں میں بھی تملق پسندی، مفاد پرستی اور دیگر معاشرتی برائیاں در آئیں تو یو نین اس کے برے اثرات سے کیسے محفو ظ رہ سکتی تھی۔ پچھلی دوتین دہائیوں سے اس کی قدریں مسلسل روبہ زوال ہیں۔ لا ئبریری دیمک کی نذر ہو گئی ہے، تقریری و تحریری مقابلوں کے پلیٹ فا رم بھولی بسری یا د بن گئے، اب قائد کا انتخاب شخصی صلاحیت و صالحیت کے بجائے تملق اور قوت سے ہو نے لگا،طلبہ کے اندر علا قا ئیت کا عفریت پھونک دیاگیا ،یو نین کی فصیل سے فائنل اسپیچ کی رسم اب بھی ادا ہو تی ہے ۔مگربسا اوقات وہ امیدوار بھی کا میاب ہو جا تاہے جس نے ہندی رسم الخط میں لکھی ہو ئی تقریر پڑھ کر سنادی ہو۔ انتخابات کے کچھ ضوابط اور روایات ہمیشہ سے مقرر رہی ہیں۔طلبہ اسے دل وجان سے عزیزرکھتے تھے ،اس کی بہر صورت پاسداری کرتے، خلاف ورزی کا خیال ہی شکست کے مناظردکھادیتا تھا۔ مگر اب پوری ڈھٹائی کے ساتھ ضابطوں کی دھجیا ں اڑائی جا تی ہیں،کھلے عام پیسوں کا استعمال ہوتا ہے ،دہشت پید اکی جاتی ہے۔طرح طرح سے لا لچ دی جا تی ہے ۔ اسٹیج سے انتظامیہ کو گالیاں دی جاتی ہیں، اور قانون نافذکرنے والے ادارے ٹھنڈے دل سے اسے برداشت کرتے ہیں جس سے ایسا کر نے والو ں کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔یونین کے زوال آمادہ ماحول کو دیکھتے ہوئے سینئرس اکثر آرزو کرتے رہے کہ کاش کوئی بندہ یونین کی تابندہ تاریخ کی بازیافت کے لئے سامنے آ جاتا۔اور ان میں دوبارہ جان ڈال دیتا سینیئرس کی مراد بر آئی۔اس بار انتخاب میں ایک نئی آواز بلند ہوئی ہے ،ایک صدارتی امیدوار نے انقلاب کا نعرہ بلند کیا، اوراپنی انتخابی مہم میں یو نین کے شاندار ماضی کو یا ددلا یا ، اس کی قدروں کی دہائی دی۔ اس نے ان طاغوتوں کو چیلنج کیاجو پا کیزہ قدروں کو گھن کی طرح کھا رہے تھے، طلبہ کو اصولی سیا ست کی طرف راغب کیا، طلبہ کے درمیان گہارلگائی کہ سرسید نے جن عظیم الشان مقاصد کے لئے یہ پلیٹ فارم بنایا ہے ، ان مقاصد کی قدر پہچانیں،انہیں ہاتھ سے نہ جا نے دیں ،اگر اس پا ک سر زمین سے انسانی قدروں ،اسلامی اصولوں اوراخلاقی معیا رکا خاتمہ ہو گیاتو دنیا ہمیں معاف نہ کرے گی اور نہ ہمارارب ہی ہمیں معاف کرے گا۔ہمیں پورے احساس ذمہ داری اور احساس جواب دہی کے ساتھ یونین کے پلیٹ فارم کو ایک بار پھر ویسا ہی طاقتو ر بنا نا چاہیے جیسا کہ بانی درسگاہ نے خواب دیکھاتھا ۔ طلبہ نے اس آوازکو اپنے دل کی آواز سمجھا ،اس کا شان دار استقبا ل کیا، خوب عزت دی اور جب ووٹ دینے کی باری آئی تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور بھاری اکثریت سے اسے کامیاب بنایا ۔یونین کی ۱۳۰سا لہ تاریخ میں کئی طرح کے قائد بر سر اقتدار آئے ،ان میں مذہبی،سیکولر،کمیونسٹ،دین بیزار،علاقائیت پسند گویامختلف طبقات کے نمائند ے منتخب ہو تے رہے، یونین کی تاریخ میں پہلی با ر ایساہو اکہ اسلامی اصول و اقدار کی حامل ایک ملک گیر تنظیم کا رکن رکین اس عظیم الشان منصب پر فائز ہواہے۔یہا ں سے ایک نئے دور کے آغازکی امید کی جاتی ہے۔ نومنتخب صد ر عبداللہ عزام بلاشبہہ بڑے بلند عزائم کے مالک ہیں، بہت سے انقلا بی نعروں ،امنگوں اور آرزوؤں کے ساتھ اس منصب پر فائزہوئے ہیں،دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں استقامت بخشے اور یو نین کی تابندہ روایات اور مثالی کردار کو بحال کر دے۔

ڈاکٹر اشہد رفیق ندوی،[email protected]

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

تبدیلی مذہب مخالف قوانین صرف مسلم یا عیسائی مخالف نہیں ،بلکہ ہرانسان کے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے: فواز شاہین

(حالیہ دنوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے متعلق ...