بنیادی صفحہ / بزم / مسلمانانِ ہند کے نام
Pic: The Print

مسلمانانِ ہند کے نام

محمد علی تاجدار

گزشتہ کافی عرصہ سے ملک کی حالت پر تمام باشندگان بالخصوص مسلمان کافی تشویش کا شکار ہیں. ہر کوئی اپنے حساب سے حالات کے تجزیہ میں مصروف ہے. جب ہم امتِ مسلمہ کا بطور مجموعی جائزہ لیتے ہیں تو اس وقت مسلمان تین قسم کے گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں. پہلا گروہ تو وہ ہے جو اپنے آپ کو سیکولر، روشن خیال اور مثبت سوچ کا حامل (optimistic) تصور کرتا ہے. دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے آپ کو فکرِ ملت کا علمبردار سمجھتا ہے اور بیشتر مدارسِ دینیہ کے فارغین  اور خلفائے بزرگان پر مشتمل ہے. تیسرا گروہ ان عام مسلمانوں کا ہے جو کسی بھی گروہ سے تعلق نہیں رکھتے، ان کا آپسی تعلق بھی صرف اس قدر ہے کہ ان میں جو بات مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کسی بھی گروہ بندی سے کوئی تعلق نہیں. ہر گروہ کا حالات کو دیکھنے کا اپنا اپنا انداز ہے اور ہر گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ صحیح ہے.جب ہم پہلے گروہ کے حالات پر تجزیہ کو دیکھتے ہیں تو ان کے مطابق موجودہ حالات کا مسلمانوں کی دینی شناخت و پہچان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. یہ بس حکومت اور ایڈمنسٹریشن کا فرائض سے تغافل ہے جس کے نتیجے میں ملک میں بے چینی و بد امنی کا ماحول ہے. ان کے نزدیک دستوری اصولوں پر سختی سے کاربندگی موجودہ مسائل کا حل ہے. اس گروہ کے تصور میں اسلام بحیثیت مجموعی کوئی جگہ نہیں پاتا اور وہ سیکولرازم پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں.

اس گروہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ وطن کی بنیاد پر قومیں بنتی ہیں جس میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا.دوسرا گروہ اگرچہ کہ فارغین مدارس، علماء، مشائخین پر مشتمل ہے لیکن وہ بھی وطن پرستی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں. وہ بھی یہی مانتے ہیں کہ وطن کی بنیاد پر قومیں بنتی ہیں نہ کہ مذہب کی بنیاد پر. سیکولرزم پر یقین رکھتے ہیں اور بہترین طریقِ حکومت مانتے ہیں. ہاں لیکن یہ گروہ مسلمانوں کے موجودہ مسائل کی بنیاد مذہبی تشخص کو مانتا ہے. اس گروہ کے نزدیک مسلمانوں پر ہورہے مظالم ان کے مذہب اور شناخت سے نفرت کی وجہ سے ہیں. اس گروہ کے نزدیک موجودہ مسائل کا حل اسلامی عقائد پر سختی سے عمل آوری، مسلمانوں میں اتحاد اور سیکولر جمہوریت میں پر امن جدوجہد ہے.تیسرا گروہ ان مسلمانوں کا ہے جو ان دو گروہوں میں نہیں آتے. ان کی اپنی نہ کوئی رائے ہوتی ہے نہ اپنا نظریہ. کبھی پہلے گروہ کی میٹھی میٹھی بولی سے متاثر ہوجاتے ہیں تو ان کے پیروکار ہوجاتے ہیں اور جب کبھی دوسرے گروہ کے واعظ و نصیحت سے متاثر ہوتے ہیں تو ان کی اقتدا شروع کر دیتے ہیں.الغرض مسلمانوں کی جو بھی آواز اٹھتی ہے پہلے اور دوسرے گروہ سے ہی اٹھتی ہے.

ان دو گروہوں کا ہم  جب کبھی تجزیہ دیکھتے ہیں تو ان تجزیوں میں کافی متضاد اور مختلف رائیں ہمیں ملتی ہیں. کچھ ایسے ہیں جو ان حالات کو موجودہ حکومت کے طریق حکومت تک محدود کر کے دیکھتے ہیں اور فکر و تشویش کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے. کچھ ایسی رائیں بھی آتی ہیں جن میں خوف و ہراس عیاں ہوتا ہے. وہ ایسے افراد سے آتی ہیں جو بالا دو گروہوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں لیکن ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کی کوئی امید نہیں پاتے. جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں رائیں اور ان کو پیش کرنے والے صریح  طور پر غلط ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ان تین گروہوں کے علاوہ گنتی کے چند لوگ اور کچھ تنظیمیں ہیں ایسی بھی ہیں جو کہ افرادی قوت میں کافی قلیل ہیں لیکن حالات کا صحیح تجزیہ کرنے میں کامیاب ہیں.حالات کا جب کبھی بے لاگ تجزیہ بحیثیت مجموعی کیا جائے تو حالات کی یہ شکل سامنے آتی ہے کہ حالات گمبھیر اور تشویشناک ضرور ہیں لیکن مایوس کن نہیں. باطل و طاغوتی طاقتوں کا دور دورہ ہے لیکن حق اتنا بھی کمزور نہیں کہ اسے دبا دیا جاسکے.

ملت اسلامیہ ہند اگرچہ کہ پستی و زوال کی جانب گامزن ہے لیکن اب بھی وقت باقی ہے کہ جانبِ نشیب رواں دواں قافلہ کا رخ موڑ کر فراز کی جانب پھیرا جاسکے.جب اس زوال پذیر کارواں کے رخ پھیرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لیے دو قسم کے اقدامات کرنے ہوں گے1. غیر مسلم برادرانِ وطن میں کرنے کے کام2. مسلمان برادری میں کرنے کے کام , غیر مسلم برادرانِ وطن میں کرنے کے کام اپنے اندر آپ ایک مضمون ہیں جس کا انشاء اللہ اگلے مضمون میں احاطہ کیا جائے گا. اس مضمون میں مسلمانوں کے مسلمانوں میں کرنے کے کام پر انشاء اللہ توجہ دی جائے گی.

کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں قوم کے کچھ اجتماعی اوصاف و خصائل ہوتے ہیں جو قوم کے عروج و زوال کا تعین کرتے ہیں. ان اوصاف میں سے چند ایک کی کمی کمزور قوم کی نشانی ہوتی ہے جبکہ یکسر ان اوصاف سے محرومی قوم کے مکمل شکست و زوال پذیر ہونا ظاہر کرتی ہے. وہ صفات کچھ اس طرح ہیں.

1.تعلیم میں سربلندی

آج یہ بات پوری دنیا کے سامنے عیاں ہے کہ تعلیم پر ہی قوموں کا عروج و زوال منحصر ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ بعض افرادی قوت کے لحاظ سے کمزور قومیں بھی تعلیم پر توجہ دے کر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں. اگر ہم مسلم قوم کا جائزہ لے کر دیکھیں تو ہم کو یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ مسلمانوں میں شادی بیاہ، پہننے اوڑھنے اور کھانے پینے کے معاملہ میں تو کافی خرچ ہوتے ہیں لیکن تعلیم کوئی قابلِ اعتناء چیز سمجھی نہیں جاتی. مختلف سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ جتنے مسلمان طلباء اسکول میں داخلہ لیتے ہیں ان میں سے نصف طلباء مختلف وجوہات کی بنا پر دسویں کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں. جن وجوہات کی بنا پر طلباء تعلیم چھوڑتے ہیں ان میں غربت، خاندانی بزنس و پیشوں میں والدین کی مدد، اعلیٰ تعلیم کے لئے موقع دستیاب نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں. وجوہات جو بھی ہوں یہ بات تمام مسلمانوں کو ذہن نشین کرنا ہوگا کہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے بغیر وہ ترقی کی شاہرہ بھی گامزن نہیں ہو سکتے. تعلیم کو بڑے پیمانے پر عام کرنا ہر ذع عقل مسلمان، سنجیدہ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے. نہ صرف بنیادی تعلیم پر توجہ ضروری ہے بلکہ مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم کے میدان بھی سر کرنے ہوں گے. مسلمانوں کی تعلیم سے دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ بابری مسجد مقدمہ و طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ میں بحث کرنے کے لئے غیر مسلم وکلاء کا سہارا لینا پڑا. نہ صرف عدلیہ بلکہ طب، ٹیکنالوجی، معاشیات و دیگر میدانوں میں بھی تعلیم یافتہ مسلمانوں کی واضح کمی نظر آتی ہے. جس قدر عجلت میں مسلمان تعلیم سے وابستہ ہوں اس قدر تیزی سے حالات میں بدلاؤ متوقع ہے.

2.اقتصادیات

یہ وہ دوسرا میدان ہے جس میں مسلمانوں کو طاقتور بننا ہوگا. اگر مسلمان اس میدان میں پچھڑے رہ جائیں گے تو دوسرے میدانوں میں بھی پچھڑے رہ جائیں گے. اقتصادی میدان میں ترقی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ مسلمان سرکاری نوکریاں حاصل کریں یا اپنے ذاتی بزنیس قائم کرلیں. اقتصادی ترقی سے مراد اقتصادیات کے تمام تینوں شعبوں (primary sector, secondary sector and tertiary sector) میں اپنا مضبوط وجود قائم کریں. فی الوقت اگر مسلمانوں کی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ بات معلوم ہوگی کہ زیادہ تر مسلمان اقتصاد کے تیسرے شعبہ یعنی خدمات( tertiary sector) سے وابستہ ہیں اور جو چند ایک لوگ انڈسٹری وغیرہ میں ہیں ان کا شمار unorganised sector میں آتا ہے. اقتصاد کے ماہرین بتاتے ہیں کہ سب سے نازک (fragile) اور حساس (senstive) شعبہ tertiary sector ہوتا ہے. اس شعبہ میں حد سے زیادہ انحصار ایک جوکھم (risky) کام ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اور ممالک اپنی معیشت کی بنیاد primary and secondary sector کو بناتے ہیں. یہاں یہ بات واضح کرتے چلیں کہ primary sector یعنی زراعت، باغبانی، مویشی پالن و دیگر منسلک امور. یعنی یہ شعبہ زیادہ تر agriculture and agricultural produce پر مشتمل ہوتا ہے. Secondary sector میں صنعت و حرفت اور صنعتی پیداوار (industries and industrial produce) آتے ہیں. ان دونوں پیداوار(رزعی و صنعتی) کی خرید و فروخت tertiary sector کے تحت انجام پاتی ہے. مجموعی طور پر معیشت کا انحصار ان دو ابتدائی شعبہ جات پر ہی ہوتا ہے. مسلمانوں کی اس وقت نہ زراعت کے میدان میں نہ صنعتی میدان میں کوئی قابلِ ذکر موجودگی پائی جاتی ہے. تجارت کے نام پر ہم منڈیوں اور بازاروں تک محدود ہو کر رہ گئے اور اپنی معیشت سدھارنے میں ناکام رہے. مسلمانوں کو چاہیے کہ اس وقت بڑے پیمانے پر زراعت اور صنعت کے میدان میں عروج حاصل کریں، بالخصوص موجودہ دور کے مطابق صنعتی میدان میں گرفت بے حد ضروری ہے.

3.قانون میں مہارت

ایک اقلیتی برادری کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ رائج قانون کے تعلق سے حد درجہ شعور و ادراک رکھیں. کیونکہ قوموں کی بقا اپنے حقوق منوانے اور حاصل کرنے میں ہوتی ہے. اگر کوئی قوم اپنے حقوق کے تعلق سے انجان رہے تو یہ سراسر نادانی ہوگی کیونکہ جب تک آپ مطالبہ کرنا نہ سیکھیں گے کوئی آپ کو آپ کے حقوق دینے والا نہیں ہے. کامیاب اقوام کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کوئی قوم مشکل اور پریشانی میں گھر گئ اس قوم سے قانون دان اور وکیل زیادہ تعداد میں پیدا ہوئے اور قوم کے وجود کو باقی رہا. اس کی سب سے بہترین مثال ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ہمیں ملتی ہے. تقریباً تمام سرکردہ و قدآور شخصیات جیسے نہرو، جناح، پٹیل  وغیرہ وکیل اور قانون دان تھیں. لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان اتنے سالوں سے مشکلات میں گھرے ہونے کے باوجود ماہرینِ قانون کو اپنے اندر ابھار نہیں سکے. پرسنل لا، فرضی دہشتگردی کے کیسس، تحفظات اور ہر اہم کیس ہمیں اغیار کے سہارے سے لڑنا پڑتا ہے. اب جب کہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ مسلمانوں کا وجود اور شناخت مٹا دیا جائے، ان کے حقوق چھین لیے جائیں اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنادیا جائے ایسے میں ضروری بنتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ میں قانون کے ماہرین تیار کریں اور ہمارے حقوق کی جنگ قانونی طور پر جاری رکھیں.

4. سوسائٹی اور پریشر گروپس

یہ بات تمام لوگوں کو پتہ ہونی چاہیے کہ حکومت کا کوئی بھی بڑا فیلصہ یا قانون سازی عوام کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کی جاتی. ظاہر ہے کہ حکومت ہر معاملہ میں ہر باشندہ کی رائے حاصل کرنے سے قاصر ہے. ایسے میں حکومت صلاح و مشورہ کا کام سیول سوسائٹی کے نامور اور بااثر تنظیموں سے مشاورت کرکے کرتی ہے. اسی لیے ہر مسئلہ پر کچھ تنظیمیں، NGOs اور پریشر گروپس وغیرہ ہوتے ہیں جو اپنے متعلقہ مسئلہ پر مکمل جانکاری رکھتے ہیں اور حکومت کی رائے سازی اور عوام کی ذہن سازی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں. مثال کے طور پر اروند کیجریوال کی NGO نے کرپشن کے خلاف محاذ کھڑا کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنے میں بہترین رول کیا تھا جو کہ سیاسی جماعتوں سے بھی ممکن نہیں تھا. جب کبھی ڈاکٹروں پر حملے ہوئے تو ان کے پریشر گروپس میدان میں آجاتے ہیں اور واضح انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہیں. پریشر گروپس کے علاوہ ایک اور ادارہ ہوتا ہے جو تھنک ٹینک(think tank) کہلاتا ہے اور موثر لیکن بنا نظر آئے کام کرتا ہے.

ہر نظریہ اور تحریک حتیٰ کہ بزنس یاؤزس (Business Houses) کے اپنے اپنے تھنک ٹینک ہوتے ہیں جو اپنا ایجنڈہ پھیلاتے رہتے ہیں. خود دائیں بازو (right wing) کے بھی بہت سارے تھنک ٹینک ہیں جو اپنے اپنے مقاصد کے لیے منصوبہ بندی اور ہدف کو نشانہ پر رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں. دراصل آج کی دنیا میں جو بھی نظریاتی یا پالیسی سازی کا کام ہوتا ہے اس کی اساس یہی تھنک ٹینک ہوتے ہیں. یہ تھنک ٹینک اپنے اراکین کے ذریعہ سے اپنے مطلوبہ پالیسی یا نظریہ کے بارے میں لٹریچر تیار کرتے ہیں، اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں اور اس کو عوام و خواص میں فروغ دیتے ہیں. زمینی محاذ پر کام کرنے کے لیے NGOs, pressure groups سے کام لیتے ہیں اور lobbying کے ذریعہ اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ہم اکثر ایسے پالیسیوں اور فیصلوں کو دیکھتے ہیں جو کسی دھرنے، ریلیوں یا احتجاج کے بغیر نافذ کردیئے جاتے ہیں جو کہ دراصل ان تھنک ٹینک، پریشر گروپس اور لابیئنگ کا نتیجہ ہوتے ہیں. مسلمانوں کو یہ بات سمجھ جانی چاہیے کہ اپنے حقوق کی لڑائی احتجاجی ریلیوں یا دھرنوں میں یا سیاسی قائدین کی عاجزی کرتے نہیں بلکہ سیول سوسائٹی گروپس، پریش گروپس اور تھنک ٹینک کے ذریعہ سے موثر انداز میں جدوجہد کرکے لڑنی چاہیے. پریشر گروپس اور lobbies کا اثر بتانے کیلئے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ امریکی صدر بل کلنٹن نے اسرائیل کی مرضی کے خلاف ایک فیصلہ لینے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ان کے خلاف یہودی لابیوں نے محاذ کھول دیا اور ان کو وہائیٹ ہاؤز سے رختص کرکے ہی چھوڑا اور انہیں پھر کبھی امریکہ صدارت کا خواب دیکھنے کے قابل نہیں رکھا.

5.انڈسٹریل و کامرس چیمبرس

یہ ادارے بھی پریشر گروپس کی طرح کام کرتے ہیں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ حکومتیں ان کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتیں. مسلمانوں کے بزنس مفادات کے تحفظ اور ان کے بزنس ڈیولپمنٹ کے لیے ایسے اداروں کا قیام اشد ضرورت ہے. 

6.سماجی علوم و ٹکنالوجی پر یکساں توجہ

یہ اپر تو ‘تعلیم’ کے تحت آچکا ہے لیکن اس پر ایک الگ پیراگراف لکھنے کا مقصد اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے. ان دونوں علوم میں میزان قائم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے. کیونکہ آج دنیا میں ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت اپنے نظریات کو فروغ دینے اور برقرار رکھنے کی ہے، جس کے لیے سماجی علوم بے حد ضروری ہیں. آ ج کے مادہ پرستانہ دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی تو بھرمار ہے لیکن باطل نظریات کی پکڑ میں آکر انسان در بدر خوار ہورہا ہے. ایسے معاشرہ میں ہمیں رہبر کا کام کرنے کے لیے ان علوم کی ضرورت ہوگی. نہ صرف یہ بلکہ اسلام اور اسلامی تعلیمات پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں اس کو موثر انداز میں زمانے کو سمجھ میں آنے والی زبان میں جواب دینے کے لیے بھی یہ علوم ضروری ہیں. اگر ہم اپنے آپ کو صرف سماجی علوم میں ہی محدود کرلیتے ہیں تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہوجائیں گے، اور ہمارا سارا سماجی نظریہ کسی کے قابل اعتناء نہیں ہوگا.

بطور اختتام صرف یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنا نہ چاہے. حالات چاہے کتنے ہی پر خطر کیوں نہ ہو یہ بات ہمارے ذہن نشین رہے کہ ہم اس نبی کی امت ہے جس نے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بھی سراقہ کو قیصر و کسریٰ کے کنگن کا وعدہ کیا تھا اور 313 کو 1000 پر فتح کی بشارت دی تھی. بس اس وقت ضرورت ہے ہمت اور حکمت کے امتزاج کی.

تعارف: admin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

x

Check Also

مسئلہ

خزیمہ عظیم الدین ’’آپ کو کیا لگتا ہے کیا حل ہے؟‘‘ فیض ...