مسلم مخالف رجحانات کا تجزیہ اورمسلمانوں کا لائحہ عمل

ایڈمن

گزشتہ دنوں گجرات یونیورسٹی میں نماز تراویح ادا کرنے پر بیرونِ ملکی طلبہ پر ہوا متشددانہ حملہ ہندوستان میں عوامی جگہوں سے مسلمانوں کی مسلسل اخراجیت اور سلبِ انسانیت (ڈی ہیومنائزیشن) کا مزید ایک باب ہے۔ ایک ایسے ملک میں…

گزشتہ دنوں گجرات یونیورسٹی میں نماز تراویح ادا کرنے پر بیرونِ ملکی طلبہ پر ہوا متشددانہ حملہ ہندوستان میں عوامی جگہوں سے مسلمانوں کی مسلسل اخراجیت اور سلبِ انسانیت (ڈی ہیومنائزیشن) کا مزید ایک باب ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہبی عقیدہ سماجی وسیاسی زندگی میں واضح طور پر رسوخ رکھتا ہے، صرف اقلیتوں کے عقائد کو راست اور بالراست طور پر جرم قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ (یہ وہی ملک ہے جہاں) مکمل حکومتی مشنری ‘ہندوراشٹرا’ کے یک رخی ویژن کا جشن منانے کے لیے متحرک کی جاتی ہے جس کا مشاہدہ حال ہی میں رام مندر کے افتتاح کی بھاگ دوڑ میں کیا گیا ہے۔ زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کے مترادف گجرات یونیوسٹی کے وائس چانسلر نے اعلان کیا ہے کہ ان بیرونِ ملکی طلبہ کو ہندوستانی اقدار کے تئیں حساس بنانے کے لیے کاؤنسلنگ فراہم کی جائے گی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جنسی ہراسانی کی شکار کو اس بات کی کاؤنسلنگ فراہم کی جائے کہ وہ کیسے اپنے مجرم کی حسیات کو نہ جگائے۔
یہ بات عیاں ہے کہ 2023ء میں اوسطاً ہر دن تقریباً دو مسلم مخالف نفرتی تقاریر پر مبنی اجلاس ہوئے اور چار میں سے تین ایسے اجلاس بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ہوئے ہیں۔1 یقینی طور پر ‘پیغام رساں کو قتل کرو’ کے حقیقی انداز میں حکومت نے واشنگٹن ڈی سی میں قائم گروپ انڈیا ہیٹ لیب کی ویب سائٹ کو متنازعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ 2000ء کے ماتحت مسدود (بلاک) کردیا ہے۔ ہندوتوا واچ ٹریکر کو بھی اسی طرح بلاک کیا گیا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا کی اطاعت اور خود سپردگی، ایسی کہ جب انہیں جھکنے کے لیے کہا گیا وہ سجدے میں گرپڑے، اور الکٹورل بانڈس سے لے کر نفرتی جرائم تک تمام اہم مسائل پر خاموشی نے ایسے مسائل پر صرف غلط معلومات ہی کو فروغ دیا ہے، جنہیں بعد میں واٹس اپ پیغامات میں ریفریم کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ مسلمانوں کے متعلق راست اشتعال کے پیدا ہونے کی صورت میں ہوتا ہے۔ حکومت کی درخواستوں کے پیش نظر میٹا جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کا بھی جھک جانا کم سنگین بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرتی تقاریر عروج پر ہیں جبکہ بلاخوف کھل کر آواز اٹھانے والے اکاؤنٹس کو فوراً بند کردیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اِندَر لوک میں پولیس کے کارندے کے ذریعے سجدہ ریز مسلم کو لات مارنے کو اس بنیاد پر سند جواز فراہم کیا جارہا ہے کہ مسلمان عوامی جگہوں پر قبضہ کررہے ہیں۔ اس استدلال سے یہ بات نظر انداز ہوتی ہے کہ اپنے گھروں یا خانگی جگہوں میں نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کو بھی مجرم گردانا اور حملہ کا شکار بنایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر علی گڑھ کے پروفیسر (جون 2022)جنہیں جبراً ایک ماہ طویل تعطیل پر بھیج دیا گیا جب ہندو گروپ نے ان کے ذریعے کالج لان میں نماز کی ادائیگی پر احتجاج کیا۔ عیسائی اقلیت بھی اس طرح کے دباؤ کو جھیل رہی ہے، چنانچہ مختلف شہروں میں خانگی میٹنگوں اور اتوار کے اجتماعات کو تبدیلی مذہب کے ٹھکانوں کے الزام میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اندرلوک کے قطعی طور پر ناقابل برداشت ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اس بات کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ پولیس والے کی قسمت کیا ہوتی اگر مذہبی شناخت کو تبدیل کردیا جاتا۔ حسب توقع، معطل کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا گیا۔ فی الواقع جو خیال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ اگر یہ ویڈیو میں قید نہ کیا گیا ہوتا تب اس پر کم ہی غم و غصہ کا اظہار ہوتا۔
‘ہندوستان میں اکثریت پسندانہ سیاست اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم، 2009-2018’ کے زیر عنوان اپنے مطالعہ میں، University of Massachusetts کے اسکالر دپنکر باسو نے معلوم کیا کہ بی جے پی کے حصول قوت اورمذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ میں 300 فیصد اسبابی بڑھوتری ہوئی ہے۔ یقیناً نفرت پر مبنی جرائم صرف بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں ہی تک محدود نہیں ہیں اور اس سماجی ڈھانچے کا نفوذ اس قدر شدید ہے کہ اگر کل بی جے پی تمام ریاستوں سے ختم بھی ہوجائے تب بھی فرقہ وارانہ نفرت اور پولارائزیشن کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہیں گے۔ مزید برآں، ہندوتوا فریم ورک بھی سیاسی محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا وجود سماج میں اپنی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ مسلم مخالف سرگرمیوں پر انعام ہمیشہ اوپری قیادت کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی سلبِ انسانیت کے عوض یہ بخشش عطا کی جاتی ہے۔ ظاہری طور پر کوئی رسمی کارروائی کی جائے گی، جیسے رمیش بدھوری اور سادھوی پرگیہ کو ٹکٹ دینے سے انکار کردیا گیا، لیکن یہ بی جے پی کے حقیقی احساس ندامت یا پچھتاوے کے بجائے محتاط طریقے سے متعین شدہ امیج مینجمنٹ ہے۔ سماجی طور پر بھی مخالف مسلم نفرت بڑھ رہی ہے، جس کا جائزہ کنال پروہت نے اپنی حالیہ کتاب ‘ایچ پاپ : دی سیکریٹیو ورلڈ آف ہندوتوا پاپ اسٹار’ میں لیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سینکڑوں ایچ پاپ (ہندوتوا پاپ) اسٹار جیسے یوٹیوب پر کوی سنگھ، لکشمی دوبے اور سندیپ آچاریہ کا جائزہ لیا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ڈی ہیومنائز کرنے والے نغمے جاری کیے جسے سوشل میڈیا پیجس پر خریدا گیا، واٹس اپ اسٹیٹس کی زینت بنایا گیا اور لاکھوں مشاہدین تک پہنچا۔
ہمارے قارئین کے لیے یہ تمام باتیں نئی نہیں ہیں۔ چوبیس گھنٹے ہم ان ہی حالات سے گھرے ہوئے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اس کے اثرات واضح ہیں جنہوں نے اپنی نوجوانی کا بڑا حصہ اس بڑھتے ہوئے گھٹن زدہ ماحول میں گزارا۔ اوپر درج پیراگراف مسلم مخالف نفرت اور جرائم کے کئی پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتے جیسے عدلیہ کی ناکامی، صنف مرکوز اسلاموفوبیا، ہندوستانی کیمپسوں کی صورت حال، بلڈوزر کی سیاست، اشتعال انگیزی کی ٹول کٹ جس کا مشاہدہ میرا روڈ اور دہلی کے فسادات میں کیا گیا، نمایاں ثقافتی و علمی اداروں پر تسلط، سنسر شپ وغیرہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے؟ آرٹیکل 14کا مسلمانوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات پر منتج ہونے والے حالیہ واقعات کا تجزیہ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے خلاف ریاست کے متعصابہ رویے اور جانب داری کو ظاہر کرتا ہے، روزمرہ کی زندگی کے معمولی واقعات پبلک آرڈر جبکہ بعض دیگر قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور دہشت گردی کے طور پر محسوس کرائے جارہے ہیں۔
خوف اور اضطراب کے ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے سی اے اے اور یو سی سی کے پروجیکٹس کو مستقل طور پر اٹھایا جاتا رہتا ہے۔ گرچہ یونیفارم سول کوڈ دہائیوں سے ایک خطرہ بنا ہوا ہے، جبکہ سی اے اے کو 2019ء کی بے خوف مزاحمت کے بعد حال ہی میں ضوابط کے اعلامیہ کے ذریعہ عوامی حافظہ میں تازہ کیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا سی اے اے مخالف عرضیوں کی چار سال کے دورانیہ میں مختلف مواقع پر سماعت کرنا کچھ مددگار ثابت نہ ہوا، جس کے نتیجے میں عاملہ کو اپنے ایجنڈےکو روبہ عمل لانے اور اپنے اصل الیکٹوریٹ کی منہ بھرائی کا موقع مل گیا، جو بڑھتی قیمتوں اور بے روزگاری کی کم ہی پرواہ کرتا ہے، جب تک کہ مسلمانوں کو مناسب سزا ملتی رہے۔
اس سے متعلق ایک اور بحث ایک ایسے قانون کی ضرورت پر ہے جو بالخصوص اقلیتوں کے خلاف ہورہے نفرت پر مبنی جرائم کی تعریف اور اسے جرم گرداننے پر مبنی ہو، بالکل اسی طرح جیسے ایس سی /ایس ٹی مظالم قانون کام کرتا ہے۔ یہ مباحث 2014ء سے عوامی حلقوں میں موجود ہیں اور کلی طور پر ایک مضبوط مطالبہ کی حیثیت اختیار نہیں کرپائے ہیں۔ گرچہ قانون کا موثر ہونا اس کے نفاذ سے مشروط ہوتا ہے۔ موجودہ منظرنامہ میں ‘نفرتی تقاریر’ کی کوئی متعین قانونی تعریف نہیں ہے۔ ہندوستانی قوانین میں موجود دفعات ایسی تقاریر، تحاریر، افعال، اشارات اور مظاہر کو جرم گردانتی ہے جو تشدد پر منتج ہوتا اور طبقات اور گروہوں کے درمیان انتشار کو فروغ دیتا ہو۔ ہندوستانی قانون میں (یہ معاملات) زیادہ تر انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 153A اور 505 کے ذریعے ڈیل کیے جاتے ہیں۔ 267ویں لاء کمیشن رپورٹ کے مطابق، “عام طور پر نفرتی تقریر بنیادی طور پر نسل، ethnicity، صنف، جنسی رجحان، مذہبی عقیدہ اور مماثل (کی بنیاد پر متعارف) افراد کے گروہوں کے خلاف نفرت پر ابھارنا ہے۔۔ چنانچہ نفرتی تقریر خوف یا الارم کا باعث بننے یا تشدد پر اکسانے کی نیت سے ایک فرد کی سماعت یا بصارت کے اندرون کوئی بھی تحریر شدہ یا زبانی لفظ، اشارہ، قابل دید مظہر ہے۔”
جبکہ منی چندر لکھتے ہیں کہ “295-A اور 153-A کے دفعات وہ دفعات ہیں، جنہیں 1960ء کے سخت حالات میں ہندوستان کے اتحاد کی حفاظت کے لیے وسعت دی گئی جنہیں آج اتحاد کے بجائے آرڈر کو باقی رکھنے کے لیے مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔” مختصر یہ کہ نفرت پر مبنی تقاریر کے خلاف قوانین کو اکثریت پسند ریاست کی جانب سے بآسانی حاشیہ زدہ طبقے کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ قوانین (پیچیدہ مسائل کے ) واحد یا آسان حل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ سی ایم آر آئی (کاؤنسل فار مائنارٹی رائٹس ان انڈیا) 2022ء کی رپورٹ میں کہا گیا، مجرمین کی مدد، مظلوم متاثرین کی گرفتاری اور کچھ معاملات میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) درج کرنے میں ناکام ہوتے ہوئے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں نفرت پر مبنی جرائم کو بڑھاوا دینے میں بڑا کردار ادا کررہی ہیں۔ سی ایم آر آئی کی رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ “متعین تعریف (کی عدم موجودگی) اور نفرت پر مبنی جرائم کے مجرمین کے مواخذہ کے لیے ناکافی قانونی دفعات” (کے باعث) قانون نافذ کر نے والی ایجنسیوں کے لیے اپنی خوداختیاری کا استعمال اور تعصب برتنا یا کوئی ایکشن نہ لینا آسان ہوجاتا ہے۔
اخلاق، پہلو خان، جنید اور نجیب احمد کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ہمارے اجتماعی شعور میں یہ تصویریں راسخ ہیں۔ جبکہ آج حقیقی خطرہ یہ ہے کہ نفرت پر مبنی جرائم اس قدر روزمرہ کا حصہ اور معمول بن گئے ہیں کہ بے گناہ مسلمانوں کو بے شناخت شماریات کے طور پر محدود کیا جارہا ہے۔ یہ بات قابل ستائش ہے کہ شہری آزادی کی تنظیمیں، بشمول ان کے جنہیں مسلمان اور ہم خیال افراد چلاتے ہیں، قلیل سرمایہ، بغیر کسی مالی تعاون اور شدید خطرات (ایف سی آر اے دھمکی سے لے کر صریح پابندیوں تک، یہ تنظیمیں روزانہ بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں) کے ساتھ راست اور بالراست طور پر جدوجہد کررہی ہیں۔ چنانچہ محسن عالم ستمبر 2022ء کے اپنے آرٹیکل ‘ہجوم، قتل، محرک : ہندوستان میں نفرتی جرائم کے ڈسکورس کا ظہور’ میں لکھتے ہیں، “جیسے ہی کوئی واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے خبروں کا دائرہ ایک ایسے رخ میں چل پڑتا ہے جہاں ایک واقعہ میڈیا ڈسکورس میں حاوی رہتا ہے یہاں تک کہ دوسرا (واقعہ) اسے بدل نہ دے۔”
اس سے قبل کہ اس طرح کے جرائم پر قدغن لگانے کے لیے قانون سازی پر بات کی جائے، بالخصوص موجودہ سیاسی ماحول میں جہاں اس بات کے امکانات بہت کم ہیں، ہمیں قلیل عوامی یادداشت کے سینڈروم کو چیلنج کرنا چاہیئے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ حکومت کیوں نفرتی (واقعات) کا ٹریک رکھنے والوں پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔ تشدد (کے باقیات) کو مٹانا سلبِ انسانیت کی جانب پہلا قدم ہے۔ دوسری بات یہ کہ، ہمیں ان تمام لوگوں کا جسمانی اور معاشی تعاون کرنا چاہیے جو شہری آزادی کی تحریکوں اور ایڈوکیسی گروپ کا قابل قدر، تھکانے والا اور بلا معاوضہ کام انجام دے رہے ہیں اور جیلوں میں قید کیے گئے لوگوں کی ہر ممکنہ مدد کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی دوست یا جہد کار کو ضمانت ملنے یا بری کیے جانے کی ہر اچھی خبر کے پیچھے لوگوں کی ایک ٹیم ہوتی ہے جو دن اور رات خاموشی سےاس بات کو ممکن بنانے کے لیے محنت کررہی ہوتی ہے۔ تیسری بات، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ متحد ہوکر کام کریں اور ان گروپوں کی مدد کریں جو یہ کام کررہے ہیں۔ بالخصوص مشکل اوقات میں، الگ تھلگ رہنا کوئی حل نہیں ہے۔ چوتھی بات، ہمیں میڈیا میں اپنے راستے بنانے چاہئیں، متبادل میڈیا کو (مالی یا کسی اور ذریعے سے) سپورٹ کرنا چاہیے اور ایسے میڈیا گروپوں اور صحافیوں کو آگے بڑھانے اور ان کی کہانیوںکو عام کرنے کے لیے ماحول بنانا چاہیے۔ آخر میں سب سے اہم بات، ہمیں اپنی فلسطینی بھائیوں اور بہنوں سے بقاء کے اسباق سیکھنے چاہئیں جنہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ غاصبانہ تسلط کو نہ صرف ڈاکیومنٹ کیا جائے بلکہ ہر ممکنہ ذریعے سے اس کی مخالفت کی جائے۔ شاید کسی مظلوم گروہ نے شاعری، سوانح، علمی مواد، ناولس، تاریخی تصانیف کی صورت میں اپنے بارے میں اتنا لٹریچر تیار نہیں کیا ہوگا جتنا فلسطینیوں نے کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ناانصافی کی تاریخی یادوں اور ریکارڈس کو محفوظ رکھنا ٹھوس طریقے سے اس کی مخالفت کی راہوں کو ہموار کرتا ہے۔
چونکہ الیکشن قریب ہیں، پولارائزیشن کا ماحول شدید تر ہوگا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو انصاف کے دائرہ میں اپنا مقدمہ رکھنا ہوگا۔ ہمارے وجود، تکریم، ترقی اور مستقبل کے ضمن میں کلیدی مسائل کون سے ہیں؟ تمام امیدواروں کو اسی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر مایوسی کی لہر جاری رہے گی، ساتھ ہی یہ ظاہر کیا جائے گا کہ ہندوتوا کا وجود، کارپوریٹ اور میڈیا کے بھاری مالی تعاون اور گراونڈ پر عدم معلومات اور ناقص معلومات کی بناء پر پولارائزیشن سے آگے بڑھتا رہے گا لیکن حکومتیں اور ہر سطح کا فسطائی اقتدار تا ابد باقی نہیں رہتا۔

(مضمون نگار سنٹر فاراسٹڈی آف لاء اینڈ گورننس، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں) [email protected]

حوالہ جات
1https://www.aljazeera.com/news/2024/2/26/hamas-to-halal-how-anti-muslim-hate-speech-is-spreading-in-india

حالیہ شمارے

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

شمارہ پڑھیں

امتیازی سلوک کے خلاف منظم جدو جہد کی ضرورت

شمارہ پڑھیں